Baaghi TV

Tag: ناسا

  • حادثات سے بچاؤ میں مدد دینے والاچشمہ تیارکرنیوالی پاکستانی طالبہ ناسا کی دعوت پر امریکا روانہ

    حادثات سے بچاؤ میں مدد دینے والاچشمہ تیارکرنیوالی پاکستانی طالبہ ناسا کی دعوت پر امریکا روانہ

    سانگھڑ: پاکستان کی ایک ہونہار طالبہ نے ایسا چشمہ بنایا ہے جو ڈرائیوروں کو سونے پر انتباہ جاری کرے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ کارنامہ 13 سالہ طالبہ بسمہ سولنگی نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے بسمہ سولنگی اور ان کی ٹیم نے مل کر ڈرائیورز کی حفاظت کے پیش نظر ایک چشمہ بنایا ہے، ڈرائیورز اگر گاڑی چلاتے وقت سو جائیں تو یہ چشمہ اس کی نشاندہی کرے گا۔

    سندھ میٹرز کو دستیاب معلومات کے مطابق بسمہ سولنگی اور اس کے دیگر ساتھیوں نے امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’نیشنل ایروناٹکس ایںڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن‘ (ناسا) کے تعاون سے ایک منصوبے کے تحت چشمہ تیار کیا۔

    بسمہ سولنگی اور ان کے ساتھیوں نے اپنے پروجیکٹ کو ’اینٹی سلیپ گلاسز فار ڈرائیورز‘ کا نام دیا ہے اور انہوں نے اس منفرد چشمے کو بنانے کے لیے بہت محنت کی اور یہ کہ ان کا منصوبہ متعدد بار ناسا کی جانب سے مسترد بھی ہوا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈرائیورز کی حفاظت کے لیے بنائے گئے مفید چشمے سے متعلق بسمہ کی اس کاوش سےمتاثر ہو کر انھیں امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کی جانب سے مدعو کیا گیا ہے ناسا کی دعوت پر بسمہ سولنگی اور دیگر طالبات کراچی ایئر پورٹ سے امریکا کے لیے روانہ ہو گئیں-

    ناسا کی پرسرویرینس نامی روورنےمریخ پرنامیاتی مرکب دریافت کرلیا

    13 سالہ بسمہ سولنگی کا تعلق ضلع سانگھڑ کے گاؤں فدا حسین ڈیرو سے ہے، بسمہ کو شاندار کارنامہ انجام دینے پر ناسا کی جانب سے امریکا مدعو کیا گیا ہے۔

    بسمہ کے مطابق ان کا مذکورہ پروجیکٹ متعدد بار مسترد ہوا لیکن بعد ازاں انہیں ناسا میں اپنے منصوبے کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی انہوں نے بتایا کہ ان کا تیار کردہ چشمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کا جائزہ لیے جانے کے بعد اسے مزید بہتر بناکر عام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  • جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کرلیا ہے جو آج سے 13 ارب سال پہلے وجود میں آیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دریافت ہونے والا یہ اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول ہے، جو ایک انتہائی عمر رسیدہ کہکشاں کی گہرائی میں واقع ہے یہ کہکشاں بِگ بینک کے 570 ملین سال بعد وجود میں آئی۔ اس سُپر سائز بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج سے کوئی 9 ملین گنا پڑا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے 2 دیگر بیلک ہولز اور 11 نئی کہکشائیں بھی دریافت ہوئی ہیں ایکٹو بلیک ہول جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بگ بینگ سے 570 ملین سال بعد بننے والی CEERS 1019 نامی گیلکسی کی گہرائیوں میں دریافت کیا گیا ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ناسا سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب تک کی دریافتوں اور مستقبل کی امکانی دریافتوں کے بعد ستاروں اور کہکشاؤں کو بننے اور فنا ہونے کے بارے میں مزید گھری معلومات حاصل ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ اس سے فلکیات کے تحقیقی مطالعات کیلئے ہماری سوچنے اور سمجھنے کے طریقے ہی تبدیل ہو جائیں-

    قبل ازیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصویر 12 جولائی 2022 کو جاری کی تھی جیمز ویب کی جانب سے تصاویر کھینچنے کے سلسلے کو ایک سال مکمل ہونے پر ناسا کی جانب سے اب تک کی ایک بہترین تصویر اور ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

    واٹس ایپ نے بھارت میں مزید 65 لاکھ واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگادی


    اس تصویر میں سورج جیسے ستاروں کو جنم لیتے دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں 50 ننھے ستاروں کو ایک بادل میں دکھایا گیا ہے،یہ تصویر اور ویڈیو زمین سے 390 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع مقام Rho Ophiuchi کی ہےخلا کا یہ حصہ گیسوں اور گرد سے جگمگا رہا ہے جو کہ مزید ستاروں کے آغاز کی جانب اشارہ ہے۔

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ستاروں کی پیدائش کو دیکھیں،ناسا کی ایک اور عہدیدار پامیلا میلوری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک سال ہوگیا اور ایڈونچر تو ابھی شروع ہوا ہے۔

    ویڈیو اور تصویر میں دکھائے جانے والے ستارے ہمارے سورج سے زیادہ بڑے نہیں اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے ایک ستارے کی زندگی کے ابتدائی مرحلے کی واضح عکاسی ہوتی ہے ناسا کے مطابق ہمارا سورج بھی بہت پہلے اس مرحلے سے گزرا تھا اور اب ہمارے پاس کسی ستارے کی کہانی کے آغاز کو دیکھنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

  • جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےسیارچے میں پانی دریافت کرلیا

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےسیارچے میں پانی دریافت کرلیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک سیارچے میں پانی کے بخارات کو دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نےایک اورطویل عرصے سے مطلوب سائنسی پیش رفت کو قابل بنایا ہے، اس بار نظام شمسی کے سائنسدانوں کے لیے جو زمین کے وافر پانی کی ابتدا کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    یہ پہلی بار ہے جب مرکزی سیارچوی پٹی میں موجود ایک سیارچے میں پانی کے بخارات کو دریافت کیا گیا اس کے لئے محققین نے جیمز ویب کو استعمال کرکے ہمارے نظام شمسی کے ایک منفرد سیارچے کی جانچ پڑتال کی-

    ماہرین نے مریخ اور مشتری کے مدار کے درمیان موجود سیارچوی پٹی کے ایک سیارچے میں پانی کو دریافت کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطے میں قدیم شمسی نظام سے پانی کی برف کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کی جانب سے 15 برسوں سے نظام شمسی کے اس حصے کے بارے میں تحقیق کی کوشش کی جا رہی تھی مگر اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی سائنسدانوں کاعرصےسے خیال ہے کہ سورج کے قریب موجود سیارچوں میں برفانی پانی برقرار رہتا ہے مگر اب پہلی بار اس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ریڈ نامی سیارچے میں پانی کے بخارات کو شناخت کیا گیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ برفانی پانی نظام شمسی کے گرم حصے میں بھی بر قر ار رہ سکتا ہے محققین نے بتایا کہ ماضی میں ہم نے اس پٹی کے سیارچوں کا مشاہدہ کیا تھا مگر جیمز ویب کے ڈیٹا کی بدولت اب دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ان میں برفانی پانی موجود ہو سکتا ہے۔

    اس سیارچے میں کاربن ڈی آکسائیڈ گیس موجود نہیں تھی جس نے سائنسدانوں کے ذہن الجھا دیئےانہوں نے بتایا کہ اس سیارچے میں ابتدا میں یہ گیس موجود تھی مگر شدید درجہ حرارت کے باعث وہ غائب ہوگئی اب محققین کی جانب سے اس پٹی کے دیگر سیارچوں میں کاربن ڈی آکسائیڈ کی سطح کا جائزہ لیا جائے گا اور مزید رازوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

    اس تحقیق سے ماہرین کو زمین میں پانی کی موجودگی کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی، کیونکہ ابھی تک معلوم نہیں کہ ہمارے سیارے میں پانی کہاں سے آیا۔

    ویب کے ڈپٹی پروجیکٹ سائنسدان برائے سیاروں سٹیفنی میلم نے کہا ہماری پانی سے بھیگی ہوئی دنیا، جہاں تک ہم جانتے ہیں، زندگی سے بھری ہوئی اور کائنات میں منفرد ہے، ایک معمہ ہے ہمیں یقین نہیں ہے کہ یہ سارا پانی یہاں کیسے آیا-

    سائنس اور اس تحقیق کے ایک شریک مصنف جو کہ نتائج کی رپورٹنگ کرتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نظام شمسی میں پانی کی تقسیم کی تاریخ کو سمجھنے سے ہمیں دوسرے سیاروں کے نظاموں کو سمجھنے میں مدد ملے گی، اور اگر وہ زمین جیسے سیارے کی میزبانی کرنے کے راستے پر ہیں-

    نائیجیرین نوجوان نے کچرے سے ریموٹ کنٹرول ماڈل طیارہ بنا لیا

  • یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    ناسا کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ان کے مرکز اور برفیلے خول کے درمیان ممکنہ طور پر پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں یورینس کے پانچوں بڑے چاندوں (ایریئل، امبریئل، ٹائٹینیا، اوبیرون اور مِیرانڈا) کے سانچے اور اندرونی تشکیل کے ارتقاء کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے تحقیق کے مطابق چار چاندوں میں سمندر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر میلوں گہرے ہوسکتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے


    ناسا کے وائجر خلائی جہاز کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ، نئے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ساتھ، ناسا کے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یورینس کے سب سے بڑے چاندوں میں سے چار ممکنہ طور پر اپنے کور اور برفیلی پرتوں کے درمیان ایک سمندری تہہ پر مشتمل ہیں-

    مجموعی طور پر، کم از کم 27 چاند یورینس کے گرد چکر لگاتے ہیں، جس میں چار سب سے بڑے ایریئل سے لے کر، 720 میل (1,160 کلومیٹر) کے اس پار، ٹائٹینیا تک ہیں، جو 980 میل (1،580 کلومیٹر) تک ہیں سائنسدانوں نے طویل عرصے سےٹائٹینیا کےسائز کو دیکھتے ہوئےسوچا ہے کہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جو تابکار کشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    دوسرے چاند کو پہلے بڑے پیمانے پر بہت چھوٹا سمجھا جاتا تھا کہ وہ اندرونی سمندر کو جمنے سےبچانے کے لیے ضروری حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت چھوٹا سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ یورینس کی کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت گرمی کا صرف ایک معمولی ذریعہ ہے۔

    نیشنل اکیڈمیز کے 2023 پلانیٹری سائنس اینڈ ایسٹروبائیولوجی ڈیکاڈل سروے نےیورینس کی تلاش کو ترجیح دی۔ ایسے مشن کی تیاری میں، سیاروں کے سائنس دان پراسرار یورینس نظام کے بارے میں اپنے علم کو بڑھانے کے لیے برف کےپہاڑوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    جنوبی کیلی فورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے لیڈ مصنف جولی کاسٹیلوروگیز نے کہا کہ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ میں شائع ہوا، نیا کام یہ بتا سکتا ہے کہ مستقبل کا مشن چاندوں کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہےلیکن اس مقالے میں ایسے مضمرات بھی ہیں جو یورینس سے آگے بڑھتے ہیں-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کی جولی کاسٹیلو روگیزنےایک بیان میں کہا کہ جب چھوٹےاجرامِ فلکی کی بات آتی ہےتوماضی میں سیاروی سائنس دانوں کو متعدد غیر متوقع جگہوں پر سمندروں کے شواہد ملے ہیں۔ ان جگہوں میں بونے سیارے سِیریز اور پلوٹو اور سیارے زحل کا چاند مِیماس شامل ہیں۔لہٰذا ان جگہوں پر کچھ ایسے نظام ہیں جن کو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ یہ دریافت وائجر اسپیس کرافٹ سے حاصل ہونے والے اصل ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ وائجر نے یہ تفصیلی معلومات 1980 کی دہائی میں یورینس کے قریب سے دو بار گزرنے کے دوران اکٹھا کی تھیں۔

    ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ ناسا سائنس دانوں نے روایتی ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے سیاروں کے کمپیوٹر ماڈل بنائے جن میں ناسا کے گیلیلیو، کیسینی، ڈان اور نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

  • چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    فلوریڈا: ناسا کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کے مطابق ایک حالیہ ٹیسٹ کے دوران، ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے چاند کی مصنوعی مٹی سے کامیابی کے ساتھ آکسیجن نکالی یہ پہلا موقع تھا جب یہ اخراج خلاء کے ماحول میں کیا گیا ہے، جس سے خلانوردوں کے لیے چاندی کے ماحول میں ایک دن نکالنے اور وسائل کے استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے، جسے ان-سیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن کہتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    اس ضمن میں جانسن اسپیس سینٹر میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ کاربوتھرمل ریڈکشن ڈیمنسٹریشن (کارڈ) نامی ایک ٹیسٹ ویکیوم چیمبر میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ویکیوم چیمبر میں ہوا بالکل نہیں ہوتی بلکہ اس میں خلا جیسی کیفیت ہوتی ہے۔

    اسی ویکیوم چیمبر میں چاند جیسی مٹی کی سیمولیٹڈ کیفیت پر یہ تجربہ کیا گیا ہے۔ یہاں مٹی سے مراد باریک ذرات کی وہ دھول ہے جو چاند کو ڈھانپے ہوئے ہےمٹی سے آکسیجن کے کامیاب حصول کےبعد چاند پر انسانی موجودگی کو طویل عرصے تک ممکن رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    15 فٹ قطر کے تھرمل ویکیوم چیمبر میں عین چاند جیسی کیفیات پیدا کی گئیں اور لیزر سے گرم کرکے مٹی کو گرم کرکے پگھلایا۔ اس عمل کو کاربوتھرمل کا نام دیا جاتا ہےکیونکہ اس طرح مادوں میں پھنسی ہوئی گیسوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویکیوم چیمبر سے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کشید کی گئی ہے۔

    توقع ہے کہ اس عمل سے چاند پر رہنے والے ماہ نورد بھی اپنی آکسیجن خود بناسکیں گے۔

  • ناسا نے خلا سے زمین کی دلکش ویڈیو شئیر کر دی

    ناسا نے خلا سے زمین کی دلکش ویڈیو شئیر کر دی

    ناسا نے خلا سے زمین کی بلکل ہی مختلف زاویوں سے بنائی ہوئی ایک ویڈیو جاری کر دی۔

    ناسا:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے زمین سے 490 کلومیٹر دور 90 منٹ کے دورانیے میں زمین کے گرد اپنا چکر مکمل کرتے ہوئے مارچ 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان محفوظ کیے گئے تھے۔

    سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ آن لائن لیک ہوگئی

    ناسا نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہوئی ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ زمین کو اپنے سامنے سے گذرتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ، ایسے لوگ جنہیں زمین کے مدار سے خلا میں مختلف زاویوں سے اسے دیکھنے کا نایاب موقع میسر ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خلا میں 250 میل کی دوری سے نیلے کنچے (ماربل) جیسا یہ گولا بے انتہا خوبصورت، انتہائی دلفریب اور متاثرکن نظر آتا ہے۔

    یہ دیکھنے کا آپ کا موقع ہے کہ آیا آپ اتفاق کرتے ہیں: یہ انتہائی ہائی ڈیفینیشن ویڈیو مناظر، جو مارچ 2022 اور مارچ 2023 کے درمیان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی مہمات 67 اور 68 کے دوران کیپچر کیے گئے تھے، آپ اپنے آپ کو ایک اسٹیشن کے عملے کے رکن کے طور پر تصور کریں جس میں ڈیوٹی سے ایک گھنٹے کی چھٹی ہے اور کچھ بھی نہیں-

    جنگ عظیم دوم میں غرق ہونیوالے جاپانی بحری جہاز کا ملبہ 81 سال بعد مل …

    ناسا کی جانب سے پوسٹ کیے جانے کے بعد صارفین کی جانب سے ویڈیو کو 80 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا ہے جبکہ اس پر 4۔7 لائکس اور 2000 سے زائد مرتبہ کمنٹ کیا گیا ہے۔

    اس سے چند روز قبل ناسا نے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے کھینچی ہوئی اے آر پی 220 نامی کہکشاں کی ایک تصویر بھی شیئر کی تھی جس کی چمک کھربوں سورجوں کی روشنی سے زیادہ لگ رہی تھی۔

    اسپیس ایکس کا سب سے طاقتور راکٹ تجرباتی پرواز کے دوران ہی تباہ

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی تفصیلی تصویر جاری کردی تصویر میں برف کے سیارے کے گرد موجود 13 چھلوں میں سے 11 کو اور اس کے 27 چاندوں کو دیکھا جاسکتا ہے یہ چھلے اتنے چمکدار ہیں کہ ان روشن دائرے کی صورت دِکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے ایک بیان کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیارے کے دو دھندلے ترین غبار پر مشتمل چھلوں کو بھی عکس بند کیا ہے جن کو 1986 میں وائجر 2 نے قریب سے گزرتے وقت دریافت کیا تھا یورینس کے گرد یہ چھلےدیگر سیاروں کے گرد موجود چھلوں کی نسبت پتلے، تنگ اور تاریک ہیں ۔


    ٹیلی اسکوپ نے یورینس کے 27 معلوم چاندوں کو بھی عکس بند کیا۔ ان چاندوں میں اکثر اتنے چھوٹے ہیں کہ تصویر میں واضح نہیں دیکھے جاسکتے جبکہ چھ روشن چاندوں کی نشاندہی صرف 12 منٹ کے ایکسپوژر میں کی گئی۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    تصویر کے لیے استعمال کیے گئے نیئر انفرا ریڈ کیمرا(الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم میں قابلِ دید روشنی سے زیادہ فریکوئنسی والی روشنی کو عکس بند کرتا ہے) نے نئی تصویر میں دور دراز موجود کہکشاؤں کو بھی واضح عکس بند کیا ہے۔

    انگلینڈ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہر فلکیات مائیکل میری فیلڈ نے کہا کہ یورینس کو اس قسم کی تفصیل سے دیکھنا کتنا حیرت انگیز ہے جو اس سے پہلے صرف وائجر 2 کے اصل میں اس کا دورہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہوا تھا-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ویب ایک دن سیارے کے باقی دو بیرونی حلقوں کی بھی تصویر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس پہلی تصویر میں نہیں دکھائے گئے ہیں۔ دوربین فی الحال سیارے کی فالو اپ تصاویر لے رہی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یورینس سورج کا ساتواں سیارہ ہے، اور ہمارے نظام شمسی میں اس کا قطر تیسرا سب سے بڑا ہے یہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے پایا جانے والا پہلا سیارہ تھا، یورینس کو 1781 میں ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا یورینس کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ اس کا ماحول بنیادی طور پر کچھ میتھین کے ساتھ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے، جو سورج کی روشنی کی سرخ طول موج کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یورینس نیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہےسیارہ زمین سے تقریباً چار گنا چوڑا ہے اور ناسا کے مطابق ایک چھوٹے، چٹانی حصے پر مشتمل ہے جس کے ارد گرد گرم، گھنے مادے ہیں جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہیں۔

    چونکہ دور دراز کا سیارہ ہر 84 سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہےیہ ایک منفرد زاویہ پر اپنا سفر مکمل کرتا ہے سیارے ایک چپٹی سطح کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جب وہ گردش کرتے ہیں۔ عطارد تصوراتی سطح پر کھڑے محور کے گرد گھومتا ہے، جبکہ زیادہ تر دوسرے سیارے اس محور پر گھومتے ہیں جو تھوڑا سا جھکا ہوا ہے –

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    زمین کا جھکاؤ 23.4 ڈگری ہے۔ دوسری طرف، یورینس، بنیادی طور پر اس کے کنارے پر ہے، 98 ڈگری کے زاویہ پر گھومتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے ایک حصے پر طویل موسموں تک مسلسل سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ دوسرے کو گہری خلا کی تاریکی کا سامنا ہے۔

  • ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    کیلیفورنیا: گزشتہ برسوں میں ناسا نے ارضی و فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے کئی سیٹلائٹ بنائے اور مدار میں بھیجے ہیں جبکہ اب ٹیمپو نامی ایک نیا سیٹلائٹ شمالی امریکا پر نظر رکھے گا۔

    باغی ٹی وی: ’ٹروپوسفیرک ایمیشن مانیٹرنگ آف پلیوشن انسٹرومنٹ‘ یا ٹیمپو ایک ملک کے دوسرے ملک یا پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے میں بدلتی ہوئی فضا کا باہمی موازنہ کرے گااس کے سینسر بنیادی طورپرتین خوفناک گیسوں یا اجزا کا جائزہ لےگا جن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، فورملڈیہائڈ اور زمین کے قریب اوزون کی سطح جیسے اہم عوامل ہے اسموگ میں اوزون کی بڑھی ہوئی مقدار پائی جاتی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    ناسا کے ماہر جان ہائنز نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیل کے کارخانے ہیں جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ تاہم ہرجگہ زمینی سینسر اور مانیٹر موجود نہیں اور اسی ضرورت کے تحت ٹیمپو لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیمپو سیٹلائٹ، ارضِ ساکن (جیواسٹیشنری) مدار میں رہتے ہوئے ایک ہی جگہ پر گویا معلق رہے گا اور یوں وہ ایک جگہ پر آلودگی ریکارڈ کے گا تاہم ٹیپمو کا ڈیٹا عوام تک پہنچنے میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ مئی یا جون میں یہ اپنے تمام آلات کھول کر کام شروع کرے گا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    کیلیفورنیا: ماہرین فلکیات نے انکشاف کیا ہے کہ خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہر فلکیات نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ناسا کا خلائی جہاز ایک شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ یہی شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    ماہرینِ فلکیات کے مطابق یہ شہابی پتھر اس تیزی سےگھوم رہا ہےکہ وہ خلا میں دور دور تک اپنی پتھریلی باقیات بکھیر رہا ہےاس معلومات سے ایک تو شہابی پتھر کے ٹھوس ہونے پر سوال اٹھے ہیں تو دوسری طرف معلوم ہوا کہ آوارہ خلائی چٹانوں کا ملبہ بھی مزید چھوٹے بڑے پتھروں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    واضح رہےکہ ایک سال قبل ڈارٹ (ڈبل ایسٹرائڈ ریڈائریکشن ٹیسٹ) مشن نام کا ایک چھوٹا ساخلائی جہاز "ڈائمورفس” شہابیے سے ٹکرایا تھا اور اس میں خلائی چٹان کے بارے میں بہت سی معلومات ملی تھیں۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ڈائیمورفس ہمارے زمینی چاند کی طرح ایک بڑے شہابی پتھر "ڈائڈیموس” کے گرد گھوم رہا ہے یہ ڈائڈیموس اپنے گھماؤ کے دوران ہر سمت میں پتھر اور شہابی ملبہ بکھیر رہا ہے۔

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …

  • تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    ناسا ماہرین نے خلا میں سورج سے دو کروڑ مرتبہ بڑے ایک نئے اور تیز رفتار بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ماہرین نے تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس نئے دریافت ہونے والے بلیک ہول کو ’انوزیبل مونسٹر‘ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول کائنات میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے انوزیبل مونسٹر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ یہ زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے-

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا دریافت ہونے والا یہ بلیک ہول جہاں سے گذر رہا ہے وہاں اپنے پیچھے نئے پیدا کیے ہوئے ستاروں کی ایک قطار چھوڑ رہا ہے یہ بلیک ہول اپنےسامنے آنے والے ستاروں کو کھانے کے بجائے اپنے راستے میں آنے والی گیسوں سے نئے ستاروں کو جنم دے رہا ہے بلیک ہول کی غیر معمولی رفتار کے باعث ستاروں کی دو لاکھ نوری سال طویل قطار کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ نیا دریافت ہونے والا بیلک ہول اپنی پیرینٹ گیلکسی کےکالم کے اختتام پر موجود ہے اور اس کی بیرونی ٹپ کے گرد آئیو نائیزڈ آکسیجن کا روشن حلقہ موجود ہے ہم جسے دیکھ رہے ہیں وہ ’نتیجہ‘ (Aftermath) ہے، جیسے سمندری جہاز کے گذر جانے کے بعد کی اٹھتی لہر کو دیکھتے ہیں، ہم بلیک ہول کی گذرگاہ میں اس لہر کو دیکھ رہے ہیں جہاں گیسیں ٹھنڈی ہوکر ستارے بنا رہی ہیں۔

    ناسا کے ماہرین کے کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا اس سے قبل کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا اور ٹیلی اسکوپ نے ’انوزیبل مانسٹر‘ کو اتفاق سے دریافت کرلیا تھا۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟

    بلیک ہول کسی ستارے کی زندگی کے خاتمے کے قریب بنتے ہیں۔ یہ ستارے اپنے حجم کی وجہ سے مرتے ہیں تو اپنے وزن اور دباؤ کی وجہ سے اندر سے ہی تباہ ہو جاتے ہیں بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ لامحدود حد تک کثیف ہو جاتا ہے یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔

    بلیک ہولز کچھ انتہائی بڑے ستاروں کی زندگی کے دھماکہ خیز اختتام سے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ بلیک ہولز ہمارے سورج سے اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں سائنسدان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے مگر یہ واضح ہے کہ یہ کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کی ارتقا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول