Baaghi TV

Tag: پولیس

  • کراچی: ملزم پُراسرار طور پر پولیس کی حراست میں جاں بحق

    کراچی: ملزم پُراسرار طور پر پولیس کی حراست میں جاں بحق

    کراچی میں گرفتار ہونے والا ملزم پُراسرار طور پر پولیس کی حراست میں جاں بحق ہوگیا۔

    پاک کالونی تھانے کی پولیس کی حراست میں گرفتار ملزم پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال لے جائی گئی جہاں اس کی شناخت 40 سالہ شاہ زیب کے نام سے کی گئی پولیس کے مطابق ملزم کی وجہ موت کا فوری طور پر تعین نہیں ہوسکا۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ زون اسد رضا نے پاک کالونی پولیس کی حراست میں ملزم کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ،انہوں نے اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

    اُدھر پاک کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والا شخص مبینہ طور پر نشے کا عادی تھا جسے جمعرات کی صبح گرفتار کر کے لاک اپ میں رکھا گیا تھا اور دوران حراست اس کی طبیعت خراب ہونے پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی وجہ موت کا تعین کیا جا سکے گا۔

  • گجرات میں سی سی ڈی اہلکار ملزمان کی فائرنگ سے شہید

    گجرات میں سی سی ڈی اہلکار ملزمان کی فائرنگ سے شہید

    گجرات میں خطرناک ملزمان کی فائرنگ سے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار فیاض حسین شہید ہوگئے۔

    سی سی ڈی ترجمان کے مطابق گجرات میں خطرناک ملزمان کی جانب سے ریکی کے دوران اہلکار فیاض حسین پر فائرنگ کی گئی، ملزمان کی فائرنگ سے اہلکار شدید زخمی ہوگئے،سی سی ڈی اہلکار فیاض حسین کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، پولیس کی بھاری نفری اسپتال اور موقع پر پہنچ گئی، بعد ازاں شہید اہلکار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہے،سی سی ڈی فائرنگ میں ملوث ملزمان کا تعاقب کر رہی ہے۔

  • چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین میں آتش بازی فیکٹری میں دھماکا، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی

    چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں ایک آتش بازی فیکٹری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔

    چینی میڈیاکے مطابق ہواشینگ فائر ورکس پلانٹ میں یہ دھماکا پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 40 منٹ پر ہوا، جس کے بعد امدادی ٹیمو ں نے فیکٹری کے گرد 3 کلومیٹر کے علاقے کو خالی کرا لیا، قریباً 500 اہلکاروں کو ریسکیو آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا جبکہ عمارت کے ملبے تلے دبے افرا د کو تلاش کرنے کے لیے روبوٹس کی بھی مدد لی گئی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور فیکٹری کے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں موجود بارود کے 2 گودام امدادی سرگرمیوں کے دوران شدید خطرہ بنے ہوئے تھے، جس کے باعث مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں، جن میں علاقے کو نم رکھنا بھی شامل تھا تاکہ کسی دوسرے حادثے سے بچا جا سکے،دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی رہائشی عمار توں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کھڑکیوں کے فریم اور دروازے بھی شدید متاثر ہوئے، زخمی ہونے والوں کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، جن میں سے بعض افراد ملبے کے ٹکڑوں سے ٹکرا کر ہڈیوں کی چوٹوں کا شکار ہوئے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے لاپتا افراد کی تلاش اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ لیویانگ شہر دنیا میں آتش بازی کی مصنوعات کی سب سے بڑی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے، تاہم اس صنعت سے وابستہ فیکٹریوں میں حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، گزشتہ فروری میں بھی صوبہ ہوبے میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

  • خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا : معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت قاتلانہ حملے میں شہید،2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح افراد کے حملے میں معروف عالمِ دین و سیاسی شخصیت اور جے یو آئی کے سابق رکنِ اسمبلی، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ تعینات 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

    چارسدہ پولیس نے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی سفید رنگ کی گاڑی پر مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار مولانا محمد ادریس شدید زخمی ہو گئے، مولانا صبح کے وقت گھر سے اتمانزئی دارالعلوم جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا نشانہ مولانا ادریس تھے ان کے مطابق حملے میں مولانا کو متعدد گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ شہید گئےواقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا لاش اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں فائرنگ کے بعد کارکنان کی بڑی تعداد بھی پہنچ گئی۔

    ڈپٹی کمشنر چارسدہ بھی واقعے کے بعد اسپتال پہنچ گئے اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کےشہید ہونے پر افسوس کا اظہار کیا،انہوں نے کارکنان کو یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا ڈپٹی کمشنر نے کار کنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

  • نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، بچے سمیت 9 افراد ہلاک

    نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، بچے سمیت 9 افراد ہلاک

    نئی دہلی کے علاقے ویوک وہار میں اتوار کی علی الصبح 4 منزلہ رہائشی عمارت میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جان سے گئے اور 4 زخمی ہو گئے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق آگ کی وجہ ایئر کنڈیشنر (اے سی) میں دھماکا قرار دی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں،حکام کے مطابق آگ کی اطلاع صبح 3:47 بجے ملی جس کے بعد فوری طور پر 12 سے 14 فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچائے گئے، آگ نے تیزی سے عمارت کی دوسری، تیسری اور چوتھی منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں 5 لاشیں دوسری منزل سے، 3 سیڑھیوں کے حصے سے جبکہ ایک شخص کی لاش پہلی منزل سے ملی، ہلاک ہونے والوں میں ایک سالہ بچہ بھی شامل ہے، جس نے واقعے کو مزید دلخراش بنا دیا،مجموعی طور پر حادثے میں 4 مرد، 4 خواتین اور ایک بچے کی موت ہوئی، تیسر ی منزل پر رہنے والے ایک ہی خاندان کے 3 افراد بھی جان سے گئےریسکیو اہلکاروں نے اب تک 10 سے 15 افراد کو عمارت سے نکال لیا ہے، جن میں سے کچھ کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم اور دہلی انتظامیہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے،حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • رحیم یار خان میں دن دہاڑے  14 سالہ لڑکی اغوا

    رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی اغوا

    جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز سونگھا کر اغوا کر لیا گیا اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،جس کے بعد رحیم یار خان پولیس سے منسوب ایک اکاؤنٹ میں کہا گیا ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے

  • لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی،  حالت تشویشناک

    لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی، حالت تشویشناک

    لندن میں چاقو بردار شخص نے 2 یہودی راہ گیروں پر حملہ کردیا –

    دی گارڈین کے مطابق شمال مغربی لندن کے گولڈرز گرین میں بدھ کی صبح 76 اور 34 سال کی عمر کے دو یہودی مردوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ، اور ان کا علاج یہودی رضاکار ایمبولینس سروس ہتزولا کر رہا ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، اور فورس اسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے، افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنایا۔

    بدھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے باہر بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر نے تصدیق کی کہ چاقو مارنے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ایک بزرگ شخص کے گلے پر وار کیا اور بعد ازاں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا۔

    40 سالہ ملزم نے گرفتاری سے قبل پولیس اہلکاروں پر بھی وار کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا تاہم شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک بزرگ کے گلے پر گہرے زخم آئے جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کے پیٹ پر ضرب لگی زخمیوں میں سے ایک کی عمر 70 سال سے زائد جبکہ دوسرا 30 سال کے قریب ہے۔

    ایک زخمی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ان دونوں زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیاجہاں بزرگ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاحال پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، 
اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟

    ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی کمیونٹی پر حملہ دراصل پورے برطانیہ پر حملہ ہے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہود مخالف واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے،اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ نے اس واقعے کو ناقابل قبول صورتحال قرار دیا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شہید ہوچکے ہیں جس کے بعد سے دنیا بھر میں یہودی افراد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔

    والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • واشنگٹن:  ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن: ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے خفیہ ادار ے کے اہلکاروں نے قابو کر لیا،جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی،انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

    امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران ہونے والے ایک فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے-

    وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،نہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے،صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہےسی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

    سی این این کے مطابق ملزم لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے اور اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے دوڑ رہا تھا، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی افسران نے اسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک لیا۔

    us

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہے۔

    اس حوالے سے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے اور اس پر بہت جلد فردِ جرم عائد کر دی جائے گی، ملزم کے خلاف فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

    دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں فائرنگ کے آغاز کا منظر دیکھا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات عوام کے سامنے اس لیے لا رہے ہیں تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔

    تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزم کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس کا کسی تنظیم سے تعلق تھا یا یہ اس کی انفرادی کارروائی تھی فی الحال ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہےہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔