Baaghi TV

Tag: پولیس

  • صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوس گرفتار

    تہران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافیوں کا روپ دھار کر حساس معلومات اکٹھی کرنے والے دو مبینہ جاسوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے کہا ہے کہ تہران پولیس نے دارالحکومت کے مغربی اور شمالی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر صحافیوں کے بھیس میں جاسوسی کر رہے تھے ان افراد پر الزام ہے کہ وہ حساس فوجی اور انٹیلی جنس مراکز سے متعلق خفیہ معلومات اکٹھی کر کے ایران مخالف نیٹ ورکس کو منتقل کر رہے تھے۔

    تسنیم کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار افراد نے بیرونِ ملک رابطے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے روابط قائم کیے تھے، کاررو ا ئی کے دوران اسٹارلنک کا ایک ریسیور بھی برآمد کر کے قبضے میں لے لیا گیا ان افراد کے دیگر ساتھیوں اور ممکنہ معاون نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے تکنیکی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات جاری ہیں جبکہ معاملے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

    تسنیم کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی پولیس نے 13 ہزار ڈالر کی رشوت مسترد کرتے ہوئے دماوند میں 3 سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کر لیں یہ علاقہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 66 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے دماوند میں پولیس نے انٹیلی جینس معلومات پر ایک رہائشی عمارت پر چھاپہ مارا اور تین غیر قانونی اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز برآمد کرلیں اس موقع پر افسران کو 13 ہزار ڈالرز کی رشوت کی پیشکش بھی گئی تاہم افسران نے اسے مسترد کردیا۔

  • کم کارڈیشین کے برانڈ  کے  ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    کم کارڈیشین کے برانڈ کے ملبوسات کی کھیپ میں 84 لاکھ ڈالر کی کوکین اسمگل کرنے والا ڈرائیور گرفتار

    برطانیہ میں ایک پولش ٹرک ڈرائیور کو کم کارڈیشین کے معروف ملبوساتی برانڈ ’اسکِمز‘ کی کپڑوں کی کھیپ میں لاکھوں ڈالر مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی ایک عدالت نے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ ٹرک ڈرائیور جیکب یان کونکل کو 84 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی کوکین اسمگل کرنے کے جرم میں 13 سال 6 ماہ قید کی سزا سنا دی،منشیات کو ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپایا گیا تھا جبکہ اصل تجارتی سامان قانونی تھا-

    چیلمزفورڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزم نے کم کارڈیشین کے معروف برانڈ ’اسکِمز‘ کے زیرِ جامہ اور ملبوسات پر مشتمل کھیپ میں منشیات چھپا رکھی تھیں یہ سامان نیدرلینڈز سے برطانیہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

    برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق کونکل گزشتہ سال ستمبر میں ایسیکس کے علاقے ہاروچ پورٹ پر اس وقت گرفتار ہوا جب وہ ’ہُک آف ہالینڈ‘ سے فیری کے ذریعے برطانیہ پہنچا بارڈر فورس حکام نے اس کے بھاری مال بردار ٹرک کو ایکس رے مشین سے اسکین کیا، جس کے دوران خفیہ طور پر چھپائی گئی منشیات کا پتا چلا۔

    تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹرک میں موجود 28 پیلیٹس پر مشتمل ’اسکِمز‘ برانڈ کی کھیپ مکمل طور پر قانونی تھی اور نہ ہی برآمد کنندہ یا درآمد کنندہ کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق تھا۔ تاہم ٹرک کو خصوصی طور پر تبدیل کیا گیا تھا اور پچھلے ٹریلر کے دروازوں میں خفیہ خانے بنائے گئے تھے دورانِ سفر کونکل نے ایک مقام پر رک کر تقریباً 90 پیکٹوں پر مشتمل 198 پاؤنڈ کوکین حاصل کی اور انہیں خفیہ خانوں میں چھپا دیا۔

    ابتدائی طور پر ملزم نے منشیات سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم بعد میں اس نے جرم قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اسے اسمگلنگ کے عوض 4 ہزار 500 یورو ادا کیے جانے تھےنیشنل کرائم ایجنسی کے آپریشنز مینیجر پال آرچرڈ نے کہا کہ منظم جرائم پیشہ گروہ اکثر قانونی تجارتی سامان کی آڑ میں منشیات منتقل کرنے کے لیے بدعنوان ڈرائیوروں کا استعمال کرتے ہیں، کونکل جیسے ڈرائیور کلاس اے منشیات کو مکمل طور پر قانونی کھیپ میں چھپا کر سرحد پار منتقل کرتے ہیں اس کارروائی کے ذریعے بڑی مقدار میں کوکین قبضے میں لے لی گئی، جس سے اسمگلنگ نیٹ ورک کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔‘

  • سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

    سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آوروں سمیت 5 افراد ہلاک

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں پیر کے روز ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 2 مشتبہ حملہ آور بھی مارے گئے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو مسلح حملہ آوروں نے اسلامک سینٹر میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی، مسجد کی حفاظت پر مامور گارڈ نے نمازیوں اور بچوں کو بچانے کی کوشش کی تاہم وہ بھی فائرنگ کی زد میں آ کر جان کی بازی ہارگیا واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہیں، جب کہ کئی افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا کرعلاقے کو محفوظ قرار دے دیا ہے۔

    حکام اس واقعے کو ابتدائی طور پر نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات کر رہے ہیں سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ واہل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کلیئرمونٹ کے علاقے میں واقع اسلامک سینٹر سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے کارروائی کی، جہاں مرکز کے باہر 3 افراد کی لاشیں ملیں، مسجد کے ڈائریکٹر امام طحہٰ حسن کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک سیکیورٹی گارڈ اور اسلامی اسکول کے 2 عملے کے ارکان شامل ہیں، پولیس نے تاحال مقتولین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

    پولیس چیف کے مطابق 2 مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں 17 اور 19 برس بتائی گئی ہیں، قریب ہی کھڑی ایک گاڑی کے اندر مردہ پائے گئے ابتدائی تحقیقا ت کے مطابق دونوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا،یک مشتبہ شخص نے ایک مالی پر بھی فائرنگ کی، تاہم وہ محفوظ رہا اسلامک سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے باعث ہم اس واقعے کو اس وقت تک ہیٹ کرائم تصور کر رہے ہیں جب تک اس کے برعکس شواہد سامنے نہ آئیں۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کے گھر سے فرار ہونے کی اطلاع دی تھی،اس کا بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار اور خودکشی کے رجحانات رکھتا تھا جبکہ گھر سے متعدد آتشیں اسلحہ بھی غائب تھا نوجوان کے ساتھ ایک اور شخص موجود تھا جو فوجی طرز کے لباس میں ملبوس تھا۔

    تحقیقات کے دوران پولیس کو ایک نوٹ بھی ملا جو مبینہ طور پر نوجوان نے چھوڑا تھا، تاہم حکام نے اس کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے مشتبہ افراد کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک ہتھیار پر ‘ہیٹ اسپیچ’ کے الفاظ درج تھے۔

    واقعے کے بعد قریبی اسپتال شارپ میموریل ہاسپٹل نے ایمرجنسی اقدامات نافذ کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج کی تصدیق کی۔

    واقعے کی تحقیقات میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن بھی مقامی پولیس کی معاونت کر رہی ہےوائٹ ہاؤس حکام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے، انہوں نے اس حملے کو انتہائی افسوسناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔

  • کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار  ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    کوٹ لکھپت:پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا

    لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں پولیس اہلکار ہنی ٹریپ میں پولیس ملوث نکلا خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نقدی چھین لی-

    پولیس اہلکار دو خواجہ سراؤں نے قصور کے شہری کو ٹریپ کر کے اپنے فلیٹ پر بلایا، جہاں انہوں نے ساتھی خواجہ سراؤں کے ساتھ مل کر شہری پر تشدد کیا اور چالیس ہزار نقدی چھین لی بعد ازاں شہری کو واش روم میں بند کر دیا گیا کچھ دیر بعد فلیٹ پر چار پولیس اہلکار آئے اور خواجہ سراؤں نے شہری کو ان کے حوا لے کیا پولیس اہلکاروں نے شہری کو دھمکیاں دے کر شناختی کارڈ کی کاپی اور 11 ہزار نقدی چھین لی۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاؤن کو معاملے کی جانچ کا حکم دیا۔

    خفیہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے خواجہ سراؤں سمیت چار کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گرفتار اہلکاروں میں وقاص، سلیمان، عمیر اور عرفان شامل ہیں، جبکہ خواجہ سراؤں میں ماہی، خوشی اور کشمالہ کو بھی گرفتار کیا گیا ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق ملزمان شہری کو ہراساں کر کے رقم اور قیمتی اشیاء چھیننے میں ملوث تھے واقعہ کا مقدمہ نمبر 2462/26 شہری بلال احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ واقعہ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • جیکب آباد میں پسند کی شادی کا معاملہ، لڑکی کے والد کا ویڈیو بیان جاری

    جیکب آباد میں پسند کی شادی کا معاملہ، لڑکی کے والد کا ویڈیو بیان جاری

    جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد لڑکے کا گاؤں کو جلانے کے واقعے پر لڑکی کے والد کا بیان سامنے آگیا۔

    لڑکی کے والد رفیق چنہ کا کہنا ہے کہ میری دو بچیوں کو ملزمان اسلحے کے زور پر رات اغوا کرکے لے گئےتھے، ایک بیٹی کی عمر 14سال اور دوسری کی عمر 4 سال ہے، میں پولیس افسران سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔

    رفیق چنہ نے کہا کہ بیٹیاں بھی میری گئیں، فائرنگ بھی مجھ پر اور میرے گاؤں پر ہوئی، میری بیٹی کی عمر 14سال ہے تو اس کی شادی کیسے ہو سکتی ہے، ہمیں پتہ ہی نہیں برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگی ہے، ہم کیوں ان کے گھروں کو آگ لگائیں گے؟، انہوں نے خود آگ لگائی اور جھوٹی ایف آئی آر ہم پر درج کرائی ہے۔

    واضح رہے کہ برڑو برادری کے گھر جلانے پر چنہ برادری کے 32 ملزمان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور 5 افراد گرفتار کیے گئے ہیں، جیکب آباد میں پسند کی شادی پر مسلح افراد نے درجنوں گھروں کو آگ لگادی تھی،ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق ابتدائی تفتیش کے مطابق گاؤں صدیق آرائیں اورگاؤں غازی خان چنہ کے جوڑے نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی، پسند کی شادی کرنے پر ملزمان نےگاؤں کو آگ لگائی۔

  • پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    پنکی کو بچانے کیلئے بعض نامعلوم قوتیں متحرک؟ اہم شواہد غائب ہونے کاانکشاف

    مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا-

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں،مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے پیغامات میں گولڈن اسٹف 25 ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف 15 ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے، نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذر یعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا-

  • منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    منشیات کیس میں گرفتار خاتون نرگس کا شوہر بھی پولیس اہلکار نکلا

    کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار خاتون منشیات سپلائر نرگس کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں.

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر منشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی گرفتار ملزمہ نرگس کا شوہر وکیل خان ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہے، جو ماضی میں بھی منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔

    ذرائع کے مطابق ماں، باپ اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے میں ملوث تھا، جبکہ پوش علاقوں کے علاوہ جیلوں تک بھی منشیات پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے ملزمہ کا بیٹا طاہر خان جیل اہلکاروں سے رابطے میں تھا اور انہی روابط کے ذریعے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

    تفتیشی حکام کے مطابق کوئٹہ سے فضل ولی نامی شخص اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا، جسے کراچی لا کر گھر میں چھپایا جاتا اور بعد ازاں مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا،ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر تین گھر بھی حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیاں چلائی جاتی تھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس منشیات نیٹ ورک کے مزید کرداروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • بنوں پولیس کی کارروائیاں، 5 خطرناک دہشتگرد ہلاک

    بنوں پولیس کی کارروائیاں، 5 خطرناک دہشتگرد ہلاک

    بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی واقعےکے بعد پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایات پر چوکی فتح خیل واقعے کے بعد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز شروع کیے گئےآرپی او کے مطابق پولیس کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیاہلاک دہشت گرد سکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

    کامیاب آپریشن میں چوکی فتح خیل واقعے کے ماسٹر مائنڈ زرولی کا بھتیجا حیات اللہ کو ہلاک کردیا گیا، جو دیسی ساختہ بم بنانے کا ماہر تھا اور چوکی کو تباہ کرنے کے لیے بم رکشے میں نصب کیا تھا ہلاک دہشت گرد کے ٹھکانے سے آئی ای ڈی بنانے والا سامان، بال بیرنگ، پرائما کارڈ اور بارود بھی برآمد ہوا، ہلاک دہشت گرد حیات اللہ بدنام زمانہ ٹارگٹ کلر بھی تھا او متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب اشتہاری تھا۔

    اسی طرح آپریشنز میں چوکی پر حملے میں ملوث خارجی اسد یار اور خارجی نعمت اللہ بھی مارے گئے ہیں اور مؤثر حکمت عملی کے تحت مارے جانے والے دہشت گردوں میں اہم دہشت گرد کمانڈر منصور بھی شامل ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں سمیت معصوم شہریوں پر حملوں میں مطلوب تھے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں میں 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر کے پی پولیس کی ستائش کی ہےوزیر داخلہ نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنانے پر پولیس کو خراج تحسین پیش کیا ہےمحسن نقوی کا کہنا ہےکہ دہشت گردوں کے خلاف خیبرپختونخوا پولیس کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں، قوم کو پولیس کے بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔

  • انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات، ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 11 افریقی باشندوں سمیت 24 افراد گرفتار

    انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا کرلیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کوکین کوئین‘ انمول عرف پنکی کے انکشافات کے بعد مختلف شہروں میں کارروائیاں شروع کردی ہیں کراچی، راولپنڈی اور قصور سمیت متعدد علاقوں سے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 11 افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو منشیات اسمگل کر کے اسے پاکستان میں انمول عرف پنکی تک پہنچاتے تھے، ان افریقی باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادیاں بھی کر رکھی تھیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کو بھی جلد گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے تحقیقات کا دائرہ پھیلایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

  • انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

    منشیات کے الزام میں قید خاتون انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیس سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈی آئی جیز اسد رضا، اظفر مہیسر، عامر فاروقی، شیراز نذیر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے شرکت کی اجلاس میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کیس کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے اور اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے تاکہ تحقیقات میں تعاون حاصل کیا جا سکے،علاوہ ازیں انمول کے مبینہ منشیات نیٹ ورک سے وابستہ افراد اور استعمال کرنے والوں کو مقدمے میں گواہ بنایا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر بیان دینے والے افراد کو بھی بطور گواہ شامل کیا جائے گا جبکہ مبینہ کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، رقوم کی منتقلی اور ڈیلرز نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ٹیکنیکل وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

    ہفتے کے روز ملزمہ کی عدالت پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے بھی الزامات لگائے۔ جس پر تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

    گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں ملزمہ کے نیٹ ورک کا حصہ 9 بائیک رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

    پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج متعدد مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً اس کے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈر ز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی تھی اور اس نے مبینہ طور پر منشیات کا اپنا الگ “برانڈ” متعارف کرا رکھا تھا۔