ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر میں ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلوں کیلئے نئی اور سخت پالیسی نافذ کرتے ہوئے سال 2026 کے سمسٹر سے انٹری ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
نئی تعلیمی گائیڈ لائنز کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری یا نجی یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کیلئے اپنا الگ انٹری ٹیسٹ منعقد نہیں کر سکے گی۔
ایچ ای سی کے مطابق تمام جامعات میں داخلے اب صرف ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ (HAT) یا گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشن (GRE) کی بنیاد پر دیے جائیں گے، جو ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہوں گے۔
کمیشن نے میرٹ اور شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کی بعض شقیں فوری طور پر واپس لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک بھر کی جامعات میں داخلوں کیلئے ایک یکساں، معیاری اور شفاف قومی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
کمیشن نے تمام سرکاری اور نجی جامعات کو نئی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مختلف یونیورسٹیوں کے الگ الگ داخلہ ٹیسٹوں کا خاتمہ ہوگا، جس سے طلبہ پر مالی اور ذہنی دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بعض طلبہ اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مرکزی ٹیسٹنگ سسٹم سے داخلوں میں شفافیت تو بڑھے گی، تاہم دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کیلئے تیاری اور رسائی کے مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگی۔
ایچ ای سی کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق 2026 کے تعلیمی سیشن سے ہوگا اور تمام جامعات کو اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایچ ای سی نے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا
-

شاہراہ بھٹو کا جلد افتتاح ہوگا، کراچی میں بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے: شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ شاہراہ بھٹو کا جلد افتتاح کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر شہریوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ مکس ٹریفک ہے، تاہم بی آر ٹی منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ٹریفک مسائل کے حل کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں کئی میگا پروجیکٹس پر کام جاری ہے، جن میں جدید اسپتال، یونیورسٹیاں، اسپورٹس گراؤنڈز، سڑکیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
شرجیل میمن کے مطابق سندھ حکومت عوام کی سہولت اور فائدے کیلئے یہ منصوبے مکمل کر رہی ہے، اگرچہ تعمیراتی کاموں کے دوران شہریوں کو وقتی مشکلات اور پریشانی کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پوری ٹیم مختلف منصوبوں کا دورہ کر رہی ہے، جبکہ کراچی میونسپل کارپوریشن اور دیگر محکمے بھی ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔
منشیات کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ منشیات ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور حکومت سندھ صوبے سے اس ناسور کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انمول عرف پنکی سے منشیات خریدنے والوں کی پگڑیاں اچھالنا مقصد نہیں، بلکہ اصل ہدف پورے منشیات نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ منشیات فروش نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے بچایا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اہم سمجھے جا رہے ہیں، تاہم ٹریفک اور تعمیراتی مسائل عوام کیلئے بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔ -

باکو میں مریم نواز کا شاندار سفارتی استقبال، آذربائیجان سے تعلقات مزید مضبوط کرنے پر اتفاق
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچنے پر شاندار سفارتی استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے اہم ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں اطراف کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سفارتی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔
مریم نواز شریف نے صدر الہام علیئیف کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور سلام کا پیغام پہنچایا، جس پر آذربائیجان کے صدر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا سلام بھی پاکستانی قیادت تک پہنچانے کی درخواست کی۔
صدر الہام علیئیف نے اس موقع پر اپنے والد اور آذربائیجان کے قومی رہنما حیدر علیئیف اور نواز شریف کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بھی یاد کیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اقوام متحدہ کے ورلڈ اربن فورم کے 13ویں اجلاس میں شرکت کی دعوت پر آذربائیجان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور فورم کے شاندار انتظامات کو سراہا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ باکو ثقافت، تاریخ اور جدید شہری منصوبہ بندی کا حسین امتزاج ہے، جس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
ملاقات کے دوران حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی سفارتی کوششوں کو علاقائی استحکام کیلئے اہم قرار دیا گیا۔
اس موقع پر آذربائیجان کے “آسان خدمت” ماڈل کی طرز پر پاکستان میں جدید سہولت مراکز کے قیام سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں توازن برقرار رکھنے کیلئے نہایت اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، جبکہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے باعث عالمی سطح پر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران امریکا کشیدگی میں امن، تدبر اور مذاکرات کی حمایت کر کے ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
صدر الہام علیئیف نے بھی پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی تعاون کو خطے کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیا۔ -

ایف پی سی سی آئی کی بجٹ 2026-27 کیلئے بڑی تجاویز
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کیلئے اہم تجاویز وزارت خزانہ کو ارسال کر دی ہیں، جن میں تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی، سپر ٹیکس کے خاتمے اور کاروباری شعبے کیلئے بڑے ریلیف کی سفارشات شامل ہیں۔
ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس کی شرح 36 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے، جبکہ 9 فیصد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نان ٹیکس ایبل آمدن کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے سالانہ کی جائے تاکہ متوسط طبقے پر مالی دباؤ کم ہو سکے۔
وفاقی ایوان تجارت نے برآمدات میں اضافے کیلئے گڈز ایکسپورٹرز کیلئے فائنل ٹیکس ریجیم (FTR) بحال کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ آئی ٹی سیکٹر پر عائد 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو 2035 تک برقرار رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ آئی ٹی برآمدات میں تسلسل برقرار رہے۔
ایف پی سی سی آئی نے ایس ایم ای سیکٹر کیلئے ٹرن اوور کی حد 250 ملین سے بڑھا کر 500 ملین کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مزید سہولت مل سکے۔
بجٹ تجاویز میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے تاکہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ طویل المدتی اور مستحکم پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، اس لیے آئندہ بجٹ میں اسے مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
عاطف اکرام نے مزید کہا کہ 2022 میں پاکستان کی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اب وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کوششوں سے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت، ایف پی سی سی آئی اور بزنس کمیونٹی مل کر تمام معاشی چیلنجز پر قابو پا سکتی ہے، جبکہ آنے والا بجٹ پاکستان کے بہتر ہوتے سفارتی اور معاشی تشخص کی عکاسی کرے گا۔ -

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 5 روپے فی لیٹر سستا کر دیا
حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کمی کے بعد نئی قیمت 409 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 5 روپے کم ہونے کے بعد 409 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا، جس کے تحت پیٹرول 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا اور نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے مقرر کی گئی تھی۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
حالیہ کمی کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ 5 روپے کمی اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن حالیہ بڑے اضافوں کے مقابلے میں یہ ریلیف ناکافی محسوس ہو رہا ہے۔ -

اسرائیل غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض: بنیامین نیتن یاہو
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی منصوبے میں طے شدہ حدود سے آگے بڑھتے ہوئے غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کر رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر شدید حملے اور خونریزی جاری ہے، جبکہ جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور مستقل امن کے لیے جاری سفارتی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ “گزشتہ دو برسوں میں ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہماری قوم، ریاست، فوج اور ورثے میں کتنی طاقت موجود ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لے آئے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ غزہ سے نکل جاؤ، لیکن ہم نہیں نکلے۔ آج ہم 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔”
رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے امریکی ثالثی میں جاری جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو غزہ میں ایک مخصوص “ییلو لائن” تک محدود رہنا تھا، جس کے تحت اسرائیل تقریباً 50 فیصد سے کچھ زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتا تھا۔
تاہم نیتن یاہو کا حالیہ بیان اس بات کا پہلا سرکاری اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج اب اپنے کنٹرول کا دائرہ مزید وسیع کر رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں ایک نئی “اورنج لائن” تک پیش قدمی کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے جنگ بندی کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں بڑھتے انسانی بحران پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ -

انمول عرف پنکی کے منشیات نیٹ ورک کا مکمل ڈیٹا تیار
کراچی میں مبینہ طور پر منشیات فروشی کا بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے ہینڈلرز، کیریئرز اور رائیڈرز کا مکمل ڈیٹا مرتب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تیار کی گئی خصوصی ڈیٹا رپورٹ میں ملزمان کی تصاویر، کردار اور نیٹ ورک کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں منشیات کی سپلائی کے لیے 3 مرکزی ہینڈلرز اور 22 کیریئرز سرگرم تھے۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈلرز سے منشیات کیریئرز تک پہنچتی تھیں اور پھر رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں موجود صارفین تک سپلائی کی جاتی تھی۔
ذرائع کے مطابق حمزہ، عباس اور عاقب کراچی میں پنکی کے مرکزی ہینڈلرز تھے، جبکہ ان افراد سے رابطہ پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پنکی کے ڈرگ کارٹیل میں 3 خواتین بھی شامل تھیں، جنہیں مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی منشیات میں مختلف کیمیکلز ملا کر انہیں مزید تیار کیا جاتا تھا، اور یہ کام پنکی کا بھائی ناصر انجام دیتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے 8 رائیڈرز لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے کراچی آ کر منشیات کی ڈیلیوری کرتے تھے۔
حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی جڑیں صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ دیگر شہروں اور بیرون ملک روابط کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنکی کے نیٹ ورک میں افریقی باشندوں کے رابطوں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ منشیات سپلائی کے اس منظم نیٹ ورک کے مالی معاملات، سہولت کاروں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ -

حزب اللہ کے ڈرونز سے بچاؤ کیلئے اسرائیلی فوج نے حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر فوجی گاڑیوں، چوکیوں اور تنصیبات پر حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اقدام حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ حساس فوجی مقامات اور گاڑیوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 58 ہزار مربع میٹر حفاظتی جال فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید ایک لاکھ 88 ہزار مربع میٹر جال خریدنے کا عمل جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق مجموعی طور پر حاصل کیے گئے حفاظتی جال کا رقبہ تقریباً 20 فٹبال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جال فوجی گاڑیوں، چیک پوسٹس اور دیگر تنصیبات پر نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ FPV ڈرونز کے حملوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق FPV ڈرونز جدید جنگ میں تیزی سے اہم ہتھیار بنتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ کم لاگت کے باوجود انتہائی مؤثر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے نے اسرائیلی فوج کو نئی دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کی سرحد پر حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے، جبکہ دونوں جانب سے ڈرونز اور راکٹ حملوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔ -

چین کا امریکا اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے اور عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کے نزدیک آبنائے ہرمز کے بحران کا مستقل حل امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور پائیدار جنگ بندی میں پوشیدہ ہے۔
چینی نیوز ایجنسی کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ گفتگو میں واضح کیا کہ طاقت اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جبکہ مذاکرات ہی واحد درست راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات فوری طور پر کامیاب نہیں ہوتے، لیکن ایک بار جب بات چیت کا دروازہ کھل جائے تو اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ خطے میں استحکام کی بحالی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
وانگ ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی پوری دنیا کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ خلیجی خطہ عالمی تیل سپلائی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی بڑی معیشت ہونے کے ناطے مشرق وسطیٰ میں استحکام کا خواہاں ہے تاکہ توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستے محفوظ رہیں۔ -

ٹرمپ کے ساتھ چین جانے والے امریکی عملے نے دی گئی تمام اشیا وہیں پھینک دیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات سامنے آئے ہیں، جہاں واپسی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی تمام اشیا وہیں تلف کر دیں۔
امریکی وفد کے ساتھ موجود صحافی ایملی گڈان نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ائیر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی جانب سے دیے گئے شناختی کارڈز، عارضی برنر فونز اور دیگر سامان ایک ڈبے میں جمع کر کے پھینک دیا۔
رپورٹ کے مطابق چین کی طرف سے دی گئی کسی بھی چیز کو امریکی طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے اس دورے کے دوران سخت سائبر سکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ چینی سکیورٹی سسٹمز کے ذریعے الیکٹرانک جاسوسی کی جا سکتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفد کے کئی اراکین اپنے ذاتی موبائل فونز اور لیپ ٹاپس ساتھ لے کر ہی نہیں گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہیکنگ یا نگرانی کے خطرے سے بچا جا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ چینی ٹیکنالوجی یا نیٹ ورکس کے ذریعے ذاتی ڈیوائسز کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، اسی لیے دورے کے دوران خصوصی برنر فونز استعمال کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور سائبر سکیورٹی خدشات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں عدم اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران اس نوعیت کے سکیورٹی اقدامات غیر معمولی ضرور ہیں، لیکن موجودہ عالمی حالات میں حساس معلومات کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔