Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    غزہ: اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے اموات کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ” نیویارک ٹائمز” کے مطابق ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے اپنے قیام 1948 سےلے کر اب تک فلسطینیوں اور دوسرے عرب ممالک کے خلاف جنگیں لڑیں ان کی نسبت موجودہ جنگ زیادہ خونی اور مہلک ثابت ہوئی ہے اس میں ہونے والے جانی نقصان نے ماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت میں اموات میں کا حساب لگانا مشکل ہے، اب تک اموات کا جو تناسب سامنے آیا ہے وہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتا،غزہ کی پٹی میں ہونے والی اموات نے امریکا کی عراق اور افغانستان میں شروع کی گئی جنگوں میں ہونے والی اموات سے بھی بڑھ گیا ہے۔

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جانی نقصان میں بے پناہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں ان میں ایک بڑی وجہ اسرائیل کا بھاری ہتھیاروں اور زیادہ تباہی پھیلانے والے بموں کا استعمال اور علاقے کا گنجان آباد ہونا ہے گنجان آباد علاقے میں تباہی پھیلانے والے بموں کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل کی تاریخ میں موجودہ جنگ سب سے بتاہ کن اور مہلک ہے،75 سال میں اسرائیل نے اتنے لوگ کسی جنگ میں نہیں مارے جتنے اس بار قتل کردئیےگئے ہیں-

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    "العربیہ” کے مطابق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے غزہ میں حماس کے 7 ہزار جنگجو ہلاک کئے ہیں مگر اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس تعداد کا اندازہ کیسے لگایاغزہ میں حکومت کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کی بمباری میں 6700 لوگ لا پتا ہیں یہ لوگ بھی جنگ میں مارے جانے والوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

  • اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    اسرائیلی وزیر نے جنگی کابینہ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

    تل ابیب: اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ جنگ کو منظم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیل میں تشکیل دی گئی ہنگامی جنگی کابینہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق اسرائیلی وزیر نے "ایکس ” پرآج جمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ "غزہ میں آپریشن کم کرنے کا خیال جنگی کابینہ میں کمزوری اور اس کی ناکامی کا ثبوت ہےاسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے-

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے بارہا غزہ کی پٹی میں کسی بھی انسانی جنگ بندی کی مخالفت پر زور دیا ہے، اس نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر سخت تنقید کی ہے اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تل ابیب اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلےکی نئی ڈیل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس ڈیل کے لیے بھی اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کرنے کو کہا جائے گا۔

    بیرونی قوتوں سے ملی بھگت کی تو بھر پور جواب دیں گے،چین کی فلپائن کو …

    دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نےکہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں جاری تنازع کو طول نہیں دینا چاہتا انہوں نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی حمایت پر زور دیا جمعرات کے روز انہوں نے کہا کہ نے غزہ میں امداد پہنچانے اور یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے جنگ بندی کے نفاذ کی حمایت پر زور دیا ہے لندن دو یرغمالیوں کی رہائی میں دلچسپی لے رہا ہے۔

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایٹمی حملے کی دھمکی دیدی

    برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ تک امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ ان کا ملک اردن کے ذریعے امداد بھیجنے پر غور کر رہا ہے،ہم غزہ کے لیے امداد کی سب سے بڑی رقم بھیجنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک نہیں مل رہی امداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے، ان کے اس خطے کے دورے کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کے ایام پر بات چیت کرنا ہے۔

    چیک جمہوریہ کی یونیورسٹی میں فائرنگ،15 افراد ہلاک 30 زخمی

  • اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    اسرائیل کی جارحیت جاری، شمالی غزہ کے تمام اسپتال غیر فعال ہو گئے

    غزہ: شمالی غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری اور پابندیوں کی وجہ سے تمام اسپتال غیر فعال ہوگئے،جبکہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ میں ہر گزرتے گھنٹے میں تازہ ہلاکتوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی :فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے جبالیہ مہاجرین کیمپ میں چیریٹی ایمبولینسز کو مسلسل قبضے میں لے رہی ہے،علاقے میں اسرائیلی فوج کی شدید شیلنگ اور اسنائپرز کی فائرنگ بھی جاری ہے،جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کی شیلنگ کی وجہ سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے باعث میڈیکل ٹیموں کو فوری طور پر رفح کراسنگ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے-
    https://x.com/PalestineRCS/status/1737748454686818687?s=20
    عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہےکہ شمالی غزہ میں اسرائیلی کی مسلسل بمباری، فیول سپلائی کی بندش، اسٹاف اور سپلائی نہ ہونے سے تمام اسپتال غیر فعال ہوچکے ہیں۔

    "العربیہ” کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی فوج کی کشتیوں سےغزہ کے جنوبی شہر خان یونس اور رفح کے علاقے پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہوگئے ہیں اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر خان یونس کے مشرق میں معن کے علاقے پر بمباری کی، اسرائیلی کشتیوں نے بھی بحیرہ رفح میں شدید بمباری کا آغاز کیا-

    غزہ کے شمال میں بیت حانون میں بھاری مشین گنوں کے ساتھ جھڑپیں پھوٹ پڑیں جبکہ اسرائیلی توپ خانے نے جبالیہ کے کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی، نیز غزہ کی پٹی کے وسط میں طیاروں نے البریج کیمپ پر حملہ کیا غزہ کے شمال میں جبالیہ پر نئے حملے کیے۔

    فلسطینی ریڈیو کے مطابق بمباری کا سلسلہ جاری رہا جس میں خان یونس کو نشانہ بنایا گیا وہاں پر ہزاروں بے گھر افراد جمع ہیں، فلسطینی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے 76 ویں روز آج جمعرات کو اسرائیلی طیاروں اور توپ خانے نے وسطی اور شمالی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ اور جبالیہ کو نشانہ بنایا۔

    ادھر غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں فوجی آپریشن جاری ہے اسرائیل نے اس شہر کے ایک بڑے علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا جو کہ جنوبی غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں ڈھائی ماہ سے جاری جنگ سے بے گھر ہونے والے بہت سے فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے کے "تقریباً 20 فیصد” پر محیط علاقے کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا۔

    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی’میٹا’ فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو ‘میٹا’ سینسر شپ لگا کر سوشل میڈیا پر پھیلنے سے روکنےکی کوشش کر رہا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ‘میٹا’ کی اس سینسر شپ کی کوشش پر رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں ایچ آر ڈبلیو نے دعویٰ کیا ہے کہ میٹا اپنے سوشل پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر فلسطین کے حق میں لگائی جانے والی پوسٹس کو سینسر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق رواں برس اکتوبر سے نومبر تک کے درمیان سوشل میڈیا پر نشر مواد کے حوالے سے 60 ممالک کے 1000 سے زائد کیسز کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 300 سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس معطل ہوئے اور یہ تمام افراد اپنے اکاؤنٹس پر عائد پابندی کے خلاف اپیل بھی نہیں کر سکتے۔

    واضح رہےکہ غزہ جنگ کو آج 76 روز ہو چکے ہیں، اسرائیل کی غزہ پر جاری جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار تک جا پہنچی ہے جب کہ 52 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

  • حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی مذاکرات کیلئے مصر پہنچ گئے

    قاہرہ: حماس کے قطر میں مقیم رہنما اسماعیل ہنیہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ گروپ کی جنگ میں تؤقف اور قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کے لیے بدھ کے روز قاہرہ پہنچے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہنیہ "غزہ کی پٹی پر صیہونی جارحیت کی پیشرفت اور دیگر معاملات پر مصری حکام سے مذاکرات کے لیے دارالحکومت قاہرہ پہنچے،قاہرہ پہنچنے سے پہلے ہنیہ نے دوحہ میں ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی تھی حالانکہ اس ملاقات کی تفصیلات بہت کم تھیں۔

    فلسطینی مزاحمت کار گروپ کے قریبی ذریعے نے منگل کے روز نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہنیہ حماس کے ایک "اعلیٰ سطحی” وفد کی قیادت کریں گے جہاں وہ مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل اور دیگر کے ساتھ مذاکرات طے شدہ ہیں ، بات چیت "جارحیت اور جنگ کو روکنے پر ہو گی تاکہ قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرے کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کی تیاری کی جا سکے۔”

    امریکا :بحیرہ احمر کی حفاظت کیلئے 12 سے زائد اتحادیوں کے ساتھ نئی فوج تشکیل

    غزہ میں حماس کے شانہ بشانہ لڑنے والے اسلامی جہاد گروپ کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں گفتگو کے لیے گروپ کے رہنما زیاد نخلیح کی آمد بھی قاہرہ میں متوقع ہے۔

    گذشتہ ماہ کے آخر میں مصر اور امریکہ کی مدد سے قطر کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی ایک ہفتے تک جاری رہی جس کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید 240 فلسطینیوں کے بدلے 80 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، بدھ کے روز غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی میں شدت آئی ہے ایک روز میں 100 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری سے ایک ہی روز میں 100 فلسطینی شہید ہوگئےغزہ پراسرائیلی حملوں کے 11 ہفتے مکمل ہونے پر فلسطینی شہدا کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کر گئی –

    آرمی چیف کی امریکی تھنک ٹینک کے نمائندوں سے ملاقات

    7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں اب تک شہدا کی تعداد 19 ہزار 667 ہو گئی ہے اسرائیلی فوج نے عودہ اسپتال کو فوجی بیرکوں میں تبدیل کردیا جبکہ عرب اسپتال پر چھاپہ مار کر عملے کے بیشتر ارکان کو گرفتار کرلیا، جبالیہ کیمپ پر ایک بار پھر اسرائیلی طیاروں نے بم برسا دئیے جس کے نتیجے میں 13 پناہ گزین شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    "العربیہ” کے مطابق غزہ میں کئی مقامات پر سڑ کیں میدان جنگ کا منظر پیش کررہی ہیں جب کہ ہر گذرتے لمحے میں غزہ کے جنگ سے تباہ حال عوام کی مشکلات اور مصائب میں مزید اضافہ ہو رہا ہےتازہ ترین فیلڈ پیش رفت میں آج غزہ کے دوسرے بڑے شہر خان یونس کی گلیوں میں اسرائیلی فوج اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان پرتشدد لڑائی جاری ہے،فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل شمالی اور وسطی غزہ کی پٹی میں جبالیہ اور خان یونس کے علاقوں پر "شدید” اور مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ ایجنسی نے مقامی ذرائع اور صحافیوں کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت مزید درجنوں شہری مارے گئے ہیں۔

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    درایں اثناء اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 300 اہداف پر حملے کیے۔ ان حملوں میں حماس کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا قابض فوج کے مطابق تازہ بمباری میں حماس کے دسیوں جنگجو مارے گئے ہیں اور حماس کے فوجی ٹھکانوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے زمینی فورسز نے خان یونس کے علاقے میں حماس کے ایک فوجی ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا۔ تازہ کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے اسلحہ ، گولہ بارود، دھماکہ خیز آلات اور مارٹر گولے قبضے میں لینے کا اعلان بھی کیا۔

  • ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی

    ملائیشیا نے اسرائیلی مال بردار بحری جہازوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے ملیشین وزیر اعظم انور ابراہیم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں زِم شپنگ کمپنی پر فوری پابندی عائد کردی گئی ہے اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ”قتل عام اور بربریت“ کا ارتکاب کر رہا ہے، اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری جہاز کو ملک میں ڈاکنگ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ، اسرائیل جانے والے کسی بھی جہاز کے ملائیشیا کی بندرگاہوں پر سامان لوڈ کرنے پر پابندی ہوگی، یہ دونوں پابندیاں فوری طور پر موثر ہیں۔

    حوثی باغیوں کے جہازوں پر حملے، امریکا کا دس ملکی اتحاد کا اعلان

    دوسری جانب عالمی ادارے ریڈ کراس نے غزہ تنازع کو عالمی برادری کی اخلاقی ناکامی قرار دے دیا ہے، ریڈکراس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ انتہا کی حد تک درپیش مصائب کو روکنے میں ناکامی کا اثر صرف غزہ پر نہیں دیگر نسلوں پر بھی پڑے گا اور غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے غزہ کا 60 فیصد سے زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا اور غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے غزہ کی تباہی اتنی حیران کن ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    دوسری جانب فرانس کا کہنا ہے کہ اسرائیل بار بار کی تنبیہ کے باوجود تشدد رکوانے میں ناکام ہے لہٰذا مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تشدد کے ذمہ دار انتہا پسند یہودی آباد کاروں پر پابندیاں عائد ہوتی ہے قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملے اور تشدد کے واقعات میں اسرائیل پر یہودی آباد کاروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کر چکے ہیں۔

    ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی مرتا ہے، اسرائیلی آرمی افسرکی ویڈیو

  • ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی مرتا ہے، اسرائیلی آرمی افسرکی ویڈیو

    اسرائیل کا غزہ میں زمینی آپریشن میں جانی نقصان بڑھنے لگا۔

    باغی ٹی وی: اسرائیل نے غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنانے کے بعد 27 اکتوبر سے زمینی آپریشن شروع کیا ہے اور یہ اب تک جاری ہے اسرائیلی افواج کو غزہ میں مجاہدین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور اب مالی نقصان کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کا جانی نقصان بھی بڑھ رہا ہے اسرائیلی افواج نے غزہ کے زمینی آپریشن میں مزید 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے

    اسرائیلی افواج کے مطابق 17 دسمبر اتوار کو غزہ میں زمینی آپریشن میں افسر سمیت 4 فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ 14 دسمبر کو زخمی ہونے والا فوجی بھی مرگیا غزہ کے زمینی آپریشن میں مرنے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 127 تک پہنچ گئی۔

    دوسری جانب مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے 17 دسمبر کو اسرائیلی فوجی گاڑی پر حملے کی ویڈیو جاری کی ہے ویڈیو میں فوجی گاڑی کو مکمل تباہ ہوتے اور اسرائیلی فوجیوں کو جھلسی ہوئی حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    جبکہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی مسلسل دراندازی کے جلو میں ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کی طرف سے طلبا کو فوج میں بھرتی ہونے پر زور دینے پر مبنی ویڈیو سامنے آئی ہے ویڈیو میں اسرائیلی فوجی افسر کو فوج میں بےپناہ جانی نقصان کا اعتراف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہرپانچ منٹ میں ایک فوجی ہلاک ہوتا ہے۔ طلبا کو فوج میں بھرتی ہو کر اس کی مدد کرنی چاہیے۔

    غزہ جنگ میں تقریباً 1,300 فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بیان کے بعد ایک اسرائیلی افسر کی طالب علموں سے خطاب اور انہیں فوج کی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دینے کی ویڈیو دوبارہ منظر عام پر آئی ہے۔

    افسر نے کہا کہ ہر 5 منٹ میں ایک فوجی مرتا ہےاس نے کہا کہ تمام نقصانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں جبکہ جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی!۔ تاہم اس ویڈیو کی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا ہے،جبکہ غزہ اور فلسطینیوں کے حامیوں نے تصدیق کی کہ یہ منظر اسرائیلی فوج کے تلخ نقصانات کو ثابت کرتا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور گذشتہ 15 اکتوبر کی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افسر 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے 1200 اسرائیلیوں کا حوالہ دے رہا تھا۔ اس نے اسرائیلی افواج کی صفوں میں ہونے والے نقصانات کا ذکر نہیں تھا۔

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 27 اکتوبر کو غزہ پر حملے اور زمینی دراندازی کے بعد سے اب تک 121 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے-

    باغی ٹی وی : فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں موجود اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے، اسرائیل اب بھی اپنے یرغمالیوں کی جانوں پر جوا کھیل رہا ہے اور ان کے گھر والوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کر رہا۔

    ایک بیان میں ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کل اپنے3 فوجیوں کو خود قتل کیا، اس نے انہیں رہا کروانے کے بجائے انہیں مارنے پر ترجیح دی، یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جو کہ اسرائیل نے ہماری قید میں موجود اپنے لوگوں کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    دوسری جانب القسام کی جانب سے ‘وقت ختم ہو رہا ہے’ کے عنوان سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کو دکھایا گیا ہے فلسطینی مزاحمتی فورسز کے بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج پر جوابی حملوں میں تیزی آگئی ہےالقسام اور القدس بریگیڈز نے مختلف کارروائیوں میں راکٹوں، مارٹرگولوں اور اسنائپر رائفلز سے حملے کرکے متعدد صیہونی فوجی ہلاک کر دئیے۔

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    ادھر اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی ۔ یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیل اور قطر کے درمیان اس سلسلے میں نئی کوششوں کے لیے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ڈائریکٹر کے درمیان ناروے میں ہورہی ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں مصری حکام بھی شریک ہوں گے، مذاکرات کے نئے آغاز میں حماس کے اندر معاہدے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے بھی ہے۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    امریکی جریدے وال سٹریٹ کے مطابق یہ مذاکراتی کوشش اس افسوسناک واقعے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں اسرائیلی فوجی غزہ میں اپنے یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرتے کرتے انہیں اپنے ہی ہاتھوں ہلاک کر بیٹھے۔

    واضح رہےکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے آج اعتراف کیا تھا کہ حماس کی قید میں موجود تین اسرائیلی شہری خود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فرینڈلی فائرنگ میں مارےگئے ہیں تینوں اسرائیلی مغوی قید سے فرار ہوئے اور اس دوران اسرائیلی فوج نے انہیں حماس کے ساتھی ہونےکے شبہ میں مار دیا جبکہ واقعےکے خلاف اسرائیل میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

  • یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی کے معاملے پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام ہو گیا-

    باغی ٹی وی: یورپی کونسل کے صدر چارلس مشل نے بیلجیئن دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے 2 روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کی،یورپی یونین کے سربراہان اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے شروع کرنے کے دن 7 اکتوبر کے بعد اپنے تیسرے اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر اتفاق رائے نہیں کر سکے، مشل نے کہا کہ اجلاس کے اہم ترین ایجنڈے میں سے ایک اسرائیل ،فلسطین تنازعہ تھا۔

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    جھڑپوں میں وقفے کے بارے میں کچھ رکن ممالک کے درمیان مختلف خیالات پائے جانے کا ذکر کرنے والے مشل نے کہا، "کچھ ‘انسانی ہمدردی کی بنیاد’ اور کچھ ‘انسانی بنیادوں پر جنگ بندی’ چاہتے ہیں، تاہم مشل نے یہ بھی واضح کیا کہ انسانی امداد کے عزم اور دو ریاستی حل کی جانب سیاسی عمل کے عزم کو تمام رہنماؤں نے قبول کیا ہے۔

    اس طرح 7 اکتوبر سے اب تک تیسری بار یکجا ہونے والے یورپی یونین کے سربراہان فائر بندی کی اپیل کرنے کے معاملے میں ایک بار پھر ناکام رہے ہیں۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • سعودی ولی عہد  سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات ہوئی ہے

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات سعودی عرب میں ہوئی،ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی،سعودی ولی عہد اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات کے حوالہ سے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جیک سلیوان کے درمیان غزہ میں انسانی اقدامات اور فلسطین میں اہم امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیل کی وار کیبنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ جیک سلیوان اپنے دورہ اسرائیل کے دوران غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کی ضرورت پر بھی بات کریں گے

    دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکول میں گھس کر وہاں پناہ لیے ہوئے شیرخوار بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے،الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے اسکول شادیہ ابو غزالہ میں گھس کر وہاں پناہ لینے والے فلسطینی مردوں کو چُن چُن کر پکڑا اور الگ کمروں میں لے جا کر فائرنگ کر کے مار ڈالا،عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکول کے کمروں میں داخل ہو کر وہاں موجود خواتین اور چھوٹے بچوں پر بھی فائرنگ کی، شیر خوار بچوں کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا.