یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) نے سعودی عرب کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی برقرار رہی تو اس کے جواب میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے حوثی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور پروازوں میں رکاوٹ کو ناقابل قبول سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فضائی ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو اس کا جواب عسکری اقدامات کی صورت میں دیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے کے باعث ایک ایرانی طیارہ صنعاء میں لینڈ نہیں کر سکا اور اسے دوسرے ہوائی اڈے کا رخ کرنا پڑا، جو صنعاء حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں واقع ہے۔
دوسری جانب انصار اللہ حوثیوں نے اس حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاض اس کارروائی کے پیچھے تھا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن پر فضائی اور بحری ناکہ بندی مسلط کرنے کی مربوط کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث انسانی اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حوثی تحریک کے تازہ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر یمن پر ناکہ بندی جاری رکھی گئی تو اس کا جواب بھی اسی نوعیت کے اقدامات سے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق "ناکہ بندی کا جواب ناکہ بندی” ہوگا۔
تاہم سعودی حکومت نے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہے ہیں۔
حوثیوں کا سعودی عرب کو سخت انتباہ، فضائی ناکہ بندی کے جواب میں کارروائی کی دھمکی
