Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    پنجاب انتخابات، نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،پنجاب انتخابات معاملہ ،وفاقی حکومت کی الیکشن کمیشن نظر ثانی سماعت کیلئے لارجر بینچ کی استدعا مسترد کر دی گئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نظرثانی کیس کی سماعت کیلئے تین رکنی بینچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں کیس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا، حکومت نے نئے قانون کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کل نظر ثانی کیس کی سماعت کریگا

    واضح رہے کہ آخری سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023 کی کاپی اور نوٹیفکیشن سپریم کورٹ جمع کروایا تھا، آرٹیکل 184 کے تحت مقدمات کی نظرثانی درخواستوں میں سپریم کورٹ اپیل کی طرز پر سماعت کرے گی،ایکٹ کا دائر کار اس قانون کے بننے سے پہلے کے فیصلوں پر بھی ہو گا، نظرثانی درخواست کی سماعت لارجر بینچ کرے گا، لارجر بینچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس کا فیصلہ سنانے والے ججز سے زیادہ ہوگی، 184(3)کے فیصلے کے خلاف 60روز میں اپیل دائر کی جاسکے گی، نظر ثانی میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کیا جا سکے گا،ایکٹ کا دائرہ کار سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے فیصلے اور رولز پر بھی ہو گا،ایکٹ نافذ ہونے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین بھی ایکٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست میں نگران پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا وفاقی حکومت نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پرنظرثانی کی استدعا کی ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سپریم کورٹ نے خود تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے اختیار کو غیر موثر کر دیا، پنجاب میں انتخابات پہلے ہوئے تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔نگران پنجاب حکومت نے صوبے میں فوری انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہےکہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار ریاست کے دیگر اداروں کو ہے، 14 مئی الیکشن کی تاریخ دے کر اختیارات کے آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہوئی ہے، آرٹیکل 218 کے تحت صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اختیارات کی تقسیم کے پیش نظر سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا میں الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر نظر ثانی دائر کررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ انتخابات کی تاریخ کا حکم نہیں دے سکتی، عدالت نے تاریخ دیکر اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 14 مئی کو پنجاب بھر میں انتخابات کرانے کا حکم دے رکھا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے 4 اپریل کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کیا گیا تھا

  • انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے خط لکھ چکی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کو دکھایا گیا یے؟ وکیل انور مجید نے کہا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا ہے، بینکنگ عدالت کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا،نیب کو بھی بیرون ملک جانے پر کوئی اعتراض نہیں، عدالت اجازت دے تو میرا موکل علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا، جب تک نیب تسلیم نہ کرلے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا،نیب بیان دے کہ انور مجید کا کیس انکے دائرہ کار میں نہیں آتا تو حکم دے دیتے ہیں، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی 81 سال عمر ہے فوری سرجری کی ضرورت ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینکنگ عدالت میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا، عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا گیا بیان طلب کرلیا کیس کی مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    موجودہ حکومت نے مشکلات کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا

    یہ بجٹ سود خوروں کا ہے، عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں. سینیٹر مشتاق احمد

    وفاقی بجٹ میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد. چیئرمین ایف بی آر

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا تہلکہ خیز انٹرویو

  • عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے،اہلیہ ارشد شریف

    اسلام آباد: سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ ارشد نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: ارشد شریف کی اہلیہ نے جواب میں اقوام متحدہ کی مختلف قراردادوں اور عالمی قوانین کا حوالہ بھی دیا کہا کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کینیا میں حقِ دعویٰ رکھتا ہے، عالمی قوانین کے کینیا کی جانب سےعدم تعاون کی شکایت متعلقہ فورم پر کی جا سکتی ہے-

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری

    جواب میں کہا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت دوسری ریاستوں میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون موجود ہے پاکستان اور کینیا دونوں ہی اس حوالے سے عالمی قوانین کو تسلیم کر چکے ہیں، خلاف ورزی پر اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ کا خصوصی لارجر بینچ 13 جون کو ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ 24 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

    ارشد شریف کی میت پاکستان لائے جانے کے بعد پمز اسپتال کے 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے، ان کو گولی انتہائی قریب سے ماری گئی تھی پمز ذرائع کے مطابق ارشد شریف کا کینیا میں بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا جس کی وجہ سے موت کے وقت پہنے کپڑے ساتھ نہیں دیئے گئے۔

    سیالکوٹ:کھیلوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پہ فروغ دینا وقت ضرورت ہے- چوھدری …

  • عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،

    آرٹیکل 184(3) کے تحت درخواست سول سوسائٹی نے دائر کی ہے، دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے،سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کے عمل کو غیر آئینی قرار دے،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے مقدمات چلانے کے لیے گائیڈ لائنز بننے تک ٹرائل روکنے کا حکم دیا جائے، جب تک ملٹری کورٹس میں فیئر ٹرائل اور کسی آزاد عدالت میں اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی نہیں ہو جاتی ملٹری کورٹس میں کاروائی روکنے کا حکم دیا جائے، فیئر ٹرائل کے اصول کے تحت ملٹری کورٹس میں میں چلائے والے مقدمات فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کے حکم دیا جائے،وفاقی حکومت کو سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز سے ہمیشہ کے لیے روکنے کا حکم جاری کیا جائے،عدالت آرٹیکل 245 کے تحت وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فوج طلب کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے،

    عدالت آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹیفکیشن اور دیگر متعلقہ دستاویزات پبلک کرنے کا حکم جاری کرے،احاطہ عدالت سے خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی ورکرز کی گرفتاریوں کو غیر آئینی قرار دے،گرفتار تمام ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے، آرٹیکل 245 کے نفاذ کے آئین کے آرٹیکل 10، 14، 15 اور 19 پر براہِ راست اثرات ہیں، درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے

  • سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا،

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر چھ بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے ،سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی آئندہ ہفتے بھی چیمبر ورک کریں گے ،بنچ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال،جسٹس امین الدین اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا ،بنچ نمبر دو میں جسٹس سردار طارق،جسٹس جمال خان اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہونگے ،بنچ تین جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا ،بنچ چار میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہونگے بنچ پانچ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہوگا ،بنچ چھ میں جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہونگے ،ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی کیخلاف درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی

    موبائل سم ایکٹیویٹ کرنے پر عائد ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوگی اومنی گروپ کے خواجہ انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی ،کرک مندر اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوگی پنجاب انتخابات اور سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو ہوگی،آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں اربوں روپے ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو ہوگی مار گلہ ہلز پر قائم موبائل ریسٹورنٹ سیل کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت منگل کو ہوگی ملک بھر میں جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف درخواست پر سماعت جمعرات کو ہوگی نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت جمعہ کو ہوگی

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    پانامہ میں شامل 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ، پانامہ کیس ،جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل جماعت اسلامی بتائیں اب اس معاملہ کا کیا کرنا ہے، سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا ، سات سال سے آپ کو اس کیس می کوئی دلچسپی نہیں تھی، پہلے وکیل جماعت اسلامی بتائے اپنا درخواست کو ڈی لنک کیوں کروایا ،پانچ رکنی بینچ سے اتنا بڑا ریلیف کیوں نہیں لیا؟ وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پانامہ میں نام آئے 436 لوگوں کی بھی تحقیقات ہو۔جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کو کیوں بائی پاس کرنا چاہتے ہیں۔کیا باقی تمام اداروں کو بند کردیں۔ کیا سارے فیصلہ سپریم کورٹ سے کروانے ہیں۔

    پانامہ کیس میں سپریم کورٹ مقدمہ کو نواز شریف کیس سے علیحدہ کروانے پر برہم ہو گئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں، آف شور کمپنیاں کیسے بنائی گئیں وہ ادارے دیکھیں گے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم کوئی از خود نوٹس نہیں لیں گے، بہت سی باتیں کرنے کو دل کرتا ہے نہیں کریں گے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے؟ اس وقت ایک ہی فیملی کے خلاف کیس چل رہا تھا، وہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے یہ بھی پانامہ کا معاملہ ہے، اس وقت آپ کے اس عدالت کے سامنے کیوں نہ کہا یہ سب لوگوں کا معاملہ ہے ساتھ سنا جائے؟ اس معاملے پر عدالت کا کندھا استعمال نہ کریں ، اس وقت یہ معاملہ آپ کی استدعا پر ڈی لیسٹ کیا گیا؟ میں کہنا نہیں چاہتا مگر یہ مجھے کچھ اور ہی لگتا ہے، اس وقت بنچ نے آپ کو اتنا بڑا ریلیف دے دیا تھا،آپ نے اس بنچ کے سامنے کیوں نہیں کہا اس کو ساتھ سنیں، آپ نے سات سال میں کسی ادارے کو درخواست کہ تحقیقات کی جائیں؟ آپ نے اپنی ذمہ داری کہاں پوری کی؟ نیب یا کسی اور ادارے کو تحقیقات کا حکم دے دیں،آپ نے سات سال میں کسی ادارے کے سامنے شکایت نہیں کی،سارے کام اب یہاں سپریم کورٹ ہی کرے؟ 436 بندوں کو نوٹس دیئے بغیر ان کے خلاف کاروائی کا حکم کیسے دیں؟ان 436 بندوں میں کاروباری لوگ بھی ہونگے، کیا انہیں بھگانا چاہتے ہیں؟ آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے وہ کمپنی بنائی کیسے گئی، 436 بندوں کے خلاف ایسے آرڈر جاری کر دینا انصاف کے خلاف ہوگا،

    پانامہ پیپرز میں 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کی سراج الحق کی درخواست پر سماعت ،عدالت نے پانامہ پیپرز میں نامزد 436 افراد کے خلاف جے آئی ٹی بنانے پر جواب طلب کر لیا ،

    سپریم کورٹ کے 5 ججز کی جانب سے 3 نومبر 2016 کو پانامہ کیس قابل سماعت قرار دیا گیا تھا،عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ پانامہ پیپرز میں نامزد افراد کیخلاف نیب، ایف آئی اے،اینٹی کرپشن سمیت اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ ایف بی آر، اسٹیٹ بنک، نیب سمیت تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں سپریم کورٹ تحقیقات کیسے کرا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی موجودگی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تو یہ کام کیسے کریں گے؟ عدالت پانامہ میں نامزد 436 افراد کو سنے بغیر فیصلہ کیسے کرے؟ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی،

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان ملک میں کرپشن کے خلاف جدو جہد ہر رہی ہے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ کرپشن کے ناسور کے خلاف جدو جہد ہر ایک پر لازم ہے۔ پانامہ لیکس کی خبر میں 436 پاکستانیوں کا نام تھا۔جماعت اسلامی کے اس پر سب سے پہلے کاروائی کی درخواست کی تھی ۔ افسوس کے صرف ایک فرد کے خلاف فیصلہ ہوا۔ 435 افراد کے خلاف کچھ بھی نہ ہوا۔ پانامہ لیکس کے دو ججز چیف جسٹس بنے لیکن کچھ نہ کیا۔ ملک میں احتساب کے ادارے کیا کر رہے ہیں ؟ایف آئی اے ،نیب اور دیگر اداروں نے کیا کام کیا ؟ہمارے ان اداروں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ حکومت میں آنے والے افراد کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں اپوزیشن کے خلاف تمام ادارے تیز ہوجاتے ہیں ۔چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اپنا فرض پورا کرے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی فاقہ چل رہا ہے کچھ لوگوں کے مال و دولت میں اصافہ ہو رہا ہے ۔یہ عوام کے پیسہ پر ڈاکہ ڈالا گیا یے۔سپریم کورٹ آنا پارٹی کا نہیں عوام کا مسئلہ ہے آج وزیروں اور مشیروں کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ہمارا مذہب اور آئین اس سب کی اجازت نہیں دیتا۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں 7ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔کرپٹ لوگوں کی بنا پر سارے ادارے تباہ ہوگئے ۔جماعت اسلامی نے چوک چوراہے سے پارلیمنٹ تک آواز بلند کی ۔ آج عوام کے حقوق لینے سپریم کورٹ میں حاضر ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ اس دفعہ بھی ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔ اداروں کی مدد لی جس کے لیے وہ بنے ہیں ۔

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس میں بڑی پیشرفت، ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست دائر کر دی

    ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں ارشد شریف کی والدہ نے عمران خان ،فیصل واڈا ،سلمان اقبال ،مراد سعید ،عمران ریاض کو شامل تفتیش کرنے کیلئے استدعا کی، ارشد شریف کی والدہ کی درخواست میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے متعلق ان تمام افراد سے شواہد حاصل کئے جائیں ،والدہ ارشد شریف نے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    والدہ ارشد شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اقدام کو سراہتی ہوں،ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات پاکستان میں ہونے والی سازش سے شروع کی جائیں، کئی افراد نے ارشد شریف کے قتل کی سازش بارے جاننے کا دعوی کیا ہے،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی رپورٹ اور نہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی گئی،سپریم کورٹ جے آئی ٹی سربراہ کو پانچ افراد کو تحقیقات میں شامل کرنے کا حکم دے، سپریم کورٹ جے ائی ٹی کی رپورٹس فراہم کرنے کا حکم دے،

    ارشد شریف قتل کیس میں اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے، ارشد شریف قتل کیس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا،،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ لاپتہ،سپریم کورٹ بار کا اظہار تشویش

    ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ لاپتہ،سپریم کورٹ بار کا اظہار تشویش

    آڈیولیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست گزار ریاض حنیف راہی لاپتہ ہوگئے،

    سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے گمشدگی پرتشویش کا اظہارکردیا ، سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریاض حنیف راہی کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے ، ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ بار کے رکن ہیں سپریم کورٹ بار کے ایک رکن کے لاپتہ ہونے پر ایسوسی ایشن آنکھیں بند نہیں کرسکتی وکلاء کے تحفظ اور سلامتی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہیں، یہ ایسوسی ایشن مزید زور دے کر کہتی ہے کہ ملک کا ہر شہری قانون کے یکساں تحفظ کا حقدار ہے، سب کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے پیشے کو بغیر کسی خوف، احسان اور ایذاء کے انجام دیں،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت ہر شہری کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں اور کسی کو ان کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے، اس طرح کی گمشدگی بنیادی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے، متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات کریں

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    چھ جون کو ریاض حنیب راہی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے،دوران سماعت درخواست گزار حنیف راہی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میری توہین عدالت کی درخواست پر ابھی تک نمبر نہیں لگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،آپ کی درخواست پر اعتراضات ہیں تو دور کریں،آپ یہ بھی سمجھیں کہ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں،جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا،

    درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات کیخلاف چمبر اپیل دائر کی ہے۔تمام متفرق درخواستوں کو نمبرز لگے ہیں میری اپیل پر نمبر نہیں لگا اپیل کو اوپن کورٹ میں لگا کر سماعت کر لیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے درخواست پر اعتراض کیا لگا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے توہین عدالت کی درخواست کے درخواست گزار کی سرزنش کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معلوم ہے آپ نے توہین عدالت کی درخواست کس کیخلاف دائر کی ہے آپ نے ججز پر توہین عدالت کا الزام لگایا ہے عمومی طور پر ججز کو توہین عدالت کی درخواستوں میں فریق نہیں بنایا جاتا مناسب ہے پہلے توہین عدالت کی درخواست پر لگے اعتراضات کو دور کریں توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور متعلقہ شخص کے مابین ہوتا ہے

  • ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جا سکتا ہے،عرفان قادر

    ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جا سکتا ہے،عرفان قادر

    معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم تو موجود ہے، لیکن عدلیہ میں کرپشن کا عنصر آجائے تو ججوں کا نیب قوانین کے تحت ٹرائل کیا جاسکتا ہے.

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ بھی نیب قانون کے دائرہ کار میں آتی ہے ،ججز کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، نیب بھی دیکھ سکتا ہے، کرپشن کسی بھی معاشرے کے لئے ناقابل قبول ہے اسکے حتمی خاتمے کے لئے عالمی اداروں کے شانہ بشانہ کام رہے ہیں فوج میں بھی آرمی ایکٹ سمیت دیگر قوانین ہیں جب کہ ججز سے متعلق کیسز سپریم جوڈیشل کونسل جاتے ہیں اس قانون میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس آئیں جس پر حکومت نے ججز پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا آڈیو لیکس میں کرپشن کا بھی عنصر ملتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کمیشن کی پروسیڈنگ کو روک دیا گیا پارلیمان کے قوانین کو نہیں مانا جا رہا لہٰذا قانون کا اطلاق ہونے سے پہلے ہی قانون سازی کو نہیں روکا جا سکتا انصاف سب کے لئے اور احتساب سب کا ہونا چاہئے ہر وہ کام جس کی قانون اجازت نہیں دیتا وہ کرپشن ہے جب تک احتساب نہیں ہوگا کرپشن ختم نہیں ہو سکتی البتہ یہ نہیں ہوسکتا کچھ لوگوں کے خلاف احتساب ہو باقی سے پوچھ گچھ نہ کی جائے

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    تحریک لبیک کا مہنگائی مارچ ،مبشر لقمان نے بھی حمایت کر دی

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟