امریکی جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک ابھرتی ہوئی سفارتی اور معاشی طاقت کے طور پر عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے، جس کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف معاشی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہیں جبکہ پاکستانی روپیہ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔
اسی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کے ایس ای 100 انڈیکس میں سال بھر کے دوران صرف 1.3 فیصد معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین معاشی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون، خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات اور سعودی عرب و چین کی مالی معاونت شامل ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور 5 ارب ڈالر کی قرض سہولت میں توسیع کی ہے، جس سے ملکی مالی صورتحال کو سہارا ملا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین نے پاکستان کے پہلے “پانڈا بانڈ” کیلئے 257 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جسے دونوں ممالک کے معاشی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق عالمی معاشی طاقتیں پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں، خاص طور پر گوادر بندرگاہ مستقبل میں خطے کے ایک اہم لاجسٹکس اور تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے لگا
