واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے خفیہ ادار ے کے اہلکاروں نے قابو کر لیا،جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی،انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’
امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران ہونے والے ایک فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے-
وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،نہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔
جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے،صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہےسی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔
سی این این کے مطابق ملزم لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے اور اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے دوڑ رہا تھا، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی افسران نے اسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک لیا۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہے۔
اس حوالے سے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے اور اس پر بہت جلد فردِ جرم عائد کر دی جائے گی، ملزم کے خلاف فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔
پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں فائرنگ کے آغاز کا منظر دیکھا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات عوام کے سامنے اس لیے لا رہے ہیں تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔
تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزم کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس کا کسی تنظیم سے تعلق تھا یا یہ اس کی انفرادی کارروائی تھی فی الحال ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔
واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہےہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔
صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
