Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو ہوں گے

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو ہوں گے

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے پا کستان ثالث کے طور پر اپنے ذمہ دارانہ کردار کو جاری رکھتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی پیشرفت کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت کاری جاری رکھے گا یہ عمل خطے میں کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جبکہ مذاکرات کا مقصد باہمی فہم و فراست کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات اچھے چل رہے ہیں اور اتوار کو ایران مذاکرات ممکن ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنر سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور ایران کے ساتھ معاملات اچھے چل رہے ہیں میں بھی سوئٹزرلینڈ جا سکتا ہوں اور میرا اگلے چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ متوقع ہے اتوار کو ایران مذاکرات ممکن ہیں پرامید ہیں کہ ہم جنگ بندی برقرار رکھ سکتے ہیں، ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایک موقع دینے جا رہے ہیں، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر رہا ہے۔

  • پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر قرض معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر قرض معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے پالیسی بیسڈ قرض کے معاہدے پر دستخط ہو گئے۔

    ترجمان اقتصادی امور کے مطابق اے ڈی بی انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت پاکستان کو 700 ملین ڈالر فراہم کرے گا جن میں سے 250 ملین ڈالر رعایتی شرائط پر دیئے جائیں گے ،معاہدے پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم جبکہ اے ڈی بی کی جانب سے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر حسین حیدر نے دستخط کیے۔

    اس موقع پر محمد حمیر کریم نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو پاکستان کا قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پروگرام کا مقصد مالیاتی شعبے کو مضبوط بنانا اور جامع اصلاحات متعارف کرانا ہے یہ پروگرام اڑان پاکستان اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے 5 سالہ روڈ میپ کی تکمیل میں معاون ثابت ہو گا پروگرام قومی مالیاتی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق حکومتی پالیسی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔

    اے ڈی بی کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر حسین حیدر نے پروگرام کو انشورنس شعبے کے لیے ایک اہم اور انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انشورنس کمپنیوں کے درمیان منصفانہ مسابقت کو فروغ ملے گا اور شعبے کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

  • تہران میں محسن نقوی  کی عباس عراقچی سے ملاقات

    تہران میں محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات متوقع ہے-

    عرب نیوز اور الجزیرہ کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ اسلام آباد کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو سہولت فراہم کرنا ہے،پاکستانی وزیرِ داخلہ کی یہ مصروفیات پہلے سے طے شدہ سفارتی رابطوں کا تسلسل ہیں، جن میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور باہمی رابطوں کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق متوقع ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون، سرحدی امور اور علاقائی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف پاکستان ایران تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ ایران امریکا مذاکراتی عمل کے تناظر میں بھی اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • خطے میں پائیدار سیکیورٹی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں،چین

    خطے میں پائیدار سیکیورٹی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں،چین

    چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ غیر متوقع بحران اور طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے خطرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث عالمی امن و استحکام کو نئے خطرات لاحق ہیں۔

    چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہو ئے کہا ہے کہ تمام فریقین کو خطے میں پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے عالمی نظام کو مسلسل نئے چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا ہے، جبکہ دنیا عدم استحکا م کے ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے غیر متوقع بحران اور طویل عرصے سے نظر انداز کیے گئے خطرات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث عالمی امن و استحکا م کو نئے خطرات لاحق ہیں۔

    چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں بین الاقوامی برادری کو تصادم کے بجائے مکالمے، تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کو یقینی بنایا جا سکے عالمی فیصلوں اور بین الاقوامی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی ناگزیر ہے تمام ممالک، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، طاقتور ہوں یا کمزور، عالمی برادری کے مساوی رکن ہیں اور انہیں عالمی امور میں برابر کا حق اور آواز ملنی چاہیے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانا اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا

    روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا

    روسی حکومت اور میڈیا نے امریکا ایران معاہدے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا۔

    روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی پیشرفت نے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کو مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا روسی جریدے اسپوتنک نے کہا کہ امریکا ایران امن معاہدے کیلئے دستخط کہیں بھی ہوں پاکستان ہی مرکزی ثالث رہے گا معاہدے کا سارا کریڈٹ پاکستان کو ہی جاتا ہے۔

    روسی جریدے آر ٹی کے مطابق پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی بدولت امریکا اور ایران دشمنی اور جنگ کے خاتمے تک پہنچے ہیں،ٹاس کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان معاشی ترقی کے لیے پُرامید اور پُرعزم ہے جبکہ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے پاکستانی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت پاکستان کی دیگر قیادت بطور ثالث اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے۔

  • وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے،عطاتارڑ

    وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے،عطاتارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے-

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے ہمراہ وزیر اطلاعات عطا تارڑنے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، مؤثر اور خودکار بنانا ہے –

    عطا تارڑ نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے بلکہ بدعنوانی اور انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں، پہلے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے مسائل موجود تھے، تاہم اب تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائےبلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے اصلا حات کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور دیگر امور مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام پا رہے ہیں، جہاں جی ڈی نمبر کے اندراج سے ہی پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے پہلے جو کام ہفتوں میں ہوتا تھا اب وہ چند دنوں میں مکمل ہو رہا ہے، جس سے کاروباری طبقے کو سہولت ملی ہے۔

    انہوں نے مختلف صنعتی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شوگر، تمباکو، سیمنٹ اور بیوریجز جیسے بڑے سیکٹرز میں ٹیکس چوری اور کم رپورٹنگ کی شکایات تھیں، جنہیں اب جدید آئی ٹی سسٹمز کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے شوگر انڈسٹری میں کیمروں اور بارکوڈ سسٹم کے ذریعے پیداوار اور فروخت کو ٹریس کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے صرف شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری میں تقریباً 200 ارب روپے کی ممکنہ لیکیج کو روکا گیا ہے، دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس نظام واضح اور منصفانہ بنایا گیا ہے، جہاں 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ اس سے زیاد ہ آمدن پر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے،پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو سہولت مل سکے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے ہاؤسنگ سیکٹر کو ریلیف دینے سے تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی، جس سے مجموعی طور پر معیشت کو تقویت ملے گی ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم پر شرح سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہےجو مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہےاس سے برآمدی صنعت کو سستی فنانسنگ میسر آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے یہ اقدامات ایک جامع معاشی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہاؤسنگ، صنعت اور برآمدات تینوں شعبوں کو بیک وقت فروغ دینا ہےاس پالیسی سے معیشت میں بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گےیہ اصلاحات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ پوری معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات اور قانونی معاملات کے لیے بھی نئے ٹریبیونلز قائم کیے گئے ہیں، جس سے اربوں روپے کی ریکوری میں مدد ملی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہےایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی تعاون کیا ہے، جبکہ بعض عالمی فاؤنڈیشنز اور ٹیکنالوجی ادارے اس عمل میں شریک رہے ہیں۔

  • انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض طالبان عناصر کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اطلاعات بھی موجود ہیں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ چین نے قرارداد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے یوناما کی حمایت جاری رکھے گا اور ایک ایسے پُرامن افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور تعاون کے ساتھ رہ سکےیوناما مہاجرین اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بھی معاونت فراہم کرے یوناما کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے جائز سلامتی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، عاصم افتخار نے یوناما کے سربراہ کی تقرری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے خالی اسامی جلد پُر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے، پاک۔ایران تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر ایرانی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے حصول کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی، سیاسی، سفارتی، سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد پیش کی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت، عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط کے فروغ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔

  • کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے بتایا ہے کہ کراچی پورٹ نے 8 سال بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چوہدری نے کہا کہ ایک سال کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2 ہزار 3 جہاز لنگر انداز ہوئے، جو بندرگاہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی ٹنیج 8 کروڑ 44 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گیا، جبکہ گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں بھی 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بحری تجارت میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے –

    دوسری جانب چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احد نے اس کامیابی کو شپنگ سرگرمیوں اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کا نتیجہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی اقدامات اور بندرگاہی آپریشنز میں بہتری کے باعث کراچی پورٹ یہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے 1887 میں قائم ہونے والا کراچی پورٹ آج بھی ملک کا سب سے اہم بحری تجارتی گیٹ وے ہے اور قومی و بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر ر ہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری گاڑی 1300سی سی سے زائد کی نہیں ہونی چاہیے، آپ سرکار کی گاڑی 1300 سی سی سے کم کر دیں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کریں، یہ ایف بی آر کے بابو 3400 سی سی گاڑیوں پر گھومیں اور بوجھ عوام پر پڑے؟ اس ملک میں سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہو سکا، 26 ویں ترمیم میں جنہوں نے سود ختم کرنے کی شق ڈلوائی وہ بتائیں پالیسی ریٹ ایک فیصد کیسے بڑھ گیا صرف مفادات کے حصول کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے، بجلی، پیٹرول، گیس کی قیمتوں سے براہ راست عوام کو فرق پڑتا ہے، حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بجٹ میں بہت سی رقم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے رکھی گئی ہے۔