کراچی میں اغوا برائے تاوان کی سنگین واردات میں سندھ پولیس کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس افسر سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان میں بہادر آباد تھانے کا اے ایس آئی محسن آصف اور فارن سیکیورٹی سیل کا اہلکار راشد علی بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں حماد نامی شخص اور اس کے ساتھی شامل ہیں، جبکہ 3 ملزمان تاحال فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے گلستانِ جوہر سے 60 سالہ شہری مرزا یوسف بیگ کو اغوا کیا۔ ملزمان پولیس پارٹی کا روپ دھار کر شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ اس دوران ملزمان نے گھر سے 35 لاکھ روپے نقد بھی لوٹ لیے۔
اغوا کے بعد مغوی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے اہل خانہ سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا، تاہم بعد ازاں مذاکرات کے بعد یہ رقم 25 لاکھ روپے طے پائی۔ تاوان کی ادائیگی راشد منہاس روڈ پر ملینیئم مال کے قریب کی گئی۔
اے وی سی سی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کیا اور مقابلے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ 3 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
حکام کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے، جو ملزمان نے کرائے پر حاصل کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
اغوا برائے تاوان میں پولیس اہلکار ملوث، 4 ملزمان گرفتار
