Baaghi TV


پیپلز پارٹی کا 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر دوٹوک مؤقف

bilawal

‎پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی شقوں میں کسی قسم کی کمی یا تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی۔
‎ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں صوبوں کے مالی حصے یا اختیارات میں کمی واقع ہو۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ صوبائی حقوق اور وفاقی نظام کے اہم ستون ہیں۔
‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو اختیارات اور خودمختاری حاصل ہوئی، وہ جمہوری عمل اور وفاقی نظام کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کا موجودہ نظام بھی صوبوں کے مالی حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔
‎پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی اس بات پر آمادہ ہے کہ اگر وفاق کو مالی معاونت یا اضافی وسائل درکار ہوں تو آئینی ترمیم کے بغیر بھی مختلف متبادل راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض تجاویز زیر غور ہیں جن کے ذریعے صوبے رضاکارانہ بنیادوں پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
‎ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی کے آئینی اور معاشی ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم مختلف متبادل منصوبوں اور قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس ٹیم کا مقصد ایسا قابل عمل حل تلاش کرنا ہے جو آئین میں تبدیلی کے بغیر وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون کو ممکن بنا سکے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہمیشہ اہم موضوعات رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی ان معاملات پر سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے اور صوبائی خودمختاری کو اپنی بنیادی سیاسی پالیسیوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل، بجٹ اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے مزید مشاورت متوقع ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے حالیہ مؤقف نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔

More posts