Baaghi TV

امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

washington

واشنگٹن میں ایک سالانہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے اس حملے کو امریکی صدر کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلانٹائن نے عدالت میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس شخص نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہےکیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے ایلن پر ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے اور پرتشدد جرم کے دوران گولی چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنے ساتھ ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، تین چاقو اور ایک خودکار پستول لے کر واشنگٹن پہنچا تھاحکام نے شاٹ گن کے اندر سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں فائرنگ کی گئی تھی۔

مختصر سماعت کے دوران ایلن نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہےملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایلن کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

ایف بی آئی کے بیانِ حلفی کے مطابق ایلن نے 6 اپریل کو اسی ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھا جہاں یہ تقریب ہونی تھی اور وہ گزشتہ ہفتے ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا تھاہفتے کے روز اس نے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی جس میں خود کو دوستانہ وفاقی قاتل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظا میہ کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا، ای میل میں لکھا تھا کہ میں نے یہ سب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں اور میرے نمائندے جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے –

بیانِ حلفی کے مطابق ایلن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر لگی مشین سے اسلحہ سمیت تیزی سے گزرا، جس پر ایک سیکیورٹی افسر نے اس پر گولی چلائی، ایلن زمین پر گر گیا لیکن اسے گولی نہیں لگی اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سیکیورٹی افسر کے سینے میں گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گولی کس کی طرف سے چلائی گئی تھی۔

جج میتھیو شاربا نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھا جائے جب اس کی ضمانت یا مستقل قید کے حوالے سے دوبارہ سماعت ہوگی۔

قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو غدار، ریپسٹ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا قرار دیا تھامہذب زندگی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے خلاف اس طرح کے اقدامات جاری رہنے دیے جائیں گے۔

More posts