پاکستان کی آٹھ باہمت خواتین کوہ پیماؤں نے گلگت بلتستان کے علاقے سکردو میں واقع 6,040 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی کامیابی سے سر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا بلکہ ملک میں خواتین کی کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل قائم کر دیا۔
یہ مہم الپائن کلب آف پاکستان کی دوسری ویمنز خسر گنگ مہم کا حصہ تھی، جس کا مقصد خواتین کو مشکل ترین پہاڑی مہمات میں شرکت کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں کوہ پیمائی کے شعبے میں مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دینا تھا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس تاریخی مہم کی قیادت تجربہ کار کوہ پیما بی بی افزون نے کی۔ چوٹی سر کرنے والی ٹیم میں گلگت بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں، جنہوں نے سخت موسمی حالات، دشوار گزار راستوں اور بلند پہاڑی چیلنجز کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
مہم کو محفوظ اور کامیاب بنانے کے لیے معروف کوہ پیما علی محمد سدپارہ، صادق حسین سدپارہ اور الیاس ہشے نے تکنیکی قیادت فراہم کی، جبکہ قائد شگری نے خسر گنگ چوٹی پر روپ فکسنگ کی اہم ذمہ داری نبھائی، جس سے ٹیم کو محفوظ انداز میں چوٹی تک پہنچنے میں مدد ملی۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل نے کامیاب خواتین کوہ پیماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی ہمت، عزم، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی مستقبل میں مزید خواتین کو کوہ پیمائی جیسے چیلنجنگ کھیل کی جانب راغب کرے گی اور پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی یہ کامیاب مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور بلند ترین اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ خسر گنگ چوٹی پر قومی پرچم لہرانا پوری قوم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

پاکستان کی 8 خواتین کوہ پیماؤں نے خسر گنگ چوٹی سر کر کے تاریخ رقم کر دی
-

کینیڈا کی وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
راولپنڈی: کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور پاکستان و کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن اور خطے کے استحکام کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور باہمی اشتراک ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور علاقائی سلامتی کے فروغ کے لیے ممالک کے درمیان مؤثر تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، دوطرفہ دفاعی تعاون اور مختلف شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دفاع، سلامتی اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور مسلسل کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ دفاعی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے روابط اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ -
لوئر چترال میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی ریلے، پل بہہ گیا
لوئر چترال میں موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلابی ریلوں نے مختلف ندی نالوں میں طغیانی پیدا کر دی، جس کے باعث کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ شدید بارشوں سے انفراسٹرکچر، زرعی اراضی، باغات اور نجی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ بھی متاثر ہوا۔
متاثرہ علاقوں میں شیشی کوہ کے ٹنگل کے مقام پر سیلابی پانی نے سب سے زیادہ تباہی مچائی، جہاں مرکزی رابطہ پل مکمل طور پر بہہ گیا۔ پل کے بہہ جانے سے قریبی دیہات اور آبادیوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے باعث مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سیلابی ریلوں کی وجہ سے کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں جبکہ پھلوں کے باغات اور دیگر زرعی اراضی کو بھی نمایاں نقصان پہنچا۔ کئی مقامات پر نجی املاک اور دیہی انفراسٹرکچر متاثر ہوا، جس سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ہنگامی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، نقصانات کا تخمینہ لگانے اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان موجود ہے، جس کے باعث مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ -

ایران کو امریکا سے کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثوں کی متعدد تجاویز موصول
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ایران کو مختلف بین الاقوامی ثالثوں کی جانب سے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا متن بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کے پاس اس معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی تمام شقیں واضح طور پر طے کی جا چکی ہیں، اس لیے تمام فریقین کو اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے تاکہ سفارتی عمل کو برقرار رکھا جا سکے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے وعدوں کی پابندی کریں تو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی ثالث دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنے اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔ -

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے
ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نور خان ایئربیس پر ان کا استقبال کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ چکی ہے، جس کے باعث پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس تناظر میں ایرانی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کو سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران اسکندر مومنی وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، داخلی سلامتی، انسداد دہشت گردی، سرحدی انتظام، غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، اس کے خطے پر اثرات اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات بھی زیر غور آئیں گے۔ پاکستان مسلسل سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا آیا ہے، جبکہ ایران بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطوں کو اہمیت دے رہا ہے۔
دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ پاکستانی قیادت کو ایرانی صدر کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے، جس میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے، باہمی اعتماد مضبوط بنانے اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیے جانے کا امکان ہے۔
توقع ہے کہ دونوں ممالک اس موقع پر سیکیورٹی تعاون، سرحدی رابطوں، تجارت اور دیگر مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ -

ورلڈ کپ جیتنے والی اسپینش ٹیم ٹرافی کے ساتھ وطن پہنچ گئی
ورلڈ کپ 2026 کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اسپین کی قومی فٹبال ٹیم ٹرافی کے ہمراہ اپنے وطن پہنچ گئی، جہاں کھلاڑیوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ایئرپورٹ پر ٹیم کے ارکان نے ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ یادگار تصاویر بنوائیں، جبکہ شائقین کی بڑی تعداد نے اپنی چیمپئن ٹیم کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
اسپین نے ورلڈ کپ کے سنسنی خیز فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو ایک سخت مقابلے کے بعد ایک صفر سے شکست دے کر عالمی فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز اپنے نام کیا۔ میچ کے اختتام پر اسپینش کھلاڑیوں نے تاریخی کامیابی کا بھرپور جشن منایا، جبکہ دنیا بھر میں موجود ان کے مداح بھی خوشی سے جھوم اٹھے۔
وطن واپسی پر اسپینش ٹیم کے کھلاڑی طیارے سے اترتے ہی ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے اور یادگاری تصاویر بنوائیں۔ ایئرپورٹ پر موجود شائقین نے قومی پرچم لہرا کر اور نعرے لگا کر ٹیم کا استقبال کیا۔ کئی مداح اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کے ساتھ تصاویر بنانے کے لیے گھنٹوں پہلے سے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
اس تاریخی فتح کو اسپین کی فٹبال تاریخ کی ایک اور بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران شاندار کھیل، بہترین حکمت عملی اور مضبوط دفاع کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث وہ مسلسل کامیابیاں سمیٹتے ہوئے فائنل تک پہنچی اور بالآخر ٹرافی اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔
ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اسپین میں جشن کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر قومی ٹیم کی کامیابی کا جشن منایا۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور فٹبال فیڈریشن کی جانب سے بھی قومی ٹیم کے اعزاز میں خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن میں کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو ان کی شاندار کارکردگی پر خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ -

کہوٹہ میں شوہر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد تیزاب پی لیا
راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کرتے ہوئے تیزاب پی لیا۔
ذرائع کے مطابق واقعہ کہوٹہ بوائز اسکول کے سامنے پیش آیا، جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی اہلیہ کو مبینہ طور پر قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد ملزم نے تیزاب پی کر اپنی جان لینے کی کوشش کی۔
اطلاعات کے مطابق میاں بیوی کے چار بچے ہیں، جبکہ اس دلخراش واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تیزاب پینے والے شخص کو تشویشناک حالت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مقتولہ کی لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
پولیس کے مطابق فی الحال واقعے کی وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اہلکار خاندان کے افراد اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
یہ واقعہ علاقے میں شدید افسوس اور تشویش کا باعث بنا ہے، جبکہ مقامی افراد نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

حوثیوں کا سعودی عرب کو سخت انتباہ، فضائی ناکہ بندی کے جواب میں کارروائی کی دھمکی
یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے سعودی عرب کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی برقرار رہی تو اس کے جواب میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے حوثی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور پروازوں میں رکاوٹ کو ناقابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فضائی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو اس کا جواب عسکری اقدامات کی صورت میں دیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے کے باعث ایک ایرانی طیارہ صنعاء میں لینڈ نہیں کر سکا اور اسے دوسرے ہوائی اڈے کا رخ کرنا پڑا، جو صنعاء حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں واقع ہے۔
دوسری جانب انصار اللہ حوثیوں نے اس حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاض اس کارروائی کے پیچھے تھا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن پر فضائی اور بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی مربوط کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث انسانی اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حوثی تحریک کے تازہ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر یمن پر ناکہ بندی جاری رکھی گئی تو اس کا جواب بھی اسی نوعیت کے اقدامات سے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق "ناکہ بندی کا جواب ناکہ بندی” ہوگا۔
تاہم سعودی حکومت نے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہے ہیں۔ -

کاروبار کا جھانسا، دوست نے شہری کا گردہ نکال کر فروخت کر دیا
پنجاب کے شہر پتوکی میں دوستی کے رشتے کو شرمسار کر دینے والا ایک مبینہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے دوست نے کاروبار میں شراکت کا جھانسا دے کر اسے اغوا کیا، بے ہوش کیا اور اس کا گردہ نکال کر فروخت کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پتوکی کے علاقے پرانی منڈی میں پیش آیا۔ متاثرہ شہری رحمت کی درخواست پر پہلے 12 جولائی کو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم ابتدائی تفتیش کے بعد مرکزی ملزم رضا اور اس کے مبینہ ساتھیوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم رضا نے اپنے دوست رحمت کو کاروبار کے سلسلے میں ملاقات کے بہانے بلایا۔ الزام ہے کہ اس نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر رحمت کو اغوا کیا اور اسے پتوکی سے راولپنڈی کی جانب لے گئے۔
متاثرہ شہری رحمت کے مطابق سفر کے دوران اسے جوس میں مبینہ طور پر نشہ آور چیز ملا کر پلائی گئی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔ رحمت کا کہنا ہے کہ جب اسے ہوش آیا تو وہ شدید تکلیف میں تھا اور محسوس ہوا کہ اس کا آپریشن کیا جا چکا ہے۔
رحمت کے مطابق بعد ازاں اسے معلوم ہوا کہ بے ہوشی کے دوران اس کا دایاں گردہ نکال لیا گیا ہے۔ پتوکی واپس پہنچنے کے بعد اس نے طبی معائنہ اور الٹراساؤنڈ کروایا، جس میں ایک گردہ موجود نہ ہونے کی تصدیق ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ واقعہ، اگر تحقیقات میں ثابت ہوا، تو غیر قانونی اعضا کی خرید و فروخت جیسے سنگین جرم کی ایک مثال ہوگا۔ پولیس نے شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ کاروبار یا ملازمت کے نام پر کسی بھی غیر معمولی پیشکش پر احتیاط کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ -

قائد آباد میں 3 سالہ کلثوم کے قتل کا معمہ حل، سگی چچی گرفتار
کراچی کے علاقے قائد آباد میں 23 جون کو بوری بند حالت میں ملنے والی تین سالہ کلثوم کے قتل کے ہائی پروفائل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے 25 روزہ تحقیقات کے بعد مقتولہ کی سگی چچی کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر معصوم بچی کے قتل کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار ملزمہ نے اپنے مبینہ جرم کا اعتراف کیا، جبکہ اس کا بھائی نادر بھی پہلے ہی اعترافی بیان دے چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی روشنی میں مقدمہ آگے بڑھایا جائے گا۔
تحقیقات کے مطابق، ملزمہ نے مبینہ طور پر کلثوم کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش بوری میں بند کی اور اپنے بھائی نادر کو بلا کر ہدایت دی کہ لاش کو کسی دور دراز مقام پر ٹھکانے لگا دے۔ تاہم پولیس کے مطابق نادر لاش کو گھر سے دور لے جانے کے بجائے بوری کو گھر کی دہلیز کے اندر ہی چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بچی کے ساتھ قتل سے قبل کوئی جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تین سالہ کلثوم کی ٹانگوں سمیت جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے متعدد نشانات سامنے آئے، جنہیں تفتیش کا اہم حصہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے سے ہی شبہ تھا کہ واردات میں خاندان کا کوئی قریبی فرد ملوث ہو سکتا ہے، کیونکہ لاش گھر کے احاطے سے برآمد ہوئی تھی۔ اسی بنیاد پر پولیس نے سائنسی شواہد اکٹھے کرتے ہوئے خاندان اور قریبی افراد سمیت 50 سے زائد افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے، جن کی مدد سے تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزمہ اور اس کے بھائی کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ مزید تفتیش مکمل کی جا سکے۔ حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
اس افسوسناک واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جائیں تو ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔