Baaghi TV

Tag: غزہ

  • غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

    غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے بین الاقوامی مشن کو ایک مرتبہ پھر شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ بیان کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والے امدادی جہاز ’ہندالہ‘ سے جمعرات کے روز تمام مواصلاتی رابطے اچانک منقطع ہو گئے ہیں جہاز کے اردگرد کئی ڈرونز کی موجودگی دیکھی گئی ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاز کو یا تو زبردستی روکا جا چکا ہے یا پھر اس پر کوئی حملہ کیا گیا ہے۔

    کولیشن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مقامی نمائندوں اور ذرائع ابلاغ سے رابطہ کریں تاکہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے اور امدادی مشن کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے تاحال اس بارے میں کوئی تصدیق سامنے نہیں آ سکی کہ ’ہندالہ‘ کہاں موجود ہے، اس کے عملے کی حالت کیسی ہے، یا اسرائیلی فورسز کی جانب سے کوئی کارروائی ہوئی ہے یا نہیں۔

    حماد اظہر کا عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا فیصلہ

    یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی فریڈم فلوٹیلا کولیشن کی ایک اور کشتی ’میڈلین‘، جس میں مختلف ممالک کے 12 رضاکار سوار ہیں، غزہ کی طرف بڑھ رہی ہے ان رضاکاروں میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔

    کشتی 6 جون کو اطالوی جزیرے سسلی سے روانہ ہوئی اور اس وقت مصر کے ساحل کے قریب موجود ہے۔ کشتی میں علامتی امدادی سامان، جیسے چاول اور بچوں کا دودھ، بھی موجود ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے مطابق، یہ سامان محصور فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہے اور مشن کا مقصد اسرائیلی محاصرے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کا پیغام دینا ہے۔

    ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس، چالان پراسیکیوشن برانچ میں جمع

    دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو حکم دے دیا ہے کہ ’میڈلین‘ کو ہر صورت غزہ جانے سے روکا جائے ان کے الفاظ میں، ’گریٹا تھنبرگ اور ان کے ساتھی حماس کے حامی ہیں اور انہیں غزہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔‘

    اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی نیوی جلد اس کشتی کو روک کر اسے اسرائیل کے شہر اسدود کی بندرگاہ پر لے جائے گی، جہاں سے کشتی کے عملے کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

  • نومنتخب آسٹریلوی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں فلسطین کی حمایت

    نومنتخب آسٹریلوی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں فلسطین کی حمایت

    آسٹریلیا کی نئی منتخب پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے دوران فلسطین کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی گرینز کی ڈپٹی لیڈر سینیٹر مہرین فاروقی نے اٹارنی جنرل سیم موسٹن کی تقریر کے دوران احتجاجاً پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا،جس پر لکھا تھا کہ "غزہ بھوکا مر رہا ہے، الفاظ کافی نہیں، اسرائیل پر پابندی لگاؤ۔” متعدد ارکان بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔

    ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ناقابل دفاع ہے، یرغمالیوں کو اب بھی رہا کیا جانا چاہیے لیکن جنگ کو ختم ہونا چاہیے حکو مت کی جانب سے ایک مشترکہ بیان خط کی صورت میں بھیجا گیا ہے جس میں غزہ کی صورت حال پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

    ایلیٹ فورس کا مقصد ایلیٹ کو تحفظ دینا نہیں بلکہ معاشرتی برائیوں کو ختم کرنا ہے،شہبازشریف

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر بھی سیکڑوں افراد جمع تھے جنھوں نے غزہ کے حق میں مظاہرہ کیا اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیاغزہ کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین میں کچھ نے پارلیمنٹ میں گھسنے کی کوشش بھی کی جس پر پولیس اہلکاروں نے درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی نے 150 رکنی ایوانِ نمائندگان میں سے 94 نشستیں حاصل کیں، جو 1996 کے بعد کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی اکثریت ہےاپوزیشن جماعت لبرل پارٹی کو محض 43 نشستیں ملیں جبکہ باقی 13 نشستیں آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے پاس ہیں،سینیٹ میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں، جہاں لیبر پارٹی کے 29، کنزرویٹو اپوزیشن کے 27، جبکہ گرینز کے 10 ارکان ہیں۔

    امریکی ویزے کیلئے نئی ”ویزا انٹیگریٹی فیس“ وصول کرنے کا فیصلہ

  • غزہ میں 35 دن کا نومولود  بھوک سے جان کی بازی ہار گیا

    غزہ میں 35 دن کا نومولود بھوک سے جان کی بازی ہار گیا

    غزہ کے الشفا اسپتال میں 35 دن کا ایک نومولود بچہ بھوک سے جان کی بازی ہار گیا۔

    اسرائیل کی جانب سے ایندھن اور امداد کی مسلسل ناکہ بندی کے باعث غزہ میں غذائی قلت سنگین صورت اختیار کر گئی ہے،غزہ کے الشفا اسپتال میں 35 دن کا ایک نومولود بچہ بھوک سے جان کی بازی ہار گیا اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ بچہ ان دو افراد میں شامل ہے جو گزشتہ رات غذائی قلت کے باعث اسپتال میں دم توڑ گئے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حمایت یافتہ امدادی مراکز کو مقامی فلسطینیوں نے "موت کے جال” قرار دیا ہے کیونکہ وہاں سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں پر اسرائیلی فوج فائرنگ کرتی ہےغزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز بھوک سے تڑپتے لوگوں سے بھر چکے ہیں، اور تقریباً 17,000 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام ( ڈبلیو ایف پی) نے بتایا کہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت ہے اور ہر 3 میں سے ایک شخص کئی روز سےکھانے سے محروم ہے،اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) نے کہا ہے کہ اُن کے پاس غزہ کی آبادی کے لیے خوراک موجود ہے تاہم اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے وہ امدادی سامان مصر کے راستے غزہ پہنچانے سے قاصر ہے۔

  • اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی  “ہندالہ”  روانہ

    اٹلی سے غزہ کیلئے امدادی کشتی “ہندالہ” روانہ

    روم: اٹلی کے شہر سیراکوس سے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک اور امدادی کشتی “ہندالہ” غزہ کے لیے روانہ ہو گئی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اٹلی سے روانہ ہونے والی کشتی میں تقریباً15 بین الاقوامی کارکن سوار ہیں۔ جو انسانی ہمدردی کے تحت ادویات، خوراک، طبی سازوسامان اور بچوں کا سامان لے کر روانہ ہوئے ہیں یہ مشن فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنا اور فلسطینیوں کو درپیش انسانی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

    روانگی کے موقع پر بندرگاہ پر موجود افراد نے فلسطینی پرچم لہرا کر اور “فری فلسطین” کے نعرے لگا کر عملے کا استقبال کیا یہ کشتی بحیرہ روم میں ایک ہفتے کا سفر کرے گی اور تقریباً ایک ہزار 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کرے گیکشتی راستے میں اٹلی کے شہر گلیپولی میں رکے گی، جہا ں فرانس کی جماعت “فرانس انبوڈ” کے 2 ارکان بھی مشن میں شامل ہوں گے۔

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    یہ مشن اس کشتی “میڈلین” کے بعد سامنے آیا ہے جسے 6 ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ پہنچنے سے قبل روک کر اس پر سوار افراد، بشمول معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو ملک بدر کر دیا تھافرانسیسی رکن پارلیمنٹ گیبریل کتھالا نے روانگی سے قبل کہا کہ یہ مشن غزہ کے بچوں کے لیے ہے۔ تاکہ موجودہ خاموشی کو توڑا جا سکے۔ اگر ہمیں روکا گیا تو یہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی ایک اور خلاف ورزی ہو گی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک 57 ہزار 882 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

    چیف جسٹس کا ملک کے ہر صوبے میں لاء کمیشن کے نمائندے تعینات کرنے کا اعلان

  • غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایاٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا، یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

    مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

  • اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔

    العربیہ کے مطابق اسرائیلی آرمی نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ فوج، وزیر اعظم اور وزراء کے درمیان غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بنیادی اختلاف پیدا ہو گیا ہے نیتن یاہو نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر پر کڑی تنقید کی ہے گزشتہ جمعرات کی شام نیتن یاہو کی دعوت پر ایک الجاس طلب ہوا جس میں چیخ و پکار ہوئی اور آوازیں بلند ہوگئی تھیں۔

    اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ غزہ میں جنگ کو کیسے جاری رکھا جائے؟ جیسے سوالوں پر غور کیا گیا۔ یہ تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر اب معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا اور 60 روزہ جنگ بندی کا اعلان نہ ہوا تو غزہ کی پٹی میں اگلے اقدامات کیا اٹھائے جانے چاہیں۔

    چیف آف سٹاف نے وزیر اعظم اور وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج غزہ میں 20 لاکھ افراد کو کنٹرول نہیں کر سکتی یہ بات بھی ان بیانات کا حصہ تھی جس نے نیتن یاہو کو ناراض کیا اور اپنے ہی آرمی چیف پر برس پڑے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟”اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی، اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔

    اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں، تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلا ف کرتے ہوئے حکم دیا کہ انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکا سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو کہ ناقابل عمل ہے۔

  • غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری کے نتیجے میں آج کے دن کم از کم 138 فلسطینی شہید اور 452 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ امدادی مراکز پر حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 631 تک پہنچ گئی ہے۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صبح سے جاری اسرائیلی حملوں کے باعث درجنوں نہتے شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق 27 مئی سے اب تک غزہ میں خوراک اور امداد کے حصول کے منتظر فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 631 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

    دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے کئی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو انخلا کا انتباہ جاری کر دیا ہے، جن علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے ان میں شہر کا مشرقی اور مرکزی علاقہ شامل ہے، جہاں ناصر ہسپتال بھی واقع ہے۔

    غزہ کی موجودہ صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو نہ صرف اسرائیلی بمباری کا سامنا ہے بلکہ خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی شدید قلت بھی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے صورتحال کو سنگین انسانی بحران قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکہ ،پاکستانی شہری فرخ علی پر 65 کروڑ ڈالر ہیلتھ کیئر فراڈ کا الزام

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے

    حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    پاکستان کی الیکٹرانک وارفیئر میں برتری، بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کا شکست کا اعتراف

  • غزہ میں  سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی ؟

    غزہ میں سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی ؟

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ثالثوں کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی نئی تجاویز حماس کو موصول ہوئی ہے،امریکی اخبار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیزفائر کن شرائط اور مراحل کے تحت کی جائے گی۔

    امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 10 یرغمالی اور 18 ہلاک اسرائیلیوں کی لاشیں 5 مرحلوں میں دی جائیں گی، جبکہ لاشیں اور یرغمالی رہا کرنے پر فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ ثالثوں کی جانب سے دی گئی نئی تجاویز کا مطالعہ کر رہے ہیں، ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہو غزہ میں عارضی جنگ بندی سے متعلق نئی تجاویز کا مطالعہ کر رہے ہیں، تاہم ایس ےمعاہدے کی خواہاں ہے جو اسرائیل کی جنگ کا مکمل خاتمہ کرے۔

    بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ اسے ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور وہ ان سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ فاصلے کم کیے جا سکیں اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ کر جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچا جا سکے ہمارا مقصد ایسا معاہدہ ہے جو غزہ کی جنگ کا خاتمہ کرے اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا کو یقینی بنائے۔

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کر لیا ہے اور انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کرے، قبل اس کے کہ حالات مزید خراب ہوں ٹرمپ اسرائیلی حکومت اور حماس دونوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہوں اور حماس غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے ، تاہم اسرائیل بضد ہے کہ وہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک حماس کا مکمل خاتمہ نہ کر دیا جائے ٹرمپ آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

    تاہم حماس کے اعلان، جس میں جنگ کے خاتمے کے مطالبے پر زور دیا گیا، نے اس بات پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا تازہ ترین تجویز واقعی لڑائی میں وقفہ لا سکے گی یا نہیں ، حماس کے بیان کے فوراً بعد نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے بعد کے غزہ میں حماس موجود نہیں ہو گی۔

    امریکی میڈیا ادارے Axios کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جلد پیش رفت نہ کر سکے تو اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کردے گی۔

  • ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پیشِ نظر فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    فرانسیسی نیوز چینل ’ایل سی آئی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ژاں نوئل بارو نے غزہ میں فلسطینی امداد حاصل کرنے والوں کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک اور انسانی وقار کی توہین قرار دیا۔

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ صرف مئی کے مہینے میں غزہ میں خوراک کے حصول کی کوشش کے دوران کم از کم 500 فلسطینی شہید اور تقریباً 4 ہزار زخمی ہوئے، انہوں نے کہا کہ فرانس اور یورپی یونین دونوں غزہ میں محفوظ اور منصفانہ خوراک کی تقسیم کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

    وزیر اعظم کا بجلی بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا اعلان

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ ’غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کا کوئی جواز نہیں، انہوں نے کہاکہ ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، اور یہ ایک مشترکہ اقدام کے تحت ہوگا جو تمام فریقوں کو ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کی ترغیب دے گا جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

  • اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حماس اور حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی تنظیم حماس کے بانی رہنما حکم محمد عیسیٰ العیسیٰ اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر عباس الحسن وہبی کو فضائی حملوں میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی میں کارروائی کے دوران حکم عیسیٰ کو نشانہ بنایا گیا، جو حماس کے عسکری ونگ کے اہم بانی رہنماؤں میں شامل تھے بیان کے مطابق وہ 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی اور عملی نفاذ میں بھی ملوث رہےاسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حکم عیسیٰ نے حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ تربیتی ہیڈکوارٹر کے سربراہ اور جنرل سیکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں تاہم حماس نے تاحال اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

    ادھر جنوبی لبنان کے علاقے محرونا میں ایک علیحدہ فضائی حملے میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے کمانڈر عباس الحسن وہبی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، فوج کے مطابق وہبی حزب اللہ کی ’رضوان فورس‘ میں انٹیلیجنس چیف تھے اور تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں میں شامل تھے۔

    ملک میں مزید موسلادھار بارشوں کا امکان، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری

    دوسری جانب اسرائیل کی دہشت گردی کے نتیجے میں 24 گھنٹے میں مزید 81 فلسطینی شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ غزہ کے ثالث اسرائیل اور حماس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس ہفتے ایران کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی بنیاد پر فلسطینی علاقے میں بھی جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    جمعے کو اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ، جو واشنگٹن اور قاہرہ کے ساتھ مل کر غزہ کے ثالثی عمل میں شامل ہے، اب اس جنگ بندی سے پیدا ہونے والی فضا اور موقع کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں اگر ہم نے اس موقع اور اس رفتار کو استعمال نہ کیا، تو یہ ایک اور ضائع ہونے والا موقع ہوگا، جیسا کہ حالیہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے، ہم دوبارہ ایسا نہیں دیکھنا چاہتے‘، الانصاری قطر کے وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں۔

    سعودیہ ایئر لائن کے کیبن کریو منیجر کا دوران پرواز انتقال ہو گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو غزہ میں نئی جنگ بندی کے بارے میں امید کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ اگلے ہفتے تک طے پا سکتا ہے ثالث کئی مہینوں سے دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں گزشتہ 20 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو، ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ اس وقت براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم قطر ہر فریق سے الگ الگ سطح پر بھرپور رابطے میں ہے۔

    جنوری میں صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دو ماہ کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم مارچ میں یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیں ماجد الانصاری نے جنوری کی اس جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے تحت حماس کے زیر حراست درجنوں قیدیوں کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدی رہا کیے گئے تھے، کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ امریکا کا دباؤ کیا کچھ کر سکتا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر امریکا کے عمل دخل کے تناظر میں یہ کسی طرح بعید از قیاس نہیں کہ واشنگٹن کی طرف سے دباؤ غزہ میں بھی ایک نئی جنگ بندی کے حصول کا باعث بن سکتا ہے۔

    :بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونوح میں زلزلہ،21 مکانات تباہ

    یاد رہے کہ اسرائیل خود لبنان کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں کر رہا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔