سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراق کی جانب سے آنے والے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق ان ڈرونز کا ہدف سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں، تاہم تمام ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور قومی تنصیبات کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق مملکت اپنی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور مناسب وقت، مقام اور حالات کے مطابق جواب دینے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایسے حملوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم سعودی وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ حملے عراق کی سرزمین سے کیے گئے۔
تاحال عراقی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران نے بھی سعودی الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس دوران خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے متعدد ڈرون تباہ کر دیے
