Baaghi TV


پاکستان کی 8 خواتین کوہ پیماؤں نے خسر گنگ چوٹی سر کر کے تاریخ رقم کر دی

‎پاکستان کی آٹھ باہمت خواتین کوہ پیماؤں نے گلگت بلتستان کے علاقے سکردو میں واقع 6,040 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی کامیابی سے سر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا بلکہ ملک میں خواتین کی کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل قائم کر دیا۔
‎یہ مہم الپائن کلب آف پاکستان کی دوسری ویمنز خسر گنگ مہم کا حصہ تھی، جس کا مقصد خواتین کو مشکل ترین پہاڑی مہمات میں شرکت کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں کوہ پیمائی کے شعبے میں مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دینا تھا۔
‎الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس تاریخی مہم کی قیادت تجربہ کار کوہ پیما بی بی افزون نے کی۔ چوٹی سر کرنے والی ٹیم میں گلگت بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں، جنہوں نے سخت موسمی حالات، دشوار گزار راستوں اور بلند پہاڑی چیلنجز کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔
‎مہم کو محفوظ اور کامیاب بنانے کے لیے معروف کوہ پیما علی محمد سدپارہ، صادق حسین سدپارہ اور الیاس ہشے نے تکنیکی قیادت فراہم کی، جبکہ قائد شگری نے خسر گنگ چوٹی پر روپ فکسنگ کی اہم ذمہ داری نبھائی، جس سے ٹیم کو محفوظ انداز میں چوٹی تک پہنچنے میں مدد ملی۔
‎الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل نے کامیاب خواتین کوہ پیماؤں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی ہمت، عزم، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی مستقبل میں مزید خواتین کو کوہ پیمائی جیسے چیلنجنگ کھیل کی جانب راغب کرے گی اور پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی یہ کامیاب مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور بلند ترین اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ خسر گنگ چوٹی پر قومی پرچم لہرانا پوری قوم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔

More posts