پاکستان نے کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقوں سے تحمل، بردباری اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تحمل اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کے فروغ کا حامی رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ امریکہ بھی خطے کی صورتحال اور امن کے قیام سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔
طاہر اندرابی نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو سفارت کاری اور مذاکرات کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو حالات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان موجودہ صورتحال کے باوجود مفاہمت، مذاکرات اور امن کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ واقعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور متعدد ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان کا حالیہ مؤقف بھی اسی پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت اسلام آباد خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کو اہمیت دیتا ہے۔
پاکستان کی کویت اور بحرین پر حملوں پر تشویش، تحمل کی اپیل
