امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک نئی سفارتی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت افریقی ملک اریٹریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بحیرۂ احمر کے علاقے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے ملک کے ساتھ روابط بحال کرنے پر غور کر رہی ہے جو طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، مگر اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اس خطے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اریٹریا کو اکثر ’’افریقہ کا شمالی کوریا‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا حکومتی نظام سخت اور بند نوعیت کا ہے۔
اریٹریا کی سب سے بڑی اہمیت اس کی بحیرۂ احمر کے ساتھ تقریباً 700 میل طویل ساحلی پٹی ہے، جو عالمی تجارتی راستوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایران کے ممکنہ اثر کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر مشیر مسعد بولس نے مختلف ممالک کے نمائندوں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا اریٹریا پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کئی دہائیوں سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانا اور سفارتی سطح پر نئی شروعات کرنا ہے۔
دوسری جانب، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اریٹریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کی صورتحال اور ملک کے سخت حکومتی نظام کی وجہ سے عالمی سطح پر خدشات پائے جاتے ہیں، جس کے باعث اس عمل کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا نیا قدم، اریٹریا سے تعلقات بحالی کی کوشش
