Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور

    
کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور

    ‎وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت جاری ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس قوانین میں مجوزہ ترامیم کے تحت کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے منافع پر 15 سے 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد ڈیجیٹل معیشت سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو ڈیجیٹل کاروباروں اور ورچوئل اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کرپٹو کرنسی کے شعبے کو قانونی اور ریگولیٹری دائرہ کار میں لانے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی متعدد سفارشات مرتب کی ہیں۔ اتھارٹی کی جانب سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ملک میں کرپٹو صارفین کی تعداد، لین دین کے حجم اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نظام کا جائزہ لے رہی ہے۔
    ‎حکومتی سطح پر ورچوئل اثاثوں کو باضابطہ قانونی حیثیت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک جامع ڈیجیٹل کرنسی فریم ورک متعارف کرایا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے اور کرپٹو کرنسیوں کے تبادلے کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ کو پہلی مرتبہ ایک واضح قانونی اور ٹیکس ڈھانچہ مل جائے گا۔ اس سے سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان شفافیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 
ایران جنگ بندی معاہدے پر غور میں مصروف، امریکا سے مذاکرات جاری

    
ایران جنگ بندی معاہدے پر غور میں مصروف، امریکا سے مذاکرات جاری

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر غور جاری ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق تہران امریکی تجویز کردہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی تنازع کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا اور صورتحال تعطل کا شکار ہے۔ اس دوران عبوری معاہدے کے لیے ہونے والی بالواسطہ بات چیت بھی تاحال فیصلہ کن پیش رفت نہیں کر سکی۔
    ‎ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران مجوزہ معاہدے کا سختی سے جائزہ لے رہا ہے کیونکہ ایران کو ماضی میں امریکا کی جانب سے معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے تحفظات اور عدم اعتماد کا سامنا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی قیادت کسی بھی نئے معاہدے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے کے دوران جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران ایک محدود عبوری معاہدے کا خواہاں ہے جس کے ذریعے اقتصادی دباؤ میں کمی لائی جا سکے، جبکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے سے گریز کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ایران خطے میں تمام محاذوں پر کشیدگی کے خاتمے، تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی، بعض پابندیوں میں نرمی اور بندرگاہوں پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    ‎ادھر لبنان میں بھی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں محدود فوجی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کریں گے۔

  • 
پاکستان اسٹیل ملز میں 284 ارب کے مبینہ نقصان کی تحقیقات تیز

    
پاکستان اسٹیل ملز میں 284 ارب کے مبینہ نقصان کی تحقیقات تیز

    ‎وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان اسٹیل ملز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور اربوں روپے کے نقصان سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو طلب کر لیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پاکستان اسٹیل ملز میں مبینہ طور پر 284 ارب روپے کے نقصان کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ یہ تحقیقات انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت جاری ہیں، جن کا مقصد مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
    ‎اس سلسلے میں ایف آئی اے نے پاکستان اسٹیل ملز کے فوکل پرسن کو باضابطہ خط جاری کیا ہے، جس میں متعلقہ افسران کی پیشی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادارے کی جانب سے تحقیقات میں مکمل تعاون کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے 12 افسران کو طلب کیا ہے، جو ماضی میں پاکستان اسٹیل ملز میں پیش آنے والے چھ بڑے واقعات اور ان سے متعلق انکوائریوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان افسران سے مختلف معاملات پر معلومات اور ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔
    ‎تحقیقاتی ذرائع کے مطابق انکوائری کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مبینہ مالی نقصان اور انتظامی بے ضابطگیوں کے اسباب کیا تھے، اور آیا کسی مرحلے پر قوانین یا ضابطوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ اس مقصد کے لیے ماضی کی رپورٹس، دستاویزات اور انکوائری ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎پاکستان اسٹیل ملز کئی برسوں سے مالی مشکلات اور انتظامی مسائل کا شکار رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ادارے کی بحالی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معاملات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

  • 
گھوٹکی میں حاملہ خاتون غیرت کے نام پر قتل

    
گھوٹکی میں حاملہ خاتون غیرت کے نام پر قتل

    ‎سندھ کے ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں ایک 19 سالہ حاملہ خاتون کے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش مبینہ طور پر قتل کے بعد دریائے سندھ میں پھینک دی گئی، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ آندل سندرانی کے علاقے میں چند روز قبل پیش آیا، تاہم اس کی اطلاع بعد میں موصول ہوئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو دورانِ گشت ایک مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ حمیدان نامی خاتون، جن کی شادی خادم نامی شخص سے ہوئی تھی، کو مبینہ طور پر "کاروکاری” کے الزام میں قتل کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون پر ایک شخص کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
    ‎پولیس کے مطابق الزام ہے کہ خاتون کو ان کے شوہر اور دیگر رشتہ دار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں دریائے سندھ کے کنارے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا گیا اور لاش دریا میں پھینک دی گئی۔
    ‎تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ حاملہ تھیں اور ان کی ابھی کوئی اولاد نہیں تھی۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں نے بھی اس نوعیت کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    ‎مدعی کے بیان کے مطابق پولیس نے لاش کی تلاش کے لیے کارروائی کی، تاہم دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے تاحال لاش برآمد نہیں ہو سکی۔ تلاش کا عمل جاری ہے اور مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن تمام ملزمان فی الحال مفرور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
اٹلی میں چار پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

    
اٹلی میں چار پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

    ‎جنوبی اٹلی میں ایک افسوسناک واقعے میں جل کر تباہ ہونے والی منی وین سے چار پاکستانی زرعی کارکنوں کی لاشیں ملنے کے بعد اطالوی پولیس نے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
    ‎اطالوی اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کالابریا میں پیش آیا، جہاں ایک منی وین مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی تھی۔ بعد ازاں گاڑی کے اندر سے چار پاکستانی شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق متاثرہ گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پیٹرول پمپ کے نزدیک کھڑی پائی گئی تھی۔ یہ علاقہ زرعی سرگرمیوں کے لیے معروف ہے اور یہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی مزدور کام کرتے ہیں۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیٹرول پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث دیکھا گیا۔ مبینہ طور پر ویڈیو میں دونوں افراد منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر آتش گیر مادہ پھینکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فوٹیج میں بعد ازاں گاڑی میں آگ بھڑکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جبکہ دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہوتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔
    ‎اطالوی حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ قتل کی ممکنہ وجوہات اور ملزمان کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔ تاحال مقتولین اور ملزمان کے درمیان تعلق یا واقعے کے پس منظر کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
    ‎یہ واقعہ اٹلی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

  • 
وفاقی وزیر کے گھر میں چوری

    
وفاقی وزیر کے گھر میں چوری

    وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کے آبائی گھر میں چوری کی واردات پیش آنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واردات تھانہ سٹی کی حدود میں واقع وفاقی وزیر کے آبائی گھر میں ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کا جائزہ لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔
    ‎ابتدائی معلومات کے مطابق نامعلوم چور گھر میں داخل ہوئے اور وہاں نصب قیمتی سینٹری کا سامان اتار کر لے گئے۔ چوری ہونے والے سامان کی مالیت کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎گھر کے عملے کے مطابق یہ مکان وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کا آبائی گھر ہے، جو ان کی غیر موجودگی کے باعث زیادہ تر بند رہتا ہے۔ اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوروں نے مبینہ طور پر واردات انجام دی۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ قریبی علاقوں میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ چوری میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، فرانس

    
لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، فرانس

    ‎فرانس نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور موجودگی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی سرزمین کے اندر اسرائیلی افواج کی مسلسل موجودگی یا طویل المدتی فوجی قبضے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر جاری فوجی کارروائیوں اور وہاں طویل عرصے تک موجود رہنے کے لیے کوئی قانونی یا سیاسی جواز موجود نہیں۔ ان کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔
    ‎یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں واقع تاریخی قلعہ شقیف، جسے بیوفورٹ قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
    ‎فرانس نے ماضی میں بھی لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق پیرس موجودہ بحران کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی راستوں کو ترجیح دینے پر زور دے رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران نے بھی لبنان کی صورتحال کو مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازع سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کسی بھی ایسے معاہدے کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے جو خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ طے کیا جائے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے لبنان اور غزہ سمیت تمام تنازعات کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات ہی استحکام کی جانب راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

  • 
ملیر کینٹ کے قریب سلنڈر دھماکا، ایک شخص جاں بحق

    
ملیر کینٹ کے قریب سلنڈر دھماکا، ایک شخص جاں بحق

    ‎کراچی کے علاقے ملیر کینٹ کے قریب ایک دکان میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کر دیں۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ایک دکان کے اندر موجود سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں دکان کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس موجود افراد بھی خوفزدہ ہو گئے اور قریبی عمارتوں کے شیشے لرز اٹھے۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات اور ممکنہ زخمیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت اور دیگر قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
    ‎پولیس اور متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈرز کے استعمال میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے یا تکنیکی خرابی کی صورت میں ایسے حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس سلنڈرز اور متعلقہ آلات کے استعمال میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔

  • 
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی ضروری ہے

    
لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی ضروری ہے

    ‎اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس کی موجودگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، رابطہ کاری کو فروغ دینے اور لبنانی مسلح افواج کی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کا کردار بدستور اہم ہے۔
    ‎اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ سال 2026 کے اختتام پر یونائیٹڈ نیشنز انٹرم فورس اِن لبنان (یونیفل) کا موجودہ مینڈیٹ ختم ہونے کے باوجود لبنان میں اقوام متحدہ کی موجودگی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی امن دستوں کی خدمات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
    ‎سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ اس وقت جنوبی لبنان میں تقریباً 7,500 اقوام متحدہ کے امن فوجی تعینات ہیں، جو جنگ بندی کی نگرانی، رابطہ کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ لبنان میں تعینات یونیفل کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گا۔ تاہم سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل سے متبادل تجاویز طلب کی تھیں تاکہ مستقبل میں بھی لبنان میں امن مشن کی موجودگی برقرار رکھنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ میں انتونیو گوتریس نے تین مختلف آپشنز تجویز کیے ہیں۔ ان تجاویز کے تحت تقریباً 2,000 سے لے کر 5,500 سے زائد اقوام متحدہ کے اہلکار جنگ بندی کی نگرانی، کشیدگی میں کمی اور لبنانی فوج کی معاونت کے لیے تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام مجوزہ منصوبوں کے تحت اقوام متحدہ کی وردی میں ملبوس فورس کی موجودگی ضروری ہوگی تاکہ فریقین کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جا سکے اور تنازع کے پائیدار حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بلیو لائن، جو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 120 کلومیٹر طویل عملی سرحد سمجھی جاتی ہے، حالیہ تنازعات اور عسکری سرگرمیوں کا اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔

  • 
بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

    
بلوچستان میں انٹیلی جنس آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 17 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ کارروائیاں مستونگ، نوشکی، ژوب، خضدار اور کیچ کے علاقوں میں کی گئیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ آپریشنز کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 17 دہشتگرد مارے گئے۔
    ‎بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق "فتنہ الہندوستان” سے تھا اور وہ مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے مراکز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور ان کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی قبضے میں لے لیے، جنہیں دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔
    ‎فوج کے ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے اور علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں سرچ اور سویپ آپریشنز بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "عزمِ استحکام” کے تحت دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سے دہشتگردی اور اس کی بیرونی سرپرستی کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
    ‎سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں دہشتگرد عناصر کے خلاف جاری مہم کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد امن و امان کو مستحکم کرنا اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔