بیجنگ: چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا بازوں محمد ذیشان اور خرم داؤد کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جو جلد چین میں تربیت حاصل کریں گے۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں خلا بازوں میں سے ایک کو مستقبل میں چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ بھیجنے کا امکان ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو کوئی پاکستانی خلا باز پہلی بار چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرے گا، جو پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی ہوگی۔
چائنا ڈیلی کے مطابق پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب اور تربیت چین کے خلائی پروگرام میں بین الاقوامی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کو خلائی میدان میں عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خلائی پروگرام ہمیشہ سے پرامن مقاصد اور انسانیت کی بہتری کے لیے وقف رہا ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلائی تجربات اور کامیابیوں کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کا مینڈ اسپیس پروگرام مختلف ممالک کے ساتھ سائنسی تجربات، تکنیکی آزمائشوں اور خلا بازوں کی تربیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا تاکہ انسانیت کو کائنات کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی اور پاکستان کے ادارے سپارکو کے درمیان اسلام آباد میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت کے لیے باقاعدہ تعاون کا آغاز کیا گیا تھا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا باز منتخب
-

کروڈ آئل بحران، اٹک ریفائنری کا مین یونٹ بند
اٹک: کروڈ آئل کی سپلائی معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری نے اپنا مرکزی پیداواری یونٹ بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور ترسیل بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ کمپنی حکام کے مطابق جب تک سپلائی کا نظام بہتر نہیں ہوتا، پلانٹ بند ہی رہے گا۔
ریفائنری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کروڈ آئل کی مسلسل کمی کے باعث پیداوار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس پر مجبوراً مین یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس یونٹ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 32 ہزار 400 بیرل تھی، جو ملک میں ایندھن کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
حکام کے مطابق ریفائنری میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث تیار مصنوعات کا اسٹاک بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آپریشنل نظام کو متاثر کیا بلکہ مالی نقصانات کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
اٹک ریفائنری نے متعلقہ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی اس پیش رفت سے مطلع کر دیا ہے تاکہ کاروباری اثرات کے حوالے سے شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ -

چین کی ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر سفارتی حل کی حمایت
چین نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ اعلان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس پیش رفت پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یکطرفہ طور پر کیا ہے۔ تہران نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں ایران نے اقوام متحدہ سے بحیرہ عمان میں امریکی کارروائی کی مذمت کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ناگزیر ہیں۔ -

امریکا ایران کشیدگی، بھارت میں غربت اور مہنگائی کا طوفان
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے گہرے اثرات بھارت جیسے بڑے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ بھارت، جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گیس کی شدید قلت کے باعث کئی صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں یا جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑا ہے۔ صنعتی شعبے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال نے مجموعی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے۔ کئی شہروں میں عوام نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج بھی شروع کر دیے ہیں۔ -

ایران کا انتباہ، لڑائی دوبارہ ہوئی تو دشمن کو تباہ کن جواب ملے گا
ایران کی پاسداران انقلاب گارڈز نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی دوبارہ جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو دشمن کو بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو دشمن کے باقی ماندہ عسکری اور اسٹریٹیجک اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو “نام نہاد” قرار دیتے ہوئے اس دوران دشمن کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی غیر معمولی حرکت یا خلاف ورزی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں فریقین بیک وقت سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ -

جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز پر ایران کی سرگرمیاں تیز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی خطے کی صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نے بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ یہ پیش رفت امن مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تجارتی جہازوں کو روک لیا۔ اگرچہ اس دوران کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایک انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف جنگ بندی پر دباؤ بڑھے گا بلکہ یہ خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کہ جاری ڈیڈلاک کے دوران کسی بھی وقت تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو ایران کے لیے خود نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تہران کو معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑے گا، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اس معاملے کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اپنے مطالبات منوانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھنے اور کسی بھی وقت حالات بگڑنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ -

ایران کا مؤقف، پاکستان مذاکرات پر فیصلہ تاحال نہیں ہوا
تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور جب مذاکرات کو نتیجہ خیز سمجھا جائے گا تو شرکت سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے متضاد بیانات اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں، جس سے اعتماد کی فضا متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے جنگ کا آغاز کیا اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل پیچیدگی کا شکار ہو گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی ذمہ دارانہ طرز عمل اپنائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں، ایک جنگ اور دوسرا سفارتکاری۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور اسی تناظر میں تمام فیصلے کیے جائیں گے۔ -
ایرانی وزیر خارجہ کا سخت بیان، بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگ قرار
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کھلی جارحیت ہے اور اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ جاری جنگ بندی کی بھی واضح خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کسی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اور اس کے عملے کو یرغمال بنانا انتہائی سنگین اقدام ہے، جو عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو بخوبی علم ہے کہ پابندیوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، اپنے قومی مفادات کا دفاع کیسے کرنا ہے اور کسی بھی قسم کی دھونس کے سامنے کیسے کھڑا ہونا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر سمندری تجارت کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر اہم بحری راستوں میں سیکیورٹی کے مسائل نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل بحال ہو سکے۔ -

ایران کی خاموشی، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر
اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے واضح جواب نہ ملنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی پاکستانی وقت کے مطابق 22 اپریل کی صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں مذاکرات کی بحالی اور پیش رفت خطے کے امن کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ منسوخ نہیں بلکہ عارضی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ شیڈول کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکا اس کے بعد کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ کسی طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ اس بیان نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت ہی مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کرے گا جب اسے یقین ہو گا کہ بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ -

اسلام آباد امن مذاکرات، ایران کا جواب تاحال موصول نہیں: عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایران کی جانب سے وفد کی شرکت کی باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام مسلسل ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور سفارتی سطح پر بات چیت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے تاکہ مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں۔
پاکستان اس پورے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دو ہفتوں کے لیے جاری جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے بعد صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اس سے خطے میں امن کے امکانات جڑے ہوئے ہیں۔
پاکستانی سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کی شرکت نہ صرف مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دے گی بلکہ کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اسی لیے پاکستان نے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کے لیے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایران جلد مثبت فیصلہ کرے گا