ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور طاقت یا دباؤ کے ذریعے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات اس لیے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ امریکا نے نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا اور دورانِ مذاکرات زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کرتا رہا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور امریکا کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ دھمکیوں، دباؤ اور فوجی کارروائیوں سے خطے میں مسائل مزید بڑھیں گے اور اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دراصل امریکا کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ سے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام فریق سنجیدگی سے بات چیت کریں تو ایک قابلِ قبول حل نکالا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف ممالک سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
تنازعات کا حل صرف سفارت کاری، ایرانی صدر کا مؤقف
