واشنگٹن میں صحافیوں کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں نے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوری اقدار اور صحافتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ امریکی صدر، خاتون اول اور دیگر شرکا اس واقعے میں محفوظ رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اداروں اور آزاد صحافت کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے صدر کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت اور تشدد کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں، جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس حملے کو افسوسناک قرار دیا۔
جرمن چانسلر کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف ایک ملک بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
عالمی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں جمہوری نظام اور صحافتی آزادی کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس فائرنگ پر عالمی رہنماؤں کی مذمت
