Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • بانی پی ٹی آئی  اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن گولڈ اسمتھ کے ریکروٹ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے ایک عالمی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد ایلچی رچرڈ گرینل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کے لیے مغرب سے آواز اٹھانے والوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور ہماری پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف پاکستان ہے۔” یہ مہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے چلائی جا رہی ہے، جس میں مغربی ممالک بھی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "عمران خان کی رہائی کے لیے جو عناصر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان عناصر کی حمایت اسرائیل سے حاصل ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک اسرائیلی اثاثہ ہیں، اور ان کے ذریعے عالمی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی قوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو امریکی حکومت یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب یہ لوگ حکومتی نمائندے کے طور پر بات کریں گے تو پاکستانی حکومت بھی اپنے موقف کا دفاع کرے گی۔”طلال چوہدری نے مزید کہا کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ پہلے بانی پی ٹی آئی کو آزادی دلائے گا اور پھر وہ قوم کو امریکہ سے آزاد کروائیں گے؟ یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔”

    پاکستان کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گی، اور ملک کے مفادات کو پہلے اور آخری ترجیح دے گی۔ خواجہ آصف اور طلال چوہدری نے مغربی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کیا ہے،

    پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

  • ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے،امیر مقام

    ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے،امیر مقام

    پشاور:وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں، سیاست بعد میں ہے سب سے پہلے ملک ہے اور ملک کو نقصان پہچانے والے خود کو پاکستانی نہیں کہہ سکتے-

    باغی ٹی وی: پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے آزاد ملک بنایا، ہر ضلع میں اس حوالے سے تقریبات ہورہی ہیں، یہ ملک قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے اور اب اس کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتاافواج پاکستان نے ملک کے لئے قربانیوں دی ہیں، جو لوگ اداروں کے خلاف باتیں کرتے ہیں انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے میزائل پروگرام اور ایٹمی طاقت پر کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانیں گے، امریکا اور یورپ کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، ہر بچہ اس ملک کے تحفظ کے لئے تیار ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کسی بھی ملک کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے، کل وزیر اعظم نے تمام بیرون قوتوں کو دو ٹوک جواب دیا ہے اس معاملے پر ہم سب کو مل کر آگے بڑھنا ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

    ان کا کہنا تھا کہ سول نافرمانی سے نقصان پاکستان کا ہوگا یہ اس ملک کا نقصان ہے اداروں کا نقصان نہیں، یہ بات قابل برداشت نہیں، پی ٹی آئی کو جس طرح لایا گیا سب کے سامنے ہے، میثاق جمہوریت کی ہم نے ہمیشہ بات کی ہے آج مذاکرات کی بات کرنے والے پہلے کیوں بھاگ رہے تھے، دیر آید درست آید ہم تو پہلے سے مذاکرات کی بات کررہے تھے مگر یہی لوگ صوبے کی وسائل کو مرکز پر چڑھائی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

    پاکستان کا آئین اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے،محسن نقوی

    انہوں نے کے پی کے عوام سے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوام نے تیسری بار مینڈیٹ دیا ہے انہیں عوام کو ڈیلیور کرنا چاہیے یہ لوگ پنجاب کو دیکھیں وہاں پر کتنا کام ہو رہا ہے مگر یہاں یہ لوگ انتشار پھیلا رہے ہیں، یہ لوگ اسلام آباد پر چڑھائی کے بجائے مسائل کے حل تلاش کریں، ہماری سیاست ایک شخص کے آگے پیچھے نہیں گھوم رہی آرمی چیف اور حکومت کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک میں استحکام لانا ہے، ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ سب سے پہلے پاکستان اور پھر سیاست ہے، کے پی حکومت کو کاموں کے مقابلے میں پنجاب حکومت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

    ہم متحد ہوئے تو ملک کو ترقی یافتہ بناسکتے ہیں،مراد علی شاہ

  • عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد  کر دیا

    عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا حکومتی مطالبہ مسترد کر دیا جبکہ پارٹی کو مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے-

    باغی ٹی وی:بشریٰ بی بی خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری پروٹوکول میں اڈیالہ جیل پہنچیں، ان کی سیکیورٹی پر 12 سرکاری اہلکار تعینات تھے جبکہ 2 بلٹ پروف گاڑیاں بھی سرکاری پروٹوکول میں شامل تھیں بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد جیل سے روانہ ہوگئیں جس کے بعد چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار قاضی انور، وکلاعلی بخاری اور علی اعجاز بٹر اور فیصل چوہدری نے بھی اڈیالہ جیل پہنچ کر عمران خان سے ملاقات کی۔

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا مطالبہ مسترد کردیا ،کہا کہ جب تک حکومت مذاکرات سے متعلق سنجیدگی نہیں دکھاتی کال واپس نہیں لی جائے گی 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، حکومت مذاکرات کو لٹکائے گی، مذاکرات کو جلد از جلد پایہ تکمیل کی طرف لے کر جائیں اور سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ہونے چاہییں، سپریم کورٹ کے ججز کے حالیہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں، شکر ہے کہ موجودہ حالات کا سپریم کورٹ کو احساس ہوگیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان نے حامد رضا کو مذاکراتی کمیٹی کا ترجمان مقرر کرنے کی ہدایت دے دی جبکہ فیصل چوہدری نے حامد رضا کو ترجمان مقرر کرنے کے اطلاعات کی تصدیق کر دی-

    آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول کا اعلان کر دیا

    دوسری جانب عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خان صاحب کو مذاکرات کے آغاز کے بارے میں آگاہ کردیا مگر انھوں نے کہا ہے کہ ٹائم فریم ہونا چاہیئے، جو ہمارے جائز مطالبات ہیں ان پر جلد از جلد مگر ایک مقررہ وقت کے اندر کوئی پیش رفت ہونی چاہیئے۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے کوئی بین الاقوامی معاملہ ڈسکس نہیں ہوا، خان صاحب کی ہدایت ہے کہ فارن پالیسی کے معاملات پر چیئرمین، سیکرٹری اور انفارمیشن سیکرٹری کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا، سول نافرمانی کی تحریک پر کوئی بات نہیں ہوئی صرف مذاکرات پر بات ہوئی۔

    بلاول بھٹو زرداری کی آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے 11ویں کانووکیشن میں شرکت

    چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے 4 لوگ کل مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکے جس کا اسپیکر قومی اسمبلی کو پہلے سے بتا دیا تھا، مذاکرات کے اگلے دور میں چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے آگے رکھیں گے اور اس پر آگے بڑھیں گے، کوشش ہے کہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے، علی امین اپیکس کمیٹی میں شرکت کے باعث مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بن سکیں۔

    ہمیں نئی نسل کے ڈیجیٹل حقوق کے لئے جدو جہد کرنا ہو گی،بلاول بھٹو

    انہوں نے کہا کہ کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بنائی ہے مجھ سمیت بہت سارے لوگ اس میں شامل نہیں، ہم مذاکرات کے عمل پر پُرامید ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ سارے مسائل کا حل ضرور نکل آئے، بانی پی ٹی آئی پر جتنے مقدمات بنے وہ سارے سیاسی ہیں، ان سب میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے ایک ہی ریفرنس بچاتھا جس کا فیصلہ آئندہ ماہ ہونا ہے ہمیں امید ہے کہ اگر فیئر ٹرائل ہوگا تو عمران خان اس میں بھی بری ہوں گے اور ضمانت بھی ملے گی، 2 جنوری کو ہمارے تمام کمیٹی ممبران مذاکرات کا حصہ ہوں گے، ہم تحریری طور پر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے پہلے دور میں پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، 11 ملزمان کو نوٹسز جاری

    سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا ، آئی جی اسلام آباد نے11 ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے

    نوٹسز ملزم صبغت اللہ ورک، محمد ارشد، عطاالرحمان، اظہر مشوانی ، عروسہ ندیم شاہ ، محمد علی ملک ، شاہ زیب ورک، موسی ورک ، اکرام کٹھانہ، تقویم صدیق اور محمد نعمان افضل کو جاری کئے گئے , نوٹس میں جے آئی ٹی نے ملزمان کو 24 دسمبر کو طلب کر رکھا ہے۔ ان ملزمان نےسوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈےکے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلایا۔ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جرائم کی روک تھام کے لئے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے مطابق آئی جی پولیس کے ماتحت ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل دی۔ جے آئی ٹی ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے پسِ پردہ مقاصد کا تعین کرنے کے لیے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید مجرموں کی شناخت اور ان کے خلاف قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی کے پاس ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    قرآن کے نام پر سوشل میڈیاپر فراڈ

    نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک کی سوشل میڈیا پر واپسی

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

  • مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بیل چڑھتی نظر نہیں آ رہی، دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جیلیں آباد اور غریب لوگ برباد ہو رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے جیلوں کے دروازے کھلیں اور جوڈیشل کمیشن بنے، مجھ پر اتنے کیسز بنا دیئے گئے کہ زندگی سے اکتاہٹ پیدا ہو چکی ہے۔میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر دو بار سسرال (جیل) بھی گیا۔ چند دنوں میں عالمی اور اخلاقی دباؤ حکومت پر بڑھنے والا ہے، پاؤں پڑی ، صدقے پر چلنے والی حکومت ہے، چاہتا ہوں مذاکرات کا نتیجہ نکلے، ایک شخص سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں،آئندہ دنوں میں اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ حکومت پر عالمی دباؤ بڑھے گا، اس حکومت کے ساتھ کسی کی سپورٹ نہیں ہے، پاکستان میں مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،کامیاب کرنا ہے، حکومتیں معافی دیتی ہیں،قیدیوں کو معافی ملنی چاہئےاسکی استدعا ہونی چاہئے، پی ٹی آئی کی کیا سوچ ہے، حکومت کہاں پھنسی ہوئی ہے سب کو پتہ ہونا چاہئے،ہماری معیشت مزید بیٹھی تو لوگوں میں تباہی و بربادی پھیلے گی، دعا ہے مذاکرات کامیاب ہوں اور جیلوں کے دروازے کھلیں،غریب لوگ جیلوں میں ہیں، میرے جیسا بندہ پیشیاں بھگت بھگت کر تھک گیا، اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ سیاسی قیدی،غریبوں کو رہا کریں،اسٹاک ایکسچنیج کی بجائے کسی ریڑھی والے سے پوچھیں ،عوام نالاں ہے، عوام سے پوچھیں ،میں پی ٹی آئی میں نہیں، ایک بندے سے تعلق ہے وہی نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں.

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

  • نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے ہے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،

    میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ کل مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، تین مطالبات سامنے رکھے،غیر قانونی کام بند کئے جائیں، جیلوں میں بند ورکر، عمران خان کو رہا کیا جائے، رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رعایت مانگ رہے ہیں، انہوں نے انتقاما کیس بنائے کوئی قانونی حیثیت نہیں،سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں،اتنے کیسز بنائے گئے ہیں کہ اہم مقدمات کی اہمیت ختم ہوگئی ہیں،پارلیمنٹرین پر دھشتگردی، قتل اور غداری کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، سویلین کا ملٹری کورٹ میں فیصلے پر مایوسی ہوئی،پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کسی کارکن ایک گملہ تک نہیں توڑا، ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے، پارلیمنٹ کے پاس اختیارات ہونی چاہئے، ہم آزاد عدلیہ چاہتے ہیں،ہم نے اپنا مؤقف حکومت کے سامنے رکھا ہے، آگے بڑھنا ہے، ملک کی معاشی صورتحال، امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم ملک کو بحران سے نکالنا چاہتے ہیں،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل پر ہمیں شدید تشویش ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ہمیں شدید مایوسی ہے کہ اگر سپریم کورٹ ہی آئین کے خلاف چلی جائے تو پھر عام لوگ کہاں جائیں،

    قبل ازیں اسد قیصر کو پشاور ہائی کورٹ سے 30 جنوری تک راہداری ضمانت مل گئی ہے

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

  • صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    صنم جاوید کو لاہور ہائیکورٹ نے دیا جھٹکا

    لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کی استدعا کی۔ درخواست کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے کی۔

    عدالت نے رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ فورم پر رجوع کرنا چاہیے تھا۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا تھا کہ درخواست گزار نے براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کیا، حالانکہ اس نوعیت کے معاملات میں متعلقہ فورم سے پہلے درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صنم جاوید کو پہلے متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنی ہوگی، اور اگر وہاں شنوائی نہیں ہوتی تو وہ پھر ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    صنم جاوید کی درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے اور صرف الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کا نام پی سی ایل میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت نے بلا جواز صنم جاوید کا نام پی سی ایل میں شامل کر دیا ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک سفر کر سکیں اور اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکیں۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لئے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور اگر وہاں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔

    سری لنکا کے مرکزی بینک کا بھارتی بینک پر جرمانہ

    مرد استاد کو "حاملہ” ہونے پر سکول سے ملی چھٹی

  • بیرسٹر گوہر  نے  پارٹی رہنماوں کی مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی

    بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماوں کی مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی رہنماوں کی حکومت کیساتھ مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان آج مذاکرات ہوئے جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کابینہ اجلاس کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے جبکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب پشاور کی عدالتوں میں پیشی کی وجہ سے نہ آسکے-

    بیرسٹر گوہر کے مطابق حامد خان بنگلہ دیش کے دورے کی وجہ سے اور سلمان اکرم راجہ لاہور میں عدالتی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے پی ٹی آئی ممبران مصروفیات کی وجہ سے مذکرات میں شریک نہ ہو پائے، پی ٹی آئی کے کسی ممبر نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا تھا۔

    واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے، حکومتی و اپوزیشن کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،مذاکرتی ٹیم میں پی ٹی آئی کے پانچ میں سے 4 ممبران غیر حاضر تھے، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مذکرات میں شامل نہیں ہوئے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ عمر ایوب سے پارٹی رہنماؤں نے مذاکرات میں شمولیت کا کہا، علی امین گنڈاپور سے بھی پارٹی رہنماؤں نے مذاکرات میں شرکت کا کہا لیکن علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے معذرت کی، سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر گوہر سے مذاکرات پر مشاورت کی، بیرسٹر گوہر سے مشاورت کے بعدسلمان اکرم راجہ نے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بطور جماعت صرف اسد قیصر مذاکرات میں شریک ہوئے، علی امین گنڈاپور حکومت سے مذکرات کے حق میں نہیں ہیں،اپوزیشن اتحادکی جانب سےحامدرضا اور علامہ راجہ ناصرعباس اجلاس میں شریک ہوئے، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روزاپوزیشن سے روابط کےمعاملے پر پارٹی رہنماؤں میں سخت کشیدگی بھی ہوئی۔

  • پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات آج ہوئے

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست اختتام پذیر ہو گئی ،سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی،آئندہ اجلاس دو جنوری کو ہوگا۔فریقین آئندہ نشست میں اپنا موقف پیش کریں گے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ با ت چیت جمہوریت کا حسن، حکومت اور اپوزیشن کا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینا خوش آئند ہے۔ عوام کو منتخب نمائندوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔ملک کی موجودہ صورتحال ہم آہنگی کے فروغ کی متقاضی ہے،

    دوران اجلاس اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کی بات کرتی ہےدوسری طرف سے ٹوئٹ آ جاتا ہے،اسد قیصر نے کہا کہ ہم متفق ہیں اپنی کور کمیٹی میں اس ایشو پر تفصیلی بات کی ہے ، اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن نےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،کمیٹی کا اجلاس آئندہ 2جنوری کو ہوگا ،آئندہ اجلاس میں اپوزیشن مطالبات کی فہرست پیش کریگی

    مذاکراتی اجلاس میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش
    حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے اجلاس کی پہلی نشست کااعلامیہ جاری کر دیا گیا،حکومت اور اپوزیشن کی مذکراتی کمیٹیوں کا اعلامیہ سینیٹرعرفان صدیقی نے پڑھ کرسنایا.اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،راناثنااللہ ،نویدقمر،فاروق ستارشریک ہوئے.دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کو مثبت عمل قراردیا.اپوزیشن کمیٹی نے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا.آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر مطالبات پیش کرے گی.اجلاس میں دہشت گردی کی جنگ میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا.اپوزیشن کی جانب سے اسدقیصر،حامدرضااور علامہ ناصرعباس شریک ہوئے.دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نےا سپیکرایاز صادق سے اظہارتشکر کیا،مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہواہے،

    قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں مذاکرات ہوئے،سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،اپوزیشن کی جانب سے اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا علامہ ناصر عباس اجلاس میں شریک ہیں،

    اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا، اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،رانا ثناء اللہ،خالد مقبول صدیقی،اسحاق ڈار، فاروق ستار،عرفان صدیقی و دیگر شامل تھے،حکومتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بڑے دل اور کھلے دماغ کیساتھ اچھی توقعات لیکر مذاکرات کیلئے جارہے ہیں،

    علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں،صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کھلے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرے گی لیکن ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہمارے دو مطالبات ہیں ایک نو مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور دوسرا قیدیوں کی رہائی،اگر پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو بتائیں کیا ریاستی اداروں کی مرضی کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا؟

    آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ، نیت چیک کریں گے، عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے، نیت چیک کریں گے، پانی کا درجہ حرارت چیک کریں، پھر کچھ کہا جا سکتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی اچھی طرح صوبے کے معاملات سنبھال رہے ہیں،پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، نام نہاد یا فارم 47 جو بھی ہیں، مذاکرات ان سے ہی کرنے ہیں، فارم 47 حکومت کا رویہ دیکھ کر مذاکرات کا فیصلہ کریں گے، 5 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، اس دن مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسی دن حکومت نے مجھے گرفتار کیا تھا،

    ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں،عارف علوی
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 190ملین پاؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت ہوگی۔سرکاری گواہ تسلیم کرچکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ،سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میرے دُکھ درد بہت طویل ہیں، ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں، سیاست ہی ملک کو بچائے گی.

    اتوار کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان اور سینیٹرعرفان صدیقی شامل ہیں،حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے،کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین شامل ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، علی امین خان گنڈا پور اور صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    جنرل حمید گل (ر) کے صاحبزادے اور چئیرمین تحریک جوانان پاکستان عبداللہ حمید گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دھوکے کے علاوہ اور کیا دے سکتی ہے

    365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں عبداللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کیا دے سکتی ہے حکومت کو، تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ قوم کو دھوکہ، کشمیریوں کو دھوکہ، 1 کروڑ نوکریوں کا دھوکہ، 50 لاکھ گھروں کا دھوکہ،پی ٹی آئی ایک دفعہ پھر دھوکہ دینے کیلئے تیار بیٹھی ہے، یہ ہمیشہ یوٹرن لیتے ہیں، یوٹرک تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے ،کیا قرآن میں یوٹرن ہے نفی، اسکا مطلب ہے کہ یوٹرن جھوٹے کی نشانی ، پاکستان کبھی بھی کمزور نہیں ہوا، پاکستان عالم اسلام میں اولین کردار ادا کر رہا ہے، ہمارا کردار اب بڑھ رہا ہے کیونکہ ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں، پاکستان ہمیشہ سے لیڈر تھا، عالم اسلام کے اندر، دنیا کے اندر پاکستان کا ممتاز مقام ہے، دنیا کے فیصلوں‌کو مرکز و محور پاکستان تھا اور رہے گا، کون تھا جو اس میں رخنہ ڈال رہا تھا اس پر بات کی جائے، جو بھنگڑے ڈال رہے تھے کہ پاکستان میں پابندیاں لگ گئیں، ان پابندیوں میں بھی پاکستان نے دفاعی کام کیا، میزائل بنائے،پاکستان پر اب براہ راست جنگ مسلط نہیں کی جا سکتی تھی، اسلئے اندرونی طور پر پاکستان کے اندر لوگوں کو بھڑکایا گیا، سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا، لوگوں کے ذہنوں کو بدلا گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری جب دوستی ہوتی تھی تو بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا،اور کہا کہ لقمان کیا میں یوٹرن لیتا ہوں،جس پر میں نے کہا کہ نہیں، عمران نے کہا ٹی وی پر کیوں نہیں کہتے،جس پر میں نے کہا کہ یو آرآن راؤنڈ اباؤٹ ،تم تو ایک ہی جگہ گول گھومے جا رہے ہو،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان