Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے،
    پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے دلائل شروع کئے، وکیل علی ظفر نے 1962 کے عدالتی ایکٹ کا حوالہ دیا،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہہت اچھا فیصلہ ہے یہ ریویو سے متعلق تھا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کو اپنا پرانا فیصلہ ری اوپن کرنے میں بہت ہچکچاہٹ اور احتیاط برتنی چاہیے ،فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حتمی ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں وزڈم ہے وہ قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں، آپ کی جانب سے اب تک تین پوائنٹ اٹھائے گئے ہیں، علی ظفرنے کہا کہ مقدمات کے حتمی ہونے کا تصور بڑا واضح ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے، ہمارا قانون کہتا ہے کہ اگر کسی فیصلے میں غلطی ہے تو اس کو درست کیا جا سکتا ہے ، علی ظفر نے کہا کہ فیصلہ قانون اور حقائق کے برخلاف ہوگا تو ہی درست کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت دانشمندی ہے جو قانونی عمل کو حتمی بنانے کی بات کر رہے ہیں،عدالت دیکھ رہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ قانون کے ذریعے نظر ثانی کو بڑھا سکتی ہے، آپ کی دلیل ہے کہ نظر ثانی کو اپیل میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، دوبارہ سماعت کا تصور اپیل کا ہے، علی ظفرنے کہا کہ آرٹیکل 184/3 حتمی احکامات کے لیے بنایا گیا ہے،جب 184/3 کی شرائط پوری ہو رہی ہوں تو عدالت حکم جاری کرتی ہے، اگر کسی کو آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق دیا جائے تو یہ ازخود نوٹس کے اختیارات کم کرنے کے مترادف ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ نظرثانی قانون کو وسیع کرسکتی ہے،آئین میں نظرثانی کے دائرہ اختیارکوبالکل واضح لکھا گیا ہے،وکیل نے کہا کہ میرا کیس ہی یہی ہے کہ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ خلاف آئین ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری ریویو میں صرف نقص دور کیا جاتا ہے جبکہ سول میں اسکوپ بڑا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کے آئینی تقاضے ہیں مگر اسے اپیل میں نہیں بدلا جاسکتا،اگر نظرثانی میں اپیل کا حق دینا ہے تو آئینی ترمیم درکار ہوگی،نظرثانی کیس میں صرف نقائص کاجائزہ لیا جاتا ہے نئے شواہد بھی پیش نہیں ہوسکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کی نظر ثانی تک اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے، علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون الیکشن کمیشن کی نظر ثانی پر اپلائی نہیں ہوتا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قانون پچھلے فیصلوں پر اپلائی ہو اور مستقبل کے کیسز پر بھی لیکن پنجاب الیکشن کیس پر نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین دائرہ اختیار میں کمی کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ آئینی ترمیم کے زریعے ہونا چاہیے ،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ازخود نوٹس کے ذریعے ریویو کا حق دیا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آئین اختیارات میں کمی کی اجازت تو دے رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کے لیے عدالتی فیصلوں میں غلطیوں کی نشان دہی کرنا ہوتی ہے ، کیا آئین سازوں کو نظر ثانی اور اپیل کا فرق معلوم تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ پارلیمان سب کچھ کر سکتی ہے لیکن آئینی ترمیم کے ذریعے، قانون سازی کے ذریعے نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی میں سماعت کا حق اور غلط قانون قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اپیل نہیں بنایا جا سکتا ،

    سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کیس ،علی ظفر کے دلائل مکمل ہو گئے، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو کل سنیں گے،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان سے تحقیقات کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،ارشد شریف کی قتل ازخود نوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان نے دو رپورٹس کا حوالہ دیا، خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے عبوری تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ،دوسری رپورٹ میں وزارت خارجہ کی طرف سے اب تک اقدامات کے بارے میں بتایا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں حکومت پاکستان کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر بات چیت کے عمل میں ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں پر عملدرآمد میں کچھ وقت لگے گا،ارشد شریف کی دوسری اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو اقوام متحدہ کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں کا حوالہ دیا جو دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات میں شامل ہیں، ارشد شریف کی والدہ کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے دو متفرق دائر درخواستوں کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بعض افراد کے نام بتائے ہیں جن کو ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث سازشیوں اور مجرموں کے بارے میں علم ہے،

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ارشد شریف کی والدہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کو مذکورہ افراد کی جانچ کرنے کی ہدایت دی جائے،متفرق درخواستوں پر غور کرنے کے بعد والدہ کے وکیل کی استدعا قابل قبول نہیں ہے،سوموٹو میں عدالت ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں محض سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کیس پر مذید سماعت جولائی 2023 میں دوبارہ کی جائے گی،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل،حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف آئینی درخواستیں ،سپریم کورٹ نے 8 جون کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف جاری حکم امتناع میں ایک ماہ کی توسیع کر دی،حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی اصلاحات قانون میں درستگی کیلئے مہلت کی استدعا کی،اٹارنی جنرل نے نظرثانی کے نئے قانون میں بھی درستگی کیلئے مزید مہلت مانگی،اٹارنی جنرل کے مطابق قوانین میں غلطیوں کی درستگی کیلئے ڈرافٹ شروع ہوچکا،اٹارنی جنرل کے مطابق پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی وجہ سے قانون سازی کیلئے وقت درکا ہے ، اٹارنی جنرل کے مطابق عید کی وجہ سے بھی قانون سازی کیلئے وقت درکار ہے ، 8 رکنی بینچ میں شامل جسٹس شاہد وحید کی علالت کے باعث کھلی عدالت میں سماعت نہ ہوسکی ،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

     چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے سے متعلق درخواست دائر کی گئی ہے ،سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے آرٹیکل 3/183 اختیارات کے ریگولیٹ کا قانون کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ،دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرہ ہے، سیاسی لیڈر شپ کے اسمبلی کے اندر، باہر بیانات 3 رکنی بینچ کیلئے دھمکیوں کے مترادف ہیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، پارلیمنٹ کے قانون کو غیر آئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا، سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

  • ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،سینئیر صحافی ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لاجر بنچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بنچ میں شامل تھے،سپیشل جے آئی ٹی نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینیا میں موجود ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں،
    ملزمان کے ریڈ وارنٹس کیلئے انٹرپول سے رجوع کیا گیا ہے، کینیا کی حکومت نے معاہدے کا ہی کہا ہے،اس معاہدے کے بغیر کوئی چوائس نہیں ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تحقیاتی ٹیم کا دورہ کینیا لاحاصل مشق تھی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا لیک ہونا بھی بدقسمتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر رپورٹ دیکھ کر سرپرائز ہوا۔جو جرم ہوا وہ بہت سنگین تھا۔ایک صحافی کا قتل ہونا پوری دنیا کے لیے باعث تشویش تھا۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کسی بھی قسم میں کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ایم ایل اے کا معاہدہ ہونا ضروری ہے،فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع ہونے کے بعد بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ کا سیکشن 3 کینیا کی حکومت سے تعاون سے منع نہیں کرتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کیوں شائع کی گئی، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے متعلق احتیاط کیوں نہیں کی گئی،ارشد شریف کی بیوہ نے اپنی رپورٹ میں مختلف عالمی قوانین کا حوالہ دیا ہے,چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جویریہ صدیق کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین تک رسائی کا کیا طریقہ کار ہے ؟سعد بٹر وکیل جویریہ صدیق نے کہا کہ اقوام متحدہ فورم کے تحت درخواست دی جا سکتی ہے ، جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں،اسطرح کے قتل کیسسز میں بین الاقوامی اداروں کو لکھا جا سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت خود اس سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتی،ارشد شریف کے قتل میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی،وکیل سعد بٹرنے کہا کہ اگر کینیا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو عالمی کنونشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے،صحافیوں سے گزارش ہے کہ معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھیں اور اٹارنی جنرل کی رپورٹنگ میں احتیاط کریں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کینیا کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا زکر موجود ہے،

    ارشد شریف قتل کیس کی سماعت جولائی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے حکومت سے کینیا کیساتھ باہمی قانونی معاہدے پر پیشرفت رپورٹ طلب کر لی

  • سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ، ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات اور ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے
    ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ روسٹرم پر آ گٸے ،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ میری درخواست بھی سن لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے نظر ثانی قانون پر دلاٸل سنے گی، اگر قانون کیخلاف کیس مضبوط نہ ہوا توآئندہ لاٸحہ عمل طے کریں گے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت تین رکنی بینچ نظر ثانی درخواست نہیں سن سکتا،

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ پر حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس سنے بغیر مفروضات کی بنیاد پر کیسے حکم امتناع دے دیں، وکیل الیکشن کمیشن نےاستدعا کی کہ پنجاب الیکشن کا معاملہ ریو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز کیس کا فیصلہ ہونے تک زیر التواء رکھا جائے،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    سپریم کورٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ،قانون پر عملدرآمد روکنے کی استدعا درخواست گزار زمان وردگ کی جانب سے کی گئی تھی درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ نظرثانی قانون لارجر بنچ کے سامنے مقرر کیا جائے،عدالتی اصلاحات بل اور نظرثانی ایکٹ ایک جیسے قوانین ہیں،عدالتی اصلاحات بل پر آٹھ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے مناسب ہوگا یہ مقدمہ بھی اسی لارجر بنچ کو بھجوا دیا جائے۔ دوسرے درخواست گزار زمان وردگ نے بھی استدعا کی حمایت کر دی ،کہا کہ لارجر بنچ کی سماعت تک عدالت قانون پر عملدرآمد معطل کر دے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کے بعد ایک قانون پر عملدرآمد نہیں روک سکتے،درخواست گزار زمان وردگ نے کہا کہ دونوں قوانین یکساں ہیں دلائل کی نوعیت بھی ایک جیسی ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر قانون پر عملدرآمد روکنا ممکن نہیں

    عدالت نے تحریک انصاف کی نظرثانی قانون کیخلاف کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور کر لی ،تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کر دیا اور کہا کہ نظرثانی ایکٹ آئین کے خلاف ہے،سپریم کورٹ آرٹیکل 188 کے تحت اپنے احکامات پر نظرثانی کر سکتی ہے، نظرثانی کا دائرہ کار آئینی ترمیم کے بغیر بڑھایا نہیں جا سکتا، آئین سازوں نے نظرثانی کے دائرہ کار کو سوچ سمجھ کر محدود رکھا۔ نظرثانی کا اختیار اپیل سے مختلف ہے نظر ثانی کا مطلب معاملہ پر دوبارہ سماعت کرنا نہیں۔ فل کورٹ نے1980 میں رولز مرتب کیے بڑے نام والے ججز نے رولز بنائے۔ سن ججز کے قانونی ویژن پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔رولز کےآرڈر26 میں واضح لکھا ہے کہ نظر ثانی کا دائرہ کتنا ہوگا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 188 اور191 میں قانون کا بھی ذکر ہے۔آئین سازوں نے 188 اور 191 کو قانون سے بھی مشروط کیا ہے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حتمی ہونے کا ایک تصور موجود ہے،
    نظرثانی میں شواہد دوبارہ نہیں دیکھے جاتے،نظرثانی کا دائرہ اختیار اپیل جیسا نہیں ہوسکتا،نظرثانی صرف اس لیے ہوتی ہےکہ سابقہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہو،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 188 ایکٹ آف پارلیمنٹ کی بھی بات کرتا ہے، وکیل علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں،آئین سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف اپیل کا نہیں کہتا،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اپیل در اپیل کا حق ملتا گیا تو سپریم کورٹ کے فیصلے حتمی نہیں ہونگے، ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کے اندر سپریم کورٹ بن جائے گی،اپیل کے بعد سپر اپیل جیسا ہی ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسی مثال دیں کہ قانون سازی سے عدالت کا دائرہ اختیار کیسے بڑھایا جاسکتا ہے، مجھے ایسی باقاعدہ مثال نہیں ملی،وکیل نے کہا کہ دائرہ اختیار بڑھانے سے مراد ہرگز یہ نہیں ہوسکتی کہ نظر ثانی کو کسی اور چیز میں بدل دیا جائے، پنجاب الیکشن اور ریویو اینڈ ججمنٹ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

  • سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے کرونا وائرس ازخود نوٹس نمٹا دیا
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ کرونا اب عالمی سطح پر وباء نہیں رہی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وباء ختم ہوگئی ہے تو ازخود نوٹس بھی نمٹا دینا چاہیے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرونا سے جو سبق حاصل ہوئے انہیں مستقبل کیلئے استعمال کیا جائے، کرونا کے حوالے سے تو قانون سازی بھی ہوچکی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کی دی گئی تمام ہدایات پر عمل ہوچکا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت مٰں کہا کہ عملدرآمد رپورٹس جمع کروا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے سماعت کی

    واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا کرونا دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آیا تھا، پاکستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے بعد تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے تھے ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافز کر دی گئی تھی،شہروں میں لاک ڈاؤن لگا دیا تھا، کرونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا بھی کاروبار کی بندش کی وجہ سے برا حال ہوا،

    کرونا کے ایام میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا، ایک کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ منافع خوروں نے کورونا کے مریضوں کی ادویات ذخیرہ کرلی ہیں،ادویات کو مہنگے داموں فروخت کیا جاریا ہے،کورونا مریضوں کے لیے گیس سلنڈر بھی مہنگے فروخت کیے جارہے ہیں،غیرقانونی اقدام کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،سپریم کورٹ نے کورونا سے بچاوَ کے حفاظتی سامان مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ،ادویات، آکسیجن سلنڈراوردیگرآلات مہنگے فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق تمام طبی آلات، ادویات مناسب قیمت پریقینی بنانے کی ہدایت کی،عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق طبی آلات، ادویات کی ترسیل بھی یقینی بنانے کا حکم دیا

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کرونا اس لئے نہیں آیا کہ کوئی پاکستان کا پیسہ اٹھا کر لے جائے، چیف جسٹس

    کرونا از خود نوٹس کیس، سماعت کل تک ملتوی، تحریری حکمنامہ جاری

    سرکاری کٹس سے ٹیسٹ مثبت،پرائیویٹ سے منفی کیوں؟ چیف جسٹس نے بھی اٹھائے سوالات

  • حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی ،عدالت نے غیرمنقولہ پراپرٹی پر عائد 100 فیصد ٹیکس دینے پر حکم امتناع جاری کردیا اور فریقین کو غیرمنقولہ جائیدادوں پر50 فیصد ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے کا اطلاق منقولہ جائیداد پر نہیں ہو گا

    دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کواس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تعاون کریں حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں اس نئے ٹیکس سسٹم کی خامیوں کو دیکھنا ہوگا مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے کریٹوٹیکسیشن کرنا ہوگی،عدالت نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آئین وقانون کے مطابق کرے۔ سپریم کورٹ نے 100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد کردی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

  • پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات معاملہ ،وفاقی حکومت کی الیکشن کمیشن نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نظرثانی کیس کی سماعت کیلئے تین رکنی بینچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں کیس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا، حکومت نے نئے قانون کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کل نظر ثانی کیس کی سماعت کریگا

    واضح رہے کہ آخری سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروایا تھا، آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی،ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا وفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا

  • انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے خط لکھ چکی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کو دکھایا گیا یے؟ وکیل انور مجید نے کہا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا ہے، بینکنگ عدالت کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا،نیب کو بھی بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالت اجازت دے تو میرا موکل علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا، جب تک نیب تسلیم نہ کرلے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا،نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس انکے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی 81 سال عمر ہے فوری سرجری کی ضرورت ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ عدالت میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا، عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا گیا بیان طلب کرلیا کیس کی مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

  • عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    اسلام آباد: سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ ارشد نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: ارشد شریف کی اہلیہ نے جواب میں اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں اور عالمی قوانین کا حوالہ بھی دیا کہا کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے، عالمی قوانین کے کینیا کی جانب سےعدم تعاون کی شکایت متعلقہ فورم پر کی جا سکتی ہے-

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری

    جواب میں کہا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت دوسری ریاستوں میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون موجود ہے پاکستان اور کینیا دونوں ہی اس حوالے سے عالمی قوانین کو تسلیم کر چکے ہیں، خلاف ورزی پر اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ کا خصوصی لارجر بینچ 13 جون کو ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ 24 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

    ارشد شریف کی میت پاکستان لائے جانے کے بعد پمز اسپتال کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے، ان کو گولی انتہائی قریب سے ماری گئی تھی پمز ذرائع کے مطابق ارشد شریف کا کینیا میں بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا جس کی وجہ سے موت کے وقت پہنے کپڑے ساتھ نہیں دیئے گئے۔

    سیالکوٹ:کھیلوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پہ فروغ دینا وقت ضرورت ہے- چوھدری …