Baaghi TV

جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز پر ایران کی سرگرمیاں تیز

hormas

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی خطے کی صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نے بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ یہ پیش رفت امن مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
‎اطلاعات کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تجارتی جہازوں کو روک لیا۔ اگرچہ اس دوران کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایک انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف جنگ بندی پر دباؤ بڑھے گا بلکہ یہ خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کہ جاری ڈیڈلاک کے دوران کسی بھی وقت تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
‎دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو ایران کے لیے خود نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تہران کو معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑے گا، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اس معاملے کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اپنے مطالبات منوانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھنے اور کسی بھی وقت حالات بگڑنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

More posts