پمز اسپتال میں مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث پھیپھڑوں کی بائیوپسی کے بجائے خاتون کے جگر کی بائیوپسی کر دی گئی، جس کے نتیجے میں مریضہ جاں بحق ہو گئیں۔
واقعہ ڈڈھیال کی رہائشی عابدہ پروین کے ساتھ پیش آیا، جن کے لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں بتایا گیا ہے کہ مریضہ کو 9 دسمبر کو پمز اسپتال کے پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا، جہاں ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار نے پھیپھڑوں کی بائیوپسی کا فیصلہ کیا۔
16 دسمبر کو بائیوپسی کے دوران پھیپھڑوں کی بجائے جگر کا ٹشو نکالا گیا، اور چند گھنٹوں بعد مریضہ دم توڑ گئیں۔ لواحقین کے مطابق نجی لیبارٹری کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بائیوپسی کے دوران غلطی ہوئی تھی۔
لواحقین نے ڈاکٹر محمد اسرار، ڈاکٹر ہارون اشرف اور دیگر عملے کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پمز اسپتال کی سلپس اور لیبارٹری رپورٹس کے ساتھ شکایت جمع کرائی ہے۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے درخواست موصول ہونے کے بعد فوری کارروائی شروع کر دی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

پمز اسپتال میں مبینہ غفلت، پھیپھڑوں کی بجائے خاتون کے جگر کی بائیوپسی کر دی گئی

13 سال بعد ڈھاکا سے کراچی براہِ راست پرواز کی بحالی، پہلی پرواز 29 جنوری کو
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کی بحالی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، اور بنگلادیش کی بیمان ائیرلائن نے کراچی کے لیے پروازوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، کئی سال بعد بیمان ائیرلائن کی پہلی پرواز 29 جنوری کو ڈھاکا سے کراچی پہنچے گی۔ ابتدائی طور پر بیمان ائیر ہفتہ وار دو پروازیں ڈھاکا اور کراچی کے درمیان چلائے گی۔ اس سے قبل بنگلادیش سے آخری براہِ راست پرواز 2012 میں کراچی آئی تھی۔
بیمان ائیرلائن نے ڈھاکا سے کراچی کے لیے نشستوں کی بکنگ بھی شروع کر دی ہے، اور ٹریول ایجنٹس کے مطابق جیسے ہی بکنگ کھلی، ابتدائی پروازوں کی تمام نشستیں چند گھنٹوں میں مکمل بک ہو گئیں۔ ٹریول ایجنٹس نے کہا کہ پاکستان اور بنگلادیش کے عوام فضائی رابطے کی بحالی پر انتہائی پرجوش ہیں۔
یاد رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حکومتی ہدایات کے مطابق چند دن قبل ہی بیمان ائیرلائن کو کراچی کے لیے براہِ راست پروازوں کی اجازت دی تھی، جبکہ گزشتہ ماہ پی آئی اے اور بیمان ائیر کے درمیان کارگو کی نقل و حمل کے لیے بھی معاہدہ طے پا چکا ہے۔
صادق آباد میں پولیس آپریشن: ایک کروڑ روپے انعام والا ڈاکو ساتھیوں سمیت گرفتار
صادق آباد کے کچہ علاقے میں پولیس کا آپریشن جاری ہے، جس کے دوران ایک کروڑ روپے انعام والے ڈاکو میرالٹھانی ساتھیوں فدا لاٹھانی اور زلفی لاٹھانی کے ہمراہ سرنڈر ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق گھیرا تنگ ہونے پر ملزم اور اس کے ساتھیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ گرفتار اشتہاری ڈاکو قتل، پولیس پر حملے اور اغواء سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ حکومت نے اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی ہوئی تھی۔
ڈی پی او عرفان علی سموں نے کہا کہ ہتھیار چھوڑ کر پرامن زندگی اختیار کرنے والوں کے لیے راستے کھلے ہیں اور سرنڈر کرنے والوں کو بہتر زندگی گزارنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔
نیو مری میں آتشزدگی، شعلے دو گھروں تک پہنچ گئے
نیو مری کے علاقے دربار بابا لعل حسین شاہ کے قریب ایک مکان میں آتشزدگی کے بعد بھڑکتے شعلوں نے قریبی دو گھروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
واقعے کے نتیجے میں قیمتی سامان جل کر راکھ ہوگیا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکار آگ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر امدادی کارروائی کو مؤثر اور تیز تر بنائیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
قومی زبان اردو ہے، آئندہ انگریزی تقریر برداشت نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید بے نظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی جانب سے انگریزی میں کی گئی تقریر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اردو میں خطاب کی ہدایت جاری کر دی۔
پشاور میں یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وائس چانسلر کی انگریزی تقریر انہیں پسند نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور تمام سرکاری و تعلیمی تقاریب میں اسی زبان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آئندہ اگر انگریزی میں تقریر کی گئی تو وہ سخت ردعمل دیں گے، جبکہ تمام جامعات کو اردو میں خطاب کی ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، تاہم ان کے باوجود دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات قوم کو اعتماد میں لے کر کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں غربت اور محتاجی کا یہ عالم نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے لیے بارہا قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
یورپ میں شدید برفباری، معمولاتِ زندگی درہم برہم، حادثات میں 6 افراد ہلاک، سینکڑوں پروازیں منسوخ
یورپ کے مختلف حصوں میں شدید برفباری اور سخت سردی نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ممالک اس وقت شدید سرد لہر کی زد میں ہیں، جہاں درجۂ حرارت میں نمایاں کمی اور مسلسل برفباری ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق خراب موسم کے باعث سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور فضائی نظام متاثر ہوا ہے، جب کہ مختلف حادثات میں اب تک 6 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ فرانس کے دو مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں 5 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو میں ایک خاتون سرد موسم سے متعلق حادثے میں جان کی بازی ہار گئی۔
شدید برفباری کے باعث یورپ بھر میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ پیرس اور ایمسٹرڈیم کے بڑے ہوائی اڈوں پر بڑی تعداد میں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایئرلائنز نے مسافروں کو سفری منصوبوں میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق موسم کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
سنبل صدیقی تیسری بار کیمبرج کی میئر منتخب، برہان عظیم ڈپٹی میئر بن گئے
امریکا میں پاکستانی نژاد سنبل صدیقی سال 2026 سے 2027 کے لیے تیسری مرتبہ کیمبرج سٹی کی میئر منتخب ہو گئی ہیں، جبکہ کم عمر ترین کونسلر برہان عظیم کو کیمبرج سٹی کا ڈپٹی میئر منتخب کر لیا گیا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور امریکی سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ کیمبرج کی پہلی مسلمان اور ایشیائی خاتون ہیں جو تیسری بار میئر کے عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ سنبل صدیقی پہلی مرتبہ 2017 میں سٹی کونسل کی رکن منتخب ہوئیں، جبکہ 2020 سے 2024 کے دوران وہ دو مرتبہ کیمبرج کی میئر رہ چکی ہیں۔ وہ میساچوسٹس کی تاریخ میں بھی کیمبرج کی پہلی مسلمان میئر ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔
دوسری جانب بورے والا سے تعلق رکھنے والے برہان عظیم، جو ایم آئی ٹی یونیورسٹی سے انجینیئر ہیں، کیمبرج کی تاریخ کے سب سے کم عمر کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ اب انہیں ڈپٹی میئر کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے، جسے شہر کی مقامی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ہمیشہ ساتھ چلنے والا خودکار سولر چارجر، توانائی کا نیا حل
جدید دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز بیٹری پر چلتی ہیں، جنہیں بار بار چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر ہر جگہ بجلی تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر ایک منفرد خودکار سولر چارجر متعارف کرا دیا گیا ہے۔
لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرونکس شو (CES) کے دوران جیکری نامی کمپنی نے “سولر مارس بوٹ” کے نام سے ایک جدید سولر پاور اسٹیشن پیش کیا۔ اس ڈیوائس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صارف کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
سولر مارس بوٹ میں 5 کلو واٹ کی طاقتور بیٹری نصب ہے جبکہ اس کے ساتھ چار سولر پینلز لگے ہوئے ہیں، جو سورج کی روشنی سے 300 واٹ تک بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ پہیوں کی موجودگی کے باعث یہ ڈیوائس کھلی جگہوں پر حرکت کرتے ہوئے سورج کی سمت کو خودکار طور پر فالو کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کی جا سکے۔
اس میں نصب جدید کیمرے صارف کی حرکات کو شناخت کرتے ہیں، جس کے باعث یہ سولر چارجر نہ صرف سورج کی روشنی بلکہ آپ کی نقل و حرکت کا بھی تعاقب کرتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں متبادل توانائی کے استعمال کو مزید آسان اور مؤثر بنا سکتی ہے۔
بھارتی کرکٹ پریزینٹر ریدھیما پٹھک نے بی پی ایل سے اخراج کی خبروں پر وضاحت جاری کر دی
بھارتی کرکٹ پریزینٹر ریدھیما پٹھک نے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) سے نکالے جانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر خاموشی توڑ دی ہے۔
حال ہی میں یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے نکالے جانے کے بعد، ردعمل کے طور پر ریدھیما پٹھک کو بھی بی پی ایل سے ہٹا دیا گیا ہے۔
تاہم ریدھیما پٹھک نے ان خبروں کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ انہیں بی پی ایل سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس بے بنیاد ہیں اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف شہروں میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 35 ہو گئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور مغربی علاقوں میں مظاہرے ہوئے اور تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں تقریباً 250 پولیس اہلکار اور 45 بسیج فورس کے ارکان زخمی ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ 10 روز سے جاری ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ہر شہری کو ماہانہ مالی الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔
سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق ہر فرد کو ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) کے برابر رقم چار ماہ کے لیے ان کے اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔ یہ رقم نقد کے بجائے مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کی جا سکے گی اور اس کا مقصد عوام پر معاشی دباؤ کو کم کرنا ہے۔









