Baaghi TV

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے یورپ میں جیٹ فیول کی فراہمی کو خطرات لاحق

plane

‎مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ کو جیٹ فیول کی فراہمی کے حوالے سے سنگین خدشات کا سامنا ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک نے امریکا اور ایشیا سے درآمدات بڑھانے، اپنی ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور ذخائر استعمال کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یورپ اب بھی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس خطہ ہے۔
‎رپورٹس کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں متعدد ریفائنریاں بند ہونے کے باعث یہ ممالک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتے ہیں، جس میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی سپلائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے اس اہم گزرگاہ پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔
‎اگرچہ جون میں آبنائے ہرمز جزوی طور پر دوبارہ کھول دی گئی، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا سپلائی میں تعطل کے باعث یورپی فضائی کمپنیوں کو ایندھن کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ متبادل سپلائی ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ پر انحصار مکمل طور پر ختم کرنا فی الحال ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں امن و استحکام عالمی فضائی صنعت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

More posts