انسانی حقوق کے اداروں کے اتحاد حریہ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں دو ملین سے زائد فلسطینی شہریوں کے خلاف قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔
حریہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے، بالخصوص انروا، فوری طور پر مستقل اور محفوظ انسانی امدادی راستے کھولیں تاکہ خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات بغیر کسی شرط اور رکاوٹ کے متاثرہ شہریوں تک پہنچ سکیں۔
بیان میں کہا گیا کہ دنیا کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کو قابض اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ غزہ پر عائد سخت محاصرہ ختم کرایا جا سکے۔ حریہ نے سیاسی مفادات کے تحت معابر کھولنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے امدادی سامان پر قابض اسرائیل کے مکمل کنٹرول کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
حریہ نے خبردار کیا کہ غزہ اس وقت ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں خوراک کی قلت، طبی سہولیات کی شدید کمی اور بیرون ملک علاج پر پابندی کے باعث اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ پر مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے جس نے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خوراک اور ادویات کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کو جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچانا ہے۔ حقوقی اداروں کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
حریہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے غزہ کے مظلوم عوام کی جانیں بچائی جائیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی جائے۔
غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدام کیا جائے، اقوام متحدہ سے اپیل
