امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو 5 سال کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مدت کو 20 سال تک بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے محدود مدت کے لیے افزودگی روکنے کی پیشکش کی، لیکن امریکا نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے طویل المدتی معاہدے پر اصرار کیا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اس معاملے پر واضح اختلافات موجود ہیں، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس صورتحال نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو شروع ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ مثبت پیشرفت ضرور ہوئی ہے اور امریکا نے اپنی تجاویز واضح طور پر پیش کر دی ہیں۔ ان کے مطابق اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یورینیم افزودگی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر اس مسئلے پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات نے اگرچہ فوری نتیجہ نہیں دیا، لیکن یہ عمل مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ایران کی 5 سالہ پیشکش مسترد، امریکا 20 سالہ معطلی پر بضد
