ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس جون میں ہونے والی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے اپنی ڈرون پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران ایران نے حملہ آور ڈرونز کی پیداوار میں 10 گنا اضافہ کیا ہے، جو دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ کے مطابق ایران نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات نے ایران کی عسکری حکمت عملی کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں اب ایران دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور فوری و مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی میں اس طرح کا اضافہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے دفاعی حکمت عملیوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی توجہ اس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہے۔
ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ
