Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • فائیو جی سے ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری آئے گی،شزا فاطمہ خواجہ

    فائیو جی سے ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری آئے گی،شزا فاطمہ خواجہ

    وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کا کردار ہر شعبے میں اہم ہے، فائیو جی سے ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری آئے گی-

    ای یو پاکستان بزنس فورم سے خطاب میں شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ 2016ء میں 3 اور 4 جی انٹرنیٹ لانچ کیا گیا، ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہےکیش لیس معیشت میں کسی قسم کا دھوکا نہیں ہوتا، ڈیجیٹل پاکستان وزیرِاعظم شہباز شریف کا ویژن ہے، وزیرِ اعظم کے مشن کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل کی طرف گامزن ہے انٹرنیٹ کا کردار ہر شعبے میں اہم ہے، فائیو جی سے ملک میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں بہتری آئے گی، انٹرنیٹ کے کاروبار میں بھی اضافہ ہو گا،معیاری انٹرنیٹ سروس سے تعلیم اور صحت کے شعبے میں آسانی ہو گی فاصلے مٹ جائیں گے۔

  • خطے میں کشیدگی جلد ختم ہوگی اور پائیدار امن قائم ہوگا، وزیراعظم

    خطے میں کشیدگی جلد ختم ہوگی اور پائیدار امن قائم ہوگا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے اہم واقعات پر کابینہ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے، اور پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا،جس کے دوران فریقین کے درمیان 21 گھنٹے طویل نشست ہوئی، ان کوششوں کے نتیجے میں سیزفائر ممکن ہوا اور اس میں توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے خلوص نیت سے کردار ادا کیا، جبکہ محسن نقوی کی کوششیں بھی قابلِ ستائش ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں تفصیلی مذاکرات ہوئے، بعد ازاں وہ عمان اور روس بھی گئے اور یقین دلایا کہ اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کے مطابق اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا ایک ہفتے کا درآمدی بل 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا بڑھتی ہوئی قیمتوں نے معاشی استحکام کی کوششوں پر اثر ڈالا ہے، تاہم حکومت نے اجتماعی کاوشوں کے ذریعے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

    انہوں نے علی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹاسک فورس صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔

    وزیراعظم نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے ہیں اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی قیادت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ دن رات محنت کرکے مسائل کا حل نکالنا ہوگا اور قوم کو ہمت، محنت اور یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں کشیدگی جلد ختم ہوگی اور پائیدار امن قائم ہوگا، جبکہ پاکستان کی امن کے لیے کوششیں مسلسل جاری رہیں گی۔

    اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

  • سائبر فراڈ پر کمبوڈیا میں گرفتار 54 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی

    سائبر فراڈ پر کمبوڈیا میں گرفتار 54 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی

    پاکستان نے کمبوڈیا میں سائبر فراڈ کے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے گئے 54 پاکستانی شہریوں کا معاملہ نمٹا لیا-

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کے سفارتخانے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جس نے کمبوڈین حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور زیر حراست شہریوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی،یہ افراد آن لائن اسکام کمپاؤنڈ پر چھاپے کے بعد حراست میں لیے گئے تھے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کمبوڈین حکومت نے خیرسگالی کے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ گرفتار 54 پاکستانی شہریوں کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر واپس بھیجا جائے گا، یہ فیصلہ حال ہی میں نافذ ہونے والے ‘آن لائن اسکیمز کے خلاف قانون’ کے تحت ممکن ہوا ہے، جس میں سخت سزائیں اور جرمانے شامل ہیں،پاکستان کا سفارتخانہ مسلسل ان افراد سے رابطے میں ہے اور ان کی وطن واپسی کے لیے فلائٹ انتظامات کیے جا رہے ہیں، یہ افراد جلد پاکستان روانہ کر دیے جائیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق کمبوڈیا میں اس نوعیت کے نیٹ ورکس کے خلاف حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ 200 سے زائد پاکستانی شہری مختلف کیسز میں وہاں موجود ہو سکتے ہیں،کمبوڈیا کے شہر سیئمریپ میں ہونے والی اس کارروائی میں ایسے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر منظم آن لائن فراڈ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں ان مراکز میں غیر ملکی شہریوں کو ملازمت کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں دھوکے یا دباؤ کے ذریعے آن لائن دھوکہ دہی میں شامل کیا جاتا ہے۔

  • پاکستانی بحری عملے کیلئے ناروے کے جہازوں پر ملازمت کے مواقع ،مفاہمتی یادداشت پر دستخظ

    پاکستانی بحری عملے کیلئے ناروے کے جہازوں پر ملازمت کے مواقع ،مفاہمتی یادداشت پر دستخظ

    پاکستانی ملاحوں کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کے حوالے سے پاکستان اور ناروے کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد اب پاکستانی عملہ ناروے کے پرچم بردار جہازوں پر ملازمتیں حاصل کر سکے گا۔

    ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقدہ تقریب کے دوران ناروے میں پاکستانی سفارتخانے اور نارویجن میری ٹائم اتھارٹی کے حکام نے دستاویزات پر دستخط کیے اس معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستانی بحری عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تسلیم کرنا اور انہیں عالمی شپنگ مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

    وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اس معاہدے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم تعاون مضبوط ہوگا بلکہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اب پاکستانی سی فیررز ناروے کی عالمی معیار کی شپنگ لائنز اور پرچم بردار جہازوں پر خدمات انجام دینے کے اہل ہوں گے یہ معاہدہ پاکستانی افرادی قوت کو جدید بحری ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کا عملی تجربہ حاصل کرنے میں مدد دے گا پاکستانی تربیتی اداروں کی اسناد کو ناروے جیسے بڑے بحری ملک کی جانب سے تسلیم کیا جانا پاکستانی میری ٹائم سیکٹر کی ساکھ میں اضافہ کرے گا، حکومت پاکستان بحری تربیتی اداروں کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور عا لمی بحری کنونشنز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے لیے پُرعزم ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ عالمی شپنگ انڈسٹری میں پاکستان کا حصہ بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

  • ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    فاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے-

    ایچ آئی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے 2024 سے 2026 کے لیے فنڈ 65 ملین ڈالر مختص تھا، جس کی مدت جون 2026 میں ختم ہو جائے گی،65 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 3.9 ملین ڈالر دیے گئے، جبکہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی۔

    مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ 24 ہزار مریض لاپتا ہیں 2025 میں ملک میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ 2020 تک پورے ملک میں صرف 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جو واقعہ رپورٹ ہوا وہ 2024 کا ہے اسلام آباد میں اس وقت ایچ آئی وی کے کل 618 رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 210 کیسز اسلام آباد کے ہیں، جبکہ باقی 408 کیسز راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے رجسٹرڈ ہیں،ایچ آئی وی کی کوئی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہیں، یہ ادویات صرف سرکاری اداروں سے فراہم کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے، 100 سال کی سفارتکاری میں بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی،پاکستان نے تیسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ ملک کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں-

  • آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    آسیان ممالک کا وفد لاہور اور پنجاب کی ثقافت سے متاثر

    عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے-

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے آسیان ممالک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں خطے کے درمیان ثقافتی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،ملاقات میں پنجاب اور آسیان ممالک کے درمیان کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی –

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبے کی ثقافت اور تہذیب کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، پنجاب کا کلچر اور روایات نہایت خوبصورت ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے مریم نواز کی قیادت میں پنجاب تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔

    وزارت اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے آسیان وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں عظمیٰ بخاری اور سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیاانڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے آسیان وفد کی قیادت کی اس موقع پر وفد کو واہگہ بارڈر اور شالیمار باغ کا دورہ بھی کروایا گیا تاکہ وہ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے آگاہ ہو سکیں۔

    انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسی نے پنجاب حکومت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب اور لاہور کی ثقافت سے بہت متاثر ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگ نہایت مہمان نواز اور عزت دینے والے ہیں،عظمیٰ بخاری نے آسیان وفد کے شرکاء کو شیلڈز بھی پیش کیں جبکہ وفد نے پنجاب حکومت کی عمدہ مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

  • پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں  مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    پاکستانی ہندو خاندان کو بھارت میں مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا

    بہتر مستقبل کی تلاش میں 2 سال قبل بھارت جانے والا 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان پیر کے روز واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گیا-

    سندھ سے ایک 24 رکنی پاکستانی ہندو خاندان دو سال بھارت میں رہنے کے بعد واہگہ کے راستے پاکستان واپس آگیا، خاندان نے کہا کہ احمد آباد میں قیام کے دوران اسے مشکلات، امتیازی سلوک اور بنیادی خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خاندان کا تعلق سندھ کے ضلع سانگھڑ سے ہے اور وہ بھارت کے شہر احمد آباد میں مقیم تھا –

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاندان کے سربراہ رانو نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ، 2 شادی شدہ بیٹوں اور ان کے اہلِخانہ سمیت بہتر طرزِ زندگی کی امید میں بھارت گئے تھے پاکستانی شناخت کے باعث انہیں روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے بقول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے، راشن کے حصول اور سرکاری ڈسپنسریوں سے ادویات لینے میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد بھارت میں مقیم پاکستانی شہریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا، حتیٰ کہ بعض افراد پر جاسوسی کے الزامات بھی لگائے گئے وطن واپسی پر خاندان کے افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس آ کر سکون محسوس کر رہے ہیں، خاندان کے زیادہ تر افراد بچے ہیں جبکہ ان کی حالتِ زار مالی مشکلات کی عکاسی کر رہی تھی۔

  • پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے،اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہےاجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری اور موسمیاتی تبدیلی کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی بھی منظوری متوقع ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔

    وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے،آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کی وجہ سے معاشی خطرات برقرار ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے-

  • معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے،رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہےرواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہےلاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپور ٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے،جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہ

  • پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

    واضح رہے کہ یہ سرحدی کشیدگی فروری 2026ء سے جاری تناؤ اور حالیہ سیز فائر کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے۔