اسلام آباد میں امن مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی کا شکار ہے، جہاں ایران کی جانب سے وفد کی شرکت کی باضابطہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام مسلسل ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں اور سفارتی سطح پر بات چیت کا عمل جاری رکھا ہوا ہے تاکہ مذاکرات کے دروازے کھلے رہیں۔
پاکستان اس پورے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دو ہفتوں کے لیے جاری جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے بعد صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اس سے خطے میں امن کے امکانات جڑے ہوئے ہیں۔
پاکستانی سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کی شرکت نہ صرف مذاکرات کو کامیاب بنانے میں مدد دے گی بلکہ کشیدگی کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اسی لیے پاکستان نے ایرانی قیادت کو قائل کرنے کے لیے مسلسل رابطے اور سفارتی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایران جلد مثبت فیصلہ کرے گا
اسلام آباد امن مذاکرات، ایران کا جواب تاحال موصول نہیں: عطا اللہ تارڑ
