کراچی میں گرفتار بدنام زمانہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات میں ایک اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ملزمہ کا نیٹ ورک پوش علاقوں کے نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر طلبہ کو منشیات کی لت میں مبتلا کرنے کے لیے منظم انداز میں سرگرم تھا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے ملزمہ کے نیٹ ورک سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائی، جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
رپورٹ کے مطابق انمول پنکی کا گینگ نجی اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو خاص طور پر نشانہ بنا رہا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ نوجوانوں اور کم عمر بچوں کو ابتدا میں “رعایتی پیکجز” دے کر منشیات کا عادی بنانے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ وہ مستقل خریدار بن جائیں۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جو طلبہ زیادہ مقدار میں منشیات خریدتے تھے، انہیں خصوصی رعایت اور سہولت دی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ حکمت عملی نوجوانوں کو جلد نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔
پولیس نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملزمہ سے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انمول پنکی کی نشاندہی پر ان سہولت کاروں کی شناخت بھی کرنا مقصود ہے جو تعلیمی اداروں کے اندر بیٹھ کر اس نیٹ ورک کی مدد کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق اس منشیات نیٹ ورک کی جڑیں پوش علاقوں کے تعلیمی اداروں تک پھیلی ہوئی ہیں، جس کے باعث والدین اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد اب ان تمام افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جو نوجوان نسل کو اس خطرناک کاروبار کا شکار بنا رہے تھے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

کراچی میں منشیات نیٹ ورک کا خوفناک انکشاف، طلبہ کو رعایتی پیکجز پر کوکین فروخت کیے جانے کا دعویٰ
-

برطانوی وزیر صحت ویس سٹریٹنگ مستعفی، وزیراعظم سٹارمر کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار
برطانیہ کے وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وزیراعظم کیئر سٹارمر کی قیادت پر کھل کر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ویس سٹریٹنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں کہا کہ اب انہیں وزیراعظم کی قیادت پر “اعتماد نہیں رہا” اور موجودہ صورتحال میں حکومت کا حصہ رہنا ان کے لیے “باعزت اور اصولی رویے کے خلاف” ہوگا۔
اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) اب بحالی کے راستے پر گامزن ہے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے حکومت کی مجموعی کارکردگی اور سیاسی سمت پر شدید تنقید کی۔
ویس سٹریٹنگ کے مطابق حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والی شکست غیر معمولی تھی اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غیر مقبولیت اس ناکامی کی بڑی وجہ بنی جبکہ بعض پالیسی فیصلوں، خصوصاً سرمائی فیول الاؤنس میں کٹوتی، نے عوامی ناراضی میں اضافہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں قوم پرست سیاست کے بڑھتے رجحانات ملک کے اتحاد، جمہوری اقدار اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیبر پارٹی عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی کہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہے۔
اگرچہ ویس سٹریٹنگ نے کیئر سٹارمر کی بعض خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی دلائی اور عالمی سطح پر قیادت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “جہاں وژن کی ضرورت ہے وہاں خلا ہے، اور جہاں سمت درکار ہے وہاں بہکاوا دکھائی دیتا ہے۔”
اپنے استعفیٰ کے اختتام پر ویس سٹریٹنگ نے کہا کہ وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دینا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا، اور حکومت چھوڑنے پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ -
پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ہوگی نہ بجٹ منظور ہوگا، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئینی ترمیم ممکن ہے اور نہ ہی بجٹ کی منظوری دی جا سکتی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک اس وقت شدید مالی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کی مشکلات اور تکالیف کا احساس ہے اور سب کو مل کر ریلیف فراہم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں وزیراعظم کی جانب سے عوامی ریلیف کے اقدامات کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے صوبوں سے بھی مہنگائی کم کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ تعاون کی درخواست کی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے موٹرسائیکل سواروں کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق اور صوبے مل کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ طبقے کو کچھ سہارا مل سکے۔
قومی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکا ایران کشیدگی جیسے معاملات قومی اہمیت رکھتے ہیں، اور ایسے مواقع پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حب الوطنی کے جذبے کے تحت ہمیشہ یکجہتی کا پیغام دیا گیا۔
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کے بیانیے کو شکست دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاک بھارت جنگ کے بعد وزیراعظم نے انہیں امن کمیٹی کی سربراہی سونپی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق انہیں کوئی باضابطہ پیش کش نہیں کی گئی، تاہم ان کا ماننا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سفارتی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی معاملات میں تمام سیاسی قوتیں پاکستان کے مفاد میں ایک ہوجاتی ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ دفاعی معاہدوں سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل متحدہ عرب امارات پر گرے۔ -

سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ، فی تولہ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد سونا نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے چوتھے روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 1000 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 92 ہزار 362 روپے تک پہنچ گیا۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 858 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 22 ہزار 121 روپے ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی مارکیٹ بھی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی دباؤ اور مختلف ممالک میں جاری معاشی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں نے بتایا کہ سونے کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام خریدار کی قوت خرید بری طرح متاثر کر دی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود خریداری میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جبکہ بیشتر شہری صرف پرانے زیورات کی تبدیلی تک محدود ہو گئے ہیں۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث متوسط طبقے کے لیے سونا خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی خاندان اب شادیوں میں سونے کے روایتی تحائف کم کرنے پر مجبور ہیں۔
معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں مقامی سطح پر بھی مزید مہنگائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ -

سعودی وزارت حج کی عازمین کیلئے اہم ہدایات جاری، شدید گرمی میں احتیاط کی تاکید
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جبکہ سعودی وزارتِ حج و صحت نے شدید گرمی کے پیش نظر عازمین کے لیے خصوصی رہنما گائیڈ جاری کر دی ہے تاکہ حجاج کرام محفوظ اور بہتر انداز میں عبادات ادا کر سکیں۔
رپورٹس کے مطابق اب تک 8 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور حج کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ کئی برسوں سے حج کا سیزن شدید گرمی میں آ رہا ہے اور رواں سال بھی سعودی عرب میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند ہے۔
سعودی وزارتِ صحت نے اردو سمیت آٹھ مختلف زبانوں میں حج رہنما گائیڈ جاری کی ہے، جسے پی ڈی ایف فارمیٹ میں آسانی سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ گائیڈ میں عازمین کو سفرِ حج کے آغاز سے اختتام تک احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
گائیڈ بک کے مطابق عازمین کو سفر سے پہلے مکمل طبی معائنہ کروانے اور اپنی جسمانی صحت کے بارے میں تسلی کر لینے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ دورانِ حج کسی مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزارتِ حج نے خاص طور پر شدید دھوپ اور ہیٹ ویو سے بچاؤ پر زور دیا ہے۔ عازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشاعرِ مقدسہ میں رہتے ہوئے براہِ راست دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور لو لگنے کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
گائیڈ میں خوراک کے حوالے سے بھی اہم ہدایات شامل کی گئی ہیں۔ عازمین کو تاکید کی گئی ہے کہ صرف تازہ اور محفوظ کھانا استعمال کریں، کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور ایسی خوراک سے مکمل پرہیز کریں جو گرمی میں زیادہ دیر باہر رکھی گئی ہو۔
وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ حج ایک جسمانی مشقت والا سفر ہے، اس لیے اپنی صحت، صفائی اور خوراک کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ عبادات سکون اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جا سکیں۔ -

قرض نادہندگان کی جائیداد پر قبضے کا اختیار، فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل 2026 منظور
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے “فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل 2026” کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بینکوں کو قرض نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔
بل کے مطابق اگر کوئی شخص بینک سے لیا گیا قرض مقررہ وقت پر واپس نہ کرے تو بینک کو اس کی جائیداد پر قبضہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم بینک براہِ راست کارروائی سے قبل 90 دنوں کے اندر قرض لینے والے کو تین نوٹسز بھیجنے کا پابند ہوگا۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی پراپرٹی پر قبضے کے لیے بینک حکومت کو باقاعدہ درخواست دے گا اور قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
ترمیمی بل میں ہاؤس فنانسنگ لینے والے افراد کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ نئے قانون کے تحت ہاؤس فنانسنگ کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد کسی تیسرے فریق کو کرایے پر نہیں دی جا سکے گی۔
بل کی ایک متنازع شق کے مطابق قرض نادہندہ شخص کا نام اور گھر کا پتہ اخبارات میں شائع کیا جا سکے گا۔ اس شق پر کمیٹی رکن جاوید حنیف نے شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کا نام اور پتہ عوامی سطح پر شائع کرنا انسانی وقار اور پرائیویسی کے خلاف ہے۔
بل میں قرض لینے والوں کے لیے ایک ریلیف بھی رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی صارف بعد میں رقم کا بندوبست کر لیتا ہے تو وہ بینک کو 30 دنوں کے اندر تحریری درخواست دے کر تصفیے کی درخواست کر سکتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون میں بینکوں کے مفادات کو تو مکمل تحفظ دیا گیا ہے، مگر صارفین اور عام شہریوں کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
کمیٹی اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہاؤس فنانسنگ لینے والے متوسط طبقے کے شہری پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں سخت شرائط ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ -

ایران نے کویت میں پاسدارانِ انقلاب کے ارکان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی
ایران نے کویت میں اپنے پاسدارانِ انقلاب کے چار ارکان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے، تاہم کویتی حکام کی جانب سے لگائے گئے تخریب کاری اور دراندازی کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے گرفتار ارکان معمول کے بحری گشت پر تھے کہ ان کی کشتی کے نیویگیشن سسٹم میں اچانک فنی خرابی پیدا ہو گئی۔ ایران کے مطابق اسی خرابی کے باعث کشتی غیر ارادی طور پر کویتی سمندری حدود میں داخل ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار افراد کا مقصد کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا تخریبی کارروائی نہیں تھا اور ایران اس معاملے کو ایک حادثاتی واقعہ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب کویتی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار افراد میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے دو کرنل، ایک کیپٹن اور ایک لیفٹیننٹ شامل ہیں۔ کویتی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران ان افسران نے اعتراف کیا کہ ان کا مشن کویت کے بوبیان جزیرے میں داخل ہونا تھا۔
کویتی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی اور تخریبی سرگرمی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
کویت نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود ہے، ایسے میں اس واقعے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی سطح پر معاملہ حل نہ کیا گیا تو خطے میں تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ -

پیٹرول پمپس سرمایہ کاری اسکینڈل، اربوں روپے فراڈ کا انکشاف
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں پیٹرول پمپس میں سرمایہ کاری کے نام پر اربوں روپے کے بڑے فراڈ کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں کئی بااثر شخصیات، سرکاری افسران اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ مرکزی ملزم عادل اکرام کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف تحقیقاتی ادارے معاملے کی چھان بین میں مصروف ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزم عادل اکرام شہریوں کو پیٹرول پمپس کے کاروبار میں بھاری منافع اور تیز واپسی کا لالچ دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کرتا تھا۔ اس طریقے سے اس نے مبینہ طور پر اربوں روپے اکٹھے کیے۔
ملزم کے خلاف اسلام آباد کے تین مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سمیت دیگر علاقوں میں بھی فراڈ کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس وقت ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ اہم انکشاف بھی ہوا کہ عادل اکرام مبینہ طور پر کئی اہم سیاسی اور انتظامی شخصیات کے “فرنٹ مین” کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم میں بعض سرکاری افسران نے بھی حصہ وصول کیا اور ملزم کو مبینہ تحفظ فراہم کیا گیا۔
حکام کے مطابق تحقیقات اب صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں بلکہ فراڈ کے بین الاقوامی پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے منی لانڈرنگ کے امکان کے تحت یہ جانچ شروع کر دی ہے کہ آیا سرمایہ کاروں سے حاصل کی گئی رقم بیرون ملک منتقل تو نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق مختلف مالیاتی ریکارڈ، بینک ٹرانزیکشنز اور جائیدادوں کی چھان بین جاری ہے تاکہ متاثرہ افراد کی رقم کا سراغ لگا کر اسے برآمد کیا جا سکے۔ -

اسرائیلی ڈرون حملہ، بیروت سے جنوبی لبنان جانے والی شاہراہ پر 8 افراد شہید
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی اہم شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد شہید ہو گئے۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کر دیں۔
رپورٹس کے مطابق حملہ ایک مصروف شاہراہ پر کیا گیا جہاں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات میں شہداء کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں مجموعی طور پر کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جبکہ شہری آبادی شدید خوف میں مبتلا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث لبنان اور اسرائیل کے درمیان صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگی صورتحال پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔ -

ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی
ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی حکام کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں سفر کرنا ہوگا تاکہ “محفوظ آمدورفت” کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایرانی افواج کے “اسٹریٹجک کنٹرول” میں ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ایران خطے میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی قومی سلامتی یا علاقائی استحکام کے خلاف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈوں کے لیے اسلحہ یا فوجی سامان لے جانے والے جہازوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے “اسٹریٹجک کنٹرول” کے دعوے اور امریکی فوجی سامان کی ترسیل روکنے کی وارننگ خطے میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔