اسرائیل کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریفوں نے آئندہ انتخابات کے لیے مشترکہ اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ نے اپنی جماعتوں کو یکجا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد موجودہ حکومت کو شکست دینا اور ایک مضبوط متبادل قیادت سامنے لانا ہے۔
یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کو متحد کرنا، اختلافات کو ختم کرنا اور تمام تر توانائیاں آئندہ انتخابات جیتنے پر مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک واضح سمت دینے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔
نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی سیاسی جماعت کا نام ’ٹوگیدر‘ رکھا گیا ہے، جو مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی علامت ہے۔
یاد رہے کہ بینیٹ اور لیپڈ اس سے قبل بھی اتحاد کر چکے ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں انہوں نے نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا، تاہم ان کی مشترکہ حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور تقریباً 18 ماہ بعد ختم ہو گئی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ اتحاد نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل داخلی اور خارجی سطح پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف بڑا انتخابی اتحاد قائم
