Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • وزیراعظم شہباز شریف سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

    ‎اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) کے سیکریٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، بین المذاہب ہم آہنگی، تعلیم، علاقائی امن اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، اراکین قومی اسمبلی فرح ناز اکبر اور زیب جعفر، جبکہ خارجہ سیکریٹری آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی شیخ ڈاکٹر العیسیٰ کے ہمراہ تھے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے اسلام کا حقیقی، معتدل اور پرامن تشخص اجاگر کرنے، امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں رواداری، اخوت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کی جانے والی خدمات کو سراہا۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذہبی مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے ایران اور برادر خلیجی ممالک کی صورتحال، غزہ میں فلسطینی عوام کی مشکلات اور دنیا بھر میں مسلم برادری کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کے کردار کو اہم قرار دیا۔
    ‎شہباز شریف نے شیخ ڈاکٹر العیسیٰ کے پاکستان کے سابقہ دوروں اور اسلام آباد میں منعقدہ عالمی گرلز ایجوکیشن سمٹ سمیت مختلف اقدامات کو بھی یاد کیا اور تعلیم، بین المذاہب مکالمے، انتہاپسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کے جذبات کا بھی اظہار کیا۔
    ‎اس موقع پر شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے پاکستان کی میزبانی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسلم دنیا میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے مذہبی، تعلیمی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎شیخ ڈاکٹر العیسیٰ نے حالیہ علاقائی امن کی کوششوں میں وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے لیے کی گئی مسلسل کوششوں اور اہم کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے یورپ میں جیٹ فیول کی فراہمی کو خطرات لاحق

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے یورپ میں جیٹ فیول کی فراہمی کو خطرات لاحق

    ‎مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ کو جیٹ فیول کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خدشات کا سامنا ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک نے امریکا اور ایشیا سے درآمدات بڑھانے، اپنی ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور ذخائر استعمال کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یورپ اب بھی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس خطہ ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں متعدد ریفائنریاں بند ہونے کے باعث یہ ممالک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتے ہیں، جس میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی سپلائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے اس اہم گزرگاہ پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔
    ‎اگرچہ جون میں آبنائے ہرمز جزوی طور پر دوبارہ کھول دی گئی، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا سپلائی میں تعطل کے باعث یورپی فضائی کمپنیوں کو ایندھن کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ پر انحصار مکمل طور پر ختم کرنا فی الحال ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں امن و استحکام عالمی فضائی صنعت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

  • ‎100 روپے کے تنازع پر خاتون کو مبینہ تشدد کے بعد گولی مار دی گئی

    ‎100 روپے کے تنازع پر خاتون کو مبینہ تشدد کے بعد گولی مار دی گئی

    ‎خیبر پختونخوا کے علاقے خانپور میں محض 100 روپے کے گھریلو تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جہاں سسرالیوں کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کو گولی مارنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ واقعے کے بعد خاتون کو تشویشناک حالت میں راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون ارم شہزادی راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کالا خان کی رہائشی اور تین بچوں کی ماں ہے۔ اس کی شادی خانپور کے علاقے فقیر آباد میں ہوئی تھی۔ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ معمولی گھریلو تنازع کے دوران شوہر سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں گولی مار دی گئی۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق جھگڑے کی وجہ صرف 100 روپے کا معاملہ بتایا جا رہا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
    ‎متاثرہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے اور اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎تھانہ خانپور پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم شوہر موقع سے فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور فرانزک سمیت دیگر قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق خاتون کے بیان اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مقدمے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎دوسری جانب واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف فراہم کرنے اور ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ خاتون پر ہونے والا تشدد انتہائی افسوسناک ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

  • ہسپانیہ کے جنگلاتی شعلوں نے تباہی مچا دی، ڈرون فوٹیج میں تباہ شدہ علاقے منظرِ عام پر

    ہسپانیہ کے جنگلاتی شعلوں نے تباہی مچا دی، ڈرون فوٹیج میں تباہ شدہ علاقے منظرِ عام پر

    ‎ہسپانیہ کے صوبہ المیریا میں حالیہ مہلک جنگلاتی آگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کی ہولناک تصاویر ڈرون فوٹیج کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ ان مناظر میں آگ سے متاثرہ علاقوں کی تباہی واضح دیکھی جا سکتی ہے، جہاں ہزاروں ہیکٹر رقبہ جل کر راکھ ہو گیا جبکہ متعدد رہائشی علاقے بھی شدید متاثر ہوئے۔
    ‎حکام کے مطابق اس جنگلاتی آگ میں کم از کم 12 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ تقریباً 7 ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلات، زرعی زمین اور قدرتی ماحول آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئے۔ آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور شدید گرمی کی لہر کے دوران لاس گایاردوس کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی افراد اپنی گاڑیوں میں ہی پھنس گئے اور بروقت محفوظ مقام تک نہ پہنچ سکے۔ امدادی اداروں اور فائر فائٹرز نے سینکڑوں اہلکاروں اور فضائی وسائل کی مدد سے کئی روز تک آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کارروائیاں کیں۔
    ‎مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اب آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور صورتِ حال پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تقریباً 1,500 ایسے افراد، جنہیں احتیاطی طور پر اپنے گھروں سے نکالا گیا تھا، بتدریج واپس اپنے علاقوں میں جانا شروع ہو گئے ہیں۔
    ‎تحقیقات کرنے والے حکام کا ابتدائی اندازہ ہے کہ آگ کی ممکنہ وجہ بجلی کی ایک خراب ٹرانسمیشن لائن ہو سکتی ہے، تاہم حتمی رپورٹ مکمل تحقیقات کے بعد جاری کی جائے گی۔ ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کو غیر معمولی رفتار سے پھیلانے میں کس حد تک کردار ادا کیا۔
    ‎ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یورپ میں مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں اور موسمیاتی تبدیلی جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی، جدید نگرانی کے نظام اور فوری ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • ‎’آبنائےہرمز کی امریکی سیکیورٹی کے اخراجات پر 20 فیصد رقم وصول کریں گے‘

    ‎’آبنائےہرمز کی امریکی سیکیورٹی کے اخراجات پر 20 فیصد رقم وصول کریں گے‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں اور ان کے خریداروں کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کرے گا، جبکہ دیگر ممالک کو گزرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔
    ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی فراہم کرے گا اور اس کے بدلے وہاں سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد تک فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح مفت میں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جائے گی اور متعلقہ ممالک کو اس کے اخراجات میں حصہ ڈالنا ہوگا۔
    ‎انٹرویو کے دوران انہوں نے ایران پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کا “محافظ” بنے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
    ‎اب تک امریکی حکومت یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے آبنائے ہرمز کی باضابطہ ناکہ بندی یا 20 فیصد فیس کے نفاذ سے متعلق کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی پالیسی تبدیلی کے بین الاقوامی تجارت اور تیل کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا واقعی اس نوعیت کا کوئی اقدام کرتا ہے تو اسے بین الاقوامی قوانین، اتحادی ممالک کے ردعمل اور خلیجی خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

  • 
گڈاپ میں کروڑوں کی ڈکیتی، 175 تولے سونا اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    
گڈاپ میں کروڑوں کی ڈکیتی، 175 تولے سونا اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا

    کراچی: شہرِ قائد کے علاقے گڈاپ ٹاؤن میں ڈکیتی کی ایک بڑی واردات کے دوران مسلح ڈاکو ایک گھر سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا، چاندی، قیمتی گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے بھی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
    اہلخانہ کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق آٹھ مسلح ملزمان چار موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر گھر پہنچے اور اسلحے کے زور پر اہلخانہ کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے پورے اطمینان کے ساتھ گھر کی تلاشی لی اور قیمتی اشیا سمیٹ کر فرار ہو گئے۔
    ‎درخواست کے مطابق ڈاکو 175 تولے سونا، جس کی مالیت تقریباً 7 کروڑ 58 لاکھ روپے بتائی گئی ہے، اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے علاوہ 300 تولے چاندی، جس کی مالیت تقریباً 20 لاکھ 38 ہزار روپے ہے، بھی لوٹ لی گئی۔ ملزمان قیمتی گھڑیاں، لیپ ٹاپ، دیگر الیکٹرانک سامان اور بچوں کی قیمتی اشیا بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
    ‎اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور لوٹا گیا سامان برآمد کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
    ‎وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • 
بنگلہ دیش میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 51 افراد جاں بحق، 10 لاکھ سے زائد متاثر

    
بنگلہ دیش میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 51 افراد جاں بحق، 10 لاکھ سے زائد متاثر

    ‎بنگلہ دیش میں گزشتہ کئی روز سے جاری موسلادھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 51 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔
    ‎سب سے زیادہ نقصان کاکس بازار کے ضلع میں ہوا، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 28 تک پہنچ گئی۔ یہ علاقہ دنیا کے سب سے بڑے روہنگیا مہاجر کیمپ کا بھی مرکز ہے، جہاں دس لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک اسکول میں سیلابی پانی داخل ہونے کے باعث متعدد طلبہ اور ایک استاد بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
    ‎شدید بارشوں کے باعث دارالحکومت ڈھاکا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ چکا ہے جس کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی میڈیا نے شہر کے نکاسی آب کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ ماضی میں کیے گئے ترقیاتی منصوبے موجودہ صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
    ‎حکومت نے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے خطرے والے علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے جبکہ طلبہ کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ امدادی ادارے متاثرین کو خوراک، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
    ‎بنگلہ دیش کا فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی علاقوں میں صورتحال میں بتدریج بہتری آنے کی توقع ہے، تاہم شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مون سون کی بارشیں جاری رہنے کے باعث مزید سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔
    ‎ماہرین موسمیات کے مطابق بنگلہ دیش ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب کا سامنا کرتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں بارشوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے تباہ کن واقعات پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

  • 
وینزویلا کے زلزلوں میں ہلاکتیں تقریباً 4,500 تک پہنچ گئیں

    
وینزویلا کے زلزلوں میں ہلاکتیں تقریباً 4,500 تک پہنچ گئیں

    ‎کاراکاس: وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 4 ہزار 500 ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں متاثرہ افراد اب بھی بے گھر ہیں اور عارضی کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
    ‎حکومت کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق 24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلوں میں اب تک 4 ہزار 490 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 16 ہزار 740 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام نے لاپتہ افراد کی تازہ تعداد جاری نہیں کی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں یا ان کا سراغ نہیں مل سکا۔
    ‎ان شدید زلزلوں نے دارالحکومت کاراکاس اور ساحلی ریاست لا گوائیرا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ کئی بلند و بالا رہائشی عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں، جبکہ ہزاروں مکانات، کاروباری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
    ‎حکومتی بیان کے مطابق اس وقت 19 ہزار 583 افراد مختلف عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ یہ کیمپ اسٹیڈیمز، عوامی چوراہوں، فٹ پاتھوں اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیے گئے ہیں، جہاں متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پینے کا صاف پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔
    ‎قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے کہا ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں ایسے متاثرہ خاندانوں کو نئے اپارٹمنٹس فراہم کرنا شروع کرے گی، جو زلزلے سے پہلے زیرِ تعمیر رہائشی منصوبوں کا حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ شہریوں کو محفوظ رہائش فراہم کرنا اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
    ‎ریسکیو ٹیموں نے اگرچہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے، تاہم متاثرہ خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کی باعزت تدفین کے لیے ملبہ ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق بحالی کا عمل کئی ماہ بلکہ ممکنہ طور پر برسوں تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ زلزلوں نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے۔

  • 
نمازِ جنازہ میں نظر آنے والے نقاب پوش شخص کی شناخت سامنے آ گئی

    
نمازِ جنازہ میں نظر آنے والے نقاب پوش شخص کی شناخت سامنے آ گئی

    ‎ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں نظر آنے والے پراسرار نقاب پوش شخص کی شناخت سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ شخص ان کے بڑے پوتے محمد جواد خامنہ ای ہیں، جو علی خامنہ ای کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے دوران محمد جواد خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے چہرے پر گہرے زخم اور جھلسنے کے نشانات آئے، جس کے باعث انہوں نے نمازِ جنازہ میں اپنا چہرہ سیاہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا۔
    ‎نمازِ جنازہ کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ بعض صارفین کا خیال تھا کہ نقاب پوش شخصیت موجودہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ محمد جواد خامنہ ای تھے۔
    ‎رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملے کے وقت مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی رہائش گاہ میں موجود تھے، تاہم وہ ایک دوسرے حصے میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ہاتھ، بازو اور ٹانگوں پر معمولی چوٹیں آئیں اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کسی عوامی تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے کوئی عوامی خطاب کیا۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی فوجی قیادت اور اعلیٰ مذہبی شخصیات سے ہاتھ سے تحریر کردہ پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین چھ روزہ سوگ کی تقریبات کے بعد ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے میں کی گئی۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ سوگ اور آخری رسومات میں تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی

  • بینک کے باہر ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    بینک کے باہر ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    ‎کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا، جبکہ مسلح ملزمان لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ کلفٹن کے علاقے بوٹ بیسن میں پیش آیا۔ سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ مہزور علی نے بتایا کہ مقتول نوجوان آکاش اپنے والد اور ایک ساتھی کے ہمراہ تین تلوار کے قریب واقع ایک نجی بینک سے 50 لاکھ روپے نکلوا کر دوسرے بینک میں جمع کرانے جا رہا تھا۔
    ‎حکام کے مطابق جب تینوں افراد بوٹ بیسن کے ایک بینک کے باہر پہنچے تو پہلے سے گھات لگائے بیٹھے مسلح ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا اور رقم چھیننے کی کوشش کی۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے دوران بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے ڈاکوؤں کو روکنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے جواب میں ملزمان نے بھی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں نوجوان آکاش گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
    ‎واردات کے دوران ملزمان 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ روپے پر مشتمل ایک بیگ چھین کر موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ باقی رقم محفوظ رہی۔
    ‎پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر کے ملزمان کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور فرار ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔