Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    بابا گرونانک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین سردار بشنا سنگھ بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں ایک معاملہ سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کا اٹھایا گیا ہے،دوسرا ایشو آپ نے اٹھایا کہ گوردواروں کی تزئین وآرائش اور مرمت نہیں ہو رہی ،سردار بشنا سنگھ نے عدالت میں کہا کہ ہمارے کچھ لوگ 1947 میں اپنا وطن چھوڑ گئے، ہم پاکستان میں رہے ہمارے مذہب کا آغاز بھی یہاں سے ہوا ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم سکھ ہیں اس لیے ہمارے خلاف کچھ غلط کیا جا رہا ہے قبصہ گروپ مندر، مسجد، گورد وارہ کچھ نہیں دیکھتا،

    سردار بشنا سنگھ نے لاہور سمیت ملک بھر میں گوردواروں کی ٹوٹ پھوٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں،سپریم کورٹ نے سکھ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کو افسوسناک قرار دیا ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے باعث سکھ برادری کو مختلف مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے سکھ برادری کے لوگ پاکستان چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں ریاست کو سکھ برادری کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،سپریم کورٹ نے آئی جی خیبرپختونخوا سمیت تمام آئی جیز سے حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اوراٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کر دیئے،

    سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ابتدائی رپورٹ درخواست گزار کو دینے کی ہدایت بھی کر دی، درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جڑانوالہ سانحے کے بعد نفرت انگیز تقاریر بھی ہو رہی ہیں سپریم کورٹ نے کوئٹہ دھماکہ کیس میں کہا تھا کہ ہمیں عیسائی نہیں لکھا جائے گا اب بھی ہمیں عیسائی لکھا جا رہا ہے ،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جڑانوالہ سانحے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب سے بھی واقعے کے بعد اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ جڑانوالہ میں چند دن قبل افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی پر جڑانوالہ میں مسیحی بستی، گرجا گھروں کو جلا دیا گیا تھا،واقعہ کا وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور خود جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا تھا، نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی جڑانوالہ کا دورہ کیا تھا اور تاریخ میں پہلی بار پنجاب کی صوبائی کابینہ کا اجلاس چرچ میں ہوا تھا،حکومت نے متاثرین جڑانوالہ کو 15 کروڑ روپے کی امدادی رقم جاری کر دی ہے، سانحہ جڑانوالہ کے 93 فیصد متاثرین کو امدادی رقوم کے چیک دے دیے گئے, انتظامیہ نے حتمی 80 متاثرہ خاندانوں میں سے 75 خاندانوں کو پیسے دے دیئے ہیں، متاثرین کو 20,20 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے نادرا سے تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد متاثرین کو رقوم جاری کی گئی ،جڑانوالہ کے 8 گرجا گھروں کو مکمل بحال کر دیا گیا باقی گرجا گھروں کی تعمیرومرمت کا کام جاری ہے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے آڈیو لیکس بینچ پر اعتراضات کا حقیقی منظر نامہ بھی بیان کردیا،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا تعلق 14 اور 18 جنوری کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے ہے،آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب میں 14 اپریل اور خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو انتخابات ہونا تھے، متعلقہ حکام نے ڈیڈ لائن کے بوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نتیجتاً پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں ،درخواستوں میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی قرار دے دیا ،گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں،90 دن کی آئینی ڈیڈلائن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری کو چیف جسٹس کو از خود نوٹس کیلئے نوٹ لکھا، 18 فروری کو پنجاب اور کے پی کے اسپیکرز نے سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کی، مشترکہ درخواست میں عدالت سے پنجاب میں خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ مانگی گئی، اطلاعات کے مطابق اس دوران ہائیکورٹس میں معاملہ التوا کا شکار تھاچیف جسٹس نے 22 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر ازخود لیا، چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر 23 فروری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا،

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسی دوران 16 فروری کو ٹوئیٹر پر انڈیبل نامی اکاؤنٹ سے تین مبینہ آڈیوز جاری ہوئیں ، ایک مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد جھوجا کے مابین گفتگو پر مشتمل تھی،ایک مبینہ آڈیو صدر سپریم کورٹ بار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین تھی،تیسری مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے درمیان تھی،دو ماہ کے دوران نامور شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری ہوئیں 23 اپریل کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن کی بھی آڈیو جاری کی گئی، وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیوز کی تصدیق کئیے بغیر ججز کی تضحیک کیلئے آڈیوز کی توثیق کر دی،وفاقی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو بالائے طاق رکھ دیا،وفاقی وزراء نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگز کو ججز کی حکومت کے خلاف تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کیا،منتخب حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کی تضحیک کا عمل نا صرف میڈیا بلکہ پارلیمان میں بھی جاری رہا،وفاقی حکومت نے بالآخر 19 مئی کو مبینہ آڈیوز پر ایکشن لیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش پہلے آڈیوز کی سچائی جاننا تھی ،انکوائری کمیشن کا مقصد آڈیوز کی درستگی ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کا تعین کرنا تھا،اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا کہ آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں بنانے والوں کیخلاف کاروائی ہونا تھی،

    وفاقی حکومت نے اعلی عدلیہ کے تین ججز کو انکوائری کمیشن کے لئے چنا، ریکارڈ پر موجود ہے کمیشن کی تشکیل سے پہلے وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کو نہ مطلع کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی انکی رضا مندی حاصل کی،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے 22 مئی کو پہلا اجلاس بلایا،کمیشن کے اجلاس کے فوری بعد سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں ، 26 مئی کو موجود 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی،اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا جواز چیف جسٹس کی خوش دامن کی مبینہ آڈیو بتایا گیا، عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کردیا،عدالت نے آڈیوز آئیندہ سماعت تک آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام سے روک دیا،31 مئی کو اٹارنی جنرل نے ججز کی بینچ سے علیحدگی کیلئے درخواست دائر کی، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ سے علیحدگی کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے،لہذا ہمارا فیصلہ صرف چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کی درخواست تک محدود ہے ،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، مختلف حربوں سے عدالتی فیصلوں میں تاخیر، عدالت کی بے توقیری کی گئی،بے توقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا، حکومت 4 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے نظر ثانی اپیل کے پیچھے چھپ گئی، وفاقی حکومت کا مقصد اپنی بے عملی کو جواز دینا تھا، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں، آڈیو لیکس میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بے سروپا بنیادوں پر درخواست دائر کی،آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا،وفاقی وزرا نے انتخابات کیس میں عوامی فورمز پر اشتعال انگیز بیانات دیے،وزیروں کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو تقویت دینا تھا، سپریم کورٹ نے حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، ججز پر اعتراضات والی حکومتی درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

    حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے ،حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی ،سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • سپریم کورٹ سے 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کی درخواست کو پٹیشن نمبرالاٹ

    سپریم کورٹ سے 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کی درخواست کو پٹیشن نمبرالاٹ

    اسلام آباد: 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو آئینی پٹیشن نمبر الاٹ کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو آئینی پٹیشن نمبر32/2023 الاٹ کیا گیا، واضح رہے کہ سپریم کورٹ بارنے نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا درخواست میں عدالت عظمیٰ سے 90 روز میں الیکشن کرانے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دائر کی ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آرٹیکل 184/3 کے تحت آئینی درخواست دائر کی درخواست میں سپریم کورٹ بار نے استدعا کی کہ نئی مردم شماری سے انتخابات کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے الیکشن کمیشن کو فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا حکم دیا جائے درخواست میں وفاق، مشترکہ مفادات کونسل، چاروں صوبوں اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں،نگران وزیراعظم

    سپریم کورٹ بار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ 5 اگست کو سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں جاری نوٹیفکیشن غیرقانونی قرار دیا جائے آئین کا آرٹیکل 224 شق 2 انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا پابند کرتا ہے، عدالت قرار دے کہ الیکشن کمیشن کسی صورت انتخابات 90 دنوں سے آگے نہیں بڑھا سکتا، الیکشن کمیشن کے پاس آئینی اختیار نہیں کہ نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات میں تاخیر کرے، پنجاب اور کے پی کے نگراں وزرائے اعلیٰ 90 دنوں میں الیکشن کروانے میں ناکام رہے، دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔

    ایک بسکٹ کم نکلنے پر کمپنی کوایک لاکھ روپیہ جرمانہ

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نگراں حکومتوں کا کام آئین و قانون کے مطابق الیکشن کروانا ہے، نگراں وزرائے اعلیٰ منتخب وزرائے اعلیٰ کی طرح اختیارات استعمال نہیں کر سکتے، نگراں وزرائے اعلیٰ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت کے اہل ہی نہیں تھے۔

  • سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام اباد: سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجازالحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کل (جمعہ 8 ستمبر کو) سماعت کرے گا بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے متعلقہ فریقین کو نوٹسسز جاری کردیئے ہیں۔

    18 اگست کواقلیتی رہنما سیمیول پیارے نےجڑانوالہ واقعے پر نوٹس کے لیے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی درخواست میں سپریم کورٹ سے جڑانوالہ واقعے کا نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئےکہا گیا تھا کہ جڑانوالہ میں 16 اگست کو مذہبی اوراق سمیت چرچ کو نظر آتش کیا گیا، عدالت درخواست منظور کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کرے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جڑانوالا میں توہینِ مذہب کے مبینہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مشتعل افراد نے کرسچن کالونی اور عیسیٰ نگری میں گرجا گھروں، مسیحی برادری کے درجنوں مکان، گاڑیاں اور مال و اسباب جلا دیئے تھے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں 19 چرچ جلائے گئے، پُرتشدد مظاہروں میں 86 مکانات کو توڑ پھوڑ کے بعد جلایا گیا۔

    زر مبادلہ کے سرکاری ذخائر میں 7 کروڑ ڈالر کی کمی

  • سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی

    سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی

    سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعدادمیں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، سپریم کورٹ نے 31 اگست تک زیر التوا مقدمات کی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں ایک ماہ کے دوران 1579 زیر التوا مقدمات کا اضافہ ہوا جس کے بعد زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 سے بڑھ کر 56 ہزار 544 ہوگئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا سول پیٹیشنز کی تعداد 30 ہزار 578 تک پہنچ گئی، زیر التوا سول اپیلوں کی تعداد 9 ہزار 875 ہوگئی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں زیر التوا فوجداری درخواستوں کی تعداد 9 ہزار 384 ہے جبکہ زیر التوا نظرثانی درخواستوں کی تعداد ایک ہزار 653 ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود
    امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا
    ایشیا کپ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 194 کا ہدف دے دیا
    رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں 25 از خود نوٹس اور ایک ریفرنس زیر التوا ہے۔

  • نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے پرویز مشرف نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی درخواست خارج کردی۔ عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے دوران سماعت استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست غیر موثر نہیں ہوگئی ،درخواست گزار توفیق آصف نے عدالت میں کہا کہ اگر درخواست چھ سال پہلے لگ جاتی تو غیر موثر نہ ہوتی۔ایڈووکیٹ توفیق آصف نے کہا کہ ہمارے خدشات تو درست ثابت ہوئے ،پرویز مشرف باہر گئے پھر واپس نہیں آئے۔ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بس اب اللہ پر چھوڑ دیں۔ وکیل نے کہا کہ بس اب تو اللہ پر ہی چھوڑ رہے ہیں۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں، چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ نے حارث دلائل دیئے،خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیر التواء مقدمات کو واپس کردیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدس مقامات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں ؟ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا، خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے تحقیقات ہوں گئیں جن کے جائزہ کے بعد مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واپس ہونے والے فورمز کا مستقبل بارے کسی کو معلوم نہیں ،نہیں معلوم کہ یہ مقدمات دوسرے فورمز پر بھی جائیں گے ؟ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھجنے کا کوئی اختیار ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے دفتر میں قتل ہوگا تومعاملہ متعلقہ فورم پر جائے گا، مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا اس بارے ضرور پوچھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مجموعی طور پر 52 ویں سماعت کی، اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے دلائل کیلئے اٹارنی جنرل کی درخواست پر آج کا دن مقرر کیا تھا

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں،ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے،مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

    سپیشل پراسیکیوٹر ستار اعوان نے عدالت میں کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہے، ان کی جانب سے تحریری دلائل دینگے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پہلے بتا دیا جاتا توریگولر بنچ لگا لیتے، نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور حکومت میں دی گئی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے کنڈ کٹ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کیخلاف نہ کھڑا ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے،نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیرالتواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سردخانے کی نظر ہوچکی ہیں، تحقیقات منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنی دیا گیا ہے، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے کرپشن پر فوجداری سزا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنی نہیں ہے،آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج برطرف ہوسکتا ہے ریکوری ممکن نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج برطرف ہو جائے تو نیب کو کارروئی کرنی چاہیے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ کے مطابق کراچی میں 36 اور لاہور میں 21 ریفرنس زیر التوا ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ ان ریفرنسز کے تفصیل یےجو ترمیم سے متاثر نہیں ہوئے جن کا ٹرائل چل رہا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طارق اعوان ہیں ان کے کیسز 8 سال سے چل رہے ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ غیر قانونی الائمنٹ کے کیسز تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پشاور میں تو کچھ باقی نہیں بچا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت ان کیسز کا ہے جو نہیں چل رہے ،جو مقدمات واپس ہوئے وہ ابھی تک نیب کے پاس پڑے ہیں؟ نیب پراسیکوٹرنے کہا کہ جی وہ ہمارے ہاس ہی ہیں سال 2022 میں 386 ریفرنس ہمیں واپس ہوئے

    عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ۔ کر لیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواستگزار کے بیٹے حسان نیازی کے ملٹری اتھارٹی کے زیر حراست ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا جائے،آئین میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت نہیں،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آرٹیکل 10اے کی خلاف ورزی ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی عدالت کی اجازت کے بغیر حسان نیازی کو ملٹری کورٹس ٹرائل کیلئے حوالے کردیا گیا ،سپریم کورت میں درائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ آرمی ایکٹ ترامیم 2023 کو آئین کے آرٹیکل 3,4,9,10,13,14,اور 24 کے برخلاف قرار دیا جائے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    بھارتی فوجی افسرنے پاکستان کی جاسوسی کے بہانےاپنی فوج کواربوں روپے کا چونا لگا دیا

    قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مرحوم قاضی محمد عیسیٰ آف پشین، قیامِ پاکستان کی تحریک کے سرکردہ رکن تھے اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے،قاضی محمد عیسیٰ صوبہ بلوچستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنما اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے اور یہاں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے قانون کی تعلیم لندن سے حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر وکالت شروع کی وہ بطور وکیل تقریباً 27 سال ملک کی مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ۔

    پاکستان نیوی کا ہیلی کاپٹر گوادر میں گر کر تباہ

    عدالتی کیرئیر بطور جسٹس

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے انہیں 5 ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا انہوں نے نومبر 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے تحت ججز کے حلف لینے کی مخالف کی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس عرصے کے دوران کئی اہم مقدمات میں انتہائی اہم فیصلے تحریر کیے۔

    جے جے وی ایل ریفرنس:ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کی درخواست منظور

    سنہ 2012 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میمو گیٹ کمیشن کی سربراہی بھی کی میمو گیٹ اسکینڈل میں اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیرحسین حقانی پرالزام تھاکہ انہوں نےپاکستان میں فوجی بغاوت کاخدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے سول حکومت کی مدد کی درخواست کی تھی جسٹس فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کو پیش کی جانے والی کمیشن رپورٹ میں حسین حقانی کو قصوار ٹھہرایا تھا۔

    8 اگست 2016 میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی بھی جسٹس قاضی فائز عیٰسی کو سونپی گئی انکوائری کمیشن نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں خود کش دھماکے کو حکومت کی غفلت قرار دیا تھا انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات:آغا سراج درانی کی ضمانت منظور