Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • اسپیکرنے پی ٹی آئی مستعفی اراکین سےمتعلق بڑا دعویٰ کردیا

    اسپیکرنے پی ٹی آئی مستعفی اراکین سےمتعلق بڑا دعویٰ کردیا

    اسلام آباد:اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی مستعفی اراکین سے متعلق بڑا دعویٰ کردیا ،اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ مستعفی پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی میں سے 2 درجن کےقریب ارکان نے رابطے کیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی تصدیق کیلیے عید کے بعد پی ٹی آئی کے اراکین کو بلائیں گے۔

    راجا پرویز اشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا ایک مکمل طریقہ کار ہے، ممبران کے استعفوں کی تصدیق ، دستخطوں پر استفسار ضروری ہے، مکمل تصدیق کے ساتھ ہی استعفیٰ قبول کیا جاتا ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام مستعفی ایم این ایزکو طلب کیا جائے گا اور ان سے استعفوں کی تصدیق کی جائیگی اس کے بعد ہی ان کے استعفے منظور کیے جائینگے۔

    اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف سے سوال کیا گیا کہ کیا پی ٹی آئی کے کچھ ممبران نے آپ سےاستعفےنہ دینے پر رابطہ کیا ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرےاسٹاف سے2 درجن کے قریب ارکان نے رابطے کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام اراکین قومی اسمبلی نے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر اسمبلی رکنیت سے استعفے دیے تھے۔

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

  • سندھ ہاؤس  حملہ کیس،گرفتار پی ٹی آئی رہنما جیل بھجوانے کا حکم

    سندھ ہاؤس حملہ کیس،گرفتار پی ٹی آئی رہنما جیل بھجوانے کا حکم

    سندھ ہاؤس حملہ کیس،گرفتار پی ٹی آئی رہنما جیل بھجوانے کا حکم
    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سندھ ہاؤس حملہ کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے گرفتار رہنماؤں کو عدالت میں پیش کر دیا گیا عدالت نےعطا اللہ، فہیم خان اور تنویر خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا عدالت نے تینوں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جیل بھیج دیا ملزمان کے وکلا نے درخواست ضمانت بھی دائر کر دی عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کر دیا اور جواب طلب کر لیا کل صبح نو بجے سماعت ہو گی

    واضح رہے کہ سندھ ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے فہیم خان اور عطاء اللہ کواسلام ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیر نے درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی عدالت نے گزشتہ سماعت پر دونوں ایم این اے کی عبوری ضمانت منظور کی تھی ۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئین شکنوں کو آج عدلیہ کے فیصلے بُرے لگ رہے ہیں عدلیہ نے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی منوائی عدلیہ نے ملک کو شخصی آمریت کا یرغمال نہیں بننے دیا،پارلیمنٹ کو یرغمال بنانے والے آج پارلیمنٹ کے وکیل کس منہ سے بن رہے ہیں؟چار سال ملک کو آرڈیننس فیکٹری میں بدلنے والوں کو آج پارلیمنٹ کا خیال آگیا شیریں مزاری کا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں

    گرفتاری کے موقع پر اراکین اسملی کا کہنا تھا کہ پھانسی پر چڑھا دو پھر بھی عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، آپکو بھکاری کہیں گے،زرداری کے خلاف بھی بات کریں گے، آپ ہمیں ہتھکڑیوں سے نہیں ڈرا سکتے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں موجودگی کی اطلاع پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے سندھ ہاوس پر حملہ کیا گیا تھا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

  • فارن فنڈنگ کیس: فیصلہ میرٹ پر ہو گا کسی جماعت کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی،چیف الیکشن کمشنر

    فارن فنڈنگ کیس: فیصلہ میرٹ پر ہو گا کسی جماعت کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی،چیف الیکشن کمشنر

    پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہوئی۔

    باغی ٹی وی : چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کےوکیل نےاسلام آبادہائیکورٹ کاحکمنامہ پیش کردیا –

    تحریک انصاف کے وکیل انورمنصور نےالیکشن کمیشن کوفیصلہ پڑھ کرسنایا،کیس میں التواکی استدعاکردی کہا کہ جب تک باقی کیس اس جگہ نہیں آتے پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس نہیں چل سکتا-

    چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی وکیل سے کہا کہ تمام پارٹیز کی فارن فنڈنگ کی اسکروٹنی کمیٹی کے فیصلہ تک موخر کیا جائے آپ کا دل میں احترام ہے تینوں پارٹیز کے فارن فنڈنگ کیسز چل رہے ہیں مختلف ا سٹیج پر ہیں –

    انور منصور نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018میں کہہ دیا تھا کہ 5سال کےاکاوئنٹس کی تفصیلات دیکھیں گے-

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیس کو 8 سال ہو گئے آپ کی قیادت نے کہا ہے کیس جلدی نمٹائیں، ہائیکورٹ کے آرڈر سے پہلے بھی ہم کیس نمٹانے کی طرف جا رہے تھے، کمیشن اپنا پروسیجر خود بناتا ہے، آپ سمجھتے ہیں کمیشن تاریخیں بھی دوسری عدالت سے لے؟ آپ کے دلائل اگر متعلقہ ہیں تو بے شک 6 ماہ دلائل دیں-

    جس پر انور منصور خان نے کہا کہ دو ہفتے کے بعد میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا آپ کیس کو عید کے بعد رکھ لیں، مجھےآپ کے سامنے ثابت کرنا ہے کہ فنڈ دینے والے پاکستانی تھے، ثابت کرنا ہے کہ ساری کمپنیاں سنگل ملکیت کی کمپنیاں ہیں، میرے دلائل تو اب شروع ہوئے ہیں، مجھے ملین ڈالرز کا حساب دینا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنی مرضی کی تاریخ بتائیں، جس پر انور منصور خان نے کہا کہ عید کے بعد کی تاریخ دے دیں، میں ایک ہفتے میں دلائل مکمل کر لوں گا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انور منصور صاحب، آپ کی مرضی کی تاریخ ہمیشہ دی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کے پابند ہیں،انہوں نے کمیشن کو سماعت سے نہیں روکا آپ نے کہا ہے کہ آپ کیس پر دلائل ایک ہفتے میں مکمل کر لیں گے میرٹ پر فیصلہ ہو گا،کمیشن کسی قسم کا پریشر لینے کو تیار نہیں ہے، کسی جماعت کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی، ہم نے نہیں دیکھنا کہ باہر پانچ بندے آئے ہیں یا 5 لاکھ-

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 101 سیاسی جماعتوں کی اسکروٹنی کی، 17 کے اکاؤنٹس میں تضاد تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن اپنا تفصیلی مؤقف دے گا جبکہ الیکشن کمیشن اپنی سماعت جاری رکھے گا۔

    اکبر ایس بابر کے وکیل نے کیس میں التوا پر اعتراض اٹھایا، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے پہلے بھی 8 سال کیس سنا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہفتہ دو تاخیر کر لیں-

    وکیل احمد حسن نے کہا کہ میری درخواست پر یہ کہتے ہیں کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کیس میں مداخلت نہ کریں جبکہ باقی جماعتوں پر پی ٹی آئی وکیل کہہ رہے ہیں میں مداخلت کروں، یکساں مواقع یہ نہیں کہ ‎سب کیس ساتھ چلیں، اس کا مطلب ہے سب کو برابری کے مواقع ملنے چاہئیں، ان کی بات سے تو یہ مطلب ہے کہ قتل کے سب مقدمات اکھٹے چلیں، اس رویے پر پی ٹی آئی کو بھاری جرمانہ کیا جائے۔

    ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن کو اپنا مینڈیٹ معلوم ہے، انور منصور صاحب، آپ چاہتے ہیں سب جماعتوں کے ساتھ پی ٹی آئی کا کیس سنیں؟ سب کیسز برابری کے ساتھ ہی سنے جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت 10 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    عمران خان کے خوابوں کا ادارہ القادر یونیورسٹی 2019 میں خان کے دور حکومت میں ایک رئیل اسٹیٹ کی طرف سے عطیہ کی گئی زمین سے تعمیر اور شروع کیا گیا اب تک 37 طلباء پر مشتمل ایک کالج ہے جبکہ اسے لاکھوں روپے کے عطیات مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان ریاست مدینہ کے تصور کی ترویج کیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ان سے کئی مرتبہ سوال کیا گیا کہ انہوں نے ریاست مدینہ کی تکمیل کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے۔

    اسی طرح اکثر انٹرویوز اور تقاریر میں عمران خان پاکستان کے تدریسی نظام اور اس سے جنم لینے والے مسائل کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں اور اس کا تدارک ایک ایسے تعلیمی نظام کو قرار دیتے ہیں جہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جائے۔

    اپنے اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے علاقے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا ، جہاں دنیاوی تعلیمات کو صوفی ازم اور سیرت النبی کے ساتھ نہ صرف ملا کر پڑھا جائے گا بلکہ اس پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔

    اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جائیں گے جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوں گے بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں گے۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جائیں گے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    یہ ایک پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ہے اور اس کے انتظامات ایک ٹرسٹ کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اس پراجیکٹ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔

    تاہم اب دی نیوز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لاکھوں روپے کا ٹرسٹ حاصل کرنے والی اس یونیورسٹی میں صرف 37 طلباء زیر تعلیم ہیں-

    ” دی نیوز” کی رپورٹ کے مطابق کالج ایک ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اس کے اصل معتمد عمران خان (اس وقت کے وزیراعظم)، بشریٰ خان (عمران کی اہلیہ)، ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) اور ظہیر الدین بابر اعوان تھے۔ بعد ازاں زلفی بخاری اور بابر اعوان کو ٹرسٹ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی کو تعینات کیا گیا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسز فرحت شہزادی جنہیں فرح خان / فرح بی بی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے مسز بشریٰ خان کی قریبی دوست ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ القادر انتظامیہ یونیورسٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ابھی تک محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے اسے تسلیم نہیں کیا ہےاسےاب تک صرف ایک مضمون Bs-MS (Management Sciences) پڑھانےکی اجازت دی گئی ہےاورگورنمنٹ کالج یونیورسٹی پنجاب کے ساتھ اس کے الحاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 50 طلباء کو داخلہ دے سکتا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جہاں ہر قسم کے اخراجات عطیہ دینے والے اپنے معاہدے کے مطابق برداشت کر رہے تھے وہیں القادر انسٹی ٹیوٹ نے ان طلباء سے ٹیوشن فیس بھی وصول کی۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات ملے جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔جبکہ عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات صرف 8.58 ملین روپے کے لگ بھگ تھے۔

    رئیل اسٹیٹ ٹائیکون نے یونیورسٹی کو 458 کنال اراضی عطیہ کی جس کی سٹیمپ پیپر کے مطابق اس کی مالیت 244 ملین روپے تھی یہ زمین پہلے زلفی بخاری کو منتقل کی گئی جنہوں نے بعد میں جنوری 2021 میں ٹرسٹ کی تشکیل کے بعد اسے منتقل کر دیا یہ زمین موضع بکرالا، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں واقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ عطیہ کی گئی اراضی کے اعترافی معاہدے پر مسز بشریٰ خان (القادر یونیورسٹی کی جانب سے) اورٹرسٹ دینے والے ادارے کے درمیان اس وقت دستخط کیے گئے جب عمران خان (القادر یونیورسٹی کے چیئرمین) وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

    عطیہ دہندہ نے تصدیق کی کہ اس نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کے مقصد کے لیے زمین خریدی تھی عطیہ دہندہ نے اعلان کیا کہ اس کی وجہ سے 22 جنوری 2021 کو یہ زمین زلفی بخاری کی القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی واحد ملکیت کے نام سے ٹرسٹ کو منتقل ہوئی۔

    معاہدے میں عطیہ کنندہ نے القادر ٹرسٹ پراجیکٹ کے لیے عمارت کی سہولیات کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ عطیہ دہندہ نے معاہدے میں تصدیق کی کہ اس نے عمارت کا ایک حصہ پہلے ہی تعمیر کر لیا ہے۔

    عطیہ کنندہ نے معاہدے میں مزید تصدیق کی کہ وہ مجوزہ القادر یونیورسٹی کے قیام اور اسے چلانے کے تمام اخراجات برداشت کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ القادر پروجیکٹ کے قیام اور اسے چلانے کے لیے ٹرسٹ کو فنڈز فراہم کرے گا۔ ٹرسٹ نے اراضی، عمارت، سہولیات اور تعمیر شدہ یا تعمیر کیے جانے والے انفراسٹرکچر کی شکل میں عطیہ دہندگان کے تعاون کو قبول اور تسلیم کیا۔

    12 مارچ 2021 کو عمران خان نے القادر یونیورسٹی، سوہاوہ، جہلم میں شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ 29 نومبر 2021 کو عمران خان نے یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس کا افتتاح کیا۔

    مزید برآں، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ نے اپنے ویب پیج – alqadir.edu.pk میں خود کو ایک یونیورسٹی کے طور پر بتایا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک کالج ہے کیونکہ کمیشن (PHEC) 17 مارچ 2022 سے ڈگری دینے کے لیے چارٹر دینے کی درخواست پنجاب ہائر ایجوکیشن کے پاس زیر التوا ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹرسٹ نے ایک کالج قائم کیا جس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے اور ٹرسٹ القادر انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ڈگری دینے کا درجہ دینا چاہتا ہے۔

    پی ایچ ای سی نے اس خط کے جواب میں کہا کہ درخواست کے ساتھ کچھ دستاویزات غائب ہیں مثال کے طور پر القادر انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران کے لیے ایچ ای سی کے مساوی سرٹیفکیٹ۔ پی ایچ ای سی نے درخواست دہندگان سے مالی اور غیر مالیاتی تفصیلات کے ساتھ ایک آڈٹ رپورٹ بھی جمع کرانے کو کہا کیونکہ پہلے سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو کمیشن نے ناکافی سمجھا۔

    رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے بتایا کہ ایک ٹرسٹیز ڈگری دینے کی حیثیت کے طور پر چارٹر حاصل کرنے کے لیے، پی ایچ ای سی کے قوانین کے تحت پہلے ایک سرکاری یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالج قائم کرنا ہوتا ہے 2021 میں مینجمنٹ سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا الحاق شدہ کالج بن گیا تھا-

    ” ڈاکٹر عارف بٹ نے کہا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) کے الحاق شدہ کالج کے طور پر، ہمیں 2021 کے موسم خزاں میں 50 سیٹوں کے ساتھ BS مینجمنٹ سائنس پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔

    ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے کہا کہ ٹرسٹ نے مختصر وقت میں ڈگری دینے والا ادارہ بننے کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اور پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ مینجمنٹ سائنس اور اسلامک سٹڈیز دونوں شعبوں کی بنیاد پر ڈگری دینے کے لیے چارٹر کی اجازت دے۔ درخواست HEC پنجاب حکومت میں زیر عمل ہے۔ تنظیم کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر سال مزید محکموں کا اضافہ کیا جائے گا-

    عارف نذیر بٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ 2020 کے آخر میں القادر ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کے رکن اور مسز فرحت شہزادی کے ساتھ دسمبر 2021 میں ٹرسٹی بنے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب تمام اخراجات رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں تو ٹرسٹ اضافی عطیات کیوں وصول کر رہا ہے، اور وہ طلباء سے ٹیوشن فیس کیوں وصول کر رہا ہے، ڈاکٹر عارف نے جواب دیا، "القادر ٹرسٹ کے پاس سرمایہ اور آپریشنل اخراجات ہیں جب سے یہ چل رہا ہے۔ الحاق کالج. ٹرسٹ کو مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ریزرو فنڈ بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، ٹرسٹ عطیات اور داخلی وسائل جیسے ٹیوشن فیس سے فنڈز کے ذرائع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹرسٹ میں داخل ہونے والے تمام طلباء کو مالی امداد میں ٹیوشن کی چھوٹ ملی تھی۔

    ڈاکٹر عارف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا گیا۔ تاہم، انہوں نےآڈٹ کی تفصیلات شئیر نہیں کیں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے-

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ کے دیگر ٹرسٹیز سے بھی یہی سوال پوچھا گیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

    زلفی بخاری نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعظم نے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور ہمارے مذہب ‘اسلام’ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے عطیات کو حقیقی طور پر استعمال کیا ان سے اس زمین (تقریباً 500 کنال) کے بارے میں بھی بار بار سوال کیا گیا جو کہ رئیل اسٹیٹ کمپنی نے ان کے نام منتقل کی تھی جسے بعد میں بشریٰ خان اور کمپنی کے درمیان ایک معاہدے میں تسلیم کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    26 دسمبر 2019 کو ظہیر الدین بابر اعوان کے ذریعہ سب رجسٹرار اسلام آباد کے دفتر میں ایک ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر کی گئی ٹرسٹ کا نام ’’القادر یونیورسٹی پروجیکٹ‘‘ رکھا گیا اور ایف 8 اسلام آباد میں اعوان کے گھر کو اس کا دفتر قرار دیا گیا اس وقت اصل معتمد عمران خان، بشریٰ خان، ذوالفقار عباس بخاری (سابق ایس اے پی ایم برائے اوورسیز پاکستانی) اور بابر اعوان (اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے قانونی مشیر) تھے۔

    دی نیوز کی رہورٹ میں بتایا گیا کہ 22 اپریل 2020 کو، عمران خان نے القادر ٹرسٹ اسلام آباد کے چیئرمین کی حیثیت سے جوائنٹ سب رجسٹرار، اسلام آباد کو ایک خط لکھا، جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ظہیر الدین بابر اعوان اور ذوالفقار عباس بخاری کو ٹرسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ ٹرسٹ کا دفتر عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔ خط کے ساتھ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرکے جوائنٹ سب رجسٹرار اسلام آباد کو بھیج دیا گیا جب عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ تمام دستاویزات اس کاتب کے پاس موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عطیہ کے حصے کے طور پر، رئیل اسٹیٹ کمپنی نے 458 کنال کی زمین موضع بکراالہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں ذوالفقار عباس بخاری کے نام پر القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے کسٹوڈین کے طور پر خریدی اور 22 جنوری 2021 کو، 22 جنوری 2021 کو جناب ذوالفقار عباس بخاری نے یہ زمین ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔ اسٹامپ ڈیوٹی کے مقصد کے لیے زمین کی قیمت 243,972,300 روپے مقرر کی گئی تھی۔ تمام دستاویزات اس نمائندے کے پاس موجود ہیں۔

    24 مارچ 2021 کو رئیل اسٹیٹ کمپنی اور بشریٰ خان (ٹرسٹ کی جانب سے) کے درمیان عطیہ کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔ بیلنس شیٹ کے مطابق عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات تقریباً 8.58 ملین روپے تھے۔

    17 فروری 2022 کو چیریٹی کمیشن حکومت پنجاب نے القادر پروجیکٹ ٹرسٹ، جی ٹی روڈ سوہاوہ، بکرالا، ضلع جہلم کو بطور چیریٹی رجسٹر کیا۔

    چیریٹی پورٹل کے مطابق القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے ٹرسٹیز کے نام عمران خان، مسز بشریٰ خاور عمران احمد خان نیازی، ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی شامل ہیں۔

    2 مارچ 2022 کو سب رجسٹرار سوہاوہ کے دفتر میں ‘انڈومنٹ فنڈ برائے القادر انسٹی ٹیوٹ’ کے عنوان سے ایک ٹرسٹ دستاویز رجسٹر کی گئی۔ اس دستاویز کے ٹرسٹیز کے نام بشریٰ خان، فرحت شہزادی اور ڈاکٹر عارف نذیر بٹ ہیں جبکہ اس دستاویز کے مصنف عمران خان ہیں۔

  • سندھ ہاؤس پر حملہ کرنیوالے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    سندھ ہاؤس پر حملہ کرنیوالے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی گرفتار

    پی ٹی آئی کے دو مستعفی اراکین قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    سندھ ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے فہیم خان اور عطاء اللہ کواسلام ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیر نے درخواست ضمانت پر سماعت کی ۔عدالت نے گزشتہ سماعت پر دونوں ایم این اے کی عبوری ضمانت منظور کی تھی ۔

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطا اللہ اور فہیم خان سندھ ہاوس حملہ کیس میں عبوری ضمانت ختم ہونے پر عدالت پہنچے اسٹیٹ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل فہدعلی اورمدعی مقدمہ قادر مندوخیل کی طرف سے راجہ نذیرایڈووکیٹ پیش ہوئے راجہ نذیر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمان نےانتہائی اورسنگین جرم کاارتکاب کیاہے، ملزمان ممبران اسمبلی اوران کی فیملیز پر حملہ آور ہوئے سندھ ہاؤس کا مرکزی گیٹ توڑکرملزمان اندرداخل ہوئے مرکزی گیٹ ٹوٹنے سے سندھ ہاؤس اورملک بھرمیں خوف وہراس پیدا ہوا سندھ ہاؤس حملے سے صوبائی تعصب پھیلانے کی کوشش کی گئی

    راجہ نذیر کا کہنا تھا کہ ملزمان سے تفتیش ہونی ہے سازش کے پیچھے کون کون تھا، ملزمان کی جب تک پولیس کسٹڈی نہیں ہوتی میرٹ پر تفتیش ممکن نہیں ملزمان کی درخواست ضمانت کو خارج کیا جائے ملزمان کے وکیل نے جسٹس طارق محمود جہانگیری سے ضمانت میں مزید توسیع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا درخواست ضمانت مسترد ہونے پر دونوں اراکین اسمبلی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا

    پولیس نے دونوں اراکین اسمبلی کو تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا بعد ازاں عدالت نے تحریک انصاف کے کارکنان رائے تنویر اور سید صداقت علی شیرازی کی بھی ضمانت منسوخ کردی

    گرفتاری کے موقع پر اراکین اسملی کا کہنا تھا کہ پھانسی پر چڑھا دو پھر بھی عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، آپکو بھکاری کہیں گے،زرداری کے خلاف بھی بات کریں گے، آپ ہمیں ہتھکڑیوں سے نہیں ڈرا سکتے،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں موجودگی کی اطلاع پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے سندھ ہاوس پر حملہ کیا گیا تھا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

  • ملکی اداروں پر بہتان تراشی پی ٹی آئی کا وطیرہ بن گئی ہے،شرجیل میمن

    ملکی اداروں پر بہتان تراشی پی ٹی آئی کا وطیرہ بن گئی ہے،شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے الیکشن کمیشن سے متعلق بیان پر رد عمل میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر پر الزامات قابل مذمت ہیں ، موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کا کریڈٹ خود عمران خان لیتے رہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں اپنے خلاف متوقع فیصلے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے پی ٹی آئی قیادت جانتی ہے فارن فنڈنگ کیس میں وہ پھنس چکے ہیں، ملکی اداروں پر بہتان تراشی پی ٹی آئی کا وطیرہ بن گئی ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ہم افواج پاکستان، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور تمام اداروں کے ساتھ ہیں، تحریک انصاف کے رہنما ملکی اداروں پر ہرزہ سرائی سے باز رہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 26 اپریل کو ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔


    انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے جانبداری اور بددیانتی کی انتہا کر دی ہے اور منصوبے کے تحت ابھی تک منحرف اراکین کی اسمبلی سیٹ ختم کرنے کی ڈیکلریشن نہیں کی جا رہی۔

    الیکشن کمیشن کا قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں 24 مئی تک مکمل کرنے کا اعلان

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف 26 اپریل کو پورے ملک میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے سامنے چیف الیکشن کمشنر کے رویےکے خلاف احتجاج کرے گی تمام ضلعی تنظیموں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس پر سماعت کا شیڈول جاری کردیا ہے الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی غیرملکی فنڈنگ کیس کی سماعت 27 تا 29 اپریل ہوگی۔

    لاہور میں ایک بڑی جماعت کے جھنڈے اتار دیے گئے

  • تحریک انصاف اور مسلم لیگ نے جو عہد کیا تھا وہ جاری ہے:ملکرکامیابیاں سمیٹیں گے:شاہ محمود قریشی

    تحریک انصاف اور مسلم لیگ نے جو عہد کیا تھا وہ جاری ہے:ملکرکامیابیاں سمیٹیں گے:شاہ محمود قریشی

    لاہور:تحریک انصاف اور مسلم لیگ نے جو عہد کیا تھا وہ جاری ہے:ملکرکامیابیاں سمیٹیں گے:اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نے مل کر چلنے کا جو عہد کیا تھا وہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسپیکر چوہدری پرویزالہٰی اور مونس الہٰی سے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، شہریار آفریدی اور زین قریشی نے ملاقات کی جس میں چوہدری پرویزالہٰی نے شاہ محمود قریشی کو لاہور میں کامیاب جلسے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں سابق صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ، اظہر بخاری، انجینئر عامر شاہ، مصطفی، شاہ زیب اور سعید نذیر بھی موجود تھے۔

    چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ کئی کلومیٹر فاصلہ پیدل طے کر کے خود جوق در جوق جلسہ گاہ میں آ رہے تھے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نے مل کر چلنے کا جو عہد کیا تھا وہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جی ڈی اے اور پاکستان مسلم لیگ نے عمران خان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، جسے تحریک انصاف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ

    آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ

    آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،تحریک انصاف کے رہنما کا دعویٰ
    سابق وزیر خارجہ ، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی ق لیگی رہنما، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہٰی سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں مونس الہٰی اور زین قریشی بھی شریک تھے ملاقات میں سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی پرویزالہٰی نے شاہ محمود قریشی کو لاہور میں کامیاب جلسہ پر مبارکباد دی ،پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ پیدل جلسہ گاہ آ رہے تھے، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اورق لیگ مل کر چلنے کا جو عہد کیا تھا وہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے،جی ڈی اے اور ق لیگ نے عمران خان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ لاہورجلسے کے بعد آج سے عمران خان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا شروع کیا جائے گا بیرونی سازش کے حقائق کو جھٹلانے کے لیے ہر حربہ استعمال ہوگا، عوام ہوشیار ہو جائے اور جاگتے رہیں، آج سے نیا گیم پلان شروع ہو جائے گا ،

    تحریک انصاف پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ مینار پاکستان پر لاکھوں کے جلسے سے سیاسی مخالفین سکتے کی حالت میںہیں،امپورٹڈ حکومت نے اقتدار میں رہ کر آئندہ عام انتخابات میںنقب لگانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جنہیںکسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،اگر عمران خان نے اسلام آباد کی طرف کال دی تو عوام کا سمندر سازشی ٹولے کو ان کے ایوانوں سمیت بہا لے جائے گا ۔ مینار پاکستان جلسے کے انتظامات میں متحرک کردار ادا کرنے والے رضا کاروں سے اظہار تشکر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ عوام اور کارکنان کو معلوم تھاکہ عمران خان نے رات نو بجے کے بعد خطاب کرنا ہے لیکن اس کے باوجود وہ روزے کی حالت میں دوپہر سے ہی پنڈال میں پہنچنا شروع ہو گئے جو ان کی عمران خان سے محبت اور عقیدت کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ایماء پر جلسہ گاہ کی طرف آنے والے مختلف راستوںکو کنٹینر لگا کر بند رکھا گیا لیکن امپورٹڈ حکومت نے دیکھ لیا کہ عوام اورکارکنان نے ان رکاوٹوںکو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا اور کئی کلو میٹر پیدل چل کر جلسہ گاہ پہنچتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں عوام نے مینار پاکستان جلسے میں شرکت کر کے واضح فیصلہ سنا دیا ہے کہ لاہور کس کا قلعہ ہے اور ان شااللہ آئندہ عام انتخابات میں ہمارے سیاسی مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہو جائیںگی ۔ انہوںنے مزید کہا کہ جلسے میں خواتین اور فیملیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جو عمران خان کی جدوجہد کی کامیابی کی دلیل ہے اور وہ دن دور نہیں جب امپورٹڈ حکومت اقتدارسے باہر ہوگی

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    عمران خان منتخب وزیراعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں،عدالت

    وزیراعظم کا انتخاب، تحریک انصاف کی اراکین کو ہدایات جاری

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

  • عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،سپریم کورٹ

    عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دلائل ویڈیو لنک پر دیئے گئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کا کہ 10منٹ میں دلائل مکمل نہ کیے گئے تو مخدوم علی خان کو سنیں گے،پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ میں دس منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا،63 اے کو شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنا تھا،63 اے کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے،63اے کے نتیجے میں ووٹ شمار نہیں ہو گا،ووٹ کاسٹ تو ضرور ہو گا لیکن اس کو گنا نہیں جائے گا

    علی ظفر نے کہا کہ 63اے سیاسی جماعتوں کے ممبر سے متعلق ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی ظفر آپ کہہ رہے ہیں ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے، علی ظفر نے کہا کہ میں عدالتی تشریح کے ذریعے استدعا کر رہا ہوں، جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ انحراف کا فیصلہ پارٹی سربراہ نے کرنا ہے،اگر سیاسی جماعت کی کوئی ہدایت ہی نہ ہو تو ووٹ گنا جائے گا یا نہیں ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹ شمار کرنا اور انحراف کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں ، علی ظفر نے کہا کہ پہلے سربراہ ہدایات جاری کرے گاپھر ممبران کے خلاف ڈکلیئریشن جاری کرے گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیاڈکلیئریشن کی عدم موجودگی میں بھی ووٹ نہیں گنا جائے گا،

    جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹ گنا نہ جائے تو مطلب جرم ہی نہیں کیا۔ ووٹ نہ ڈالنے کی کوئی قدغن لگائی نہیں گئی۔تریسٹھ اے میں بتایا گیا ہے کہ ووٹ تو کاسٹ کرلیں گے لیکن سیٹ چلی جائے گی۔ اگر ممبر رکن اسمبلی نے فیصلہ کرنا ہے کہ ووٹ کرنا ہے یا نہیں؟ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد ہی پارٹی سربراہ ڈیکلریشن دے گا۔ پارٹی سربراہ ووٹ کاسٹ ہوتے وقت بھی اسپیکر کوبتاسکتا ہے،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی سربراہ پہلے شوکاز نوٹس دے گا جواب لے گا۔ نوٹس کے بعد ملنے والے جواب سے پارٹی سربراہ مطمئین ہو کر شوکاز ختم بھی کر سکتا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں پارلیمانی پارٹی کی ہدایت اکثریت کی ہوتی ہے۔آپ کہہ رہے ہیں پینل کوڈ نہیں کہ جرم ہو گیا ہے۔ تو لاش ملنے کے بعد ہی کارروائی ہو گی۔ آپ کہہ رہے ہیں بھٹو دور میں شامل کیے گیے آرٹیکل 96 کی طرح اقلیت کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ قومی مفاد اور اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ووٹ کو نہیں گننا چاہیے؟ رضا ربانی اور فاروق نائیک کا کہنا ہے پارٹی سربراہ ان کے بے پناہ اختیارات کو روکنے کے لیے سزا واضح نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ فیصلہ سربراہ کرتا ہے یا پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، آئین میں تریسٹھ اے شامل کرنے کا مقصد انحراف کے کینسر کو ختم کرنا تھا، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو تحریری معروضات جمع کروانے کی ہدایت کردی،پاکستان مسلم لیگ ق نے علی ظفر کے دلائل اپنا لیے پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کیخلاف حفاظتی دیوار ہے،
    ق لیگ کے وکیل نے میثاق جمہوریت کا حوالہ دیا اور کہا کہ جمہوریت کے چمپئن بننے والوں نے مینڈیٹ کے احترام کا معاہدہ کیا تھا، عملی طور پر جو کچھ کیا گیا وہ میثاق جمہوریت کیخلاف ہے،

    وکیل مسلم لیگ ن مخدوم علی خان نے کہا کہ آج ایک گھنٹے میں دلائل مکمل نہیں کر سکوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگلے دو ہفتے بینچ دستیاب نہیں ہوگا،چاہتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے پر جلد از جلد اپنی رائے دیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ 14 مئی کو بیرون ملک سے میری واپسی ہوگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے دلائل کا خلاصہ بیان کر دیں پھر دیکھیں گے،مخدوم علی خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، منحرف رکن اسمبلی کی مدت تک ہی نااہل ہو سکتا، آئین کی تشریح کا عدالتی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ ماضی میں پارلیمنٹ عدالت کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کرتی رہی۔عدالت نے کبھی اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ عمران خان نے آرٹیکل تریسٹھ اے کے حوالے سے آئینی درخواست بھی دائر کی ہے،ائینی درخواست میں کوئی سیاسی جماعت یا منحرف رکن فریق نہیں۔ آئینی درخواست میں صرف منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی مانگی گئی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس میں اٹھایا گیا سوال ہی درخواست میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

    ن لیگی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے اب کوئی مواد نہیں کہ اراکین کیوں منحرف ہوئے،رشوت لینے کے شواہد ہیں نہ ہی یہ معلوم کہ ضمیر کی آواز پر منحرف ہوئے رکن کیوں منحرف ہوا یہ شواہد اسکا کام نہیں، بعض آئینی ترامیم پر وکلا اور عوام نے احتجاج کیا ،ساتویں ترمیم میں سول اداروں کی مدد کے لیے فوج طلب کرنے کی منظوری ہوئی، سول اداروں کی مدد کے لیے آئی فوجی اقدامات کو عدالتی دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالت صرف سوال کی حد تک آئین کی تشریح کر سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت سے رائے مانگی گئی ہے،عدالت اپنا اختیار184 تھری میں استعمال کر سکتی ہے ،آرٹیکل 63 اے پارٹی سے بے وفائی روکنے کے لیے نہیں ہے،

    دورانِ سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد اوراس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ووٹ کو نہیں گننا چاہیے عدالت کا کام تمام آئینی سوالات کا جواب دینا ہے، جاننا چاہیں گے آرٹیکل 63 اے پر رائے کس حد تک دے سکتے ہیں کیا عدالت ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے الفاظ کی قیدی ہے یا اس سے ہٹ کر تشریح کر سکتی ہے؟ ملک کو میچور مہوریت کی طرف لےکر جانا ہوگا اورمچور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ قانون سازسیر حاصل گفتگو کریں

    جسٹس جمال مندوخیل نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو تکلیف ہے تو اس کینسر کا علاج خود کریں، صرف ایک سیاسی جماعت منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف ہے، ہمارے سامنے جماعتوں کی اکثریت آپ کے مؤقف کے خلاف ہیں، آپ کیا توقع کررہے ہیں ہم اکثریت کو چھوڑ کر آپ کی بات مانیں گے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے،

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس

    تنقید سے فرق نہیں پڑتا،عدالت کے دروازے ناقدین کیلئے بھی کھلے ہیں،چیف جسٹس

  • عمران خان کیخلاف نئی سازش ہورہی ہے:اگرایسا ہوا تو پھرسخت ردعمل سب کچھ لپیٹ لے گا: شاہ محمود

    عمران خان کیخلاف نئی سازش ہورہی ہے:اگرایسا ہوا تو پھرسخت ردعمل سب کچھ لپیٹ لے گا: شاہ محمود

    لاہور:عمران خان کیخلاف نئی سازش ہورہی ہے:اگرایسا ہوا تو پھرسخت ردعمل سب کچھ لپیٹ لے گا:اطلاعات کے مطابق سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے خلاف نئی سازش کا انکشاف کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی سازش گھڑی جارہی ہے عوام کی کچہری میں رکھنا چاہتا ہوں، الیکشن کمیشن میں ایک سازش گھڑی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرایسی سازش ہوئی توپھراس کا ایسا ردعمل آئے گا جو سب کچھ بہا کرلے جائے گا

    انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کے ذریعے سازش تیار کی جارہی ہے، پی ٹی آئی سے جتنے بھی سال کیے گئے جواب دیا گیا، پی ٹی آئی سے سوال کرتے ہو کیا پی پی اور ن لیگ کو جواب نہیں دینا، ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں لیکن یکطرفہ کارروائی نہیں ہوسکتی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نئی سازش کے تحت یہ عمران خان کو نااہل اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، تنہا عمران خان کو دیوار سے لگادیا گیا ہے سارا مافیا یکجا ہوگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تو کہتے تھے ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں اب کیا ہوگیا ہے، ملک کو بھنور سے نکالنا ہے تو وہ ایک ہی راستہ نئے انتخابات ہیں، ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں اب یہ کیوں بھاگ رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آزادی مانگی نہیں جاتی، چھین کر لی جاتی ہے، ہم چھین کرآزادی لیں گے، ہرصورت لیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق ‘امپورٹڈ حکومت نامنظور’ کے تحت لاہور کے مینار پاکستان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے دور میں پاکستان خارجہ سطح پر اپنے فیصلےخود کررہاتھا، اندازہ لگالیں کہ طارق فاطمی کو دوبارہ حکومت میں شامل کیاگیا، ثابت ہوگیا کہ آج پاکستان کے خارجہ سطح کےفیصلے واشنگٹن میں ہورہےہیں۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ شکر ہے کہ ہمارےاعتراض پر طارق فاطمی کو کان سے پکڑ کر نکال دیاگیا مگر آج خواجہ آصف کو وزیر دفاع بنادیاگیا، یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ میں پاکستان کو شکست ہوئی، ایسے شخص کو وزیردفاع بنادیاگیا ہے تو آپ اندازہ لگا سکتےہیں۔

    جلسے سے خطاب میں فواد چوہدری نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مانگی نہیں جاتی آزادی چھین کرلی جاتی ہے، آج کا یہ جم غفیر فیصلہ دے چکا کہ ہم چھین کر آزادی لیں گے اور ہر صورت آزادی لیں گے۔