پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور ایران کسی اور مقام پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے جبکہ امریکا کو قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتا۔
اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اسی لیے ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن کے لیے کردار کو سراہا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی بھی ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تصدیق کر چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور گزشتہ 47 برسوں میں امریکا اور صیہونی قوتوں کا دباؤ برداشت کیا، مگر ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہا۔
ایرانی سفیر نے اسرائیل پر خطے میں بالادستی کی خواہش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے اچانک حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ نقصانات کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے
