Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی سرکاری زمین پر قبضہ مافیا کا حملہ

    
لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی سرکاری زمین پر قبضہ مافیا کا حملہ

    
کراچی میں لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کی قیمتی سرکاری زمین پر ایک بار پھر قبضہ مافیا کی نظریں جم گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے تیسر ٹاؤن میں قائم واٹر بورڈ اور یو سی آفس کو نقصان پہنچایا۔
    یہ زمین 2006 سے اس منصوبے کے لیے مختص تھی اور 2008 سے یہاں واٹر بورڈ اور یو سی آفس فعال ہیں۔ اس منصوبے کے تحت لیاری ایکسپریس وے کے 30 ہزار سے زائد متاثرین کو پلاٹ الاٹ کیے جانے تھے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اس منصوبے کی زمین پر غیر قانونی قبضے اور ہزاروں رفاہی و کمرشل پلاٹس کی جعلی خرید و فروخت کی جا چکی ہے۔ نیب کی تحقیقات میں تاخیر کے باعث ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں اور سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

  • 
کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے جیولرز مارکیٹ پر ڈکیتی، متعدد دکانیں لٹ گئیں

    
کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے جیولرز مارکیٹ پر ڈکیتی، متعدد دکانیں لٹ گئیں

    
کراچی کے علاقے کورنگی عوامی کالونی میں دن دہاڑے مبینہ ڈکیتی کی بڑی واردات سامنے آئی ہے، جہاں آٹھ سے زائد ملزمان جیولرز کی کئی دکانیں لوٹ کر فرار ہو گئے۔
    رپورٹ کے مطابق ملزمان نے جیولرز مارکیٹ کے چوکیدار کو یرغمال بنا کر واردات کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے چار دکانوں کے تالے کاٹ کر وہاں موجود سونا اور نقدی لوٹ لی۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس نے دکانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

  • باٹا پور اور مناواں پولیس کی کارروائی، خواتین سے اسکوٹر چھیننے والے دو ملزمان گرفتار

    باٹا پور اور مناواں پولیس کی کارروائی، خواتین سے اسکوٹر چھیننے والے دو ملزمان گرفتار

    
لاہور کے علاقوں باٹا پور اور مناواں میں پولیس نے خواتین سے اسکوٹر چھیننے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت احسن رضا اور سخاوت کے نام سے ہوئی ہے۔
    پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران دو مسروقہ اسکوٹرز، موبائل فونز، دو پستول اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ مقدمات کی قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات

    
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات کی، جس میں صحت، تعلیم، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات اسلام آباد میں ہوئی۔
    ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صحت و تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
    سہیل آفریدی نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ قدرتی آفات کے باعث خیبرپختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ معدنیات کے شعبے میں مقامی آبادی کے مفادات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ جنوبی اضلاع میں بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

  • چولستان میں شدید خشک سالی، پانی کے ذخائر ختم، مویشی اور خانہ بدوش متاثر

    چولستان میں شدید خشک سالی، پانی کے ذخائر ختم، مویشی اور خانہ بدوش متاثر

    
صادق آباد سے ملحقہ چولستان کے علاقوں میں شدید خشک سالی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کے باعث قدرتی پانی کے ذخائر خشک ہو چکے ہیں، جس سے مویشیوں اور خانہ بدوش آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎مقامی افراد کے مطابق چولستان میں موجود ٹوبے، جو جانوروں اور خانہ بدوش خاندانوں کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں، مسلسل خشک موسم کے باعث مکمل طور پر سوکھ چکے ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث مویشی پیاس کا شکار ہیں جبکہ چرواہے پانی کی تلاش میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
    ‎نوالہ ٹوبہ اور مرزا والا ٹوبہ سمیت کئی بڑے ٹوبے مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ لانجہ والا، مکوڑا والا، چھایا والا، جیون والا اور راجر والا ٹوبوں میں بھی پانی ختم ہو گیا ہے، جس سے پورے خطے میں بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
    ‎پانی کی شدید کمی کے باعث مقامی آبادی میں نقل مکانی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور کئی خاندان اپنے مویشیوں کے ساتھ محفوظ علاقوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ اگر فوری امدادی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مکمل خشک سالی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
    ‎متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے فوری طور پر پانی کی فراہمی اور امدادی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ حالات تیزی سے بگڑتے جا رہے ہیں۔

  • 
پاکستان میں آب گاہیں موت کے کنارے: ترقی اور لاپرواہی نے پانی کے نظام کو نقصان پہنچایا

    
پاکستان میں آب گاہیں موت کے کنارے: ترقی اور لاپرواہی نے پانی کے نظام کو نقصان پہنچایا

    
دنیا بھر میں دو فروری کو آب گاہوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، مگر پاکستان میں یہ دن عموماً چند سرکاری بیانات، تصویری تقریبات اور ماحول دوست نعروں تک محدود رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آب گاہیں روزانہ مر رہی ہیں، اور یہ موت خاموش ضرور ہے مگر قدرتی نہیں۔ یہ ایک منصوبہ بند غفلت، ریاستی بے حسی اور ترقی کے نام پر کی جانے والی ماحولیاتی بے دخلی کا نتیجہ ہے۔
    آب گاہیں محض جھیلیں، دلدلیں، مینگرووز یا نالے نہیں ہوتیں۔ یہ زمین کے گردشی نظام کا وہ حصہ ہیں جو پانی کو ذخیرہ بھی کرتا ہے، صاف بھی کرتا ہے، درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتا ہے اور انسان و فطرت کے درمیان حفاظتی دیوار بھی بناتا ہے۔ مگر پاکستان میں یہی آب گاہیں سب سے پہلے قربان کی جاتی ہیں، کبھی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے، کبھی سڑکوں کے لیے، اور کبھی اس لیے کہ وہ کاغذی منصوبہ بندی میں نظر ہی نہیں آتیں۔
    ‎پاکستان خود کو دریاؤں، ساحلوں اور جھیلوں کا ملک کہتا ہے، مگر عملی طور پر پانی کے نظام کو سب سے زیادہ نقصان بھی ہم اور ہمارے ادارے پہنچا رہے ہیں۔ دریائے سندھ کا ڈیلٹا سکڑ رہا ہے، مینگرووز کٹ رہے ہیں، قدرتی نالے کنکریٹ میں دفن ہو چکے ہیں، اور جھیلیں یا تو سوکھ رہی ہیں یا سیوریج کے تالاب بن چکی ہیں۔ یہی آب گاہیں ہمیں سیلاب سے بچاتی ہیں، ہیٹ ویوز کے اثرات کم کرتی ہیں، زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرتی ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتی ہیں، مگر قومی ترقیاتی بیانیے میں ان کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔ ہم آب گاہوں کو اس وقت یاد کرتے ہیں جب پرندے غائب ہو جائیں، ماہی گیر بے روزگار ہو جائیں، یا سیلاب شہر میں داخل ہو جائے۔
    ‎پاکستان رامسر کنونشن کا دستخط کنندہ ہے اور قوانین بھی موجود ہیں، مگر یہ قوانین عملی طور پر محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ آب گاہ کو نقصان پہنچانے کے سبب روکنے کی مثال نہیں ملتی، نہ ہی کسی ہاؤسنگ اسکیم کو قدرتی نالے کے تحفظ کی بنیاد پر منسوخ کیا گیا، اور نہ ہی کسی ادارے کو جواب دہ ٹھہرایا گیا کہ اس نے جھیل کو سیوریج ڈمپ میں بدل دیا۔ خاموشی ہی اصل جرم ہے۔
    ‎شہری منصوبہ بندی بھی آب گاہوں کے بغیر کی جاتی ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد یا پشاور میں بارش آتے ہی شہر ڈوب جاتا ہے، گرمی کے موسم میں درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو جاتا ہے اور ہر چند سال بعد ہم نئی ’قدرتی آفت‘ کے ماتم کرتے ہیں، حالانکہ یہ آفت قدرت کی نہیں بلکہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔ آب گاہوں کو شہری منصوبہ بندی سے خارج کرنا دراصل شہری بقا کو خطرے میں ڈالنا ہے، مگر ملک کے کسی بھی ماسٹر پلان میں ان کی اہمیت شامل نہیں کی گئی۔

  • 
بھارت ایران کے مقابلے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ ٹرمپ

    
بھارت ایران کے مقابلے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ ٹرمپ

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت ایران سے تیل کی خریداری کے بجائے وینزویلا سے خام تیل خریدنا شروع کرے گا۔
    ایئر فورس ون کے بورڈ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ بھارت ایران کی بجائے وینزویلا کا تیل خرید رہا ہے اور امریکا نے اس معاہدے کو پہلے ہی کنٹرول کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کا ملک وینزویلا کے تیل کی فروخت اور محصولات کو غیر معینہ مدت تک کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کرے، جبکہ اگست میں یوکرین میں امن معاہدے کے سلسلے میں ماسکو پر دباؤ ڈالنے کے دوران بھارتی برآمدات پر محصولات 50 فیصد تک بڑھا دیے گئے تھے تاکہ روسی تیل کی خریداری پر اثر ڈالے جا سکے۔
    ‎امریکی ٹریژری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے جنوری میں اشارہ دیا تھا کہ بھارتی اشیا پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کو ہٹایا جا سکتا ہے، جس کا تعلق روسی تیل کی بھارت میں درآمدات میں کمی سے ہے۔

  • 
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر 24 نومبر 2025 کو ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہو گئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے تھا، اور دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔
    واقعے کے بعد دہشتگردوں کے خلاف اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور سہولت کاروں کی شناخت کے بعد واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حملے میں تین خودکش بمباروں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا تھا، جس میں 3 ایف سی جوان سمیت 6 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے۔ دہشتگردانہ کارروائی کے دوران 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی میں درج ہے۔

  • 
سعودی شہر العلا میں ’ارضنا‘ کے عنوان سے جدید آرٹ نمائش کا آغاز

    
سعودی شہر العلا میں ’ارضنا‘ کے عنوان سے جدید آرٹ نمائش کا آغاز

    
سعودی عرب کے تاریخی شہر العلا میں ’ارضنا‘ کے عنوان سے جدید آرٹ کی نمائش یکم فروری سے شروع ہو گئی ہے، جو 15 اپریل تک جاری رہے گی۔ یہ نمائش العلا کے پانچویں آرٹس فیسٹیول کا حصہ ہے۔
    نمائش سعودی عرب کی شاہی کمیشن برائے العلا اور فرانس کے معروف پومپیدو سینٹر کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے۔ ’ارضنا‘ (ہماری زمین) کے عنوان کے تحت انسان، فطرت اور زمین کے باہمی تعلق کو موضوع بنایا گیا ہے، جبکہ اسے العلا میں مستقل جدید آرٹ میوزیم کے قیام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منتظمین کے مطابق یہ نمائش محض عارضی نہیں بلکہ مقامی آبادی اور عالمی برادری کو مستقبل کے میوزیم وژن سے روشناس کرانے کی کوشش ہے۔ نمائش میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں کے درمیان ثقافتی روابط کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
    ‎نمائش میں سعودی عرب، علاقائی ممالک اور عالمی فن کاروں کے 80 سے زائد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جو زمین، صحرا، ماحول اور انسانی تاریخ کے باہمی رشتے کو مختلف زاویوں سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں پابلو پکاسو، ڈیوڈ ہاکنی، لوران گراسو اور طارق عطوی کے فن پارے شامل ہیں، جبکہ فرانس کے پومپیدو سینٹر سے مستعار فن پارے بھی نمائش کا حصہ ہیں۔
    ‎یہ فیسٹیول سعودی عرب کے ثقافتی منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے، جو دنیا بھر سے آرٹ کے شائقین کو العلا کے قدیم صحرا اور اس کی ثقافتی اہمیت کی جانب متوجہ کر رہا ہے۔

  • 
اسرائیل نے تقریباً دو سال بعد رفح کراسنگ جزوی طور پر کھول دی

    
اسرائیل نے تقریباً دو سال بعد رفح کراسنگ جزوی طور پر کھول دی

    
اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مہینوں کے دباؤ کے بعد اتوار کو غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان واقع رفح کراسنگ تقریباً دو سال بعد جزوی طور پر کھول دی ہے۔ تاہم، فی الحال اس راستے کو صرف افراد کی محدود آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور امدادی سامان کی نقل و حمل کی اجازت نہیں دی گئی۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ غزہ کے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد جان سے گئے، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئیں۔
    ‎رفح کراسنگ غزہ کے عام شہریوں اور انسانی امداد کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، لیکن مئی 2024 میں حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے یہ تقریباً مکمل طور پر بند رہی۔ 2025 کے اوائل میں صرف مختصر اور محدود بنیادوں پر اس کراسنگ کو کھولا گیا تھا۔
    ‎فلسطینی شہری امور سے متعلق اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے ’کوگٹ‘ نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ فی الحال صرف رہائشیوں کی محدود نقل و حرکت کے لیے کھولی گئی ہے۔
    ‎ادھر حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق تقریباً 200 مریض کراسنگ کے کھلنے پر غزہ سے باہر جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اسی دوران ایک فلسطینی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تقریباً 40 افراد کراسنگ کی مصری جانب پہنچ چکے ہیں تاکہ غزہ میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
    ‎اسرائیل اس سے قبل واضح کر چکا تھا کہ وہ اس وقت تک رفح کراسنگ دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک غزہ میں قید آخری اسرائیلی قیدی ران گویلی کی لاش واپس نہیں کی جاتی۔