Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • نریندر مودی کا 12 تا 13 فروری دورہ امریکا طے،ٹرمپ سے ملاقات

    نریندر مودی کا 12 تا 13 فروری دورہ امریکا طے،ٹرمپ سے ملاقات

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اگلے ہفتے دورہ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

    غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 12 تا 13 فروری واشنگٹن کا دورہ کریں گے، یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد امریکا کا دورہ کرنے والے پہلے چند عالمی رہنماؤں میں سے ایک ہوں گے۔ رہنماؤں کے درمیان ’بہت قریبی تعلق‘ رہا ہے، حالانکہ ان کے تعلقات باوجود طویل عرصے سے امریکا-بھارت تجارتی معاہدے پر کوئی پیش رفت لانے میں ناکام رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ باہمی دلچسپی کے تمام شعبہ جات کے حوالے سے نئی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلق کے لیے ایک اہم موقع ہوگا، مزید بتایا کہ نریندر مودی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ نریندر مودی اپنے ’دوست‘ ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ان کے حلف برداری کے بعد سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں شامل تھے، انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی دہلی اور واشنگٹن مل کر کام کریں۔بھارتی وزیراعظم نے جنوری میں ٹوئٹ کیا تھاکہ میں ایک بار پھر ایک ساتھ مل کر کام کرنے، دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچانے اور دنیا کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل کا منتظر ہوں۔27 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی بات چیت ہوئی تھی، ٹرمپ نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کرے۔

    امریکہ:غیر قانونی بھارتیوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری

    ٹک ٹاک کا پاکستان کری ایٹر ایوارڈز 2024 کی نامزدگیوں کا اعلان

    محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون اپنے وطن روانہ

    پنجاب بھر میں جلسے اور جلوسوں پر پابندی، دفعہ 144 نافذ

    اگلے سال شہر میں مزید300 اسکیمیں مکمل کریں گے، میئر کراچی

  • ایلون مسک کو "خصوصی سرکاری ملازم” کا درجہ مل گیا

    ایلون مسک کو "خصوصی سرکاری ملازم” کا درجہ مل گیا

    رواں ہفتے کے آغاز پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا درجہ دیا ہے۔

    یہ عہدہ ایلون مسک کو وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن ممکنہ طور پر انھیں مفادات کے ٹکراؤ اور مالی معاملات ظاہر کرنے والے اُن قواعد سے مستثنیٰ رکھتا ہے جو امریکا کے عام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوتے ہیں۔مسک الیکٹرک کار کمپنی ’ ٹیسلا‘ اور ایرو سپیس کمپنی ’سپیس ایکس‘ چلانے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے مشیر بھی ہیں اور انھیں کفایت شعاری مہم یعنی ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (Doge) کی قیادت سونپی گئی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی ایک سرکاری ادارہ یا محکمہ نہیں بلکہ ایک ٹیم ہے جسے ٹرمپ نے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں۔

    اس کی قانونی حیثیت تو غیر واضح ہے ہی مگر اس کے ساتھ اس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کانگریس سے مشاورت کے بغیر یو ایس ایّڈ جیسی حکومتی ایجنسیاں بند کرنے کے اختیار کے متعلق بھی خاصا ابہام پایا جاتا ہے اور مسک اور ان کی ٹیم کو اس ضمن میں کئی عدالتی چیلنجز کا سامنا ہے۔سپیس ایکس کے سی ای او کی حیثیت سے مسک اربوں ڈالر مالیت کے پینٹاگون اور انٹیلیجنس کمیونٹی کے معاہدوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی قانون میں خصوصی سرکاری ملازمین کو زیادہ سے زیادہ 130 دن کے لیے مقرر کیا جاتا ہے لیکن صدر ٹرمپ نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ مسک کا عہدہ کب تک برقرار رہے گا۔

    جب کسی فرد کو ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حکومت کے لیے عارضی طور پر کام تو کرتے ہیں لیکن انھیں مکمل سرکاری ملازم نہیں سمجھا جاتا۔ یہ عہدہ عام طور پر ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو کسی خاص منصوبے کے لیے حکومت کو کنسلٹینسی وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ایلون مسک کے کیس میں ’خصوصی سرکاری ملازم‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت کے مختلف منصوبوں جیسے ’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی‘ کی نگرانی کرتے رہیں گے مگر انھیں سرکاری ملازمین کی طرح سخت قوانین کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے انھیں کام کرنے میں زیادہ آزادی تو ملے گی لیکن اس کے نتیجے میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

    ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ٹرمپ مسک کے اقدامات پر قریبی نظر تو نہیں رکھ رہے لیکن انھیں اس سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو مسک کی سرگرمیوں کی ’تمام معلومات دی جا رہی ہیں۔‘صدر ٹرمپ کے سب سے اہم حامی سمجھے جانے والے مسک نے ان کی انتخابی مہم کو 11 کروڑ 90 لاکھ کا فنڈ دیا تھا۔ مسک صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے والی ریاستوں میں لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے گھروں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس دوران انھوں نے ہر روز 10 لاکھ ڈالر بھی تقسیم کیے۔

    پاک بحریہ کی نویں کثیر القومی بحری مشق امن کا آغاز

    پیٹرول، چینی، نمک مہنگا ٹماٹر، پیاز، مرغی سستی ہوئی، ہفتہ وار رپورٹ

    پولیو ورکر سے جھگڑا کرنے والے 3افراد گرفتار،مقدمہ درج

    پانی کی لائن ڈالنے پر لڑائی، فائرنگ سے2 افراد جاں بحق،3زخمی

  • ایلون مسک کی سرکاری اداروں میں جارحانہ مداخلت، امریکی بیوروکرسی  پریشان

    ایلون مسک کی سرکاری اداروں میں جارحانہ مداخلت، امریکی بیوروکرسی پریشان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک کے بڑھتے اختیارات سے امریکی بیوروکرسی کیلئےسر درد بن گئے-

    باغی ی وی: امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے حلف لیتے ہی ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی (DOGE) کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے چند دنوں میں امریکی سرکاری اداروں میں جارحانہ مداخلت اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبریں سامنے آئیں۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے حلف لینے کے بعد صرف 2 ہفتوں میں ہی بطور ایفیشنسی ڈپارٹمنٹ سربراہ مسک نے نہ صرف حساس مالیاتی ڈیٹا سسٹم تک رسائی حاصل کی بلکہ اس دوران متعلقہ حکام اور قائم کردہ پروٹوکولز کو بھی نظر انداز کیا ٹرمپ کی جانب سے اختیار ہونے کی وجہ سے ایلون مسک خود مختاری کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں اور اس دوران وہ اکثر بیوروکریٹک چینلز کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں جبکہ وسیع مالی مفادات اور چین کے ساتھ بھی مسک کے کاروباری تعلقات مفادات کے ٹکراؤ جیسی صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔

    بشریٰ بی بی کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس

    امریکی اخبار کے مطابق ایلون مسک کے حکومت سے بہت سے مالی مفادات ہیں، ان کے ایک نجی شخص کی حیثیت سے کیے جانے والے کام جن میں بہت سے اداروں کی اور جاری پروگرامز جیسے کے یو ایس ایڈ (USAID) کی بندش شامل ہیں یہ سب طاقت کے غیر معمولی استعمال کی علامت ہیں۔

    کانگریس نے 1961 میں یو ایس ایڈ بنائی، جو کہ امریکی حکومت کے لیے دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک کے لیے غیر ملکی امداد فراہم کرتی ہے، لیکن مسک اور ٹرمپ ایسا لگتا ہے کہ وہ اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیشی کے دوران ایجنسی کا موازنہ ایک سڑے ہوئے سیب سے کیا، جو کہ "کیڑے سے بھری گیند” ہے۔ اس نے کہا کہ بچانے کے قابل کچھ بھی نہیں ہے۔

    امریکی پالیسیوں سے تنگ کینیڈین وزیراعظم نے یورپی یونین کی رکنیت کے لئے درخواست دیدی

    ٹرمپ نے پیر کے روز اوول آفس میں پیشی کے دوران یو ایس ایڈ کے کارکنوں کو "بنیاد پرست بائیں بازو کے پاگل” کے طور پر مسترد کر دیا اور کہا، آئین کے باوجود، اگر "دھوکہ دہی” ہوتی ہے تو انہیں کانگریس کو اپنی قائم کردہ ایجنسی کو کالعدم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس نے دھوکہ دہی کے الزام کی وضاحت نہیں کی، لیکن اس نے ایک مخصوص دعویٰ دہرایا کہ یو ایس ایڈ نے حماس کو دسیوں ملین کی ادائیگی کی۔

    تاہم، ایجنسی میں خوف کا احساس ہے، جہاں ویب سائٹ کو ہٹا دیا گیا ہے اور سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو قائم مقام ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی ایفیشنسی ڈپارٹمنٹ ٹیم نے بہت سے اہم حکومتی امور انجام دینے والے اداروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جب کہ مسک حکومتی عہدوں پر اہم تقرریوں پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں، وہ ٹرائے مینک کی بطور ائیر فورس سیکرٹری تقرری کی وکالت کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

    پی آئی اے کی نجکاری دوبارہ کرنے کا فیصلہ

    رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی بطور ایفیشنسی ڈپارٹمنٹ اتھارٹی (قانونی حیثیت) کو چیلنج کرنے کے لیے اب تک 4 مقدمات امریکی عدالتوں میں دائر کیے گئے جن میں وفاقی قوانین کی خلاف ورزی اور کانگریس کے اختیارات سے تجاوز کا الزام لگایا گیا ہے ٹر مپ کی حکومت میں شامل ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایلون مسک ایسی وسیع خود مختاری سے کام کررہے ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔

    عہدیدار نے مزید بتایا کہ ایلون مسک اپنی مختلف کمپنیوں کے ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم کے ساتھ کام رہے ہیں، اپنے اسٹاف سمیت وہ وائٹ ہاؤس سے کچھ دور قائم بلاک میں فیڈرل پرسنل آفس میں منتقل ہوگئے ہیں تاکہ وہ رات دیر تک کام کرسکیں اور ضرورت پڑنے پر وہیں سو جائیں۔

    گھوٹکی پولیس کی کامیاب کارروائی، دو روز قبل اغوا ہونے والا مغوی بازیاب

  • امریکی صدر نے  میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف موخر کردیا

    امریکی صدر نے میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف موخر کردیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف کو ایک ماہ کے لیے موخر کردیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف کو ایک ماہ کے لیے موخر کررہے ہیں اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کسی ’معاہدے‘ تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

    ٹرمپ نےمیکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام سے ٹیلیفونک گفتگو کےبعد سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے سربراہان کے ساتھ خود بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گےمیکسیکو نے امریکا میں منشیات، خاص طور پر فینٹانل کے داخلے کو روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ سرحد پر 10 ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کی حامی بھری ہے۔

    علی امین کس طرح ویلنٹائن ڈے منائیں گے؟

    دوسری جانب میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ امریکا بھی میکسیکو میں ہائی پاورڈ ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کام کرے گا۔

    دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ہونے والی یہ ٹیلی فونک گفتگو امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر عائد تجارتی ٹیرف کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل ہوئی۔

    ایک شناختی کارڈ پر سہ فریقی سیریز کےلیے 10 ٹکٹ خریدے جاسکتے ہیں،قیمت کتنی؟

    واضح رہے کہ یکم فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے تجارتی شراکت داروں چین، کینیڈا اور میکسیکو پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے حکمنامے پر دستخط کیے تھےحکم نامے کے تحت کینیڈا سے امریکا برآمد کیے جانے والے سامان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا گیا ہے تاہم کینیڈین آئل پر یہ ٹیکس 10 فیصد لگایا گیا ہے اسی طرح میکسیکو سے امریکا برآمد کی گئی اشیا پر بھی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ چین سے امریکا بھیجی جانے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

    سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس، منصوبوں پر تفصیلی غور

    امریکا کی طرف سے کینیڈین درآمدات پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد اب کینیڈا نے بھی امریکی ڈرآمد پر ٹیرف 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا،کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نے کہا تھا کہ کینیڈا اور میکسیکو امریکی ٹریفس کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا کےعوام مقامی اشیاخریدیں،چھٹیاں بھی اپنےملک میں ہی گزاریں۔

  • ہم نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کردیا،نیتن یاہو

    ہم نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کردیا،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ سے حماس کے خلاف فتح اور ایران کے خلاف اقدامات اور تمام یرغمالیوں کی رہائی پر گفتگو کریں گے۔

    باغی ٹی وی : امریکا روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات امریکا، اسرائیل اتحاد کی مضبوطی کی علامت ہے، ٹرمپ کی حمایت سے مشرق وسطیٰ کا نقشہ مزید تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر مزید بہتری لائیں گے۔

    کابل: اقوام متحدہ امدادی مشن کے احاطے میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، ایک زخمی

    نیتن یاہو امریکا روانہ ہوگئے، روانگی سے قبل بن گورین ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے انتہائی اہم ملاقات کرنے جا رہا ہوں، نیتن یاہو نے کہا کہ ملاقات ہماری دوستی اور اسرائیل امریکا تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں اسرائیل اور خطے کو درپیش اہم مسائل پر بات ہوگی۔

    خبر ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات طے ہے۔

    تنگوانی: ڈاکوؤں کی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ سے تین زخمی، دو ڈاکو گرفتار

    دوسری جانب قطر کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا وقت ابھی طے نہیں ہوا، قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کی بات چیت کےلیے اسرائیل حماس سے رابطے میں ہیں، کچھ دنوں میں پیش رفت کی امید ہے۔

  • متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

    متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کی تیل کی پیداواری ممالک کی تنظیم سے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور پیداوار بڑھانے کی اپیل کسی کام نہ آئی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فیول پرائس کمیٹی نے فی لیٹر کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔متحدہ عرب امارات میں اب پیٹرول 2.74 درہم فی لٹر (208 روپے) میں ملے گا جو گزشتہ ماہ 2.61 درہم تھا۔اسی طرح ڈیزل کی قیمت 2.68 فی لٹر سے بڑھا کر اب 2.82 درہم (214 روپے 18 پیسے) مقرر کردی گئی۔

    خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں تیل کی قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے 2015 سے ہم آہنگ کرنا شروع کیا گیا ہے۔ رواں برس کے آغاز پر ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔دبئی میں ٹول ٹیکس بھی اضافہ کردیا گیا۔ صبح 6 سے 10 بجے تک اور شام 4 سے 8 بجے تک ٹول فیس 6 درہم (تقریباً 456 پاکستانی روپے) وصول کی جائے گی۔

    پاکستان ریلوے نے نئی ٹکٹ ریفنڈ پالیسی کا اعلان کر دیا

    اب واٹس ایپ آپکو ایونٹ یاد دلائے گا

    انگلینڈ کو بدترین شکست،بھارت نے ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت لی

    پیمرا میں وفاق اور چاروں صوبوں سے ممبران کی تعیناتی

    جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کو بڑا مافیا قرار دے دیا

    افغانستان :امریکی انخلا کے بعد پونے 4 ارب ڈالر کی امداد خرچ ہونے کا انکشاف

  • جوبائیڈن کے احکامات مسترد،ٹرمپ کا اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فراہم کرنے کا حکم

    جوبائیڈن کے احکامات مسترد،ٹرمپ کا اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فراہم کرنے کا حکم

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے احکامات واپس لے کر اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ہدایت کی کہ وہ سابق صدر جو بائیڈن کی طرف سے اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی پر عائد پابندی ختم کرے –

    روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات ہفتے کو بتائی جبکہ ان کی جانب سے اس اقدام کی پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی۔

    وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے انہیں جاری کردیا، ہم نے انہیں آج جاری کیا، وہ انہیں حاصل کرلیں گے، انہوں نے ان کے لئے ادائیگی کی اور وہ طویل عرصے سے ان کے لیے انتظار کر رہے تھے، وہ اسٹوریج میں پڑے تھے جب ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے طاقتور بم کیوں فراہم کیے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیونکہ انہوں نے انہیں خریدا تھا۔

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    واضح رہے کہ جو بائیڈن نے ان بموں کی فراہمی روک دی تھی کیونکہ انہیں خدشات تھے کہ ان بموں کے اسرائیل کی غزہ خاص طور پر رفح میں جاری کارروائی کے دوران عام آبادی پر اثرات ہوں گے 2ہزار پاؤنڈ وزنی ایک بم کنکریٹ کی موٹی دیوار اور کسی بھی دھات کو تباہ کر سکتا ہے، اس دھماکے سے پیدا ہونے والی شدت بہت بڑے علاقے کو متاثر کرتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں،بلاول

    یاد رہے کہ روئٹرز نے گزشتہ برس رپورٹ کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی کارروائی کے بعد اسرائیل کو ہزاروں 2 ہزار پاؤنڈ بم فراہم کیے تھے لیکن ایک کھیپ روک لی تھی۔

  • ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم سرکاری اداروں کے آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے انسپکٹر جنرل کو برطرف کر دیا۔

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے اس معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ایجنسیوں کے حکام کو برطرف کیا گیا ان میں دفاع، ریاست، نقل و حمل، سابق فوجیوں کے امور، ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ، داخلہ اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز نے کہا کہ برطرفی کے احکامات نے 17 ایجنسیوں کو متاثر کیا لیکن محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز برطرفی سے محفوٖظ رہے۔واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ برطرفی کے احکامات بظاہر ان وفاقی قانون کی خلاف ورزی لگتے ہیں جن کے تحت کانگریس کو انسپکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے ادارے سے متعلق 30 دن کا نوٹس موصول کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر رپورٹس پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل ایک آزاد عہدہ ہے جو ضیاع، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعال سے متعلق آڈٹ، تحقیقات اور الزامات کے حوالے سے کام کرتا ہے، انہیں صدر یا متعلقہ ایجنسی کا سربراہ ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس نے نامزد یا مقرر کیا۔برطرف کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کو ٹرمپ کے 2017-2021 کے پہلے دور میں مقرر کیا گیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد کو وائٹ ہاؤس عملے کے ڈائریکٹر کی جانب سے ای میلز کے ذریعے فیصلے سے مطلع کیا گیا تھا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات 5 لاکھ روپے کرنے کی منظوری

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

    سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

  • دنیا صرف مذمتیں کرتی رہی،ٹرمپ نے غزہ  میں سیز فائر کرادیا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا صرف مذمتیں کرتی رہی،ٹرمپ نے غزہ میں سیز فائر کرادیا،تجزیہ :شہزاد قریشی

    دنیا صرف مذمتیں کرتی رہی،ٹرمپ نے غزہ میں سیز فائر کرادیا
    پاکستان میں مذاکرات کا سیزن،پارا چنار میں انسانیت تڑپ رہی مذاکرت کیوں نہ ہوئے؟
    موجودہ مذاکرات سیاسی اور مفاداتی،اصل مذاکرات 1973ء میں پاکستان اور عوام کیلئے ہوئے تھے
    ہرا لیکشن کے بعد رونا پیٹنا عام،اب کے پی دہشتگردی پر سب جماعتوں کو کیوں سانپ سونگھ گیا؟

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    او آئی سی، عرب لیگ، دیگر اسلامی ممالک، فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کو لے کر اجلاس منعقد کر رہے تھے۔ مذمتی بیانیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع تھا۔ تمام ممالک میں احتجاج ہو رہے تھے لیکن نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ حلف لینے سے قبل جنگ بندی ہو۔ ویسا ہی ہوا اور امریکی صدر کی خواہش پوری ہو گئی اس سے ثابت ہوا امریکی صدر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ دنیا کو پتہ چل جائے گا اگلے چار سالوں میں امریکہ کیسا رہے گا امریکی تاریخ میں ٹرمپ ایک الگ کہانی ہے وہ الزمات کے سمندر میں تیرتا ہے اور غیر محفوظ نکلتا ہے وہ اپنے نعروں اپنے اشاروں اور اپنے رقص کے ساتھ سب کچھ بدل دینے کا ماہر ہے کچھ بھی کہیں، دنیا امریکہ کے بغیر نہیں چل سکتی امریکہ صرف طاقتور بحری بیڑوں کا مجموعہ نہیں یہ ایک معیشت ہے۔ آزادی، ٹیکنالوجی، یونیورسٹیوں اور ذہانت کا مرکز ہے ٹرمپ نے گلوبل امن کی بات کی ہے ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کی پالیسی کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں شامل جماعتوں سے مذاکرات کر رہی ہے کیا یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟ ان مذاکرات کے اثرات ملک و قوم کے لئے کیسے ہوں گے؟ مذاکرات ملک و قوم کے لئے نہیں بلکہ یہ مذاکرات ذاتی مفاد اور گروہی مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا کامیاب ہونا یا ناکام ہونا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ 1973ء میں مذاکرات کامیاب ہوئے ان میں ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شامل تھیں ان مذاکرات میں نہ تو کسی کے ذاتی مفاد تھے اور نہ ہی گروہی مفاد تھے ان مذاکرات کا مقصد پاکستان تھا اور پاکستان کا آئین تھا۔ آج کے مذاکرات کا مقصد نہ تو پاکستان ہے نہ 25کروڑ عوام ہے آج کے مذاکرات ذاتی اور گروہی مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے مذاکرات پارا چنار کے دلخراش واقعہ پر کیوں نہیں ہوئے؟ بہت بڑا انسانی المیہ ہوا ہے۔ ملک میں ہر قومی انتخابات پر سینہ کوبی کی جاتی سیاسی جماعتیں دھاندلی کا شور مچاتی ہیں اس قومی المیہ پر مذاکرات کیوں نہیں ہو رہے؟ تاکہ دھاندلی دھاندلی کا الزام ایک دوسرے پر نہ لگایا جائے۔ کے پی کے میں دوبارہ دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ہماری مسلح افواج کے نوجوان شہید ہور ہے ہیں اس پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کیوں نہیں ہو رہے؟ مذاکراتی ٹیم میں شامل جماعتیں اپنے ضمیر سے مذاکرات کریں اور فیصلہ کریں ان مذاکرات کا مقصد پاکستان یا عوام ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ مذاکرات ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں-

  • بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات  اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    امریکا اور بھارت کے سفارتکار اگلے ماہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں امریکا کا اسٹرٹیجیک شراکت دار بھارت واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات بڑھانے اور اپنے ہنرمند شہریوں کے لیے ویزا کا حصول مزید آسان بنانے کا خواہاں ہے۔ نومنتخب امریکی صدر کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات طے ہوجاتی ہے تو یہ دونوں ایجنڈے اس میں شامل ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی نے نئی دلی میں حکام کے درمیان بھارت پر ٹیرف عائد کرنے کے بارے میں تشویش پیدا کردی ہے کیوں کہ امریکا نے بھارت کو بھی امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیرف والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ بھی ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ نئی دلی اس حوالے سے واشنگٹن کو رعایت دینے کے لیے تیار ہے، حالانکہ امریکا نے اب تک بھارت مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کے کسی منصوبے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا، جب کہ بھارت امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مراعات کی پیش کش کے لیے بھی تیار ہے۔

    ذرائع نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اعلیٰ حکام کو امید ہے کہ دونوں سربراہان کی ملاقات سے ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مدت میں دونوں ممالک کے تعلقات کا مثبت آغاز ہوگا۔ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور صدارت کے دوران فروری 2020 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے نریندر مودی کے سیاسی گھر احمد آباد کے کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے مجمع سے خطاب کے دوران بھارت سے ناقابل یقین تجارتی معاہدہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اسی طرح، 2019 میں ٹرمپ نے ہیوسٹن میں ’ہاؤڈی مودی‘ ریلی کا اہتمام کیا تھا جس میں 50 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، جن میں زیادہ تر ہندوستانی نژاد امریکی شامل تھے۔

    بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران بھی ٹرمپ اور مودی ملاقات ان کے ایجنڈے میں شامل تھی، انہوں نے نومنتخب امریکی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے جے شنکر سے ’غیرقانونی مائیگریشن‘ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا، اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر بات ہوئی۔دونوں سربراہان مملکت کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن پر بھی بات ہوسکتی ہے کیوں کہ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا وعدہ کررکھا ہے تاہم ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہنرمند شہریوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت بڑے پیمانے پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پیشہ ور افراد کے حوالے سے جانا جاتا ہے جن میں بیشتر دنیا بھر میں اس وقت کام کررہے ہیں جب کہ امریکا کی جانب سے جاری کردہ ہنرمند کارکن ایچ-1 بی ویزا کا بڑا حصہ ان کے پاس ہے۔