پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری اور گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سعدیہ دانش نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل اور اثرورسوخ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
شازیہ مری نے اپنے بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل میں وفاقی وزراء کی سرگرم شرکت اور سرکاری مشینری کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت آزادانہ اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں منصفانہ انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کو سرکاری وسائل اور اختیارات کے ذریعے انتخابی عمل کو متنازع بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب سعدیہ دانش نے کہا کہ وفاقی وزراء کی بڑی تعداد انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہے، جس سے انتخابی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کا سیاسی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات کے حوالے سے بھی وضاحت پیش کی۔ شازیہ مری نے کہا کہ فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بلاول بھٹو کے مؤقف کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو نے صرف عوام کو اپنے ووٹ اور انتخابی ریکارڈ کے تحفظ کی اہمیت یاد دلائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیادی دستاویز ہے اور اسی کی بنیاد پر بعد میں فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔ درست فارم 45 کی موجودگی میں عوامی مینڈیٹ میں ردوبدل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوریت، آئین اور عوامی حق رائے دہی پر یقین رکھتی ہے اور کبھی اقتدار کے لیے غیر جمہوری راستے اختیار نہیں کیے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے آ رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی عوامی حقوق، ووٹ کے تقدس اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جبکہ گلگت بلتستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان انتخابات میں سرکاری مشینری کے استعمال پر اعتراض
