پنجاب میں واٹس ایپ ہیکنگ اور نقالی پر مبنی فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر محکمہ داخلہ نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں تمام سرکاری محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں حاضر سروس سرکاری افسران کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیکیورٹی خدشات کو بڑھایا ہے بلکہ سرکاری نظام میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
حکام کے مطابق سائبر مجرم ہیک شدہ اکاؤنٹس کے ذریعے افسران کے قریبی رابطوں، ساتھیوں اور ماتحت عملے کو جعلی پیغامات بھیجتے ہیں۔ ان پیغامات میں عموماً فوری مالی مدد کی درخواست کی جاتی ہے، جس سے کئی افراد دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ فراڈیے عوامی طور پر دستیاب معلومات جیسے نام، عہدہ اور تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے انتہائی قابلِ یقین ڈیجیٹل شناخت تیار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہری اور سرکاری ملازمین باآسانی دھوکے میں آ جاتے ہیں۔
محکمہ داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی فوری نشاندہی کریں، سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط بنائیں اور عوام میں بھی آگاہی پیدا کریں تاکہ اس بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ کسی بھی مشکوک پیغام یا مالی درخواست کی تصدیق ضرور کریں اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں، تاکہ اس قسم کے فراڈ سے بچا جا سکے۔