Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سانحہ نو مئی بانی پی ٹی آئی کی سازش تھی، سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں-

    باغی ٹی وی: عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ نو مئی کو لاہور جناح ہاؤس، پی اے ایف میانوالی، راولپنڈی، قلعہ چکدرہ کے ملزمان کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، نو مئی کو ملک کے دفاعی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے مذموم سازش تھی،بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کے رفقانے نو مئی کی منصوبہ سازی میں حصہ لیا۔

    انہوں نے کہا کہ سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،جن مجرمان کو سزائیں سنائی گئیں یہ توڑ پھوڑ میں ملوث تھے، نو مئی کے مجرمان کا فیئر ٹرائل ہوا ہے سانحہ نو مئی کے مجرمان کو ٹرائل کے دوران تمام بنیادی حقوق دیئے گئے، ٹرائل کورٹ میں عجلت میں کیس کا فیصلہ نہیں ہوا، پراسیکیوشن کی طرف سے بہت وقت لیا گیا، اور عدالت میں باقاعدہ شواہد پیش کیے گئے،آج انصاف کا بول بالا ہوا ہے، اب کوئی جرات نہیں کر سکے گا کہ ملکی دفاعی تنصیبات پر حملہ کرے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس: شیخ رشید کی فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج

    ان کا کہنا تھا کہ رائٹ ٹو فیئر ٹرائل عالمی معاہدوں اور قوانین کے عین مطابق ہے، اور اس میں ہمارے آئین اور قانون کا خاص خیال رکھا گیا ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل میں وکیل کا حق، ریکارڈ اور فیملی تک رسائی دی گئی ہے،رائٹ ٹو فیئر ٹرائل میں اپیل کے دو حق دیئے گئے ہیں، سانحہ نو مئی میں حملہ آوروں کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمارے دوست ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ترکیہ نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان سیاحتی شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان اور ترکیہ کےدرمیان ثقافتی رابطوں وتبادلوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ثقافتی تعاون کے فروغ کیلئے عوامی رابطوں کو بڑھانا ہوگا۔

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اورترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہیں، پاکستان اورترکیہ کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں پاکستان اور ترکیہ کی لازوال دوستی سرحدوں یا اچھے برے وقت کی محتاج نہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بہت سی قدریں مشترک ہیں، دونوں ممالک ثقافت اورمذہب کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • اڈیالہ  کا قیدی این آر او   کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ کا قیدی این آر او کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پنجاب صوبائی وزیر اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے واضح طور پر ‘ابسلوٹلی ناٹ’ (بالکل نہیں) کہہ کر امریکہ کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہ پالیسی کبھی بھی تبدیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور آزادی کے لیے پُرعزم ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات کا ڈرامہ کھیل رہی ہے اور دوسری طرف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک ہی مقصد اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل ہے، اور ان کا یہ طرز عمل عوامی مفاد سے کوسوں دور ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے رہنما جیسے ذلفی بخاری، شہباز گل اور شہزاد اکبر اس مہم میں پیش پیش ہیں۔ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو مالی طور پر پاکستان کی مدد نہ کرنے پر اکسا رہے ہیں، جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کام کیا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ رواں سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کی فتنہ سازی اور ملک دشمنی کو مسترد کر دیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں، نے ڈیڑھ سال تک قوم کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو آزاد کرائیں گے، لیکن اب وہ خود امریکی لابی سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کریں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستانی عوام کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ملک کو امریکی اثر سے آزاد کرائیں گے، آج وہ خود امریکی مداخلت کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی بددیانتی ہے اور ان کی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کا قیدی این آر او (قومی مفاہمت آرڈیننس) مانگنے کے لیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اب تک کی سیاست میں ان کا کردار صرف ذاتی مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اس قسم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اب ملک کی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

  • بانی پی ٹی آئی  اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن گولڈ اسمتھ کے ریکروٹ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے ایک عالمی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد ایلچی رچرڈ گرینل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کے لیے مغرب سے آواز اٹھانے والوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور ہماری پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف پاکستان ہے۔” یہ مہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے چلائی جا رہی ہے، جس میں مغربی ممالک بھی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "عمران خان کی رہائی کے لیے جو عناصر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان عناصر کی حمایت اسرائیل سے حاصل ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک اسرائیلی اثاثہ ہیں، اور ان کے ذریعے عالمی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی قوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو امریکی حکومت یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب یہ لوگ حکومتی نمائندے کے طور پر بات کریں گے تو پاکستانی حکومت بھی اپنے موقف کا دفاع کرے گی۔”طلال چوہدری نے مزید کہا کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ پہلے بانی پی ٹی آئی کو آزادی دلائے گا اور پھر وہ قوم کو امریکہ سے آزاد کروائیں گے؟ یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔”

    پاکستان کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گی، اور ملک کے مفادات کو پہلے اور آخری ترجیح دے گی۔ خواجہ آصف اور طلال چوہدری نے مغربی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کیا ہے،

    پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

  • ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے،امیر مقام

    ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے،امیر مقام

    پشاور:وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں، سیاست بعد میں ہے سب سے پہلے ملک ہے اور ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے-

    باغی ٹی وی: پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے آزاد ملک بنایا، ہر ضلع میں اس حوالے سے تقریبات ہورہی ہیں، یہ ملک قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے اور اب اس کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتاافواج پاکستان نے ملک کے لئے قربانیوں دی ہیں، جو لوگ اداروں کے خلاف باتیں کرتے ہیں انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے میزائل پروگرام اور ایٹمی طاقت پر کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانیں گے، امریکا اور یورپ کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، ہر بچہ اس ملک کے تحفظ کے لئے تیار ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کسی بھی ملک کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے، کل وزیر اعظم نے تمام بیرون قوتوں کو دو ٹوک جواب دیا ہے اس معاملے پر ہم سب کو مل کر آگے بڑھنا ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

    ان کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی سے نقصان پاکستان کا ہوگا یہ اس ملک کا نقصان ہے اداروں کا نقصان نہیں، یہ بات قابل برداشت نہیں، پی ٹی آئی کو جس طرح لایا گیا سب کے سامنے ہے، میثاق جمہوریت کی ہم نے ہمیشہ بات کی ہے آج مذاکرات کی بات کرنے والے پہلے کیوں بھاگ رہے تھے، دیر آید درست آید ہم تو پہلے سے مذاکرات کی بات کررہے تھے مگر یہی لوگ صوبے کی وسائل کو مرکز پر چڑھائی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

    پاکستان کا آئین اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے،محسن نقوی

    انہوں نے کے پی کے عوام سے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام نے تیسری بار مینڈیٹ دیا ہے انہیں عوام کو ڈیلیور کرنا چاہیے یہ لوگ پنجاب کو دیکھیں وہاں پر کتنا کام ہو رہا ہے مگر یہاں یہ لوگ انتشار پھیلا رہے ہیں، یہ لوگ اسلام آباد پر چڑھائی کے بجائے مسائل کے حل تلاش کریں، ہماری سیاست ایک شخص کے آگے پیچھے نہیں گھوم رہی آرمی چیف اور حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک میں استحکام لانا ہے، ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ سب سے پہلے پاکستان اور پھر سیاست ہے، کے پی حکومت کو کاموں کے مقابلے میں پنجاب حکومت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

    ہم متحد ہوئے تو ملک کو ترقی یافتہ بناسکتے ہیں،مراد علی شاہ

  • عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد  کر دیا

    عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا جبکہ پارٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے-

    باغی ٹی وی:بشریٰ بی بی خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری پروٹوکول میں اڈیالہ جیل پہنچیں، ان کی سیکیورٹی پر 12 سرکاری اہلکار تعینات تھے جبکہ 2 بلٹ پروف گاڑیاں بھی سرکاری پروٹوکول میں شامل تھیں بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد جیل سے روانہ ہوگئیں جس کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار قاضی انور، وکلاعلی بخاری اور علی اعجاز بٹر اور فیصل چوہدری نے بھی اڈیالہ جیل پہنچ کر عمران خان سے ملاقات کی۔

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا مطالبہ مسترد کردیا ،کہا کہ جب تک حکومت مذاکرات سے متعلق سنجیدگی نہیں دکھاتی کال واپس نہیں لی جائے گی 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، حکومت مذاکرات کو لٹکائے گی، مذاکرات کو جلد از جلد پایہ تکمیل کی طرف لے کر جائیں اور سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ہونے چاہییں، سپریم کورٹ کے ججز کے حالیہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں، شکر ہے کہ موجودہ حالات کا سپریم کورٹ کو احساس ہوگیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے حامد رضا کو مذاکراتی کمیٹی کا ترجمان مقرر کرنے کی ہدایت دے دی جبکہ فیصل چوہدری نے حامد رضا کو ترجمان مقرر کرنے کے اطلاعات کی تصدیق کر دی-

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    دوسری جانب عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب کو مذاکرات کے آغاز کے بارے میں آگاہ کردیا مگر انھوں نے کہا ہے کہ ٹائم فریم ہونا چاہیئے، جو ہمارے جائز مطالبات ہیں ان پر جلد از جلد مگر ایک مقررہ وقت کے اندر کوئی پیش رفت ہونی چاہیئے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے کوئی بین الاقوامی معاملہ ڈسکس نہیں ہوا، خان صاحب کی ہدایت ہے کہ فارن پالیسی کے معاملات پر چیئرمین، سیکرٹری اور انفارمیشن سیکرٹری کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا، سول نافرمانی کی تحریک پر کوئی بات نہیں ہوئی صرف مذاکرات پر بات ہوئی۔

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے 4 لوگ کل مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکے جس کا اسپیکر قومی اسمبلی کو پہلے سے بتا دیا تھا، مذاکرات کے اگلے دور میں چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے آگے رکھیں گے اور اس پر آگے بڑھیں گے، کوشش ہے کہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے، علی امین اپیکس کمیٹی میں شرکت کے باعث مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکیں۔

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    انہوں نے کہا کہ کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بنائی ہے مجھ سمیت بہت سارے لوگ اس میں شامل نہیں، ہم مذاکرات کے عمل پر پُرامید ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ سارے مسائل کا حل ضرور نکل آئے، بانی پی ٹی آئی پر جتنے مقدمات بنے وہ سارے سیاسی ہیں، ان سب میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے ایک ہی ریفرنس بچاتھا جس کا فیصلہ آئندہ ماہ ہونا ہے ہمیں امید ہے کہ اگر فیئر ٹرائل ہوگا تو عمران خان اس میں بھی بری ہوں گے اور ضمانت بھی ملے گی، 2 جنوری کو ہمارے تمام کمیٹی ممبران مذاکرات کا حصہ ہوں گے، ہم تحریری طور پر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، آئی جی اسلام آباد نے11 ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے

    نوٹسز ملزم صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمان، اظہر مشوانی ، عروسہ ندیم شاہ ، محمد علی ملک ، شاہ زیب ورک، موسی ورک ، اکرام کٹھانہ، تقویم صدیق اور محمد نعمان افضل کو جاری کئے گئے , نوٹس میں جے آئی ٹی نے ملزمان کو 24 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔ ان ملزمان نےسوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈےکے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلایا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لئے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے مطابق آئی جی پولیس کے ماتحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

  • مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بیل چڑھتی نظر نہیں آ رہی، دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جیلیں آباد اور غریب لوگ برباد ہو رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے جیلوں کے دروازے کھلیں اور جوڈیشل کمیشن بنے، مجھ پر اتنے کیسز بنا دیئے گئے کہ زندگی سے اکتاہٹ پیدا ہو چکی ہے۔میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر دو بار سسرال (جیل) بھی گیا۔ چند دنوں میں عالمی اور اخلاقی دباؤ حکومت پر بڑھنے والا ہے، پاؤں پڑی ، صدقے پر چلنے والی حکومت ہے، چاہتا ہوں مذاکرات کا نتیجہ نکلے، ایک شخص سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں،آئندہ دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ حکومت پر عالمی دباؤ بڑھے گا، اس حکومت کے ساتھ کسی کی سپورٹ نہیں ہے، پاکستان میں مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،کامیاب کرنا ہے، حکومتیں معافی دیتی ہیں،قیدیوں کو معافی ملنی چاہئےاسکی استدعا ہونی چاہئے، پی ٹی آئی کی کیا سوچ ہے، حکومت کہاں پھنسی ہوئی ہے سب کو پتہ ہونا چاہئے،ہماری معیشت مزید بیٹھی تو لوگوں میں تباہی و بربادی پھیلے گی، دعا ہے مذاکرات کامیاب ہوں اور جیلوں کے دروازے کھلیں،غریب لوگ جیلوں میں ہیں، میرے جیسا بندہ پیشیاں بھگت بھگت کر تھک گیا، اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ سیاسی قیدی،غریبوں کو رہا کریں،اسٹاک ایکسچنیج کی بجائے کسی ریڑھی والے سے پوچھیں ،عوام نالاں ہے، عوام سے پوچھیں ،میں پی ٹی آئی میں نہیں، ایک بندے سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں.

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی استدعا کی۔ درخواست کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی۔

    عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ فورم پر رجوع کرنا چاہیے تھا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا تھا کہ درخواست گزار نے براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کیا، حالانکہ اس نوعیت کے معاملات میں متعلقہ فورم سے پہلے درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صنم جاوید کو پہلے متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنی ہوگی، اور اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو وہ پھر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    صنم جاوید کی درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے اور صرف الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کا نام پی سی ایل میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے بلا جواز صنم جاوید کا نام پی سی ایل میں شامل کر دیا ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک سفر کر سکیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور اگر وہاں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی