Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلہ کثرت رائے سے دیا گیا ،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق مختصر فیصلہ سنایا ،فیصلہ دو، ایک سے آیا ہے ،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے عمران خان کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی۔جب کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اختلاف کیا ،

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    بے نامی کی تعریف سے متعلق نیب ترمیم بھی کالعدم قرار دے دی گئی،آمدن سے زائد اثاثوں کی تعریف تبدیل کرنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی گئی،سپریم کورٹ نے مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ نیب پر ڈالنے کی شق بھی کالعدم قرار دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں 53 سماعتیں ہوئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پانچ ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے تھا کہ اہم کیس ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ کروں گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،آصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس بحال
    سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سیاستدانوں کے خلاف بند ہونے والے مقدمات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس واپس بحال ہو گیا ہے ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایل این جی ریفرنس کیس بحال ہو گیا ہے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنس بھی بحال ہو گیا ہے

    اسلام آباد سے صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے سابق صدر آصف زرداری ، سابق وزرا اعظم نواشریف ، شاہد خاقان عباسی ، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف ، راجہ پرویز اشرف ، شوکت عزیز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور دیگر کے مقدمات دوبارہ کھل جائینگے ۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم کو مبارک ہو.عمران خان نے یہ پٹیشن فائل کی تھی پی ڈی ایم نے آتے ہی پہلے کام اپنے آپ کو این آر او دینے کا کیا تھا ،اپنے اپنے ریفرنسز اور کیسز کو بند کرنے کے لیے یہ ترامیم لائی گئی تھیں آرٹیکل 9، 14 اور 19 اے کی خلاف ورزی تھی ،سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سیکشن 5 میں بے نامی دار کی اصل حیثیت کو بحال کر دیا گیا ہے سیکشن 9 بڑا اہم ہے جس کے سب سیکشن 5 میں آمدن سے زائد اثاثوں کی اصل شکل کو بحال کر دیا گیا یے ان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہ بنے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کورٹ روم میں آخری دن ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آج آٹھ مقدمات کی سماعت کی

    چیف جسٹس کے ساتھ بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک بھی شامل تھیں ،مقدمات میں پیش ہونے والے وکلا نے چیف جسٹس کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا شکریہ، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ جس نے مجھے موقع دیا،میڈیا نے مجھے متحرک رکھا، میڈیا کی تنقید کو بھی ویلکم کرتا ہوں،عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، جج پر تنقید کریں تو یقینی بنائیں وہ سچے حقائق پر مبنی ہو، بارز کی جانب ملنے والے تعاون پر شکر گزار ہوں ،اللہ کی خوشنودی کو ذہن میں رکھ کر کام کیا، کالے کوٹ کا ہمیشہ بار سے تعلق رہتا ہے، وکلا سے اب ان شا اللہ بار روم میں ملاقات ہو گی،

    واضح رہے کہ چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کل 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے،نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

    پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کے اعزاز میں عشائیےکے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے نام نوٹ میں کہا ہےکہ پاکستان بار چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے عشائیے میں احتجاجاً شرکت نہیں کرےگی۔

    جبکہ پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ چیف جسٹس عمر عطابندیال فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے، پاکستان بار احتجاجاً ججز کے چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت نہیں کرےگی، اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پاکستان بار چیف جسٹس کے ریفرنس میں عدالتی خامیوں اور خوبیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

    وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل نے چیف جسٹس کاالوداعی ریفرنس نہ ہونے پر اپنا خطاب بھی جاری کردیا، وائس چیئرمین پاکستان بار ہارون رشید کے خطاب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور پر تنقیدکی گئی ہے. ان کا کہنا ہےکہ پاکستان بار کونسل وکلا کی ریگولیٹری باڈی ہے، وکلا کے تحفظات گوش گزار کر رہا ہوں جو ممکن ہے جناب کی طبع پر گراں گزریں، عدالت عظمٰی میں 60 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں، زیر التوا مقدمات کے مقرر اور نمٹانےکا کوئی شفاف طریقہ کار نہیں بنایا گیا۔

    ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے پاکستان بار کی بار بار درخواست پر کبھی ملاقات نہیں کی، چیف جسٹس کا یہی جواب آیا کہ سپریم کورٹ بار سے رابطے میں ہیں تو ملاقات کی ضرورت نہیں علاوہ ازیں ان کا کہنا ہے کہ ایسامقدمہ مقرر کرنے کی درخواست نہیں کریں گے جس میں اپنا مفاد پوشیدہ ہو،کسی بھی مقدمےکے آغاز میں ایسے ریمارکس نہ دیں کہ پہلے ہی نتیجہ معلوم ہوجائے، سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرکے آئینی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، عدالتی نظام سے ناآشنا سرکاری افسران کو رجسٹرار مقرر کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

  • سپریم کورٹ،90 روز میں عام انتخابات کرانے کی آئینی درخواست واپس

    سپریم کورٹ،90 روز میں عام انتخابات کرانے کی آئینی درخواست واپس

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی 90 روز میں عام انتخابات کرانے کی آئینی درخواست واپس کردی

    رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی، سپریم کورٹ کی جانب سے اعتراض عائد کیا گیا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ آنے سے قبل کسی متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق درخواست میں فریق نہیں بنایا جاسکتا،درخواست میں نہیں بتایا گیا کہ درخواست گزار کا کونسا بنیادی حق متاثر ہوا؟ درخواست میں براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے آرٹیکل 184/3 کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے،

    پی ٹی آئی نے وکیل علی ظفر کے توسط سے درخواست دائر کی تھی درخواست میں 90 روز میں انتخابات کرانے اور مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی

    پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے گورنرز کو انتخابات کی تاریخ کے لیے ہدایات جاری کرے،صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا آئینی حق آرٹیکل 58 ون کے تحت حاصل ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ الیکٹورل پراسس کوحلقہ بندیوں کےبہانے سے التوا میں ڈالے،مردم شماری سے متعلق فیصلہ کرنے والی مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل مکمل نہیں تھی، الیکشن کمیشن غیر آئینی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر انحصار کر کے انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا۔

    انڈونیشیا میں حجاب نہ پہننےپراسکول ٹیچرنے14 طالبات کےبال ہی کاٹ دیئے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے اور فیصلے کے بعد جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، انتخابات بروقت نا ہونے سے پاکستان ایک اور آئینی بحران کا شکار ہو جائے گا الیکشن کمیشن کو انتخابات میں التوا کا اختیار آئینی رو سے جائز نہیں، کالعدم قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن، گورنرز اور مشترکہ مفادات کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سکیورٹی فراہم کردی گئی ہے اور ان کا چیف سکیورٹی آفیسر بھی مقرر کردیا گیا ہے اور چیف جسٹس عمرعطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائرہورہے ہیں جبکہ ان کی جگہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھالیں گے۔

    جبکہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت 16 ستمبر 2023 کو ریٹائر ہوں گے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر کو حلف برداری کیلئے چیف جسٹس ہاؤس سے ہی روانہ ہوں گے، کیونکہ جسٹس عمر عطا بندیال دو دن پہلے ہی چیف جسٹس ہاؤس خالی کرچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ؛ سری لنکا کیخلاف میچ کیلئے پاکستانی ٹیم میں تبدیلی
    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 21 جون 2023 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دی تھی، صدر عارف علوی نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے 3 کے تحت کی۔ جبکہ گزشتہ دنوں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپنی الوداعی تقریر میں تعریف کی تھی.

    جبکہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ بلاشبہ میرے بھائی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ قابل تعریف ہیں، جسٹس قاضی فائز میرے لیے بہت معتبر ہیں، صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا تھا کہ کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جارہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ ہم بھی انتظار کررہے ہیں جیسے پتا چلے گا بتادیں گے، ویسے انہوں نے آج تقریرمیں توکہا ہےکہ شاید یہ ان کا آخری خطاب ہے۔

  • گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    گن اینڈ کنٹری کلب کیس،اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا،چیف جسٹس

    سپر یم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب ازخود نوٹس پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دلچسپ ریمارکس دیئے، فریقین کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ہی ملتوی کر دی گئی، عدالت نے فریقین کی استدعا منظور کر لی،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا باقی وکلا کو اطلاع نہیں ہوئی تھی ہم آپ کو گڈ تو سی یو کہتے ہیں یہ کیس بہت دلچسپ تھا اب یہ کیس نیا بینچ سنے گا ضروری نہیں کہ انسان جو چاہے اس کی وہ خواہش پوری ہو امید ہے اگلا بینچ اس کیس کو انجوائے کرے گا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2022 میں گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کے فوری آڈٹ کا حکم دیا تھا ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کے آڈٹ کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،2دسمبر 2019 سے 20 جون 2022 تک کا آڈٹ کیا جائے، گن اینڈ کنٹری کلب اور سی ڈی اے میں زمین لیز کے معاملے پر مجاز اتھارٹی کو فیصلے کی ہدایت بھی کی گئی،عدالت نے کہا کہ سیکریٹری آئی پی سی جو چیئرمین کمیٹی بھی ہیں انکی میٹنگ میں چائے کا خرچہ 4لاکھ 16 ہزار روپے تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اجلاسوں میں ہم کھانے پینے کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    لاپتہ افراد کے وکیل کی گمشدگی، سپریم کورٹ نے حکومت کو بڑا حکم دے دیا

    رائل پام کنٹری گالف کلب لاہوراراضی عملدرآمد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • قرض کی ادائیگی کریں یا جیل جانے کیلئے تیار رہیں،سپریم کورٹ

    قرض کی ادائیگی کریں یا جیل جانے کیلئے تیار رہیں،سپریم کورٹ

    قرض کی ادائیگی کریں یا جیل جانے کیلئے تیار رہیں،سپریم کورٹ کا حکم

    بھارتی سپریم کورٹ نے سپائس جیٹ کے چیئرمین اجے سنگھ کو 22 ستمبر تک کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ 22 ستمبر تک کریڈٹ سوئس کو پانچ لاکھ ڈالر کے ساتھ ڈیفالٹ رقم کے دس لاکھ ڈالر ادا کریں ، اگر رقم ادا نہ کی گئی تو سپائس جیٹ کے چیئرمین کو تہاڑجیل میں جانے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس احسن الدین امان اللہ نے کریڈٹ سوئس اور اسپائس جیٹ کے درمیان 2015 سے تقریباً 240 لاکھ ڈالر کے واجبات پر جاری قانونی تنازعہ کی سماعت کی، فریقین کی جانب سے دلائل کے بعد عدالت نے سپائس جیٹ کے چیئرمین کو رقم کی ادائیگی کا حکم دیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں جیل بھیجنے کا بھی کہہ دیا،

    بھارتی سپریم کورٹ میں سپائس جیٹ کے چیئرمین کے حوالہ سے درخواست کی سماعت اب 22 ستمبر کو ہو گی، عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین اجے سنگھ ہر سماعت کے دوران عدالت میں موجود ہوں گے،

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    مسافر طیارے کا پچھلا حصہ زمین سے ٹکرا گیا جس کے بعد کیپٹن کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے

  • سپریم کورٹ،عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ،عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج کردی

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو یہ درخواست غیر موثر ہو چکی ہے، وکیل دانیہ عامر نے کہا کہ عدالت مہلت دے تو کچھ دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہوں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے سال بعد باڈی نکالنے سے کیا حاصل ہو گا ؟ وکیل نے کہا کہ چاہتے ہیں پوسٹ مارٹم ہو وجوہات سامنے آئیں ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تک تو باڈی ڈی کمپوز ہو چکی ہو گی، وکیل دانیہ عامر نے کہا کہ عدالت اجازت دے تو درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، عدالت نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوے کیس خارج کردیا

    عامر لیاقت کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنے کا معاملہ ،

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ انسٹاگرام پر تو موجود تھیں لیکن اب وہ ٹویٹر اکائونٹ پر بھی آگئی 

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    عامر لیاقت کی موت کے بعد انکے چاہنے والے غم میں مبتلا ہیں، عامر لیاقت کی موت کیسے ہوئی یہ معمہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کیونکہ لواحقین نے لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرنے دیا تھا، عامر لیاقت کی موت ابتدائی رپورٹ کے مطابق کمرے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہوئی تھی، عامر لیاقت کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار میں کی گئی تھی، عامر لیاقت کی موت پر کے الیکٹرک کے خلاف مقدمے کی اندراج بھی ایک تھانے میں جمع کروائی گئی ہے

  • سپریم کورٹ، چینی کی قیمتوں سے متعلق 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ، چینی کی قیمتوں سے متعلق 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ ،وفاقی حکومت کی جانب سے چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کو کیس کا 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ،سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں معاملہ 20 ستمبر کو مقرر ہے،عدالت نے حکم دیا کہ ہائیکورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر 30 روز میں فیصلہ کرے، تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،

    دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں کے تعین پر حکمِ امتناع دیا تھا ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ ہے کہ چینی کی قیمتوں کا تعین وفاق کا اختیار ہے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کسی نے چیلنج نہیں کیا.جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں ابھی معاملہ زیرِ التواء ہے تو اس پر فیصلہ کیسے کر دیں؟ پہلے لاہور ہائی کورٹ کو اس معاملے پر فیصلہ کرنے دیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ چینی کی قیمت 98 روپے مقرر ہے جبکہ شوگر ملز مالکان 200 روپے میں فروخت کر رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قیمتوں کے مقرر کرنے کا قانون کالعدم ہو جاتا ہے تو معاملہ ہی ختم ہو جائے گا ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ شوگر ملز والے نہ پنجاب حکومت کی مقررہ قیمتوں کو تسلیم کرتے ہیں نہ وفاق کی ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو حکم دے رہے ہیں کہ 13 ستمبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے فیصلہ کرے ، سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کو کیس کا فیصلہ جلد کرنے کا حکم دے دیا ،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی

    شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے حکومت کی چینی کی مقررہ قیمتوں کو معطل کر دیا تھا ،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، چینی کی قیمت 230 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے،لاہور ہائیکورٹ میں کیس چلا تھا تا ہم کافی عرصے سے سماعت نہیں ہوئی،

    یوٹیلٹی سٹور پر چینی ناپید، اشیا مہنگے داموں فروخت، شہریوں کا احتجاج

    رمضان ریلیف پیکج، یوٹیلٹی سٹورز پر کیا ہوں گی قیمتیں؟ طے ہو گیا

    دوسری جانب ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن کے دوران چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد کرلیے-راجن پور میں بھی سیکڑوں چینی کی بوریاں ضبط کرلی گئیں ضلعی انتظامیہ نے راجن پور کے علاقے بیٹ سونترا میں گودام پر چھاپا مارا اور 800 چینی کی بوریاں قبضے میں لیں انتظامیہ نے گودام کو سیل کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی را جن پور میں چینی کی فی کلو قیمت 185 روپے ہے

    دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف آپریشن کرکے311 ٹن چینی کے5650 بیگ برآمد کرلیے انتظامیہ کی جانب سے چھاپے درابن روڈ، مریالی ، بنددھپانوالہ اور دیگر گوداموں پر مارے گئے۔

    بڑی مقدار میں چینی اسمگل کرنیکی کوشش ناکام

    اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ مذکورہ گوداموں کو سیل کر دیا گیا درابن روڈ پر واقع گوداموں سے 5000 بوری چینی برآمد کی گئی، جبکہ مریالی کریانہ اسٹور سے 650 تھیلے چینی کے برآمد کیے گئے،گندم اور چینی کی اسمگلنگ کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے، تاجر برادری ناجائزمنافع خوری سے اجتناب کرے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    دوسری جانب گزشتہ روز حکام نے نگران وزیراعظم کی ہدایات پر چینی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں چینی اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام بنا دی تھی،نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایف سی بلوچستان نارتھ نے رات چینی اسمگلنگ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا ہے یہ کریک ڈاؤن نگران وزیراعظم انوار الحق کاکٹر کی ہدایات پر کیا گیا ہے جس میں ایف سی بلوچستان نارتھ نے چینی افغانستان اسمگل کرنےکی کوشش ناکام بنا دی-

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری