Baaghi TV

Tag: پی ٹی آئی

  • پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی نشان بلے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی تمام نشستوں پر آزاد انتخاب لڑے گی، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بلا چھین لیا ، پی ٹی آئی کے امیدوار اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے،ہم سے نشان لے لیا گیا ہے اس کا مطلب نہیں کہ پارٹی ختم ہوگئی ،آپ ووٹ دیں گے 8 فروری کو دوبارہ حکومت بنائیں گے،پارٹی کو نہیں چھیڑا گیا ، نشان واپس لیا گیا ہے-

    تحریک انصاف کا پلان بی، "بلے باز” کے نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو میں کہا کہ آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ،سپریم کورٹ کے متازع فیصلوں میں آج نئے باب کا اضافہ ہوا،تاریخ اس فیصلے کا فیصلہ کرے گی 14 لوگوں کی بات کی گئی وہ پی ٹی آئی کے ممبران نہیں تھے، انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے لیکن آج ایسا نہیں ہوا،بلا رہے نہ رہے، عوام بانی پی ٹی آئی کی آواز پر ووٹ دیں گے ،12 کروڑ ووٹرز میں سے 10 کروڑ ووٹرز پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں-

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

  • پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل

    پی ٹی آئی رہنما آئی پی پی میں شامل

    لودھراں : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما مہر اشرف سیال نے استحکام پاکستان (آئی پی پی )میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : لودھراں کے سابق رکن اسمبلی مہر اشرف سیال کو پی پی 227 سے آئی پی پی کا ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے ، جبکہ پارٹی پیٹرن انچیف جہانگیر ترین نے پی پی 227 لودھراں سے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لئے ہیں۔

    قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور پی پی 149 یوسی 167 سے صدر مسلم لیگ ن ساتھیوں سمیت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شامل ہو ئےمختلف وفود کی آئی پی پی پارٹی سیکریٹریٹ لاہور ڈویژن میں مرکزی رہنما محمد شعیب صدیقی سے ملاقات کی-

    دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ریاض نے کہا ہے کہ میری طبیعت خراب ہو گئی جس کے سبب این اے 104 کے الیکشن سے دست بردار ہو رہا ہوں،راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ میری جگہ اب میرا بیٹا راجہ دانیال شیر کے نشان پر الیکشن لڑے گا، اس فیصلے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے، اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے میں مشغول ہوں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ مجھے موقع فراہم کیا، حلقے کی عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گا۔

  • عمران خان توشہ خانہ کیس،مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    عمران خان توشہ خانہ کیس،مزید 4 گواہان کے بیان قلمبند

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی اوپن کورٹ سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی اوپن سماعت کی، عدالت میں نیب پراسیکیوٹرز، وکلا صفائی، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی اور 11 صحافیوں اور پی ٹی آ ئی کے 25 کارکنوں کو اجازت دی گئی، عدالت نے مزید چار گواہان کے بیانات قلم بند کیے اور مزید سماعت پیر 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    سماعت سے قبل عمران خان جب کمرہ عدالت میں پہنچے تو کارکنوں نے ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق شکایات شروع کر دیں ،کارکنان کی شکایت پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے ٹکٹوں کے بارے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں، 850 ٹکٹوں کے بارے میں زبانی کلامی کیسے فیصلہ کرسکتا ہوں۔

    مرحوم جنید جمشید کے بیٹے رشتہ ازدواج میں منسلک

    عدالت کی ہدایت پر سردار شہباز کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی سے پوچھا کیا میڈیا کے کسی اور رکن کو اندر بلایا ہے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے کھڑے ہوکر جج سے مکالمہ کیا کہ کیا ہماری چیزیں میڈیا میں رپورٹ میں ہوتی ہیں کمرہ عدالت میں صحافیوں سے بھی پوچھا کہ کیا میری کوئی چیز رپورٹ ہورہی ہے تو صحافیوں نے جواب دیا کہ آپ کی ہر چیز رپورٹ ہورہی ہے، جس پر عمران خان نے حیرانی سے صحافیوں سے پوچھا کیا کیا کہہ رہے ہیں، صحافیوں نے وضاحت کی کہ ایسا ہی ہے، آپ کی ساری گفتگو میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہے۔

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    اڈیالہ جیل میں عدالت نے دو صحافیوں کو روسٹرم پر بلا کر کہا کہ جو صحافی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کور کرتے ہیں ان کی فہرست بنا لیں، صحافیوں نے کہا جیل انتظامیہ جتنے صحافیوں کی فہرست مانگے گی ہم دینے کو تیار ہیں، جس پر عدالت نے کہا آپ فہرست فراہم کریں بعد میں ردوبدل کرتے رہیں گے۔

    سونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

  • الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے،حامد خان

    اسلام آباد: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کا معاملہ،سپریم کورٹ میں پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : وکیل علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وکیل حامد خان نے دلائل شروع کئے،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ لاہور میں کیس زیر سماعت تھا تو پشاور ہائیکورٹ کیوں گئے،حامد خان نے کہا کہ دونوں کیسز الگ ہیں، الیکشن کمیشن ادارہ ہے متاثرہ فریق کیسے ہوسکتا ہے،الیکشن کمیشن کی اپیل ناقابل سماعت ہے-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 185 میں اپیل دائر کرنے کیلئے متاثرہ فریق کا ذکر موجود ہے؟ حامد خان نے کہا کہ اپیل کیلئے متاثرہ فریق کا لفظ موجود نہیں ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تحلیل کردے تو کیا ادارہ اپیل نہیں کر سکے گا؟،کمیشن کے کسی رکن کو ہٹایا جائے تو کیا کمیشن اپیل نہیں کر سکتا؟معاملہ اگر کسی رکن کی تعیناتی غیرقانونی ہونے کا ہو تو الگ بات ہے-

    حامد خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی کے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت درخواست گزار نہیں ہوسکتی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے لئے پتہ نہیں اچھی خبر ہے یا بری کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کا وقت سات بجے تک بڑھا دیا ہےآپ اپنے دلائل مکمل کریں فیصلہ بھی کرنا ہے،ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ میں درخواست دائر نہیں کر سکتی،الیکشن کمیشن کیخلاف کیسز ہوسکتے ہیں تو وہ اپنا دفاع کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر ہائی کورٹ خود اپیل کرے تو بات مختلف ہوگی، الیکشن کمشین نے انتخابی نشان جمع کرانے کیلئے سات بجے تک کا وقت دیا ہے،یہ پتا نہیں آپ کیلئے اچھی خبر ہے یا بری-

    حامد خان نے کہا کہ اس حوالے سے استدعا دلائل کے آخر میں کروں گا، چیف جسٹس نے حامد خان کو ہدایت کی کہ آپ اپنے دلائل جلدی مکمل کریں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امتیازی سلوک روا رکھا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے امتیازی سلوک کا معاملہ پٹیشن میں نہیں اٹھایا، 2021 میں آپ حکومت میں تھے الیکشن کمیشن تب سے الیکشن کا کہہ رہا ہے انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں،پھر آپ کس طرح سے کہہ سکتے ہیں امتیازی سلوک ہو رہا ہے،آپ کی پارٹی کے اپنے لوگ انتخابات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جسٹس وجیہہ الدین والا انتخاب کس سال میں ہوا تھا،اس انتخاب میں کتنے ایشوز ہوئے تھے یاد ہے،الیکشن کمیشن کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں-

    حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے بااختیار ہونے میں کوئی دو رائے نہیں،اختیارات مختلف حالات کے مطابق دیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کےساتھ دوہرا معیار اپنایا،الیکشن کمیشن نے کسی دوسری جماعت کے انتخابات کی اس طرح سکروٹنی نہیں کی، چیف جسٹس نے کہا کہ جن کی سکروٹنی نہیں ہوئی انہیں فریق بناتے اور الگ الگ کیس کرتے، ایک سیاسی جماعت کا وجود ہی الیکشن کمیشن نے ختم کر دیا ہے؟ حامد خان نے کہا کہ درخواست گزاروں نےخود دستاویزات لگائی ہیں دو جماعتوں کی جہاں بلامقابلہ انتخاب ہوا-

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان جماعتوں کیخلاف کوئی شکایت آئی یا کمیشن سوموٹو لیتا؟ حامد خان نے کہا کہ شکایت کنندہ تو ہمارے ملک میں مل ہی جاتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس وجیہ الدین نے بھی انتخابات کرائے تھے بہت شور پڑ گیا تھا، حامد خان نے کہا کہ سال 2011/12 کا پارٹی الیکشن میں نے کرایا تھا وجیہ الدین ٹربیونل تھے،انٹراپارٹی انتخابات اندرونی معاملہ ہے الیکشن کمیشن جائزہ نہیں لے سکتا،پشاور ہائیکورٹ میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن انٹراپارٹی انتخابات میں مداخلت نہیں کر سکتا-

    چیف جسٹس نے حامد خان کو دلائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی حامد خان نے کہا کہ الیکشن لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے چیف جسٹس نے کہا کہ چودہ درخواست گزار بھی یہی حق مانگ رہے ہیں،حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیسے پارٹی کے اندرونی معاملے میں مداخلت کر سکتا ہے،الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو ٹارگٹ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کیوں انتخابات سے باہر رکھنا چاہتا ہے، الیکشن کمیشن کروڑوں ووٹرز کو حق سے کیسے محروم کر سکتا ہے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ڈرامائی الفاظ ہیں، اگر یہ چودہ لوگ الیکشن لڑتے تو ووٹرز کے حقوق کیسے متاثر ہوتے؟جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر ہی نہیں ہیں تو الیکشن کیسے لڑتے،آپ نے خود مانا تھا کہ اکبر بابر بانی رکن ہیں، بانی رکن اپنی پارٹی کےخلاف کیسے عدالتوں میں جا چکا ہے،اکبر بابر کو شوکاز جاری کیا گیا تھا-

    چیف جسٹس نے کہا کہ شوکاز نوٹس دکھا دیں،حامد خان نے کہا کہ اکبر بابر کا پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج نہیں ہے، تین دن پہلے ایک بانی ممبر ایم کیو ایم میں شامل ہوا ہے، کیا بانی ممبر ہمیشہ ہی رکن رہ سکتا ہے؟ ،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں کیس انتخابی نشان کا ہے اندرونی طریقہ کار کا نہیں، حامد خان نے کہا کہ پارٹی اگر کسی کو ممبر نہ مانے تو اس کا کام ہے خود کو عدالت میں رکن ثابت کرے،چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان صاحب وقت زیادہ لگے گا تو نتائج کیلئے بھی تیار رہیں،حامد خان نے کہا کہ مقبول سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر کرنے سے ووٹرز کے حقوق متاثر ہونگے، آئین قانونی اور سیاسی دستاویز ہے،پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے دلائل مکمل کر لئے-

    پی ٹی آئی کیخلاف ایک اور درخواست گزار نورین فاروق عدالت میں پیش ہوئیں،دوران سماعت نو ین فاروق نے کہا کہ 1999 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنی اور خواتین ونگ کی مقامی صدر تھی نعیم الحق کی سیکرٹری کےطور پر بھی فرائض انجام دیتی رہی ہوں کسی اور جماعت کا حصہ نہیں بنی،الیکشن لڑنا چاہتی تھی لیکن موقع نہیں ملا، چاہتی تھی ہائی لائٹ ہو جاؤں عمران خان مجھے پارٹی کا اثاثہ اور انسائیکلوپیڈیا کہتے تھے-

  • پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جبکہ 83 حلقوں میں ٹکٹ کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے 32 اور پنجاب اسمبلی کے 83 حلقوں پر امیدواروں کا اعلان زیرِ التوا رکھا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے والے نمایاں امیدواروں میں شاہ محمود قریشی، زین قریشی ، عمر ایوب خان ، مراد سعید ، اسد قیصر ، راجا بشارت ، عالیہ حمزہ ، میاں اظہر ، یاسمین راشد ، شہریار آفریدی ، لطیف کھوسہ،عامر ڈوگر ، جمشید دستی ،زرتاج گل وزیر اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ہونیوالی فہرست کے مطابق پی پی 145 سے یاسر گیلانی ، پی پی 146سے جنید رزاق ایڈوکیٹ کوٹکٹ جاری کیا گیا،پی پی 147 سے محمد خان مدنی ، پی پی 148سے غلام محی ا لدین دیوان کو ٹکٹ ملا،پی پی 149 اور پی پی 150 پر امیدوار کااعلان نہیں ہوا، پی پی 151سے قیصر سہیل بٹ کوامیدوار نامزد کیا گیا۔

    ن لیگ کا طلال چوہدری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    پی پی 152 لاہور سے نعمان مجیدکو ٹکٹ جاری ہوا،پی پی 153 اور 154 پر امیدوارکااعلان نہیں کیا گیاپی پی 155 سےبلال اسلم بھٹی ، 156 سےعلی امتیاز وڑائچ ، 157 سےحافظ فرحت عباس امیدوارہوں گے،پی پی 158سے یوسف علی ، 149 سےمہر شرافت علی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کردیا گیا،پی پی 160 ،پی پی 161 اور پی پی 162 سے پارٹی امیدواروں کااعلان نہیں کیا گیا۔

    یکم رجب المرجب بروز ہفتہ کو ہو گی

    پی پی 163 سےعظیم اللہ خان اور 164 سےیوسف میو پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے،پی پی 165سے امیر بھٹی اور 166 سےخالد محمود گجر کو پی ٹی آئی کاٹکٹ ملا،پی پی 167 سے عامر بشیر گجر ، 169 سےمحمود الرشید اور 170 سے ہارون اکبر امیدوار ہوں گے،پی پی 171 سے میاں اسلم اقبال ، 172 سےمہر واجد پی ٹی آئی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

    ن لیگ کی اعلی قیادت نے جلسوں کی تیاری مکمل کرلی

  • عام انتخابات میں شرکت کیلئے پی ٹی‌آئی نےپلان بی جاری کر دیا

    عام انتخابات میں شرکت کیلئے پی ٹی‌آئی نےپلان بی جاری کر دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا عام انتخابات میں شرکت کیلئے پلان ’بی‘ سامنے آ گیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کا انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان بلے سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس کیس کی مزید سماعت کل ہوگی،پی ٹی آئی کا عام انتخابات میں شرکت کیلئے پلان ’بی‘ سامنے آ گیا، ذرائع کے مطابق بلے کا انتخابی نشان نہ ملا تو پی ٹی آئی دوسری جماعت کے نام اور نشان پر الیکشن لڑے گی، پی ٹی آئی نے اپنے امیدواروں کو دو دو ٹکٹ جاری کیے ہیں، ایک ٹکٹ پی ٹی آئی کا اور دوسرا خالی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

  • بلے کے نشان پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع

    بلے کے نشان پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس دینے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج متوقع ہے-

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرکے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد بیرسٹر گوہر خان کی چیئرمین شپ بھی بحال ہو گئی تھی،عدالت نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان بحال نہ کیا تو توہین عدالت ہوگی، ہائی کورٹ کا فیصلہ اگر سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تو وہاں بھی دلائل دیں گے۔

    ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ 22 دسمبر 2023 کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی نشان بلے سے محروم کر دیا تھا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کےفیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی تھی۔

    فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن …

  • سانحہ 9 مئی:عمران خان  جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو سانحہ 9 مئی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز نے کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں عمران خان کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا تاہم جیل حکام نے انہیں پیش کرنے سے معذرت کرلی جس کے ان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی یقینی بنائی گئی-

    دوران سماعت ایس ایچ او تھانہ آر اے بازار نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی سے متعلق جتنے بھی مقدمات میں عمران خان نامزد ہیں ان کی تفتیش اڈیالہ جیل میں ہی کی جائے گی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس:ملک ریاض،شہزاد اکبر سمیت 5 ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر …

    دوسری جانب پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئیر نائب صدر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جس طرح وکلاء کو ٹکٹ ملے ہیں، خبیر پختونخوا میں اس طرح نہیں ہوا، آج بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مل کر خیبرپختونخوا کے ٹکٹوں معاملے سے آگاہ کروں گا۔

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کے کاغذات نامزدگی منظور

    شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا عاطف خان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں، وہ آڈیو گروپ میں شئیر نہیں کرنی چاہئے تھی، میں کسی سے معافی نہیں مانگتا، لیکن عاطف خان کو کال کرکے ان سے معذرت کی، مجھے صوبائی تنظیم سے نہیں مرکزی تنظیم سے مسئلہ ہے، مرکزی تنظیم شاید میری زبان اور پذیرائی کی وجہ سے مجھے پسند نہیں کرتی پشاور میں ارباب شیر علی کو میں پسند نہیں، وہ مسلسل میری مخالفت کررہا ہے میں پارٹی میں ہاں میں ہاں ملانے والا بندہ نہیں، کام کرنے والا بندہ ہوں پارٹی انتخابی نشان کا مسئلہ فوری نوعیت کا کیس ہے، عدالت نے اگر آج انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ نہ دیا تو کل سپریم کورٹ میں کیس ہے۔

    بلوچستان :حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کیمرے لگانے ،پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی خدمات حاصل …

  • بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتمانخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا جائے۔اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں، عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

    کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بیرسٹر گوہر نہ پہنچے تو پی ٹی آئی وکلاء نے ساڑھے بارہ بجے تک وقت دینے کی استدعا کی، تاہم، بیرسٹر گوہر ساڑھے بارہ بجے بھی پیش نہ ہوسکے، عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تو ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ بس 5 سے 10 منٹ میں پہنچ جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوتے تھے تو ہم صبح پہنچتے تھے، یہ کونسا طریقہ ہےبینچ کوانتظار کروایا جارہا ہے،قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے سماعت میں تو دلچسپی نہیں لے رہے، آپ یہاں سے آج سماعت چاہتے ہیں؟، جس پر وکیل قاضی انور نے کہا کہ نہیں ہم یہاں سماعت چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے وہ آجائیں تو کیس سنتے ہیں۔

    عدالت میں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر ظفر کا انتظار جاری تھا کہ اس دوران جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابات پر سب سے پہلا اعتراض اکبر ایس بابر کا ہے، وہ کہاں ہیں؟

    الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والے جہانگیر رضا نے عدالت میں بیان دیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے کورٹ میں نہیں آرہا جس پر جسٹس انور اعجاز نے کہا کہ یہ کورٹ ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی سروکار نہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن امیدوار کو انتخابی نشانات الاٹ کرے گا، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو وہ آزاد تصور ہوں گے، ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں کیس کی ضرورت نہیں؟، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل پھر ضرورت نہیں۔

    جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکلا کو کہا کہ آپ ان کو سمجھا دیں کہ وقت پر آیا کریں، مزید انتظار نہیں ہوگا،ایک بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت ہوگی، مزید وقت نہیں دیا جائے گا اتنے میں پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان ہائیکورٹ پہنچ گئے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرلی۔

    اس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے اور آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، جب الیکشن کرائے تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراض آگئے ہیں،الیکشن کمیشن کو اعتراضات دینے والے غیر متعلقہ لوگ ہیں، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے کہا سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی درست نہیں اور عمر ایوب کی تعیناتی پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔

    بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی جنہوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں ان میں کوئی بھی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں نے نام شامل نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹرز کی جان بلے میں ہے ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں آتا، پی ٹی آئی مخصوص 227 نشستوں میں اپنے حصے سے محروم ہوجائے گی اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم رہ جائیں گے، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں کے نام شامل نہیں-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراضات کرنیوالوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی آئین کے مطابق نہیں،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ سے بلے کے نشان کی واپسی کا کیس جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ 13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں تو ایسے میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ علی ظفر صاحب اگر کیس کو پرسوں تک ملتوی کردیا تو آپ کو کیا نقصان ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 12 جنوری تک امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے، 13 کو نشانات الاٹ ہو رہے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے ہم کیس کو سُنتے ہیں، دلائل جاری رکھیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، بیرسٹر گوہر انتخابات کے نتیجے میں پارٹی چئیرمین منتخب ہوئے، بیرسٹر گوہر نے ریکارڈ پر دستخط کرکے الیکشن کمیشن کو دئیے،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات نہ بھی کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن صرف ”ریکارڈ کیپر“ ہےلیکشن کمیشن کو 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازمی ہے-

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخابات کا انعقاد نہ کرے تو جرمانہ ہوگا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر کس قسم کا جرمانہ عائد کیا، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ بیٹ کیوں مانگ رہے ہیں، آپ کیا دلائل دیں گے، آپ کو ’’بلا‘‘ ہی کیوں چاہیئے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہی نشان مانگے جس پر پہلے کبھی الیکشن لڑا ہو، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق اگر کسی پارٹی سے انتخابی نشان لے لیا گیا تو پارٹی غیر فعال ہو جائے گئی، پارٹی نشان سیاسی کارکنوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان واپس لیا جانا پارٹی کو تحلیل کرنے مترادف ہے، آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی و غیرآئینی ہے کسی قانون میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، یہ اختیار شاید ہائیکورٹ کے پاس ہے، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں، ایسے تنازعے کے حل کے لیے ٹرائل ضروری ہے، ایسے تنازعات میں سول کورٹ ہی ٹرائل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن نے سمری میں فیصلہ کیا ہے۔

    جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ایسے میں تو پھر کیس الیکشن کمیشن کو ریمانڈ ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل ریمانڈ ہوگا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہو, الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف یہ اعتراض کیا کہ تعیناتی صحیح نہیں ہوئی انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے مسلسل 2 گھنٹے دلائل دیے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چائے پی لیں، آپ نے سفر بھی کیا ہے، 3 بج کر 30 منٹ پر جمع ہوں گے،عدالت نے سماعت میں ساڑھے تین بجے تک وقفہ کردیا۔

  • عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم  کر دی گئیں

    عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کر دی گئیں

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں-

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ ریفرنسز کی سماعت کی عدالت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، اسپیشل پراسیکیوٹرز عرفان بھولا، سہیل عارف، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین، بیرسٹر عمیر نیازی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے بشریٰ بی بی کی ایک روزہ حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی۔

    نگران حکومت کا عوام کو جدید ترین ماڈلز کے فونز قسطوں پر دینے کا اعلان

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں، شعیب شاہین ایڈووکیٹ کی جانب جانب سے ہامی بھرنے پر بانی پی ٹی آئی نے دستخط کیے، جبکہ بشریٰ بی بی کی عدم دستیابی کے باعث توشہ خانہ ریفرنس میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی عدالت نے آئندہ سماعت پر بشری بی بی کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی اور سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

    نگران وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا

    دوسری جانب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی روبکار جاری کردیا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے روبکار جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور ہوچکی ہے، عمران خان کسی دوسرے مقدمے میں نامزد نہیں تو رہا کیا جائے، روبکار میں عمران خان کے دس دس لاکھ کے ضمانتی مچلکے اور دو شخصی ضمانتیں عدا لت میں جمع کرانے کا کہا گیا جس کے جواب میں عمران خان کے وکیل خالد یوسف ایڈووکیٹ نے ضمانتی مچلکے عدالتی میں جمع کروا دئیے ہیں –

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظور ہوگئی ہے تاہم توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتاری کے باعث بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں گے۔

    بانی پی ٹی آئی بے گناہ ہیں تو ان کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے،بلاول …