Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں

    اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں

    نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں ہیں جبکہ تحریری جواب میں لکھا ہے کہ نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا جائے، اور درخواست گزار کیمطابق حالیہ نیب ترامیم کے باعث منتخب نمائندوں کے احتساب کا عمل کمزور ہوا ہے.

    تحریری جواب میں منتخب عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں عوام کا امین کہتے ہیں اور درخواست گزار نے اسی عوام کے اعتماد کو ٹھکرا کر اراکین اسمبلی کو مستعغی ہونے کا کہا جبکہ تحریری جواب میں مزید کہا کہ پارلیمان کو چھوڑ کر چئیرمن پی ٹی آئی نے اپنے حلقے کے ان لوگوں کی آواز دبائی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ بارش کے باعث روک دیا گیا
    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    قائد کے رہنما اصولوں کو اپنانا ہو گا. اسپیکر قومی اسمبلی
    کراچی میں 100 مقامات پر سہولت بازار کا انعقاد
    تحریری جواب میں یہ بھی لکھا کہ ترامیم کیخلاف درخواست کے پیچھے چئیرمن پی ٹی آئی کے مذموم مقاصد ہیں، خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد وفاق سے جواب طلب کرلیا تھا اور چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے منگل کو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور جمعے کو چیف جسٹس کی عدالت کے معاون نے فریقین کے وکلاء سے رابطہ کیا۔

    سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلاء کو فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد ایک سوال بھجوا کر جواب مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا تھا کہ احتساب عدالت دائرہ اختیار میں نہ ہونے پر کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف ریفرنس منتقل کرتی ہے؟ اور وہ کون سی مجاز عدالت ہوگی جو ریفرنس کا فیصلہ سنائے اور کس قانون کے تحت؟ وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے 9 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سوال کا 5 صفحات پر مشتمل جواب متفرق درخواست کے ذریعے جمع کرا دیا۔

    وفاق کے وکیل مخدوم علی خان کی اجنب سے جمع کرائے گئے جواب میں لکھا گیا کہ ‎چیف جسٹس آف پاکستان کے عدالتی معاون کے ذریعے سوال بھجوایا گیا، ‎سوال کے ساتھ ہدایت بھی پہنچائی گئی کہ فاضل وکیل اس کا لازم جواب دیں۔ جواب میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے قانون میں ابھی تک پارلیمینٹرین ہونا جرم قرار نہیں دیا گیا، چیف جسٹس کے سوال کا جواب مختلف صورتِ حال پر انحصار کرتا ہے۔

  • چوہدری پرویز الہٰی کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

    چوہدری پرویز الہٰی کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پرویز الہٰی کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے درخواست میں سپریم کورٹ سے پرویز الہٰی کا رہائی کی استدعا کی گئی ہے، عدالت عظمیٰ پرویز الہٰی کو کسی اور مقدمے میں گرفتار کیے جانے روکے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان سے سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئےکہا کہ وہ سائفرکی تحقیقات کے حق میں ہیں سائفرکیس کی تحقیقات کے لیےسپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادجوڈیشل کمیشن ہونا چاہیے جب کہ سائفرکیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری بالکل غلط ہے 2 نیشنل سکیورٹی کمیٹیز میں بیرونی مداخلت کی بات ہوئی، مداخلت کیوں ہوئی اور اسے کیسے روکا جاسکتا ہے-

    انہوں نے کہا کہ اس کیلئےسائفر کیس کی تحقیقات کے حق میں ہیں سائفر کیس کی ایسی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے جو چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کے ساتھ ہو رہی ہے، صدر علوی پرانے سیاست دان ہیں، امید ہے وقت پر انتخابات ہو جائیں گے صحافی نے سوال کیا کہ پرویز خٹک کہتے ہیں پی ٹی آئی توڑ دوں گا، اس پر علی محمد خان نے کہا کہ پرویز خٹک سے کہیں ٹرائی ٹرائی اگین۔

  • ریویو آف ججمنٹ ایکٹ،وزارت قانون نے نظرثانی درخواست دائر کر دی

    ریویو آف ججمنٹ ایکٹ،وزارت قانون نے نظرثانی درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ ،وزارت قانون اور دیگر فریقین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی

    درخواست میں عدالت عظمٰی سے 11 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی،نظرثانی درخواست میں اضافی دستاویزات کیلئے 15 روز کی مہلت طلب کی گئی ،رجسٹرار آفس نے اضافی دستاویزات کیلئے 15 روزکا وقت دے دیا،سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز قانون کالعدم قرار دیا تھا،سپریم کورٹ نے ریویو ایکٹ کو پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا ،ریویو ایکٹ میں آرٹیکل 184(3) کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا ،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس وجہ سے اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا

    سپریم ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیخلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے،جسٹس منیب اختر کا اضافی نوٹ 33 صفحات پر مشتمل ہے ,تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے،سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار سے تجاوز ہے، سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حثیت نہیں،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی،طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکتا،سپریم کورٹ رولز میں تبدیلی عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 19 جون کو ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، 3 رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعتیں کیں درخواست گزاروں نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کےخلاف درخواستیں دائر کی تھیں،جس پر اٹارنی جنرل نے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی تھی درخواست گزار تحریک انصاف نے اس قانون سازی کے لیے آئینی ترمیم لازم قرار دینے کا مدعا پیش کیا تھا،ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184 تھری کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا، اپیل سننے والے بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سننے والے ججز سےزیادہ ہونا لازم ہے تاہم پی ٹی آئی سمیت انفرادی حیثیت میں وکلاء نے اس ایکٹ کو چیلنج کیا تھا

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    نامزد چیف جسٹس نے حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے پر بلا لیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی حلف برداری کے بعد ساتھی ججز کو عشائیے کی دعوت دے دی

    جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے عشائیے کی دعوت 17 ستمبر کیلئے دی گئی ہے،جسٹس فائز عیسی اور انکی اہلیہ کی جانب سے باضابطہ دعوت نامے ججز کو موصول ہوگئے،موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی عشائیے میں مدعو کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہونگے اور جسٹس قاضی فائز عیسی 17 ستمبر کو حلف اٹھائیں گے

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ ،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں دونوں قوانین کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست شعیب شاہین کی وساطت سے دائر کی، درخواست میں کہا گیا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ پرصدرمملکت نے دستخط نہیں کیے آرمی ترمیمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ آرٹیکل 10 اے ،8اور19 کےمنافی ہے ،درخواست میں صدر، سیکرٹری قومی اسمبلی، وزارت قانون اور داخلہ کو فریق بنایا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ترمیمی قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی درخواست کے فیصلہ تک دونوں قوانین کو معطل کیا جائے

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اس حوالہ سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط نہ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل معاملے کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی، درخواست ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو 10 دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے درخواست کے زیر التوا ہونے تک آفیشل سیکرٹ اور آرمی ایکٹ پر عملدرآمد روک دیا جائے

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے، جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کریں گے-

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آفیشل سیکریٹ ترمیمی بل کے مطابق کوئی شخص جو جان بوجھ کر امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ریاست کے خلاف کام کرتا ہے ممنوعہ جگہ پر حملہ کرتا یا نقصان پہنچاتا ہے جس کا مقصد براہ راست یا بالواسطہ دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ہوگا ، الیکٹرانک یا جدید آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر ملک کے اندر یا باہر سے دستاویزات یا معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والا مجرم تصور ہوگا پاکستان کے اندر یا باہر ریاستی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف کام کرنے والے کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ان جرائم پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہو گا اور خصوصی عدالت 30 دن کے اندر سماعت مکمل کرکے فیصلہ کرے گی

    آرمی ایکٹ بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ؛ چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ؛ چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں چینی کی قیمتوں کے تعین کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے اور جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 13 ستمبر کو سماعت کرے گا جبکہ چینی کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے شوگر ملز ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    جبکہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے 2015 اور 2018 کی مختلف درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کراچی میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے لگی تھی اور گزشتہ بدھ کو کراچی کی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار میں فی 50 کلوگرام چینی کی قیمت 8750 روپے سے گھٹ کر8600 روپے کی سطح پر آگئی تھی ۔

    تاہم فی کلوگرام چینی کی قیمت 3 روپے کمی سے 172روپے پر فروخت کی جارہی ہے جبکہ چینی کی ایکس مل قیمت بھی بشمول ٹرانسپورٹ لاگت کے گھٹ کر 170روپے وصول کی جارہی ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے خوردہ سطح پر فی کلوگرام چینی 180 سے 190 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، جس کی قیمت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خیبر پاک افغان بارڈر پر کشیدگی تیسرے روز بھی جاری
    پاکستان کا روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے،سینیٹر رانا محمود الحسن
    بجلی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
    جی 20 سربراہی اجلاس؛ امریکی صدر دہلی پہنچ گئے
    کترینہ کیف نے ناک کی سرجری کروا لی خبریں گرم ، اداکارہ کی طرف سے خاموشی
    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

    جبکہ جوڑیا بازار میں چینی کے ایک ہول سیلر شفقت محمود نے بتایا تھا کہ سپہ سالار کی مہنگائی پر کنٹرول کے اقدامات اور معیشت سدھارنے کے لیے میدان میں آنے سے چینی کی قیمتوں میں کمی کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے چینی کی قیمتوں میں یومیہ بنیادوں پر اضافے کی وجہ سے اسکی فروخت میں بھی واضح کمی آگئی ہے لہذا یہ عوامل بھی چینی کی قیمتوں میں کمی کا باعث ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل 90 سے 100روپے کلو میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت دْگنی ہوچکی ہے۔

  • آڈیو آپ کی  ساس کی، آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ،عطا تارڑ

    آڈیو آپ کی ساس کی، آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ،عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف قانون اور آئین کا تقاضا ہے کہ جج کے رشتہ دار کا کیس ہو تو اسے الگ ہو جانا چاہئیے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ججز چیف جسٹس کو آگاہ کرتے ہیں کہ ہمارے رشتہ داروں کا کیس ہماری عدالت میں نہ لگایا جائے،بہت دکھ اور افسوس ہوا جب آج پانچ رکنی سپریم کورٹ بینچ کا مختصر فیصلہ پڑھا، آڈیو آپ کی اپنی ساس کی ہے اور آپ ہی بینچ کو لیڈ کر رہے ہیں، اگر آڈیو کی تصدیق نہیں ہوئی تو جوڈیشل کمیشن کیوں بنایا گیا؟ آپ اپنے جانے سے پہلے آڈیولیکس کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں،جسٹس منیب بھی اس بینچ کا حصہ ہیں جن کا آڈیو لیکس میں ذکر ہے ،ایسی صورتحال میں انصاف کیا ہوگا اور آڈیو کی تصدیق کیسے ہو گی؟ پوری قوم حیران ہے کہ آڈیو لیکس کا انتخابات سے کیا تعلق ہے،کاش آپ کہتے کہ یہ میری ساس کا معاملہ ہے اس لئے میں بینچ سے علیحدہ ہو رہا ہوں،جب آپ کے اپنے ججز نے آپ کو ون مین شو کہا تو آپ کا کیا خیال ہے؟

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مختلف موقعوں پر عدالت کو امپیریل کورٹ کہا گیا،آپ کے ساتھی منصفوں نے آپ کی عدالت کو ون مین شو کہا،التجا کی کہ فل کورٹ میٹنگ بلا کر عدلیہ کو متحد کر لیں،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا ریفرنس سماعت کے لئے مقرر نہیں ہونے دیا گیا،ہم نے استدعا کی قوم اور سیاست انتشار کا شکار ہے،

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

  • سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ،سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کر لی

    سانحہ جڑانوالہ اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    بابا گرونانک ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین سردار بشنا سنگھ بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں ایک معاملہ سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کا اٹھایا گیا ہے،دوسرا ایشو آپ نے اٹھایا کہ گوردواروں کی تزئین وآرائش اور مرمت نہیں ہو رہی ،سردار بشنا سنگھ نے عدالت میں کہا کہ ہمارے کچھ لوگ 1947 میں اپنا وطن چھوڑ گئے، ہم پاکستان میں رہے ہمارے مذہب کا آغاز بھی یہاں سے ہوا ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم سکھ ہیں اس لیے ہمارے خلاف کچھ غلط کیا جا رہا ہے قبصہ گروپ مندر، مسجد، گورد وارہ کچھ نہیں دیکھتا،

    سردار بشنا سنگھ نے لاہور سمیت ملک بھر میں گوردواروں کی ٹوٹ پھوٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں،سپریم کورٹ نے سکھ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کو افسوسناک قرار دیا ،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے باعث سکھ برادری کو مختلف مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے سکھ برادری کے لوگ پاکستان چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں ریاست کو سکھ برادری کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،سپریم کورٹ نے آئی جی خیبرپختونخوا سمیت تمام آئی جیز سے حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اوراٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کر دیئے،

    سپریم کورٹ نے سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ابتدائی رپورٹ درخواست گزار کو دینے کی ہدایت بھی کر دی، درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ جڑانوالہ سانحے کے بعد نفرت انگیز تقاریر بھی ہو رہی ہیں سپریم کورٹ نے کوئٹہ دھماکہ کیس میں کہا تھا کہ ہمیں عیسائی نہیں لکھا جائے گا اب بھی ہمیں عیسائی لکھا جا رہا ہے ،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جڑانوالہ سانحے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے محکمہ داخلہ پنجاب سے بھی واقعے کے بعد اقدامات پر رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ جڑانوالہ میں چند دن قبل افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی پر جڑانوالہ میں مسیحی بستی، گرجا گھروں کو جلا دیا گیا تھا،واقعہ کا وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا اور خود جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا تھا، نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی جڑانوالہ کا دورہ کیا تھا اور تاریخ میں پہلی بار پنجاب کی صوبائی کابینہ کا اجلاس چرچ میں ہوا تھا،حکومت نے متاثرین جڑانوالہ کو 15 کروڑ روپے کی امدادی رقم جاری کر دی ہے، سانحہ جڑانوالہ کے 93 فیصد متاثرین کو امدادی رقوم کے چیک دے دیے گئے, انتظامیہ نے حتمی 80 متاثرہ خاندانوں میں سے 75 خاندانوں کو پیسے دے دیئے ہیں، متاثرین کو 20,20 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے نادرا سے تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد متاثرین کو رقوم جاری کی گئی ،جڑانوالہ کے 8 گرجا گھروں کو مکمل بحال کر دیا گیا باقی گرجا گھروں کی تعمیرومرمت کا کام جاری ہے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں

  • آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست،حکومتی اعتراض مسترد

    مبینہ آڈیوز لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس نے آڈیو لیکس بینچ پر اعتراضات کا حقیقی منظر نامہ بھی بیان کردیا،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا تعلق 14 اور 18 جنوری کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے ہے،آرٹیکل 224 کے تحت پنجاب میں 14 اپریل اور خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو انتخابات ہونا تھے، متعلقہ حکام نے ڈیڈ لائن کے بوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نتیجتاً پشاور اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر ہوئیں ،درخواستوں میں عام انتخابات کی تاریخ دینے کی استدعا کی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کی مجاز اتھارٹی قرار دے دیا ،گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں،90 دن کی آئینی ڈیڈلائن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 16 فروری کو چیف جسٹس کو از خود نوٹس کیلئے نوٹ لکھا، 18 فروری کو پنجاب اور کے پی کے اسپیکرز نے سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کی، مشترکہ درخواست میں عدالت سے پنجاب میں خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ مانگی گئی، اطلاعات کے مطابق اس دوران ہائیکورٹس میں معاملہ التوا کا شکار تھاچیف جسٹس نے 22 فروری کو انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر ازخود لیا، چیف جسٹس نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر 23 فروری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا،

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسی دوران 16 فروری کو ٹوئیٹر پر انڈیبل نامی اکاؤنٹ سے تین مبینہ آڈیوز جاری ہوئیں ، ایک مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور ارشد جھوجا کے مابین گفتگو پر مشتمل تھی،ایک مبینہ آڈیو صدر سپریم کورٹ بار اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین تھی،تیسری مبینہ آڈیو چوہدری پرویز الٰہی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے درمیان تھی،دو ماہ کے دوران نامور شخصیات کی ٹیلی فونک گفتگو کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری ہوئیں 23 اپریل کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کی خوش دامن کی بھی آڈیو جاری کی گئی، وفاقی حکومت نے مبینہ آڈیوز کی تصدیق کئیے بغیر ججز کی تضحیک کیلئے آڈیوز کی توثیق کر دی،وفاقی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کو بالائے طاق رکھ دیا،وفاقی وزراء نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگز کو ججز کی حکومت کے خلاف تعصب کے ثبوت کے طور پر پیش کیا،منتخب حکومت کے نمائندوں کی جانب سے اعلی عدلیہ کے ججز کی تضحیک کا عمل نا صرف میڈیا بلکہ پارلیمان میں بھی جاری رہا،وفاقی حکومت نے بالآخر 19 مئی کو مبینہ آڈیوز پر ایکشن لیا ، وفاقی حکومت کی جانب سے مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا،کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت کی خواہش پہلے آڈیوز کی سچائی جاننا تھی ،انکوائری کمیشن کا مقصد آڈیوز کی درستگی ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کا تعین کرنا تھا،اگر کمیشن اس نتیجے پر پہنچتا کہ آڈیوز جعلی ہیں تو انہیں بنانے والوں کیخلاف کاروائی ہونا تھی،

    وفاقی حکومت نے اعلی عدلیہ کے تین ججز کو انکوائری کمیشن کے لئے چنا، ریکارڈ پر موجود ہے کمیشن کی تشکیل سے پہلے وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کو نہ مطلع کیا ، نہ مشورہ کیا اور نہ ہی انکی رضا مندی حاصل کی،آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے 22 مئی کو پہلا اجلاس بلایا،کمیشن کے اجلاس کے فوری بعد سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواستیں دائر ہوئیں ، 26 مئی کو موجود 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی،اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی،بینچ سے علیحدگی کی درخواست کا جواز چیف جسٹس کی خوش دامن کی مبینہ آڈیو بتایا گیا، عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست کو مسترد کردیا،عدالت نے آڈیوز آئیندہ سماعت تک آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کو کام سے روک دیا،31 مئی کو اٹارنی جنرل نے ججز کی بینچ سے علیحدگی کیلئے درخواست دائر کی، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ سے علیحدگی کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے،لہذا ہمارا فیصلہ صرف چیف جسٹس کی بینچ سے علیحدگی کی درخواست تک محدود ہے ،دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ، مختلف حربوں سے عدالتی فیصلوں میں تاخیر، عدالت کی بے توقیری کی گئی،بے توقیری کا سلسلہ یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا، حکومت 4 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے نظر ثانی اپیل کے پیچھے چھپ گئی، وفاقی حکومت کا مقصد اپنی بے عملی کو جواز دینا تھا، ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈرز قانون کو سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے، وفاقی حکومت نے متعدد آئینی مقدمات سے ججز کو الگ کرنے کیلئے درخواستیں دائر کیں، آڈیو لیکس میں بھی مفادات کا ٹکراؤ بے سروپا بنیادوں پر درخواست دائر کی،آڈیو لیکس کیس کیخلاف اعتراض کا مقصد چیف جسٹس پاکستان کو بنچ سے الگ کرنا تھا،وفاقی وزرا نے انتخابات کیس میں عوامی فورمز پر اشتعال انگیز بیانات دیے،وزیروں کا اشتعال انگیز بیانات کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو تقویت دینا تھا، سپریم کورٹ نے حکومت کے ان مقدمات کو انتہائی تحمل اور صبر سے برداشت کیا، ججز پر اعتراضات والی حکومتی درخواست عدلیہ پر حملہ ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے ججز بینچ پر حکومتی اعتراض مسترد کردیا ،عدالت نے ججز پر اعتراض کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا ،عدالت نے بینچ سے علیحدگی کی درخواست کو مسترد کردیا ،آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کر دیئے گئے،سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا

    حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے ،حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی ،سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے ،پی ڈی ایم حکومت نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 6 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

  • سپریم کورٹ سے 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کی درخواست کو پٹیشن نمبرالاٹ

    سپریم کورٹ سے 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کی درخواست کو پٹیشن نمبرالاٹ

    اسلام آباد: 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو آئینی پٹیشن نمبر الاٹ کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کو آئینی پٹیشن نمبر32/2023 الاٹ کیا گیا، واضح رہے کہ سپریم کورٹ بارنے نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کرانے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا درخواست میں عدالت عظمیٰ سے 90 روز میں الیکشن کرانے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے دائر کی ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آرٹیکل 184/3 کے تحت آئینی درخواست دائر کی درخواست میں سپریم کورٹ بار نے استدعا کی کہ نئی مردم شماری سے انتخابات کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے الیکشن کمیشن کو فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا حکم دیا جائے درخواست میں وفاق، مشترکہ مفادات کونسل، چاروں صوبوں اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

    الیکشن جنوری فروری سے پہلی بھی ہوسکتے ہیں،نگران وزیراعظم

    سپریم کورٹ بار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ 5 اگست کو سی سی آئی کے فیصلے کی روشنی میں جاری نوٹیفکیشن غیرقانونی قرار دیا جائے آئین کا آرٹیکل 224 شق 2 انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا پابند کرتا ہے، عدالت قرار دے کہ الیکشن کمیشن کسی صورت انتخابات 90 دنوں سے آگے نہیں بڑھا سکتا، الیکشن کمیشن کے پاس آئینی اختیار نہیں کہ نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات میں تاخیر کرے، پنجاب اور کے پی کے نگراں وزرائے اعلیٰ 90 دنوں میں الیکشن کروانے میں ناکام رہے، دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔

    ایک بسکٹ کم نکلنے پر کمپنی کوایک لاکھ روپیہ جرمانہ

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نگراں حکومتوں کا کام آئین و قانون کے مطابق الیکشن کروانا ہے، نگراں وزرائے اعلیٰ منتخب وزرائے اعلیٰ کی طرح اختیارات استعمال نہیں کر سکتے، نگراں وزرائے اعلیٰ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت کے اہل ہی نہیں تھے۔