Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ،عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کی پوسٹ مارٹم کی درخواست خارج کردی

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تو یہ درخواست غیر موثر ہو چکی ہے، وکیل دانیہ عامر نے کہا کہ عدالت مہلت دے تو کچھ دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہوں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے سال بعد باڈی نکالنے سے کیا حاصل ہو گا ؟ وکیل نے کہا کہ چاہتے ہیں پوسٹ مارٹم ہو وجوہات سامنے آئیں ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب تک تو باڈی ڈی کمپوز ہو چکی ہو گی، وکیل دانیہ عامر نے کہا کہ عدالت اجازت دے تو درخواست واپس لینا چاہتے ہیں، عدالت نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوے کیس خارج کردیا

    عامر لیاقت کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنے کا معاملہ ،

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    ٹک ٹاکر دانیہ شاہ انسٹاگرام پر تو موجود تھیں لیکن اب وہ ٹویٹر اکائونٹ پر بھی آگئی 

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

    عامر لیاقت کی موت کے بعد انکے چاہنے والے غم میں مبتلا ہیں، عامر لیاقت کی موت کیسے ہوئی یہ معمہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کیونکہ لواحقین نے لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرنے دیا تھا، عامر لیاقت کی موت ابتدائی رپورٹ کے مطابق کمرے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہوئی تھی، عامر لیاقت کی تدفین عبداللہ شاہ غازی کے مزار میں کی گئی تھی، عامر لیاقت کی موت پر کے الیکٹرک کے خلاف مقدمے کی اندراج بھی ایک تھانے میں جمع کروائی گئی ہے

  • سپریم کورٹ، چینی کی قیمتوں سے متعلق 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ، چینی کی قیمتوں سے متعلق 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ ،وفاقی حکومت کی جانب سے چینی کی قیمتیں مقرر کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کو کیس کا 30 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ،سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں معاملہ 20 ستمبر کو مقرر ہے،عدالت نے حکم دیا کہ ہائیکورٹ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر 30 روز میں فیصلہ کرے، تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،

    دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتوں کے تعین پر حکمِ امتناع دیا تھا ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ ہے کہ چینی کی قیمتوں کا تعین وفاق کا اختیار ہے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کسی نے چیلنج نہیں کیا.جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں ابھی معاملہ زیرِ التواء ہے تو اس پر فیصلہ کیسے کر دیں؟ پہلے لاہور ہائی کورٹ کو اس معاملے پر فیصلہ کرنے دیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ چینی کی قیمت 98 روپے مقرر ہے جبکہ شوگر ملز مالکان 200 روپے میں فروخت کر رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قیمتوں کے مقرر کرنے کا قانون کالعدم ہو جاتا ہے تو معاملہ ہی ختم ہو جائے گا ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت میں کہا کہ شوگر ملز والے نہ پنجاب حکومت کی مقررہ قیمتوں کو تسلیم کرتے ہیں نہ وفاق کی ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کو حکم دے رہے ہیں کہ 13 ستمبر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے فیصلہ کرے ، سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کو کیس کا فیصلہ جلد کرنے کا حکم دے دیا ،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی

    شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے حکومت کی چینی کی مقررہ قیمتوں کو معطل کر دیا تھا ،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، چینی کی قیمت 230 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے،لاہور ہائیکورٹ میں کیس چلا تھا تا ہم کافی عرصے سے سماعت نہیں ہوئی،

    یوٹیلٹی سٹور پر چینی ناپید، اشیا مہنگے داموں فروخت، شہریوں کا احتجاج

    رمضان ریلیف پیکج، یوٹیلٹی سٹورز پر کیا ہوں گی قیمتیں؟ طے ہو گیا

    دوسری جانب ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن کے دوران چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد کرلیے-راجن پور میں بھی سیکڑوں چینی کی بوریاں ضبط کرلی گئیں ضلعی انتظامیہ نے راجن پور کے علاقے بیٹ سونترا میں گودام پر چھاپا مارا اور 800 چینی کی بوریاں قبضے میں لیں انتظامیہ نے گودام کو سیل کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی را جن پور میں چینی کی فی کلو قیمت 185 روپے ہے

    دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف آپریشن کرکے311 ٹن چینی کے5650 بیگ برآمد کرلیے انتظامیہ کی جانب سے چھاپے درابن روڈ، مریالی ، بنددھپانوالہ اور دیگر گوداموں پر مارے گئے۔

    بڑی مقدار میں چینی اسمگل کرنیکی کوشش ناکام

    اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ مذکورہ گوداموں کو سیل کر دیا گیا درابن روڈ پر واقع گوداموں سے 5000 بوری چینی برآمد کی گئی، جبکہ مریالی کریانہ اسٹور سے 650 تھیلے چینی کے برآمد کیے گئے،گندم اور چینی کی اسمگلنگ کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے، تاجر برادری ناجائزمنافع خوری سے اجتناب کرے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    دوسری جانب گزشتہ روز حکام نے نگران وزیراعظم کی ہدایات پر چینی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں چینی اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام بنا دی تھی،نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایف سی بلوچستان نارتھ نے رات چینی اسمگلنگ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا ہے یہ کریک ڈاؤن نگران وزیراعظم انوار الحق کاکٹر کی ہدایات پر کیا گیا ہے جس میں ایف سی بلوچستان نارتھ نے چینی افغانستان اسمگل کرنےکی کوشش ناکام بنا دی-

    چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

  • ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، نئے عدالتی سال کی تقریب کا انعقاد کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ ریفرنس ہوا،سپریم کورٹ میں جاری فل کورٹ ریفرنس میں 15 ججز نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک ہوئے، فل کورٹ ریفرنس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوا تمام ججز شریک ہیں ،جسٹس یحییٰ آفریدی بیرون ملک ہونے کی وجہ سے فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہ ہوسکے ،فل کورٹ ریفرنس کی تقریب میں اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی، سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کے نمائندہ اور وکلاء کی بڑی تعداد فل کورٹ تقریب میں شریک تھے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،اٹارنی جنرل
    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے سپریم کورٹ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،کیسز کم کرنے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں تاہم ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے،عام سائلین کے مقدمات کے بلاتاخیر فیصلے ہونے چاہیں،اٹارنی سپریم کورٹ کو اپنی توانائیاں عام سائلین کے کیسز کو سننے میں صرف کرنی چاہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،سپریم کورٹ میں براہ راست مقدمات غیر معمولی اور عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کے معاملات میں ہونے چاہیں،بنچز کی تشکیل اور ججز تعیناتیوں کی بازگشت پارلیمان میں بھی سنی گئی،سپریم کورٹ نے متعدد مواقع پر صوابدیدی اختیارات میں شفافیت پر زور دیا ہے،کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ اس اصول کا خود پر اطلاق نہ کرے،نئے عدالتی سال کے ساتھ ساتھ ہم جوڈیشل لیڈر شپ کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزر رہے ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالنے کے قریب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لیڈرشپ میں ہم شفافیت، مستعدی اور عوامی اعتماد کے نئے دور کی جانب بڑھیں گے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،سپریم کورٹ کے جوڈیشل اور انتظامی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے ،ججز کی تعیناتیاں ،بنچز کی تشکیل چیف جسٹس کرتے ہیں،یہ اختیار چیف جسٹس کو متنازعہ معاملات کے فیصلوں میں غیر متناسب کنٹرول دیتا ہے،سپریم کورٹ کو براہ راست مقدمات سننے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے آئینی اداروں کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے،جب عدلیہ اداروں کی حدود کے اصول کا خیال نہیں رکھتی تو پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز کرتی ہے،آئین کے آرٹیکل 184/3 کے بلا احتیاط استعمال سے سپریم کورٹ کا تشخض متاثر ہوتا ہے،

    عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو زائل کریں، ہارون الرشید
    پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں بار ہا التجاء اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا .زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا ،کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئیروش چل پڑی ہے اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں کچھ کیسسز میں لارجر بینچ ببنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دئے جاسکے نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتہ میں فکس کئے جائیں کافی تعداد میں ایسے کیسسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو،عام لوگوں کو محرومی کا احساس نہ ہو اور اس ادارہ پہ اعتماد قائم رہے بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں ،ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے ،اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے ،وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں ،امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ،وکلاء کے اعلی ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا

    ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے نئی عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور چیف جسٹس آخری مرتبہ نئے عدالتئ سال کی تقریب سے خطاب کر رہا ہوں گزشتہ سال عدالت کی ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی تھی تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے اس سے پہلے ایک سال میں نمٹائے گئے مقدمات کی زیادہ سے زیادہ تعداد 18 ہزار تھی کوشش تھی کہ زیرالتواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوسکیں زیرالتواء مقدمات کی تعداد میں دو ہزار کی کمی ہی کر سکے،فروری 2023 میں سپریم کورٹ کے سامنے کئی آئینی مقدمات آئے ،آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا ،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی ،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتئ کارکردگی متاثر ہوئی ،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے ہیں

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیلئے نیک تمناوں کا اظہار کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام ساتھی ججوں کا میرے ساتھ برتاو بہت اچھا رہا، جہاں آزاد دماغ موجود ہوں وہاں اختلاف ہوتا ہے، میرے دائیں قاضی فائز عیسی ہیں جو بہت اچھے انسان ہیں، میری اور ان کی اپروچ الگ ہے ، صحافی معاشرے کی کان اور آنکھ ہوتے ہیں،صحافیوں سے توقع ہوتی ہے وہ درست رپورٹنگ کریں گے، جہاں پر کوئی غلطی ہوئی اسے ہم نے اگنور کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے ڈیمز فنڈ قائم کیا گیا ، ڈیمز فنڈ میں اگست 2023 میں چار لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ، اگست میں بھی فنڈز میں رقم آنے کا مطلب عوام کا سپریم کورٹ پر اعتماد ہے ، ڈیمز فنڈ کے اس وقت 18.6 ارب روپے نیشنل بنک کے ذریعے سٹیٹ بنک میں انویسٹ کیے گئے ہیں، ڈیمز فنڈ کی نگرانی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کر رہا ہے،میرے حوالے سے میڈیا میں غلط رپورٹنگ بھی کی گئی،گڈ ٹو سی یو والے میرے جملے کو غلط رنگ دیا گیا،شارٹ اینڈ سویٹ ججمنٹ بارے آبرزویشن دی جس پر غلط رپورٹنگ ہوئی، جو ہوا میں اس کو درگزر کرتا ہوں

    سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،عابد زبیری
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ نے عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کا عمل جاری رکھا تعطیلات کے باوجود مسلسل مقدمات کی شنواۃ کا سلسلہ جاری رکھنا لائق تحسین عمل ہے دوران تعطیلات کئ سیاسی نوعیت کے مقدمات بھی سماعت کیلئے مقرر ہوئے جس کی وجہ سے عام عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل سست روری کا شکار ہوا ،جب سیاسی اور پارلیمانی نظام ناکام ہوجائے تو اس کا بوجھ بھی عدلیہ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے،مقدامات کی جلد سماعت کیلئے دائر درخواستوں کا زیر التوا رکھے جانے سے انصاف کی فراہمی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے ،عدالت کی توجہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے آئنی معملہ پر مبزول کروانا چاہتا ہوں ،الیشکن کمیشن انتخاب آئنی مدت میں کروانے سے گریزاں ہے الیکشن کمیشن کا یہ رویہ رائے دہی کے آئین کے حق کے منافی ہے آئین سے روگردانی پہ آرٹیکل 6 کے تحت الیکشن کمیشن کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے سپریم کورٹ نے انتخابات سے متعلق اپنے فیصلہ پر عمل کرانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ،اتنخابات کے حوالہ سے ہماری درخواست کی ابھی تک شنوائی نہیں ہوسکی انتخاب کے حوالے سے ہماری درخواست کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ،صدر مملکت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد انتخابات کا اعلان کرے ،آفشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی ایکٹ کی آڑ میں بنیادی حقوق کی پامالیاں ہورہی ہیں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ،قوم کی بیٹیاں اور بہنیں من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر قید ہیں عدالت ان جبری قید کا نوٹس لے،فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں کو فوری مقرر کیا جائے عدلیہ اور ججز کی تضحیک وکلاء برادری کبھی تسلیم نہیں کرے گی،امید کرتے ہیں کہ نئے عدالتی سال میں سپریم کورٹ میں تقسیم کے تاثر کو ختم کرنے کیلئے ٹوس اقدامات اٹھائے جائیں گےنامز چیف جسٹس سے امیدہے کہ وہ آئین اور قانون کی عمل درامد پر یقینی بنائیں گے.

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیلئے فل کورٹ ریفرنس نہ ہونے کا امکان ہے۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافی سے سوال کیا کہ کیا آپ فل کورٹ ریفرنس لے رہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے ابھی تک اس بارے میں نہیں سوچا اور فیصلہ نہیں کیا ،صحافی نے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کیا چیف جسٹس کو فل کورٹ ریفرنس دیا جا رہا ہے؟ اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے جواب دیا کہ ہم بھی انتظار کر رہے ہیں جیسے پتہ چلے گا بتا دیں گے،جسٹس قاضی فائز عسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ویسے انہوں نے آج تقریر میں تو کہا ہے کہ شاید یہ میرا آخری خطاب ہے.

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں

    اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں

    نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں ہیں جبکہ تحریری جواب میں لکھا ہے کہ نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا جائے، اور درخواست گزار کیمطابق حالیہ نیب ترامیم کے باعث منتخب نمائندوں کے احتساب کا عمل کمزور ہوا ہے.

    تحریری جواب میں منتخب عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں عوام کا امین کہتے ہیں اور درخواست گزار نے اسی عوام کے اعتماد کو ٹھکرا کر اراکین اسمبلی کو مستعغی ہونے کا کہا جبکہ تحریری جواب میں مزید کہا کہ پارلیمان کو چھوڑ کر چئیرمن پی ٹی آئی نے اپنے حلقے کے ان لوگوں کی آواز دبائی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ بارش کے باعث روک دیا گیا
    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    قائد کے رہنما اصولوں کو اپنانا ہو گا. اسپیکر قومی اسمبلی
    کراچی میں 100 مقامات پر سہولت بازار کا انعقاد
    تحریری جواب میں یہ بھی لکھا کہ ترامیم کیخلاف درخواست کے پیچھے چئیرمن پی ٹی آئی کے مذموم مقاصد ہیں، خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد وفاق سے جواب طلب کرلیا تھا اور چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے منگل کو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور جمعے کو چیف جسٹس کی عدالت کے معاون نے فریقین کے وکلاء سے رابطہ کیا۔

    سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلاء کو فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد ایک سوال بھجوا کر جواب مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا تھا کہ احتساب عدالت دائرہ اختیار میں نہ ہونے پر کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف ریفرنس منتقل کرتی ہے؟ اور وہ کون سی مجاز عدالت ہوگی جو ریفرنس کا فیصلہ سنائے اور کس قانون کے تحت؟ وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے 9 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سوال کا 5 صفحات پر مشتمل جواب متفرق درخواست کے ذریعے جمع کرا دیا۔

    وفاق کے وکیل مخدوم علی خان کی اجنب سے جمع کرائے گئے جواب میں لکھا گیا کہ ‎چیف جسٹس آف پاکستان کے عدالتی معاون کے ذریعے سوال بھجوایا گیا، ‎سوال کے ساتھ ہدایت بھی پہنچائی گئی کہ فاضل وکیل اس کا لازم جواب دیں۔ جواب میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے قانون میں ابھی تک پارلیمینٹرین ہونا جرم قرار نہیں دیا گیا، چیف جسٹس کے سوال کا جواب مختلف صورتِ حال پر انحصار کرتا ہے۔

  • چوہدری پرویز الہٰی کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

    چوہدری پرویز الہٰی کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پرویز الہٰی کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے درخواست میں سپریم کورٹ سے پرویز الہٰی کا رہائی کی استدعا کی گئی ہے، عدالت عظمیٰ پرویز الہٰی کو کسی اور مقدمے میں گرفتار کیے جانے روکے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان سے سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئےکہا کہ وہ سائفرکی تحقیقات کے حق میں ہیں سائفرکیس کی تحقیقات کے لیےسپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادجوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے جب کہ سائفرکیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری بالکل غلط ہے 2 نیشنل سکیورٹی کمیٹیز میں بیرونی مداخلت کی بات ہوئی، مداخلت کیوں ہوئی اور اسے کیسے روکا جاسکتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ اس کیلئےسائفر کیس کی تحقیقات کے حق میں ہیں سائفر کیس کی ایسی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے جو چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کے ساتھ ہو رہی ہے، صدر علوی پرانے سیاست دان ہیں، امید ہے وقت پر انتخابات ہو جائیں گے صحافی نے سوال کیا کہ پرویز خٹک کہتے ہیں پی ٹی آئی توڑ دوں گا، اس پر علی محمد خان نے کہا کہ پرویز خٹک سے کہیں ٹرائی ٹرائی اگین۔

  • ریویو آف ججمنٹ ایکٹ،وزارت قانون نے نظرثانی درخواست دائر کر دی

    ریویو آف ججمنٹ ایکٹ،وزارت قانون نے نظرثانی درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ ،وزارت قانون اور دیگر فریقین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی

    درخواست میں عدالت عظمٰی سے 11 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی،نظرثانی درخواست میں اضافی دستاویزات کیلئے 15 روز کی مہلت طلب کی گئی ،رجسٹرار آفس نے اضافی دستاویزات کیلئے 15 روزکا وقت دے دیا،سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون کالعدم قرار دیا تھا،سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کو پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا ،ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا ،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس وجہ سے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا

    سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے ,تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، 3 رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعتیں کیں درخواست گزاروں نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کےخلاف درخواستیں دائر کی تھیں،جس پر اٹارنی جنرل نے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی تھی درخواست گزار تحریک انصاف نے اس قانون سازی کے لیے آئینی ترمیم لازم قرار دینے کا مدعا پیش کیا تھا،ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184 تھری کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا، اپیل سننے والے بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سننے والے ججز سےزیادہ ہونا لازم ہے تاہم پی ٹی آئی سمیت انفرادی حیثیت میں وکلاء نے اس ایکٹ کو چیلنج کیا تھا

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے کی دعوت دے دی

    جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے عشائیے کی دعوت 17 ستمبر کیلئے دی گئی ہے،جسٹس فائز عیسی اور انکی اہلیہ کی جانب سے باضابطہ دعوت نامے ججز کو موصول ہوگئے،موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہونگے اور جسٹس قاضی فائز عیسی 17 ستمبر کو حلف اٹھائیں گے

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست شعیب شاہین کی وساطت سے دائر کی، درخواست میں کہا گیا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ پرصدرمملکت نے دستخط نہیں کیے آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ آرٹیکل 10 اے ،8اور19 کےمنافی ہے ،درخواست میں صدر، سیکرٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کیا جائے

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اس حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ؛ چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ؛ چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے اور جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 13 ستمبر کو سماعت کرے گا جبکہ چینی کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے شوگر ملز ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    جبکہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے 2015 اور 2018 کی مختلف درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کراچی میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے لگی تھی اور گزشتہ بدھ کو کراچی کی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار میں فی 50 کلوگرام چینی کی قیمت 8750 روپے سے گھٹ کر8600 روپے کی سطح پر آگئی تھی ۔

    تاہم فی کلوگرام چینی کی قیمت 3 روپے کمی سے 172روپے پر فروخت کی جارہی ہے جبکہ چینی کی ایکس مل قیمت بھی بشمول ٹرانسپورٹ لاگت کے گھٹ کر 170روپے وصول کی جارہی ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے خوردہ سطح پر فی کلوگرام چینی 180 سے 190 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، جس کی قیمت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خیبر پاک افغان بارڈر پر کشیدگی تیسرے روز بھی جاری
    پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن
    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
    جی 20 سربراہی اجلاس؛ امریکی صدر دہلی پہنچ گئے
    کترینہ کیف نے ناک کی سرجری کروا لی خبریں گرم ، اداکارہ کی طرف سے خاموشی
    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

    جبکہ جوڑیا بازار میں چینی کے ایک ہول سیلر شفقت محمود نے بتایا تھا کہ سپہ سالار کی مہنگائی پر کنٹرول کے اقدامات اور معیشت سدھارنے کے لیے میدان میں آنے سے چینی کی قیمتوں میں کمی کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے چینی کی قیمتوں میں یومیہ بنیادوں پر اضافے کی وجہ سے اسکی فروخت میں بھی واضح کمی آگئی ہے لہذا یہ عوامل بھی چینی کی قیمتوں میں کمی کا باعث ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل 90 سے 100روپے کلو میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت دْگنی ہوچکی ہے۔

  • آڈیو آپ کی  ساس کی، آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ،عطا تارڑ

    آڈیو آپ کی ساس کی، آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ،عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف قانون اور آئین کا تقاضا ہے کہ جج کے رشتہ دار کا کیس ہو تو اسے الگ ہو جانا چاہئیے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ججز چیف جسٹس کو آگاہ کرتے ہیں کہ ہمارے رشتہ داروں کا کیس ہماری عدالت میں نہ لگایا جائے،بہت دکھ اور افسوس ہوا جب آج پانچ رکنی سپریم کورٹ بینچ کا مختصر فیصلہ پڑھا، آڈیو آپ کی اپنی ساس کی ہے اور آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ہیں، اگر آڈیو کی تصدیق نہیں ہوئی تو جوڈیشل کمیشن کیوں بنایا گیا؟ آپ اپنے جانے سے پہلے آڈیولیکس کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں،جسٹس منیب بھی اس بینچ کا حصہ ہیں جن کا آڈیو لیکس میں ذکر ہے ،ایسی صورتحال میں انصاف کیا ہوگا اور آڈیو کی تصدیق کیسے ہو گی؟ پوری قوم حیران ہے کہ آڈیو لیکس کا انتخابات سے کیا تعلق ہے،کاش آپ کہتے کہ یہ میری ساس کا معاملہ ہے اس لئے میں بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں،جب آپ کے اپنے ججز نے آپ کو ون مین شو کہا تو آپ کا کیا خیال ہے؟

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مختلف موقعوں پر عدالت کو امپیریل کورٹ کہا گیا،آپ کے ساتھی منصفوں نے آپ کی عدالت کو ون مین شو کہا،التجا کی کہ فل کورٹ میٹنگ بلا کر عدلیہ کو متحد کر لیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا ریفرنس سماعت کے لئے مقرر نہیں ہونے دیا گیا،ہم نے استدعا کی قوم اور سیاست انتشار کا شکار ہے،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا