ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف درجہ حرارت میں اضافے اور قدرتی آفات کا باعث نہیں بن رہی بلکہ یہ انسانی صحت کیلئے ایک نئے اور سنگین خطرے کو بھی جنم دے رہی ہے۔
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی بحران دنیا بھر میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، جس سے خطرناک بیکٹیریا کے خلاف ادویات کی تاثیر کم ہوتی جا رہی ہے۔
دی لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اینٹی بائیوٹک مزاحمت تیزی سے عالمی صحت کیلئے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہو سکتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سالمونیلا بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے درمیان واضح تعلق موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق 1940 سے 2040 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سالمونیلا میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کی شرح میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق میں کہا گیا کہ اگرچہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال اب بھی اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، لیکن بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
محققین کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے جراثیموں کے افعال اور رویوں کو تبدیل کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے سے بیکٹیریا زیادہ مضبوط اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، جس سے عام انفیکشنز کا علاج بھی مشکل ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 1940 سے 2023 تک 139 ممالک میں سالمونیلا کے 4 لاکھ 80 ہزار سے زائد نمونوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کے ساتھ اینٹی بائیوٹک مزاحمت کرنے والے جینز کا موازنہ کیا گیا۔
ماہرین نے حکومتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے فوری اور مؤثر پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ انسانی صحت کو مستقبل کے خطرات سے بچایا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی اینٹی بائیوٹک مزاحمت بڑھانے لگی
