Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ‎ال نینو کے اثرات بڑھنے پر 2027 پاکستان کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

    ‎ال نینو کے اثرات بڑھنے پر 2027 پاکستان کا گرم ترین سال بن سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

    ‎ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر ال نینو کے اثرات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو سال 2027 پاکستان کی تاریخ کے گرم ترین برسوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب مستقبل کا خدشہ نہیں رہے بلکہ پاکستان میں ان کی شدت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہریں، ریکارڈ درجہ حرارت، اچانک طوفانی بارشیں، شہری سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے گہرے ہو رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحرالکاہل میں ال نینو کا موسمی نظام مزید مضبوط ہوا تو 2027 نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے گرم ترین برسوں میں بھی شمار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور برفانی ذخائر کے تیزی سے کم ہونے کا رجحان عالمی موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ شدید گرمی، خشک سالی، بے ترتیب بارشیں اور اچانک آنے والے سیلاب زرعی شعبے، آبی وسائل، انسانی صحت اور معیشت پر براہ راست اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
    ‎بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر پاکستان نے قومی سطح پر مختلف حفاظتی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں قدرتی آفات سے قبل وارننگ جاری کرنے کے جدید نظام، شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے شہری اور دیہی علاقوں میں حکمت عملی، ممکنہ سیلاب کے دوران ہنگامی امداد اور نکاسی آب کے منصوبے، جبکہ شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی خطرناک جھیلوں کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات اہم ہیں، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ابھی کافی نہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، ماحول دوست پالیسیوں، شجرکاری، پانی کے بہتر انتظام، جدید انفراسٹرکچر اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ مستقبل میں ممکنہ قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سائنسی اداروں، نجی شعبے اور عوام کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ بروقت منصوبہ بندی اور مؤثر اقدامات ہی پاکستان کو مستقبل میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

  • ‎کوئٹہ کے 22 سالہ نوجوان میں کانگو وائرس کی تصدیق، رواں سال کا دوسرا کیس رپورٹب

    ‎کوئٹہ کے 22 سالہ نوجوان میں کانگو وائرس کی تصدیق، رواں سال کا دوسرا کیس رپورٹب

    ‎کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ صحت حکام کے مطابق یہ رواں سال رپورٹ ہونے والا کانگو وائرس کا دوسرا کیس ہے، جس کے بعد طبی اداروں نے نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق 22 سالہ رحمت اللہ کو تیز بخار، شدید کمزوری اور ناک سے خون آنے کی شکایت کے باعث کراچی کے جناح اسپتال لایا گیا۔ ابتدائی طبی معائنے کے دوران مریض کے خون میں پلیٹ لیٹس اور ہیموگلوبن کی سطح انتہائی کم پائی گئی، جبکہ جگر کے انزائمز میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس پر ڈاکٹروں نے فوری طور پر مزید طبی معائنے کا فیصلہ کیا۔
    ‎حکام کے مطابق مریض کے مختلف لیبارٹری ٹیسٹوں کے ساتھ کانگو پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا گیا، جس کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ تشخیص کے بعد مریض کو خصوصی نگہداشت اور علاج کے لیے نیپا اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎ماہرین صحت کے مطابق کانگو وائرس، جسے کانگو ہیمرجک فیور بھی کہا جاتا ہے، ایک خطرناک وائرل بیماری ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر مویشیوں میں موجود چیچڑ کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ جانوروں کے خون، گوشت یا جسمانی ٹشوز سے براہ راست رابطہ بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
    ‎طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ایک متاثرہ شخص کے خون یا جسمانی رطوبتوں سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی دوسروں تک منتقل ہو سکتی ہے، اس لیے اسپتالوں میں علاج کرنے والے طبی عملے کو خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق کانگو وائرس کی عام علامات میں تیز بخار، شدید کمزوری، سر درد، جسم میں درد، ناک اور مسوڑھوں سے خون آنا، جلد پر نیل پڑنا اور بعض صورتوں میں اندرونی خون بہنا شامل ہے۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

  • ‎دو سالہ بچے کے اغوا برائے تاوان کیس، 3 ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ‎دو سالہ بچے کے اغوا برائے تاوان کیس، 3 ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ‎کراچی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے دو سالہ بچے کے مبینہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے گرفتار تین ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
    ‎منگھوپیر تھانے میں درج مقدمے کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں عقبی راستے سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران ملزمان کے چہرے ڈھانپے گئے تھے، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ غربی فدا حسین نے کیس کی سماعت بند کمرے میں کی۔
    ‎سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی ملزم احتشام مدعی مقدمہ کا قریبی دوست ہے، جبکہ شریک ملزم عبدالوہاب اس کا برادر نسبتی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ایک اور ملزم افتخار نے گھارو کے علاقے میں ملزمان کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کی، اس لیے مزید شواہد اکٹھے کرنے اور تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔
    ‎عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں جاری کیے گئے حکم میں تینوں ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا تاکہ پولیس مزید تفتیش کر سکے۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں احتشام اور اس کے دو مبینہ سہولت کار عبدالحسن اور افتخار شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکزی ملزم بچے کے والد کا دوست تھا اور بچے کی گمشدگی کے بعد وہ خود بھی اہل خانہ کے ساتھ تلاش میں شریک رہا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپنے سالے اور اس کے ایک دوست کی مدد سے مبینہ طور پر اغوا کی منصوبہ بندی کی۔ بعد ازاں دو سالہ اذان کو گھارو کے علاقے سے بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم احتشام نے بیرون ملک مقیم اپنے ایک دوست کے واٹس ایپ نمبر کے ذریعے بچے کے والد سے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق بچے کو 18 جولائی کو نیا ناظم آباد میں اس کے گھر کے باہر سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد مقدمہ تھانہ منگھوپیر میں درج کیا گیا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزمان سے مزید تفتیش کی جائے گی تاکہ اغوا کی منصوبہ بندی، استعمال ہونے والے ذرائع اور اس میں ملوث دیگر ممکنہ افراد سے متعلق مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

  • ‎بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے 5 اگست سے نئی تحریک شروع کرنے کا اعلان

    ‎بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے 5 اگست سے نئی تحریک شروع کرنے کا اعلان

    ‎وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر 5 اگست سے ان کی رہائی کے لیے ایک نئی اور بھرپور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کا مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے کو ملک بھر میں منظم انداز میں اجاگر کرنا اور عوامی سطح پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا ہے۔
    ‎شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، اسی مناسبت سے پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس روز سے ایک نئی عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کو پہلے سے زیادہ منظم، مؤثر اور وسیع پیمانے پر چلایا جائے گا تاکہ عوام کی بھرپور حمایت حاصل کی جا سکے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے تمام حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں اور ہم خیال سیاسی قوتوں سے رابطے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور کوشش کی جائے گی کہ اس تحریک کو مشترکہ اپوزیشن کی حمایت بھی حاصل ہو تاکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
    ‎اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی عدم موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں شفیع جان نے وضاحت کی کہ تقریباً دو ہفتے قبل علیمہ خان نے واضح ہدایت دی تھی کہ اب اڈیالہ جیل کے باہر صرف بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہی موجود ہوں گی۔ اسی فیصلے کے بعد پارٹی کارکنوں کو وہاں جمع ہونے سے روک دیا گیا، جس کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جیل کے باہر کارکنوں کی موجودگی دیکھنے میں نہیں آئی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی میں وقتاً فوقتاً حالات کے مطابق تبدیلی کی جاتی ہے اور کارکنوں کو مرکزی قیادت کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق آئندہ تحریک کے حوالے سے بھی تمام فیصلے پارٹی قیادت کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
    ‎نورین نیازی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وہ ان کی ذاتی رائے تھی اور اسے پارٹی کی پالیسی یا سرکاری مؤقف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نورین نیازی خود بھی اڈیالہ جیل کے باہر اس بات کی وضاحت کر چکی ہیں کہ ان کا بیان ذاتی حیثیت میں دیا گیا تھا۔

  • ‎کراچی میں دودھ کے بحران کا خدشہ، ڈیری فارمرز کی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل

    ‎کراچی میں دودھ کے بحران کا خدشہ، ڈیری فارمرز کی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل

    کراچی میں جانوروں کی خوراک کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث دودھ کے ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ شہر میں دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے سے بچائی جا سکے۔
    ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان میں بھوسہ ڈیلرز کی جاری ہڑتال کے باعث جانوروں کی خوراک کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔ اس صورتحال نے کراچی کے ڈیری فارمز کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں لاکھوں مویشیوں کے لیے چارے کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
    ‎ایسوسی ایشن کے سیکریٹری شوکت مختار نے بتایا کہ 20 جولائی سے اندرون سندھ اور بلوچستان سے کراچی آنے والے بھوسے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ ان کے مطابق بھوسہ ڈیلرز نے بھوسہ لے کر آنے والے ٹرکوں کے ناجائز چالان اور مبینہ بھتہ خوری کے خلاف احتجاجاً سپلائی روک رکھی ہے، جس کے باعث ڈیری فارمز میں خوراک کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو جانوروں کو مناسب خوراک فراہم کرنا ممکن نہیں رہے گا، جس سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوگی بلکہ دودھ کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں مویشی غذائی قلت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے اثرات براہ راست شہریوں تک پہنچیں گے۔
    ‎ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر جانوروں کی خوراک کی سپلائی جلد بحال نہ ہوئی تو کراچی میں دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے شہریوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
    ‎صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سندھ کو ہنگامی خط ارسال کیا ہے۔ اس کے علاوہ چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر کراچی اور آئی جی سندھ کو بھی علیحدہ علیحدہ خطوط لکھے گئے ہیں، جن میں فوری اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔
    ‎خطوط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے بھوسے کی ترسیل فوری بحال کرائی جائے، ٹرانسپورٹرز اور ڈیلرز کو درپیش مسائل حل کیے جائیں اور جانوروں کی خوراک کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ کراچی کو کسی بڑے ڈیری بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کرے گی تاکہ دودھ کی پیداوار اور سپلائی کا نظام معمول پر آ سکے اور شہریوں کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔

  • کراچی میں تجاوزات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 13 ہوٹل سیل

    کراچی میں تجاوزات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 13 ہوٹل سیل

    ‎کراچی میں ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں تجاوزات، غیر قانونی رکاوٹوں اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں کی گئی کارروائیوں کے دوران متعدد تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا، 13 ہوٹل سیل کر دیے گئے جبکہ سرکاری زمین بھی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی گئی۔
    ‎ضلعی انتظامیہ کے مطابق صدر کے علاقے داؤد پوتہ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے 13 ہوٹلوں کو سیل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوٹل مالکان نے فٹ پاتھ اور سڑک کے کنارے غیر قانونی طور پر کرسیاں اور میزیں لگا کر کاروبار پھیلا رکھا تھا، جس کے باعث پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ متعدد بار تنبیہ کے باوجود صورتحال بہتر نہ ہونے پر ہوٹلوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں اور تجارتی علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔
    ‎ایک اور اہم کارروائی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں واٹر کارپوریشن کی اورنگی ریزروائر کی سرکاری زمین لینڈ مافیا کے قبضے سے واگزار کرا لی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کے مطابق مذکورہ زمین پر کافی عرصے سے غیر قانونی قبضہ قائم تھا، جسے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قبضے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی جاری ہے تاکہ سرکاری املاک پر دوبارہ قبضے کی کوشش نہ کی جا سکے۔
    ‎اس کے علاوہ نمائش سے گرومندر جانے والی شاہراہ کے اطراف قائم تمام تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، جس سے سڑک کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح عالمگیر روڈ، شہید ملت روڈ اور ماڈل کالونی لیاقت علی خان روڈ پر بھی آپریشن کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات، اسٹالز اور دیگر رکاوٹوں کو ختم کیا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔
    ‎کمشنر کراچی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی پر قائم ہر قسم کی تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول دیے، سیالکوٹ، وزیر آباد میں سیلاب کا خطرہ

    بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول دیے، سیالکوٹ، وزیر آباد میں سیلاب کا خطرہ

    ‎محکمۂ ایریگیشن پنجاب نے دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کے خدشے کے پیش نظر سیالکوٹ، وزیر آباد اور ملحقہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولنے کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونا شروع ہوگئی ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
    ‎محکمۂ ایریگیشن کے مطابق سلال ڈیم کے گیٹ کھلنے کے بعد دریائے چناب میں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ دریا کے کنارے آباد آبادیوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات مکمل رکھیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پانی کی صورتحال کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
    ‎اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد جواد پیرزادہ نے بتایا کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران سیلابی ریلہ دریائے چناب میں وزیر آباد کے مقام پر پہنچنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بڑے درجے کے سیلاب کے خدشے سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے، جس کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو اداروں، سول ڈیفنس، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ محکموں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ حساس مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ دریا کے کنارے رہنے والے شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
    ‎حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے صرف سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں اور اگر مقامی انتظامیہ کی جانب سے انخلا یا حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی جائیں تو ان پر فوری عمل کریں۔ ماہی گیروں اور دریا کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب، متعلقہ ادارے دریائے چناب میں پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور اگر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور املاک کے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

  • ‎آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، بلاول بھٹو زرداری

    ‎آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں، بلاول بھٹو زرداری

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات کو خطے کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں تاکہ ایک ایسی قیادت سامنے آئے جو عوام کے مسائل حل کرے اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے۔
    ‎میرپور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے یہ انتخابات صرف حکومت بنانے کا مرحلہ نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایسی قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے جو عوامی حقوق، ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ بھٹو خاندان کا میرپور کے عوام سے تین نسلوں پر محیط تعلق ہے اور وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاق کی مضبوطی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
    ‎انہوں نے اپنے خطاب میں ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کا متفقہ آئین دینے اور ملک کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے کا سہرا دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت کو مستحکم کیا اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو زیادہ اختیارات اور خودمختاری فراہم کی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تو آئینی ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر کے عوام کو مزید اختیارات، بہتر نمائندگی، خودمختاری، روزگار کے مواقع اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی سیاسی قوتوں کی بنیاد پر۔ ان کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا مکمل حق حاصل ہے۔
    ‎جلسے کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے انتخابی مہم تیز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حمایت سے ہی خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

  • ‎کراچی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندان امتیازی سلوک کا شکار، روزگار اور تعلیم بھی متاثر

    ‎کراچی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندان امتیازی سلوک کا شکار، روزگار اور تعلیم بھی متاثر

    ‎کراچی میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کو بیماری کے ساتھ ساتھ معاشرتی امتیازی سلوک اور سماجی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں نے انہیں ملازمتوں سے نکالنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ایک متاثرہ بچی کو بھی ایچ آئی وی کی بنیاد پر اسکول سے نکال دیا گیا، جس سے خاندان شدید ذہنی اور معاشی مشکلات میں مبتلا ہے۔
    ‎متاثرہ بچوں کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو بیماری سے زیادہ معاشرے کے رویوں نے متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کو صرف ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا، حالانکہ اسے تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے بھی متاثرہ بچوں کے والدین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خاندانوں کی آمدن متاثر ہوئی ہے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی علاج اور دیگر ضروریات کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں روزگار سے محرومی نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
    ‎متاثرہ والد نے کہا، "ہم بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، اللہ کسی دشمن کو بھی یہ بیماری نہ دے۔” انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ خاندانوں کو امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کیا جائے اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع دیے جائیں۔
    ‎انہوں نے یاد دلایا کہ صوبائی وزیر سعید غنی نے اس سے قبل متعلقہ اداروں اور نجی کمپنیوں سے اپیل کی تھی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد یا ان کے اہل خانہ کو ملازمتوں سے نہ نکالا جائے اور ان کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار نہ کیا جائے، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایک قابلِ علاج دائمی بیماری ہے اور مناسب علاج کے ذریعے متاثرہ افراد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان کے مطابق روزمرہ میل جول، ساتھ بیٹھنے، ہاتھ ملانے، کھانے پینے یا ایک ہی کلاس روم میں تعلیم حاصل کرنے سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہوتا، اس لیے متاثرہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

  • ‎پنجاب میں مون سون کی تباہ کاریاں، 8 افراد جاں بحق، متعدد اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

    ‎پنجاب میں مون سون کی تباہ کاریاں، 8 افراد جاں بحق، متعدد اضلاع میں ہائی الرٹ جاری

    ‎مون سون بارشوں نے خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی شدید تباہی مچا دی ہے۔ موسلادھار بارشوں، چھتیں اور دیواریں گرنے، جبکہ کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات کے نتیجے میں اب تک 8 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث متعدد شہروں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے مطابق گوجرانوالہ میں سب سے زیادہ 142 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ سیالکوٹ میں 139 ملی میٹر، منڈی بہاؤالدین میں 138 ملی میٹر اور نارووال میں 117 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں میں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی خطرے کی صورت میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب لاہور میں بھی مون سون بارشوں کا شدید سلسلہ جاری ہے، جہاں شہر کے مختلف علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ آج سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک میں 123 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ پانی والا تالاب میں 122 ملی میٹر، چوک ناخدا میں 106 ملی میٹر، سمن آباد میں 90 ملی میٹر اور سگیاں میں 82 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
    ‎شدید بارش کے باعث لاہور کے کئی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، جس سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ متعدد موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں پانی میں بند ہو گئیں، جبکہ شہریوں کو دفاتر، تعلیمی اداروں اور گھروں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎شہریوں نے شکایت کی کہ بارش کے بعد کئی علاقوں میں نکاسی آب کا مؤثر نظام نظر نہیں آیا اور انتظامیہ بروقت اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ مختلف شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی اور روزمرہ زندگی متاثر رہی۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کی کھلی تاروں، نشیبی علاقوں اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ برقرار رہنے کی صورت میں مزید احتیاطی اقدامات کیے جائیں گے۔