Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • سانحہ 9 مئی:عمران خان  جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو سانحہ 9 مئی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز نے کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا تاہم جیل حکام نے انہیں پیش کرنے سے معذرت کرلی جس کے ان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی یقینی بنائی گئی-

    دوران سماعت ایس ایچ او تھانہ آر اے بازار نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی سے متعلق جتنے بھی مقدمات میں عمران خان نامزد ہیں ان کی تفتیش اڈیالہ جیل میں ہی کی جائے گی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر سمیت 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر …

    دوسری جانب پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئیر نائب صدر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جس طرح وکلاء کو ٹکٹ ملے ہیں، خبیر پختونخوا میں اس طرح نہیں ہوا، آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مل کر خیبرپختونخوا کے ٹکٹوں معاملے سے آگاہ کروں گا۔

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کے کاغذات نامزدگی منظور

    شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا عاطف خان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، وہ آڈیو گروپ میں شئیر نہیں کرنی چاہئے تھی، میں کسی سے معافی نہیں مانگتا، لیکن عاطف خان کو کال کرکے ان سے معذرت کی، مجھے صوبائی تنظیم سے نہیں مرکزی تنظیم سے مسئلہ ہے، مرکزی تنظیم شاید میری زبان اور پذیرائی کی وجہ سے مجھے پسند نہیں کرتی پشاور میں ارباب شیر علی کو میں پسند نہیں، وہ مسلسل میری مخالفت کررہا ہے میں پارٹی میں ہاں میں ہاں ملانے والا بندہ نہیں، کام کرنے والا بندہ ہوں پارٹی انتخابی نشان کا مسئلہ فوری نوعیت کا کیس ہے، عدالت نے اگر آج انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ نہ دیا تو کل سپریم کورٹ میں کیس ہے۔

    بلوچستان :حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کیمرے لگانے ،پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی خدمات حاصل …

  • بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتمانخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا جائے۔اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں، عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

    کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بیرسٹر گوہر نہ پہنچے تو پی ٹی آئی وکلاء نے ساڑھے بارہ بجے تک وقت دینے کی استدعا کی، تاہم، بیرسٹر گوہر ساڑھے بارہ بجے بھی پیش نہ ہوسکے، عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تو ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ بس 5 سے 10 منٹ میں پہنچ جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوتے تھے تو ہم صبح پہنچتے تھے، یہ کونسا طریقہ ہےبینچ کوانتظار کروایا جارہا ہے،قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے سماعت میں تو دلچسپی نہیں لے رہے، آپ یہاں سے آج سماعت چاہتے ہیں؟، جس پر وکیل قاضی انور نے کہا کہ نہیں ہم یہاں سماعت چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے وہ آجائیں تو کیس سنتے ہیں۔

    عدالت میں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر ظفر کا انتظار جاری تھا کہ اس دوران جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابات پر سب سے پہلا اعتراض اکبر ایس بابر کا ہے، وہ کہاں ہیں؟

    الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والے جہانگیر رضا نے عدالت میں بیان دیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے کورٹ میں نہیں آرہا جس پر جسٹس انور اعجاز نے کہا کہ یہ کورٹ ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی سروکار نہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن امیدوار کو انتخابی نشانات الاٹ کرے گا، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو وہ آزاد تصور ہوں گے، ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں کیس کی ضرورت نہیں؟، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل پھر ضرورت نہیں۔

    جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکلا کو کہا کہ آپ ان کو سمجھا دیں کہ وقت پر آیا کریں، مزید انتظار نہیں ہوگا،ایک بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت ہوگی، مزید وقت نہیں دیا جائے گا اتنے میں پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان ہائیکورٹ پہنچ گئے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرلی۔

    اس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے اور آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، جب الیکشن کرائے تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراض آگئے ہیں،الیکشن کمیشن کو اعتراضات دینے والے غیر متعلقہ لوگ ہیں، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے کہا سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی درست نہیں اور عمر ایوب کی تعیناتی پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔

    بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی جنہوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں ان میں کوئی بھی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں نے نام شامل نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹرز کی جان بلے میں ہے ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں آتا، پی ٹی آئی مخصوص 227 نشستوں میں اپنے حصے سے محروم ہوجائے گی اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم رہ جائیں گے، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں کے نام شامل نہیں-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراضات کرنیوالوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی آئین کے مطابق نہیں،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ سے بلے کے نشان کی واپسی کا کیس جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ 13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں تو ایسے میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ علی ظفر صاحب اگر کیس کو پرسوں تک ملتوی کردیا تو آپ کو کیا نقصان ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 12 جنوری تک امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے، 13 کو نشانات الاٹ ہو رہے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے ہم کیس کو سُنتے ہیں، دلائل جاری رکھیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، بیرسٹر گوہر انتخابات کے نتیجے میں پارٹی چئیرمین منتخب ہوئے، بیرسٹر گوہر نے ریکارڈ پر دستخط کرکے الیکشن کمیشن کو دئیے،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات نہ بھی کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن صرف ”ریکارڈ کیپر“ ہےلیکشن کمیشن کو 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازمی ہے-

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخابات کا انعقاد نہ کرے تو جرمانہ ہوگا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر کس قسم کا جرمانہ عائد کیا، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ بیٹ کیوں مانگ رہے ہیں، آپ کیا دلائل دیں گے، آپ کو ’’بلا‘‘ ہی کیوں چاہیئے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہی نشان مانگے جس پر پہلے کبھی الیکشن لڑا ہو، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق اگر کسی پارٹی سے انتخابی نشان لے لیا گیا تو پارٹی غیر فعال ہو جائے گئی، پارٹی نشان سیاسی کارکنوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان واپس لیا جانا پارٹی کو تحلیل کرنے مترادف ہے، آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی و غیرآئینی ہے کسی قانون میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، یہ اختیار شاید ہائیکورٹ کے پاس ہے، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں، ایسے تنازعے کے حل کے لیے ٹرائل ضروری ہے، ایسے تنازعات میں سول کورٹ ہی ٹرائل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن نے سمری میں فیصلہ کیا ہے۔

    جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ایسے میں تو پھر کیس الیکشن کمیشن کو ریمانڈ ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل ریمانڈ ہوگا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہو, الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف یہ اعتراض کیا کہ تعیناتی صحیح نہیں ہوئی انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے مسلسل 2 گھنٹے دلائل دیے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چائے پی لیں، آپ نے سفر بھی کیا ہے، 3 بج کر 30 منٹ پر جمع ہوں گے،عدالت نے سماعت میں ساڑھے تین بجے تک وقفہ کردیا۔

  • عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم  کر دی گئیں

    عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کر دی گئیں

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں-

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز کی سماعت کی عدالت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، اسپیشل پراسیکیوٹرز عرفان بھولا، سہیل عارف، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین، بیرسٹر عمیر نیازی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے بشریٰ بی بی کی ایک روزہ حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی۔

    نگران حکومت کا عوام کو جدید ترین ماڈلز کے فونز قسطوں پر دینے کا اعلان

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں، شعیب شاہین ایڈووکیٹ کی جانب جانب سے ہامی بھرنے پر بانی پی ٹی آئی نے دستخط کیے، جبکہ بشریٰ بی بی کی عدم دستیابی کے باعث توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی عدالت نے آئندہ سماعت پر بشری بی بی کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی اور سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

    نگران وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی روبکار جاری کردیا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے روبکار جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور ہوچکی ہے، عمران خان کسی دوسرے مقدمے میں نامزد نہیں تو رہا کیا جائے، روبکار میں عمران خان کے دس دس لاکھ کے ضمانتی مچلکے اور دو شخصی ضمانتیں عدا لت میں جمع کرانے کا کہا گیا جس کے جواب میں عمران خان کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ نے ضمانتی مچلکے عدالتی میں جمع کروا دئیے ہیں –

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور ہوگئی ہے تاہم توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتاری کے باعث بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی بے گناہ ہیں تو ان کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے،بلاول …

  • مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد: عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے جس میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی رپورٹ جمع کرواٸی ہے، اس رپورٹ میں کوئی خامیاں ہیں تو عدالت کو بتائیں۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ پڑھی ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہےرپورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کے تحفظات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کھوسہ صاحب آپ یہاں کھڑے ہو کر الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو مسترد نہیں کرسکتے، لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس کو کہا کہ میں آپ کی توجہ آپ کے ہی آرڈر کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنے آرڈر کا پتا ہے آپ کیوں توجہ دلا رہے ہیں؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل پی ٹی آئی کو کہا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے 1195 لوگوں نے کاغذات جمع کروائے، ہمارے سامنے چیف سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس ہیں۔

    چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ آپ ان رپورٹس کو جھٹلا رہے ہیں تو جواب میں تحریری طور پر کچھ لانا ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی فرنٹ لائن امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور نہیں ہوئے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ اپنے جواب میں خود کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونلز نے آپ کو ریلیف دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کیا یہ چاہتی ہے کہ 100 فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہوجائیں؟ جو چاہتے ہیں وہ بتا دیں یہ قانون کی عدالت ہے زبانی تقریر سے نہیں چل سکتی۔

    چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ مجھے لگ رہا ہے آپ انتخابات کا التوا چاہتے ہیں، ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات ہوں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تا کہ کر دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نا روئیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب،اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں-

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کی شرح 76.18 فیصد ہے، آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ٹربیونل نے آپ کے امیدواروں کی اپیلیں بھی منظور کی ہیں، رپورٹ کے مطابق تو زیادہ تر کاغذات نامزدگی منظور ہی ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے اس پر لطیف کھوسہ کو کہا کہ پھر آپ چاہتے کیا ہیں؟ پھر کہہ دیں کہ آپ کے سو فیصد کاغذات نامزدگی منظور ہونے چاہیے، یہ کورٹ آف لا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کا خط دیکھیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے لطیف کھوسہ کو کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا الیکشن سیل ہے تو آپ کے پاس امیدواروں کے اعداد وشمارکیوں نہیں؟
    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا حکم چاہتے ہیں؟ عدالت کو بتائیں تاکہ کردیں، جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے دکھڑے نہ سنائیں، اگر آپ کو پاکستان کے کسی ادارے پر اعتبار نہیں تو کیا کریں؟ یہ کوئی سیاسی فورم نہیں ہے کھوسہ صاحب، اور بہت سے سیاسی فورم ہیں انہیں استعمال کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ اور طرف چلے گئے ہیں، آپ نے جس آرڈر کے خلاف درخواست دائر کی ہے اس پر رپورٹ آگئی ہے، ہم خود آج سارا کچھ لائیو دکھا رہے ہیں، رپورٹ اتنی موٹی آگئی ہے اس میں دکھائیں کیا غلط ہے، چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے مکالمے میں کہا کہ لفاظی نہ کریں حقائق بتائیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یا تو آپ کہہ دیں کہ ہم الیکشن کمیشن کے سارے اختیارات اپنے پاس رکھ لیں ؟ یا پھر آئینی ادارے کو ختم کر دیں؟عدالت آپکے صرف اصل تحفظات سنے گی، آپ نے کیا منشی منشی لگا رکھی ہے؟ چسپریم کورٹ میں منشی کا کوئی رول نہیں، سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے، یہ منشی لوگ جو چیمبر میں گھس رہے ہیں بالکل غلط کام ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں ابھی تک جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے-

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آر اوز کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی کے کاغذات مسترد نہ کریں، کوئی جینوئن چیزبتا دیں جسے ہم دیکھ لیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ دفعہ 144 لگا کر ہمارے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت نہیں سپریم کورٹ ہیں، دفعہ 144 اور ایم پی او سب کیلئے ہوگا صرف پی ٹی آئی کیلئے نہیں، ہمارے سامنے نہ دفعہ 144 نہ ہی ایم پی او کو چیلنج کیا گیا ہے،مجھے لگ رہا ہے آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں‘، اور ان سے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی کو الیکشن چاہئیں؟

    جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا، ’100 فیصد الیکشن چاہیں‘، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہاں یا نہ میں بتائیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کروانا ہے، یہ آپ کے بنائے ہوئے ادارے ہی ہیں، پارلیمان نے ہی بنائیں ہیں یہ ادارے، ان اداروں کی قدر کریں، اگر ان کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق غلط ہیں توتردید کریں۔

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور جماعت کے رہنما پر ایم پی او نہیں لگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت سب جماعتیں آپ کے خلاف سازش کر رہی ہیں؟

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پوری حکومت ہمارے خلاف تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو پی ڈی ایم کی حکومت ہی نہیں ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری بلے کے نشان کی واپسی کیلئے درخواست مقرر ہی نہیں ہوئی۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کا ایم پی او سے کیا تعلق ہے؟ الیکشن کمیشن مقدمات بھگتے یا انتخابات کرائے؟، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر جو کہ ڈی سی ہیں وہی ایم پی او جاری کر رہے ہیں، روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہورہے ہیں، کیا ہم انتخابات نہ لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نہ کریں، اس کے بعد چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی بلے کے نشان والی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت سے سوال کیا کہ روزانہ ہمارے خلاف آرڈرز ہو رہے ہیں کیا ہم انتخابات نا لڑیں صرف مقدمے بھگتیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت سے سوالات نا کریں-

    سپریم کورٹ نے بلے کے نشان کیس میں حامد خان کو بلا لیا،دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ استدعا ہے کہ آج ہی کیس سماعت کے لیے مقرر کر کے سنا جائے،کل پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہے بلے کے نشان سے متعلق، آج کسی بھی وقت کیس کو سماعت کر کے سن لیں-

    چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ حامد خان کہاں ہیں؟ بلائیں ان کو، اگر آپ اٹھ کر کمرہ عدالت آنے کی زحمت نہیں کریں گے تو ہم کیا کریں؟ سب سے زیادہ درخواستیں پی ٹی آئی کی آ رہی ہیں اور سنی بھی جا رہی ہیں، کیس بھی لگوانا ہے اور اٹھ کر عدالت بھی نہیں آنا-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے منشی سے سپریم کورٹ میں دستاویزات چھینی گئیں،اس واقعہ کا آپکو بھی علم ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کا کوئی علم نہیں ہے،یہ منشی کیا ہوتا ہے وکیل یا ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہوتا ہے،منشی کو تو چیمبرز جانے کی اجازت ہی نہیں ہے،آپ کے کسی منشی کی درخواست میں نہیں سنوں گا-

    جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ جسٹس سردار طارق مسعود کے سامنے بھی منشی والا معاملہ اٹھایا تھا،لطیف کھوسہ یہ کاغذ چھیننے کا کیا معاملہ ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ججز یہاں موجود نہیں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں سنیں گے،انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمارا نہیں ، کسی سے کاغذات چھینے جارہے جو بھی ہورہا وہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا ہے ہم نے واضح کیا تھا کہ انتحابات کی تاریخ صدر اور الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملات عدالت کیوں سنے،ہمارے سامنے کچھ دائر ہوگا تو ہم اسے دیکھیں گے،اگر ساری دنیا دیکھ رہی اور ہمیں بھی دیکھنا چاہئیے تو یہ بات غلط ہے،کوئی درخواست آئے گی شکایت آئے گی تو ہم سنیں گے-

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کا پلان ہے عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی باتیں نہ کریں ہمارے سامنے اس وقت عمران خان کی کوئی درخواست نہیں-

    پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پیر تک ملتوی کر تے ہوئے پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا-

  • رہنماؤں کے بیان پارٹی کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا،پی ٹی آئی کا شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    رہنماؤں کے بیان پارٹی کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا،پی ٹی آئی کا شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی رہنما شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پی ٹی آئی کے آفیشل پیج پر جاری ہونے والی پریس ریلیز ہی صرف پارٹی بیانیے کو ظاہر کرتی ہے، کسی فرد واحد کی جانب سے دیا گیا بیان پارٹی کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتایہ پریس ریلیز تمام پارٹی ممبران کے لیے ہے کسی فرد واحد کے لیےنہیں جبکہ پریس ریلیز بانی چئیرمین تحریک انصاف کے دفتر کی ہدایت اور چئیر مین و سیکرٹری جنرل آفس کی منظوری سے جاری کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں شیرافضل مروت نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاتھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو چیف جسٹس فائز عیسیٰ پراعتماد نہیں، میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پریس کانفرنس کررہا ہوں، میری باتیں ہی بانی پی ٹی آئی کی پالیسی ہیں۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی فائدہ مند تعلقات …

    جبکہ سابق چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی یہ بات نہیں کی کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتماد نہیں اور نہ ہی انہیں یہ بات کہنی چاہیے۔

    مذکورہ پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس کے معاملے پر بیرسٹرگوہر اور شیر افضل مروت آمنے سامنے آگئے،بیرسٹرگوہر نے پریس کانفرنس ختم کی تو شیر افضل مروت آگئے اورکہا کہ وہ اپنی پریس کانفرنس کریں گے،بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت کو پریس کانفرنس سے روک دیا،تاہم شیر افضل مروت نے انکار کرتے ہوئے کہا میں اپنی پریس کانفرنس کروں گا، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہرکو بلانے چیئرمین آفس گئے لیکن بیرسٹرگوہر نے شیر افضل مروت کے ساتھ جانے سے انکار کر دیاشیر افضل مروت نے بیرسٹر عمیر نیازی کو اپنے ساتھ پریس کانفرنس کے لیے بلایا ، عمیر نیازی پریس کانفرنس میں کچھ دیر بیٹھ کر اٹھ گئے۔

    لیگی رہنما پی پی میں شامل

    ن لیگ کے لاہور کی 12 نشستوں پر امیدواروں کے نام فائنل،سردار ایاز صادق شامل …

  • زرتاج گل پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج

    زرتاج گل پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج

    ڈی جی خان: پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اورسابق وزیر مملکت زرتاج گل کے خلاف فراڈ اور دھوکا دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی:مقدمہ ڈی جی خان کےتھانہ بی ایم پی سخی سرور میں ایک شہری ظفر حسین کی درخواست پردرج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ زرتاج گل نے سول ہسپتال سخی سرور میں نوکری دلوانے کے عوض پانچ لاکھ روپے لیے،ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تو نوکری دلائی اور نہ ہی رقم واپس کی،پولیس کا کہنا ہےکہ مقدمہ دفعہ 420 کے تحت درج کیا گیا، مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    یادرہے کہ گزشتہ روز ہی سابق وفاقی وزیر زرتاج گل نےپشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت حاصل کی تھی ، زرتاج گل صبح سے پشاور ہائیکورٹ میں موجود تھیں، جنہوں نے راہداری ضمانت کیلئے درخواست دائر کر رکھی تھی، ان کے وکلاء نے فوری سماعت کی کوششیں بھی کی تھیں۔

    خواتین کو نازیبا اشارے کرنے کے دوواقعات،ملزمان کو جرمانہ اورقید

    لیگی رہنما کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ن لیگ کے لاہور کی 12 نشستوں پر امیدواروں کے نام فائنل،سردار ایاز صادق شامل …

  • پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کی جے یوآئی میں شمولیت

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کی جے یوآئی میں شمولیت

    ڈی آئی خان: پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی آغاز گنڈاپور نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ) میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل میں اس حوالے سے پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق ایم پی اے آغاز خان گنڈا پور جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے، آغاز علی گنڈا پور کی پارٹی میں شمولیت علاقے کی پسماندگی دور کرنے میں مددگار ثابت ہو گی، ہم انہیں تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

    اس موقع پر سابق ایم پی اے آغاز گنڈا پورکا کہنا تھا کہ ہمارا مولانا فضل الرحمان کے خاندان سے دادا سردار عنایت اللہ گنڈاپور کے دور سے تعلق ہے ، ہر مشکل گھڑی میں مولانا نے میرے والد سردار اکرام خان گنڈہ پور کا ساتھ دیا ، سیٹ جیت کر جمعیت علمائے اسلام کو تحفے میں دوں گا، ہم پورا خیبر پختونخوا کلین سویپ کریں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کا الیکشن میں تاخیر کا مطالبہ

    واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عبدالغفور میونے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے،چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری 3جنوری کو جاتی امرامیں سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور میو کے فارم ہاؤس پر دن ایک بجے جلسہ عام سے خطاب کریں گےجس میں چوہدری عبد الغفور میو جلسہ عام میں پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے ۔

    پی پی پی نے مسلم لیگ ن کی لاہور سے بڑی وکٹ گرا دی

  • سینئر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کا بیٹا گرفتار

    سینئر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کا بیٹا گرفتار

    لاہور: سینئر پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ کے بیٹے خرم لطیف کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے مطابق ‏خرم لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کو پولیس نے گرفتار کرلیا،خرم لطیف کھوسہ کو مزنگ پولیس نے گرفتار کیا، ہائیکورٹ کے قریب آفس سے خرم لطیف کھوسہ کو گرفتار کیا میں تھانہ مزنگ جارہا ہوں ،مجھے پی ٹی آئی کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے واضح رہے کہ خرم لطیف کھوسہ نے کچھ دن پہلے پولیس اہلکاروں سے دھمکی آمیز گفتگو کی تھی۔

    پولیس انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382، 508/بی، 148، 149، 353 اور 186 کے تحت درج کی گئی۔پولیس کی جانب سے مزنگ تھانے میں درج ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا کہ خرم لطیف کھوسہ اور 15 سے 20 نامعلوم وکلا نے 29دسمبر 2023 کو پولیس افسران انسپکٹر سرور اور سب انسپکٹر علی رضا کو شدید زدوکوب کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے حملہ کیا۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ایڈووکیٹ خرم لطیف کھوسہ نے انسپکٹر سرور کا گریبان پکڑا اور وردی پھاڑ کر زدوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ دھکے دیے جبکہ اس دوران دیگر وکلا نے سب انسپکٹر علی رضا اور دیگر پولیس ملازمین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردیں خرم لطیف کھوسہ نے پولیس ملازمین سے کہا کہ آج تم جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے جس پر موقع پر چند راہگیروں نے پولیس افسران کو چھڑانے کی کوشش کی تو خرم لطیف اور دیگر وکلا مشتعل ہو گئے اور اسلحہ نکال کر پولیس ملازمین پر تان لیا اور کہا کہ اگر کوئی قریب آیا تو جان سے مار دیں گے۔

  • پی ٹی آئی امیدواروں کیخلاف  ریاستی مشینری کا استعمال انتخابی عمل کی سنگین خلاف ورزی ہے،بیرسٹرگوہر

    پی ٹی آئی امیدواروں کیخلاف ریاستی مشینری کا استعمال انتخابی عمل کی سنگین خلاف ورزی ہے،بیرسٹرگوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر خان نے کہا ہے کہ ریاستی مشینری پی ٹی آئی امیدواروں کو ریٹرننگ افسران کےدفاتر سےدور رکھنے میں مصروف ہے-

    باغی ٹی وی : بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ‏آج عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہو رہی ہے ریاستی مشینری پوری شدت سے تحریک انصاف کے امیدواروں کےخلاف متحرک ہے اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ڈرانے اور ریٹرننگ افسران کےدفاتر سےدور رکھنے میں مصروف ہے ریاستی مشینری کا یہ استعمال اختیارا ت سے تجاوز کی بدترین قسم ہے ریاستی مشینری کا استعمال انتخابی عمل کی سنگین خلاف ورزی ہے، ایسا عمل الیکشن کمیشن کی واضح ناکامی کا ثبوت ہے۔

    برطانیہ کی متعدد اسلامی ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا داخلے کی اجازت

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل اور عام انتخابات 2024 کے امیدوار ، نعیم حیدر پنجوتھانے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے عمل کو چلینج کریں گے نعیم حیدر پنجوتھا نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں سے ریٹرننگ افسران نے جان بوجھ کو وہ کاغذات اور این او سی منگوائے جن کی ضرورت نہیں تھی اسکروٹنی کے بعد کاغذات نامزدگیوں کو جن بنیادوں پر مسترد کیا گیا ہے وہ مضحکہ خیز ہیں، ہم اس عمل کو چلینج کریں گے اور الیکشن ٹریبونل میں جائیں گے۔

    بلوچستان: پولیس تھانےکے قریب دھماکا، 2 بچے جاں بحق

    انہوں نے کہا کہ ہر حلقے میں کورنگ امیدوار موجود ہیں مگر یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات میں ہمارے یا پھر ان سے زیادہ مضبوط امیدوار نہ ہوں میں انہیں کہتا ہوں کہ کاغذات نامزدگی چھین یا مسترد کرنے سے بہتر ہے کہ عوام کے ووٹ لے کر اقتدار میں آئیں،ہماری شکایات پر آر اوز نے کہا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، اسی لیے ہم کہہ رہے تھے کہ آر اوز جوڈیشری سے ہونے چاہئیں-

    برطانیہ کی متعدد اسلامی ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا داخلے کی اجازت

  • تحریک انصاف کےرہنماؤں نے  الیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دیدی

    تحریک انصاف کےرہنماؤں نے الیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دیدی

    لاہور: تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا معاملہ ،تحریک انصاف کے 54 رہنماؤں اور امیدواروں نے الیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دے دی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کےمطابق تحریک انصاف کے 54 رہنماؤں اور امیدواروں نےالیکشن کمیشن میں مشترکہ درخواست دے دی تحریک انصاف نے وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں،17 ڈی آر اوز، نادرا ، پیمرا پی ٹی اے کو فریق بنایا-

    تحریک انصاف کے پی ٹی آئی رہنماوں،ورکرز امیدواروں کے خلاف جاری کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کیاہے،درخواست میں کہا گیا کہ ملک بھر میں تحریک انصاف کے ساتھ انتقامی کاروائیاں کی جارہی ہیں،تحریک انصاف کو نگران حکومتیں آئینی حق سے محروم کررہی ہیں،پی ٹی آئی امیدواروں،تائید و تجویز کنندگان کو آر اوز کےدفاتر سے گرفتار کیا جارہا ہے-

    نوجوان ملک کی تقدیر، ہم نےگالم گلوچ اور پتھر مارنا نہیں سکھایا، شہباز …

    تحریک انصاف نے درخواست میں 49 حلقوں میں پیش آنے والے واقعات کی بھی تفصیلات جمع کرا دیں،درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی انٹرنیٹ بند کرکے بنیادی حق سے محروم کررہا ہے، نادرا نے پی ٹی آئی وررکرز اور رہنماوں کے شناختی کارڈز بلاک کئے، لاہور، راولپنڈی، میانوالی، ملتان،فیصل آباد سمیت 17 اضلاع میں ڈی آر اوز نے کوئی کاروائی نہیں کی-

    بھارت کی متحدہ عرب امارات کو پہلی بار روپے میں خام تیل کی ادائیگی