Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • زلفی بخاری کا  محمد بن زاید کے پاکستان کے دورے پر خیرمقدم

    زلفی بخاری کا محمد بن زاید کے پاکستان کے دورے پر خیرمقدم

    پی ٹی آئی رہنما، سابق مشیر برائے سمندر پار پاکستانی، زلفی بخاری نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر اور ابو ظہبی کے حکمران محمد بن زاید آل نہیان کے پاکستان کے حالیہ دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔

    زلفی بخاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ "ہم نے ہمیشہ امارات کے ولی عہد اور یو اے ای کے صدر، عزت مآب محمد بن زاید آل نہیان کو پاکستان میں خوش آمدید کہا ہے۔ آپ کی پاکستان کے لیے محبت، بھائی چارے کی جڑت اور فراخ دلی نے ہمیشہ ہماری طاقت کو بڑھایا ہے۔ آپ کی قیادت میں یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات میں نہ صرف گہرائی آئی ہے بلکہ ایک نئی توانائی کا بھی اضافہ ہوا ہے۔”

    زلفی بخاری نے مزید کہا کہ "یو اے ای میں تقریباً 1.7 ملین پاکستانی رہتے ہیں اور یہ پاکستانی عوام کی محنت اور قربانیوں کی ایک مثال ہے۔ آپ کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے فراہم کی جانے والی مسلسل مدد، خاص طور پر رحیم یار خان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، اقتصادی نمو، اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے کی جانے والی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ ان اقدامات نے اس پسماندہ علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ "ہم آپ کی جانب سے پاکستان کے ترقی کے لیے جاری حمایت اور عزم کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ آپ کی قیادت اور حمایت سے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک کی ترقی کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔”

    زلفی بخاری نے اپنے اختتامیہ میں کہا کہ "ہزاروں پاکستانیوں کی جانب سے محمد بن زاید آل نہیان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے دورے کو پاکستان کے لیے ایک نیا سنگ میل قرار دیتے ہیں۔ ہم آپ کی کامیابیوں کی دعا گو ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاکستان اور یو اے ای کا دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہو گا۔”

    یہ بیان یو اے ای کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کے دورہ پاکستان کے اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    https://x.com/sayedzbukhari/status/1876229536334963021

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

  • شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت اور مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے تنازعے کے بعد بالآخر صلح ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے اختلافات کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    شیرافضل مروت نے اس موقع پر کہا کہ "ہم سیاسی ورکر ہیں، اور ہمارے درمیان جو واقعہ پیش آیا تھا، اس کے بعد ہم نے آذربائیجان میں بھی اکٹھے ہوئے۔ اس واقعہ سے ہمارے دلوں میں کوئی میل نہیں ہے، ہم ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ چھوٹے بھائی ہیں اور ہمارے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی یا بغض نہیں ہے۔”افنان اللہ خان نے بھی شیرافضل مروت کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، "میں شیرافضل مروت کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، وہ میرے بھائی ہیں اور ہمیں سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔”

    یاد رہے کہ ستمبر 2023 میں ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران شیر افضل مروت اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان ایک تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں شیر افضل مروت نے افنان اللہ خان کو تھپڑ مارا تھا، جس کے بعد افنان اللہ خان نے بھی جوابی حملہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم اب دونوں نے اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

    اس صلح کو پی ٹی آئی میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور پارٹی قیادت نے دونوں رہنماؤں کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صلح سیاسی ماحول میں بہتری کی علامت ہو سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب پارٹی میں اندرونی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

    پارا چنار میں امن کی بحالی کے لیے کیے جانے والے معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا ایک اہم رہنما ہے، جو علاقے میں امن کے قیام کی کوششوں کے خلاف سرگرم رہا۔ حاجی کریم کی اس متنازعہ حرکت سے علاقے میں ایک بار پھر بدامنی کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف پاڑا چنار بلکہ پورے خیبر پختونخوا اور پاکستان میں سیاسی اور سماجی ماحول پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    حاجی کریم کے ٹی ٹی پی سے گہرے روابط

    ذرائع کے مطابق، حاجی کریم کا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے گہرا تعلق ہے، جو پاکستانی حکومت کے خلاف سرگرم ہے اور مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتا رہا ہے۔ حاجی کریم کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت اور ان کے ساتھ روابط کی خبریں ایک بڑی تشویش کا باعث بنی ہیں۔ یہ تعلقات علاقے میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی ایک اہم وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔

    ٹی ٹی پی پی ٹی آئی کی اعلانیہ حامی

    حاجی کریم کی حمایت میں، ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی (پاکستان تحریک انصاف) کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور پی ٹی آئی کو اپنی اعلانیہ حامی جماعت قرار دیا ہے۔ اس سیاسی حمایت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور ملکی سیاست میں پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کرنا اس بات کا غماز ہے کہ پارٹی کے موقف اور ٹی ٹی پی کے تعلقات پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان میں آپریشنز اور افغانستان میں کارروائیوں کی مخالف

    پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کئی آپریشنز کیے ہیں، مگر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی حمایت اور ان کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت کرنے کا موقف اپنایا ہے۔ یہ متضاد پالیسی ملک کے داخلی اور خارجی معاملات میں گہری پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کا پارا چنار میں جاری فساد سے بلکل لاتعلق رہنا

    پی ٹی آئی کی قیادت نے پاڑا چنار میں جاری فساد پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حالانکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ پارٹی کی اس لاتعلقی نے لوگوں میں سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اس فساد سے واقعتاً لاتعلق ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور سازش چھپی ہوئی ہے؟

    یہ پارا چنار بدامنی کہیں پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مشترکہ منصوبہ تو نہیں؟

    حالات کی یہ پیچیدگی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان کسی مشترکہ منصوبے پر عمل ہو رہا ہے، جس کا مقصد پارا چنار اور دیگر علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہو؟پی ٹی آئی کے اتحادی مجلس وحدت المسلمین (MWM) نے بھی حالیہ دنوں میں کراچی اور دیگر علاقوں میں شیعہ سنی فسادات کو بڑھانے کی کوشش کی تھی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ فسادات ایک گہری سازش کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ان سوالات کا جواب وقت کے ساتھ سامنے آئے گا، لیکن اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ پاڑا چنار میں جاری بدامنی اور فسادات میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کی مشترکہ سازش کا عنصر کہاں تک حقیقت رکھتا ہے۔

  • حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا  پیشرفت  نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی-

    باغی ٹی وی: گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیش رفت نہیں ہوئی، پی ٹی آئی کو ایک ہفتےکاوقت دیاگیا ہے اور امکان ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہوجائے مذاکرات کاعمل اب تک نشستاً،گفتاً،برخاستاً تک محدود ہے،پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے حکومت پر قطعی کوئی دباؤ نہیں ہے،سیاسی تناؤ کو کم کرنے کیلئے راستہ تلاش کرنے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ہوتا توملکی معیشت ریکورنہیں کرتی، ملکی معیشت کی ریکوری تناؤکی فضا کے خاتمےکا ثبوت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری ہورہی ہے، معاشی انڈیکیٹرزحوصلہ افزاہیں اور اسٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 18 ہزارکی ریکارڈ سطح عبورکرگئی ہے۔

    کراچی:2024 میں ہزاروں اسٹریٹ کرمنلز عدالت سے باعزت بری کئے جانے کا انکشاف

    جوبائیڈن کا اسرائیل کو 8 بلین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرنے کا معاہدہ

    وفاقی کابینہ میں آئندہ ہفتے توسیع کا فیصلہ

  • شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی  کیسز میں وکلا  فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ

    شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی کیسز میں وکلا فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے تحریک انصاف کے کیسز میں وکلا کو دی گئی فیسوں کا آڈٹ کروانےکا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ چند وکلا نے پیسے لیے، دی گئی فیسوں کا آڈٹ ضرور ہونا چاہیے، ٹکٹ کا مجھے علم نہیں شاید پنجاب کی طرف ایسا ہوگا تین چار وکلا نے فیس لی ہے، وکلاء کو زیادہ فیس دی گئی،کیسز ایسی نوعیت کے نہیں تھےکہ اتنی فیسیں دی جاتیں،کیسز بے بنیاد تھے اس میں اتنی صلاحیتیں بھی درکار نہ تھیں، ایسا کام تھا نہیں کہ چوٹی کے وکیل لا تے اور منہ مانگی قیمت دی جاتی، میں نے 74 کیسز میں بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کی لیکن کوئی پیسے نہیں لیے۔

    ورلڈ بینک سے پاکستان کو 40 ارب ڈالرز قرض ملنے کا امکان

    قبل ازیں وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ایک دن جیل میں رہنے پر حکومت کے لاکھوں روپے کا خرچ آتا ہے،عمران خان کی مرضی سے وکلا کیسز لڑتے ہیں-

    بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    انہوں نے کہا کہ وکلا کے کیسز لڑنے کی فیسیں ہوتی ہیں مگر کروڑوں روپے کی ان فیسوں کو میں جسٹیفائی نہیں کرتا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے ڈونیشنز آتے ہیں یا پارٹی کے لوگ ڈونیشن دیتے ہیں وکلا کی فیس کی مد میں گزشتہ ایک ماہ میں 7 کروڑ روپے علی امین خان نے ادا کیے ہیں پیسے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ پیسوں پر ترس نہ کیا جائے، وکلا کی فیسوں کا حساب کتاب ہونا چاہیے۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

  • بشریٰ بی بی کی  پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد قانونی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہوئے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے وکلا کی فہرست حاصل کریں۔ اس سلسلے میں قاضی انور اور مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی کو وکلا کے امور پر رپورٹ کریں گے۔ دونوں شخصیات بشریٰ بی بی کو وکلا کی کارکردگی اور تنازعات کے بارے میں آگاہ کریں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے قانونی کیسز پر حتمی مشاورت فراہم کریں اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک کسی بھی قسم کی پیغام رسانی سے روکا جائے۔ یہ اقدام پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور قانونی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بھی بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی آگاہی فراہم کی۔ اس دوران قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ شریٰ بی بی کی اس مداخلت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے قانونی محاذ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    نیلم منیر کی دبئی میں شادی،دولہاپولیس والا نکلا

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

  • مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا

    مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہوگیا، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی :اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا اجلاس میں حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، راناثنا اللہ، فاروق ستار، علیم خان،عرفان صدیقی نوید قمر، راجہ پرویز، خالدمگسی، اعجازالحق شریک تھے-

    اپوزیشن (پی ٹی آئی) کی جانب سے قائد حزب اختلاف عمر ایوب، رکن قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس، سنی اتحاد کونسل (ایس ٹی آئی) کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہوئے –

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

    اعلامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کمیٹی کے سربراہ عمر ایوب خان صاحب اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی چیئر مین عمران خان صاحب سمیت پارٹی کے لیڈرز اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیئے، انہوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشنل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تا کہ حقائق پوری طرح سامنے آسکیں۔

    پی ٹی آئی کمیٹی نے آگاہ کیا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ ز پیش کرنے کے لئے ہمیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب سے ملاقات ، مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے یہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اسے مثبت طریقے سے جاری کرنے کے لئے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔

    پی ٹی آئی کمیٹی نے مزید کہا کہ عمران خان صاحب سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کر دیا جائے گا۔

    حکومتی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کے تحت ہمیں توقع تھی کہ آج پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی تاکہ مذاکرات کا کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان صاحب سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ ز لائے تا کہ دونوں کمیٹیاں معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھا سکیں۔

    جاری اعلامیے کے مطابق طے پایا کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد اگلے ہفتے دونوں کمیٹیوں کی تیسری نشست کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

    4 جنوری تک بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بتایا کہ حکومت اور تحریک انصاف بات چیت جاری رکھیں گے، پی ٹی آئی نے عمران خان سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگا ہے، تیسری میٹنگ اگلے ہفتے ہوگی، آج ہونے والی بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے سامنے 2 مطالبات رکھ دیے، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے مطالبات کمیٹی کے سامنے رکھے گئے پی ٹی آئی کا پہلا مطالبہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جبکہ دوسرے مطالبہ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کو سیاسی قیدیوں پر مزید کیس قائم نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جو کیس موجود ہیں ان پر عدالتی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں پر مزید نئے کیس نہ بنائے جائیں۔

    دہشت گردی کا سرکچلے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، وزیراعظم

    مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، ہم توقع کررہے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف تحریری طور پر نکات لے کر آئیں گے جن کی روشنی میں بات کی جاسکے۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے سہولت کا مطالبہ کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ اس عمل کے لیے بانی سے رہنمائی لیتے رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات اور سہولت لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد بات چیت کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا، اپوزیشن کے مطالبات اگر تحریری شکل میں آئیں گے تو ہم دیکھیں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔

    سینیٹر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک میں جمہوری استحکام کی بات کی ہے، اپوزیشن کا لہجہ سخت نہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی جانب سے سراہا گیا ہے، بات چیت کا خوشگوار ماحول میں ہونا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل ہم نے طے کیا تھا کہ اجلاس کے باہر ہونے والے تمام تر بیانات، واقعات کو اہمیت نہیں دی جائے گی، 6 جنوری کو جو بھی نتیجہ آئے گا ہماری طرف سے اس نتیجے کی بنیاد پر مذاکرات کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

    مذاکرات سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مشاورت ہوئی، ملاقات میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب، اسد قیصر اور شیر افضل مروت جبکہ حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور نوید قمر شامل تھے۔

    سردار ایازصادق کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے مثبت فیڈ بیک آرہا ہے، کوئی بہترحل نکلے گا، مذاکرات سے تلخیاں کم ہوں گی۔

    سڈنی ٹیسٹ:روہت شرما اگلے میچ میں ٹیم سے باہر،کپتان کون ہو گا؟

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی کے 2 بڑے مطالبات سامنے آرہے ہیں ہمارے سامنےتحریری مطالبات آئیں تو دیکھیں گے وہ کیا چاہتےہیں۔

    افریقی ملک کے ایک گاؤں میں خلائی کچرا آکر گر گیا

    عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر ان کے یہ 2 مطالبات تحریری طور پر سامنے آئے تو ہم ان سے پوچھیں گے یہ کیسے ممکن ہے ہم ان سے پوچھیں گے آپ بھی اتنی ہی تاریخ جانتے ہیں جتنی ہم تو بتائیں قیدیوں کی رہائی کیسےممکن ہے ہمیں یقین ہے کہ پی ٹی آئی والے جو مطالبات لے کر آئیں گے اس پر ہمیں گائیڈ بھی کریں گے، پی ٹی آئی والے ہمیں بتائیں گے کہ آئین اور قانون یہ راستے دیتے ہیں، اگر وہ ہمیں اس پر قائل کردیں گے تو ہم خوش دلی سے ان کے مطالبوں پر غور کریں گے۔

    مریم نواز مساوی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

  • پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    امریکا میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عاطف خان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

    یہ بیان عاطف خان نے امریکی مصنف مائیکل کوگلمین کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں دیا۔ مائیکل کوگلمین نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امریکا کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔

    عاطف خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکا نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا پاکستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے، تو اس سے پاکستان کے اندر حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    https://x.com/akhan4pakistan/status/1873113993977757866

    عاطف خان نے اپنی گفتگو میں پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے مخالفین کے بجائے اپنے اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے پاکستان میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو اقتصادی، سیاسی، اور سماجی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عاطف خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے یہ مطالبات بہت سادہ ہیں: پاکستانی عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جموکری ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔

    عاطف خان نے امریکہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک طاقتور ملک ہے، اور اس کا اثر و رسوخ پاکستان میں تاریخی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس اثر و رسوخ کو دوبارہ سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے خلاف جاری سیاسی بحران اور ان کی قید کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔عمران خان رہائی چاہتے ہیں، اسکے لئے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، حکومتی اور پی ٹی آئی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے تا ہم ان مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی،

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش