امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سیز فائر سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی بدھ کی شام تک محدود ہے اور اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو اس میں توسیع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
اپنے تازہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کسی بھی صورت میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کمزور یا نقصان دہ معاہدے پر رضامند ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کوئی جلدی نہیں کہ برا معاہدہ کرلوں، ہم سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے اور ہمارے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔”
سیاسی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ مذاکرات میں امریکا کو بہتر پوزیشن حاصل ہو۔ تاہم اس مؤقف سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران پہلے ہی امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دے چکا ہے اور ایرانی قیادت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکا نے جارحانہ پالیسی جاری رکھی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایسے میں سیز فائر کا خاتمہ خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ سیز فائر بدھ تک محدود، ٹرمپ کا سخت مؤقف
