Baaghi TV

انمول پنکی کیخلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع

drugs

پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات برآمدگی کا کیس میں عبوری چالان جمع کرادیا۔

کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے جنوبی نے انمول عرف پنکی اور دیگرکےخلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت کی جہاں تفتیشی افسر نے عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا عبوری چالان کے مطابق کیس میں 3 خواتین سمیت 5 ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا اور عبوری چالان میں 16 گواہان کے نام بھی شامل ہیں، مقدمے میں انمول عرف پنکی، ذیشان الرحمٰن، سہیل الرحمٰن، محمد سمیر گرفتار ہیں، مفرور ملزمان میں بیسل امیکا عرف عینا، حمیرا، صابرہ بی بی میں شا مل ہیں۔

عبوری چالان کے مطابق پولیس نے ملزمہ کو اُسکے گارڈن والے فلیٹ سے 11 مئی کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کیخلاف سال 2018 سے 2026 تک کراچی اور لاہور میں مقدمات درج ہوچکے ہیں، مفرور ہونے کی وجہ سے انمول کے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوچکے ہیں گرفتاری کے وقت تیار شدہ 1240 گرام کوکین جبکہ پندرہ کیپسول کوکین جسکا وزن 3 سو گرام ہے برآمد ہوئے، ملزمہ سے منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی بھی برآمد ہوئی-

عبوری چالان کے مطابق ملزمہ 16 سال سےمنشیات کی تیاری میں ملوث ہے، ملزمہ نے سابق شوہر سے کوکین بنانا سیکھا اور ملزمہ نے طلاق کے بعد اپنا کام شروع کیا ملزمہ کراچی کے پوش علاقے میں کوکین فروخت کرتی ہے، ملزمہ تعلیمی ادارے اور پارٹیز میں کارندوں کے ذریعےکوکین فروخت کرتی ہے جب کہ ملزمہ کراچی اور لاہور میں جگہیں بدل کرقیام کرتی تھی ملزمہ کےموبائل فون فارنزک سےکراچی سے تین رائیڈرز اعزاز، حمزہ اور عاقب کے نام سامنے آئے جب کہ ملزمہ منشیات کی آن لائن فروخت کرتی تھی۔

پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ پراسیکیوشن نے پولیس تفتیش پر ایک مرتبہ پھر اعتراض کردیا، ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے تجویز دی کہ ملزمہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیں۔

عارف سیتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کیلئے متعلقہ بینکوں اور اداروں کوخطوط لکھے جائیں، انمول عرف پنکی کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی جائیں۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ کے ساتھیوں اور رشتہ داروں کی جائیداد کی معلومات بھی حاصل کی جائیں، معلومات کیلئے اسٹیٹ بینک (ایف ایم یو)۔ایف آئی اے، ایف بی آر۔ایکسائز اور اے این ایف سے بھی معلومات لی جائیں۔

More posts